“میں نے تم سے کہا تھا امر سے محبت کر کے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا” گیبریل اسکے ساتھ آکر کھڑا ہوا اور ان دونوں کو دیکھتے ہوئے بولا ۔
“اور میں نے بھی کہا تھا کہ میں بھی اسے اپنا بنا کر رہونگی “ایمبر نے اسے غصے سے دیکھ کر کہا ۔
“وہ ایک مسلمان ہے تمہیں نہیں اپنائے گا” گبریل نے اصل حقیقت بیان کی۔
“میں نے کبھی اسے نماز پڑھتے نہیں دیکھا نہ اسکی لمبی داڑھی ہے بس نام کا مسلمان ہے کیوں نہیں کرے گا مجھ سے شادی” ایمبر زور دے کر بولی
“یہیں تو تم دھوکا کھا گئیں یہ لوگ لاکھ دوستیاں کر لیں لیکن بیوی انہیں موڈیسٹ چائیے ہوتی ہے تم خوبصورت ہو لیکن وہ موڈیسٹ ہے اور امر کو وہی چاہیے “ گیبریل گمبھیر لہجے میں کہتا ہوا بوٹ کی طرف جانے لگا۔
ایمبر اُسے تاَسّف سے جاتے ہوئے دیکھنے لگی
“نہیں گیبریل میں اتنی آسانی سے اسے جانے نہیں دونگی” وہ ایک عزم سے بولی۔
————————————
صبح اسے امی نے جگایا
“بیٹا جا کر ناشتہ کر لو پھر نکلنا ہے دیر ہو جائے گی” وہ نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر بیٹھی پھر فریش ہو کر سکرٹ کے اوپر پورے بازوؤں والی سفید شرٹ پہن کر اور گلے میں پرنٹڈ سکارف لپیٹ کر ریسٹورنٹ کی طرف چلی آج وہ تھوڑی لیٹ آئی تھی تب ہی جگہ نسبتاً خالی تھی ناشتہ لے کر بالکل سمندر کے نزدیک بیٹھ گئی ۔
“کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟”امر کھڑا پوچھ رہا تھا اس نے کالی بٹنوں والی شرٹ اور خاکی پینٹ پہنی تھی بال سلیقے سے جمائے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے تھا ۔
“لیکن آج تو خالی ٹیبل پڑے ہیں”اس نے آس پاس نظر دوڑا کر کہا لیکن وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔
“آپ کی فوٹوگرافی اسکلز کا میں معترف ہوں میں نے اپنی پکچرز کل انسٹاگرام پر پوسٹ کیںتقریباً تیس ہزار لائکس ملے مجھے “ اس نے دونوں بازو ٹیبل پر رکھتے ہوئے اسے کہا اور اپنا انسٹاگرام کھول کر دکھایا وہ واقعی خوش ہوئی۔
“ آپکی تعریف میں حق سے وصول کرتی ہوں “ وہ مسکرا کر بولی ۔
“تمہیں اپنا آفیشل پیج بنانا چاہیے میں تمہیں پروموٹ کرونگا “ امر نے خوش دلی سے آفر کی ۔
“میں نے اپنی ایک فرینڈ کی پکچرز کھینچی تھی اسکا بھائی پروفیشنل فوٹوگرافر تھا اس نے بہت کہا کے میں اس کے ساتھ کام کروں لیکن میں نے نہیں کیا “۔
“اوہ تو کرنا چاہئے تھا نا کیوں نہیں کیا” وہ بول رہا تھا اور حورین اسے دیکھ رہی تھی جب ایمبر پیچھے سے آئی اور امر کی گردن کے گرد اپنے بازو ڈال کر بولی ۔
“کہاں تھے تم کہاں نہیں ڈھونڈا میں نے تمہیں” ایمبر اپنا چہرہ امر کے بے انتہا قریب لائے وہ سر گوشی میں کچھ بول رہی تھی حورین کو بے انتہا شرم محسوس ہوئی اس کا چہرا سرخ ہوا امر نےایمبر کا ہاتھ پکڑ کر خود سے دور کیا ۔
“کیاکر رہی ہو؟” امر کو غصہ آیا ۔
“اگر آپ مائنڈ نا کریں تو ہمیں تھوڑی پرائیویسی مل سکتی ہے”ایمبر نے حورین کو چبھتے ہوئے لہجے میں کہا حورین اسے بنا دیکھے اٹھ کر چلی گئی اور بالکل دور ایک ٹیبل پر جا بیٹھی ۔
“تمہارا دماغ خراب ہے کیا ؟وہ یہاں پہلے بیٹھی تھی میں اسکے پاس آیا “ امر نے غصے میں اسکا بازو پکڑ کر کہا ۔
“تم مجھے چھوڑ کر ہر وقت اس لڑکی کے سر پر کیوں منڈلاتے ہو “جواباً وہ بھی اتنے ہی غصے سے بولی امر اسکا ہاتھ پکڑ کر ریسٹورنٹ سے باہر لے آیا ۔
“کیوں کر رہی ہو تم ایسا؟” امر غُرّایا۔
“تمہارے لیے کیا تمہیں میری محبت نظر نہیں آتی اس لڑکی میں ایسا کیا دیکھ لیا ہے تم نے کہ تمہیں میں یاد ہی نہیں”اب کے وہ رونے لگی ۔
“میں نے کبھی تمہیں محبت کا آسرا نہیں دیا میں نے کبھی نہیں کہا کہ مجھ سے محبت کرو “ وہ اپنے سینے پر انگلی رکھ کر بولا ۔
“ایسا مت کرو امر میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں دل پر میرا کوئی اختیار نہیں “ وہ رونے لگی آس پاس آتے جاتے لوگ اسے دیکھنے لگے ۔
“دل پر میرا بھی کوئی اختیار نہیں”امر بھی اب بے بسی سے بولا تھا پھر اپنے وِلا کی کی طرف چلا ایمبر تو یہاں چھٹیاں منانے آئی تھی اسے کیا پتہ تھا اسکی محبت اس سے چھن جائے گی محبت اسے ملی ہی کب تھی جب سے ہوش سنبھالا ایک ٹوٹا ہوا خاندان نہ ماں کا پیار نہ باپ کا آسرا ماں باپ ہوتے ہوئے بھی یتیموں کی طرح پلی وہی کہانی جو ہر دوسرے برٹش بچے کا نصیب تھی وہ بھی بروکن فیملی کا حصہ تھی اور بڑے ہو کر یہ دل آیا بھی تو کس پر امر اسکی محبت سے منہ پھیر کر چلا گیا ۔
——————————
امر اپنے کمرے میں آکر کتنی دیر پریشانی میں بیٹھا رہا ایمبر کا والہانہ انداز اسے ہمیشہ بے زار کرتا تھا وہ جانتا تھا وہ اس سے محبت کرتی ہے اور کئی بار وہ کھُلے الفاظ میں بیان بھی کر چکی تھی لیکن امر جانتا تھا ایمبر زندگی بھر ٹھوکریں کھاتی آئی ہے وہ اسکی دوست تھی وہ اس لیے اسے تکلیف سے بچانے کے لیے کبھی اپنے قریب نہیں آنے دیا لیکن وہ پھر بھی اس سے اس قدر محبت کرے گی یہ اس نے کہاں سوچا تھا اسکے ماں باپ بھائی کہاں ایمبر کو اپنانے کے لیے مانتے وہ تو بعد کی بات ہے اسے خود بھی اس کے لیے کبھی کوئی جذبہ محسوس نہیں ہوا کتنے سالوں سے وہ اسپین میں رہا ہے لیکن اسے کبھی کسی لڑکی کے لیے وقتی ظاہری کشش کے علاوہ کبھی دلی جذبہ محسوس نہیں ہوا اور اب ایمبر ہے کہ اسے محبت کرنے کو کہہ رہی ہے اُسے بےاختیار عنایت اللہ یاد آیا عنایت اسکی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا پاکستان سے آیا تھا ہر وقت پڑھائی میں لگا رہتا تھا لائبریری میں ملتا یا کلاس میں کچھ دنوں میں اس کی اچھی دعا سلام ہو گئی تھی ایک دن کلاس میں وہ ایک لڑکی کے ساتھ بے تکلفی سے بیٹھا تھا تو عنایت نے اسے دیکھا وہ اس وقت تو کچھ بولا نہیں لیکن ایک دن لائبریری میں جب موقع ملا
“تم شیطان کے ٹمپٹیشنز کو نظر انداز کیوں نہیں کرتے ؟” عنایت نے نظریں کتاب سے ہٹائے بغیر کہا۔
“کیا مطلب ؟”امر ناسمجھی سے بولا۔
“مطلب یہ کہ یہ لڑکیاں جو ہر وقت تمہارے ارد گرد منڈلاتی ہیں ایک دن تمہارے لئے وبالِ جان بن جائیں گی”اب کے اس نے کتاب سے نظریں ہٹا کر اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ۔
“کم آن وی آر جسٹ فرینڈز “ وہ کندھے اچکا کر لاپرواہی سے بولا ۔
“اپنے آپ کو صرف اسکے لئے دستیاب رکھو جو اسکی حقدار ہوگی کیا تم یہ چاہو گے کہ تمہاری شریک ِ حیات بھی اس ہی طرح کی دوستیاں رکھے “ تب تو یہ بات اس نے ہنسی میں اڑائی تھی آج اسے اصل میں اس بات کا مطلب سمجھ آرہا تھا۔
“جو کسی کا نہ ہو بس میرا ہو مجھ سے وفا نبھائے میری عزت کرے “ حورین کی آواز اسکے کانوں میں گونج رہی تھی۔
وہ بیڈ پر ڈھے گیا حورین کاسامنا اب وہ کیسے کرے گا ۔
————————————
اگلے دن ان سب نے اکواریہ جانا تھا جو سمندر کے نیچے بنایا تھا امر اور اسکا گروپ تیار ہو کر آئے امر نہ ایمبر کی طرف دیکھ رہا تھا نہ ہی اسکے بعد انکی بات چیت ہوئی تھی حورین اسکی فیملی پہلے سے کشتی کے پاس انتظارکر رہے تھے حوریں نے کالی کالر شرٹ جسکے بازو کلائیوں تک آتے تھے اور اسکی نیچے بیج رنگ کی سکرٹ جس میں کالے پھول بنے تھے اور بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنائے آنکھوں میں دھوپ کا چشمہ لگائے کھڑی تھی تینوں لڑکے کسی بات پر بحث کر رہے تھے اور وہ بیزاری سے انکی باتیں سن رہی تھی دفعتاً اسکی نظر امر پر پڑی امر نے سفید پولو شرٹ کے ساتھ کالا کُھلا ٹراؤزر آنکھوں میں دھوپ کا چشمہ اور سر پر کالا پی کیپ پہنی تھی امر کو دیکھتے ہی حورین اُسکی طرف سے رخ موڑ کر دوسری جانب بیٹھ گئی اسکے رخ موڑنے پر امر کے دل کو دھکّا سا لگا وہ سب بوٹ پر چڑھ گئے بوٹ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی حورین امر سے کافی دور بیٹھی تھی کہ پیچھے سے بس وہ اسکے بالوں کا جوڑا ہی دیکھ سکتا تھا کشتی اپنی منزل پر پہنچی یہ بھی ایک الگ جزیرہ تھا جس میں اکواریہ بنا تھا باہر تو ایک عام بلڈنگ لگتی تھی لیکن اندر ایک الگ ہی دنیا تھی زیر زمین شیشوں کی راہداریاں بنی تھیں جو سمندر کے نیچے سے گزرتی تھی نیلی روشنی اور ماحول ہلکا اندھیرا زیر زمین آبی مخلوق کو اتنا قریب سے وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی وہ بہت خوش تھی اسے مالدیوز بہت اچھا لگا تھا یہاں کے لوگ یہاں کی خوبصورتی ہر چیز کی کشش الگ تھی ۔
“حور آپی یہ دیکھیں یہ مچھلی بالکل آپ کی طرح لگتی ہے” حنان نے ایک بلیک اینڈ وائٹ مچھلی کی طرف اشارہ کیا کیونکہ اسکا رنگ حورین کے کپڑوں سے مل رہا تھا حورین نے بھنویں سکوڑ کر اسے دیکھا ۔
“اور پتہ ہے یہ شارک تمہاری طرح لگتا ہے”اس نے ہیمر ہیڈ شارک کی طرف اشارہ کیا اور تیزی سےآگے مڑی ہی تھی کے کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی وہ امر تھا وہ آگے بڑھی امر اسکے پیچھے جب کافی دیر وہ اسکے پیچھے آتا رہا ۔
“آپ کی گرل فرینڈ پھر سے ناراض ہو جائے گی” وہ مچھلیوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔
“اور آپ سے کس نے کہا کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے “امر سینے پر ہاتھ باندھے اسکے سامنے کھڑا ہو گیا
“کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت ہے کیا؟” وہ کہہ کر پلٹ گئی ۔
“آپ کو اتنی جلدی جج نہیں کرنا چاہیے کسی کو بھی “ وہ تاَسّف سے سرہلا کر بولا وہ رکی ۔
“میں نے جج نہیں کیا میں نےوہی کہا جو میں نے دیکھا “ کہہ کر وہ رکی نہیں راہداری میں آگے بڑھ گئی امر گہری سانس بھر کر بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔
واپسی کاسفر شروع ہو چکا تھا وہ سب کشتی میں بیٹھے عصر کا وقت تھا جب وہ لوگ واپس اپنے ریزورٹ کی طرف جانے لگے حوریں ابھی بھی امر سے دور بیٹھی تھی حورین کے ساتھ اسکا کزن بیٹھا تھا جس نےایک جار میں کوئی کیڑا پکڑا تھا وہ حورین کو دکھا رہا تھا ۔
“حنان دور رکھو مجھ سے “حورین بدک کر پیچھے ہوئی
“حور آپی پتہ ہے یہ بہت رئیر ہے “ حنان کیڑے کی خصوصیات گنوانے لگا۔
“جو بھی ہے مجھ سے دور رکھو یک”حورین نے جُھرجُھری لی حنان بوتل دکھاتے اُلٹا رہا تھا کے ڈھکن کھُلا اور وہ کیڑا حورین کی گود میں گِرا حوریں چیخ مار کے اٹھی کشتی کافی تیز تھی اور لہروں کی وجہ سےجھٹکے کھا رہی تھی حورین کے بابا آگے بیٹھے تھے انہوں نے کوشش کی کہ حورین کا ہاتھ پکڑیں لیکن اس سے پہلے ہی کشتی نے ایک تیز جھٹکا کھایا اور حورین پانی میں جا گری ہمایوں حورین کے پیچھے پانی میں کودنے لگے تھے کہ انہوں دیکھا کوئی ان سے پہلے پانی میں کودا ۔
“امر “ ایمبر اسکے دوستوں کی آوازیں بلند ہوئیں ابھی اندھیرا نہیں تھا پانی کے اندر جا کر امر نے دیکھنے کی کوشش کی سوئمنگ گلاسز کے بغیر دیکھنا بہت مشکل ہو رہا تھا آخرکار وہ نظر آئی پانی کے اندر گہرائی میں جاتی ہوئی وہ ہاتھ مار رہی تھی لیکن نیچے گہرائی میں جاتی جا رہی تھی تبھی امر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور تیزی سی کھینچ کر تیرتا ہوا سطح پانی تک آیا تب تک کشتی بھی واپس اس ہی طرف آگئی حورین بیہوش ہو چکی تھی اُسے کشتی پر چڑھایا اورامر کو بھی اسکے دوستوں نے کشتی میں چڑھنے میں مددکی ایمبر کی آنکھیں آنسوؤں سےلبریز تھیں ہمایوں اور شائستہ بھی رو رہے تھے اسے سی پی آر دیا گیا حورین کھانستے اٹھی تو سب کی جان میں جان آئی حنان الگ پریشاں تھا کہ اسکی غلطی کی وجہ سے سب ہوا حورین کو ہوش آیا شائستہ اُسے گلے لگا کر رونے لگی لیکن حورین کی نظریں اُسے دیکھ رہی تھیں جو سر سےپیر تک گیلا تھا اورہانپ رہا تھا حورین نےاپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
———————————————
رات کھانے کے بعد سب باہر فائر شو دیکھنے کے لیے بیٹھے اسکے بعد وہ لوگ اپنے ولا آئے “یوسف چلو آئس کریم کھاتے ہیں “ حورین نے اپنے بال پونی میں باندھتے ہوئے یوسف سےکہا ۔
“تمہیں آرام نہیں پانی میں کوئی اور گِرا ہوتا تو تین دن تک بستر سے ہلتا بھی نہیں “ یوسف اپنے فون میں مصروف بولا ۔
“چلو نا دودن بعد ہم نےواپس کراچی جانا ہے وہی یونیورسٹی وہی زندگی چلو اب” حورین چمکارتےہوئے بولی ۔
“میں نہیں آرہا میں تھکا ہوا ہوں” موبائل چھوڑ کر وہ بستر میں دبک گیا ۔
“سڑو بیٹھ کر “وہ غصے سےکہتی نکلی سفید پرنٹڈ لمبی قمیض اور ٹرائوزر کے ساتھ سفید دوپٹہ شانوں پھیلائے وہ نکلی آئس کریم پارلر سوپر سٹور کے ساتھ ہی ریزورٹ کے دوسری طرف تھا رات کا وقت تھا لیکن دن کا سما لگتا تھا ابھی بھی کچھ لوگ سوئمنگ پول کے پاس بیٹھےخوش گپیوں میں مصروف تھے وہ ٹہلتی ہوئی آئس کریم پالر تک آئی جہاں ایک انگریز جوڑا بیٹھا تھا اس نے اپنے لئے ایک اسٹک آئسکریم کسٹمائز کروایا چاکلیٹ ٹوپنگ وغیرہ کروا کر وہ نکلی ہی تھی کہ امر کو اندر آتے دیکھ کر رکی وہ بھی رکا امر نے اولیو گرین شرٹ اور ہم رنگ کُھلا ٹراؤزر پہنا تھا امر اُسے دیکھ کر آگے بڑھنے ہی لگا تھا۔
“امر” حورین نےاسے پکارا وہ رُکا تو کچھ توقف کے بعد وہ بولی“تم نے جو آج میرے لئے کیا اسکے لیے تھینک یو “ بہت ہی مدہم آواز میں اس نے کہا
“میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا “امر نے جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کندھے اچکا کر کہا لیکن یہ تو حورین بھی جانتی تھی کہ وہاں کتنے ہی لوگ تھے کسی نے بھی وہ نہیں کیا جو امر نے کیا لیکن وہ کہہ نہیں پائی
“کیا آپ میرے ساتھ واک کرسکتے ہیں؟” اس نے جھجکتے کہا ۔
“اگر آپ آئسکریم شیئر کرینگی تو ضرور “ امر نے اُسکی آئس کریم کی طرف اشارہ کیا حورین اُسےدیکھ کر رہ گئی۔
“میں آپکو دوسرا لے دوں گی “حورین دوبارہ اندر جانے لگی ۔
“اسکی ضرورت نہیں مجھےیہی کھانی ہے” کہتے ہوئے امر اسکے نے ہاتھ سے آئسکریم پکڑی اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بائٹ لی اسکی گہری کالی آنکھوں پر پلکوں کا جال بہت خوب صورت لگتا تھا حورین نے بے اختیار نظریں پھیر لیں وہ آگے چلنے لگا وہ بھی چلنے لگی ۔
“تم بھی کھاؤ پگھل رہی ہے “ امر آئس کریم کی طرف اشارہ کیا وہ تو یہی سوچ رہی تھی کبھی یوسف کے کپ میں پانی نہیں پیتی خیر اس نے دوسری طرف سے بائٹ لی جتنی چاہ سے آئس کریم لی تھی اب کھا نہیں پا رہی تھی امر دیکھ کر مسکرایا
“تم نے میری خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی “
“اب یہ بات کتنی دفعہ دہراؤ گی “ امر نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ لکڑی کی روش پر چل رہے تھے دونوں طرف تالاب تھے اور روش کے دونوں طرف رنگین پھول آسمان پر دور کہیں بجلی چمک رہی تھی اور پھر اسکے ہاتھ سے آئس کریم لے کر بائٹ لی مسکراتے ہوئے اسے لوٹا دی حورین نے بھی ایک بائٹ لی ۔
“شاید جب تک زندگی ہے میں دہراتی رہوں کہ میری زندگی پرتمہارا قرض ہے” امر رکا اچھنبے سےاسکی طرف دیکھا وہ آپ سے تم پر کب آگئی پتہ ہی ناچلا
“یہ قرض تو نہ تھا “ امر گھمبھیر اور نرم لہجے میں بولا
“میں ہمیشہ یاد رکھونگی “ وہ مسکرا کر بولی آئس کریم سے بائٹ لی اور اسکی طرف بڑھائی ۔
“بس تم ہی کھالو مجھ سے اب نہیں کھائی جائے گی “ آئس کریم اُسے تھما کر وہ ہاتھ ٹشو سے صاف کرنے لگی ۔
حوریں آگے بڑھی بچی ہوئی آئس کریم دیکھ کر امر کو اُسکا کیلوری کاؤنٹ یاد آیا تو پاس پڑے ڈسٹبین میں پھینک دیاوہ ولا کی طرف ہی پہنچنے لگے تھے یہاں ساحل کنارے کی جگہ تھوڑی سنسان تھی اور ساتھ گھنے درخت حورین آگے تھی اور امر پیچھے دفعتاً حورین کو کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آئی اسے لگا کوئی چیتا یا شیر ہے اسکی چیخ بھی نہ نکلی وہ “ہا” کر کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے مڑی اور امر کے پیچھے اسکی شرٹ اور بازو سختی بھینچے اس طرف اشارہ کرنے لگی امر نے غور سے دیکھا تو چھوٹاسا کتا تھا ۔
“کھاجائے گا ہمیں کوئی بچاؤ ہمیں “روہانسی ہوتی آواز میں بولی اورسختی سے امر کو پیچھے سے پکڑے ہوئے تھی۔
“کچھ نہیں ہے حورین بس ایک چھوٹا پپی ہے” وہ اسے کہنے لگا حورین نے زرا آگے ہو کر دیکھا پھر جب احساس ہوا امر تو اس لمحے کی قید میں تھا اور حورین اُسکا تو مارے شرمندگی کے برا حال تھا اس نے امر کی شرٹ اور بازو چھوڑے پھر سیدھی ہوئی امر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا ۔
“سوری” وہ بس اتنا ہی کہہ پائی امر نے ہنکارا بھرا
“تمہیں کیا لگا کیا ہے” امر نے شرارتی نظروں سے اسے دیکھا ۔
“شیر” وہ خفّت سے بولی اور امر کا قہقہہ بےساختہ تھا ۔
“اس میں ہنسنے کی کوئی بات نہیں غلط فہمی ہو جاتی ہے” حورین کو شرمندگی ہونے لگی ۔
“ پہلے تو اس چھوٹے سے آئلینڈ میں شیر نہیں ہوتے دوسرا اگر شیر برادری نے یہ بات سن لی تو سوسائڈ کر لیں گے”امر ہنستے ہوئے بولا کتنا پیارا ہنستا تھا وہ حورین نے اُسے ہنستے ہوئے دیکھ کر سوچا۔
“اگر میرے بھائی اور کزنوں نےسن لیا ناں تو جینا حرام کر دیں گے میرا “ حورین نے دائیں بائیں دیکھ کر راز داری سےکہا جیسے وہ ابھی کسی کونے سے نکل آئینگے۔
“اوہ اوکے یہ ہمارا سیکریٹ ہے” وہ ہونٹوں کو زپ لگانے کے انداز میں بولا حورین کے ولا کے سامنے پہنچ کر وہ رُکے۔
“اوکے میں چلتی ہوں گڈ نائٹ “وہ دروازے کی طرف بڑھی ۔
“حورین کل میرے ساتھ ڈنر پر چلو گی” حورین نے پلٹ کر اسے دیکھا کچھ لمحے متذبذب کھڑی سوچتی رہی ۔
“لیکن میرے گھر والے بھی تو ہیں ساتھ میں انہیں کیا کہوں گی ؟” حورین کو سمجھ نہیں آیا کہ ڈنر کیوں
“اوہ اوکے “امر گہری سانس بھرتے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔
“گڈ نائٹ “وہ کارڈ سوائپ کر کے اندر چلی گئی اور امر اسکا دل چاہا وہ کچھ دیر اور رک جائے وہ اُسے اپنے دل کا حال سنانا چاہتا تھا ۔
———————————-
اگلے دن انہیں کروز پر جانا تھا دوپہر کا کھانا بھی کروز میں ہی کھانا تھا امر اسکے دوست کشتی تک پہنچے یہی کشتی اُنہیں کروز تک لے جائےگی امر نے نیلے رنگ کی پرنٹڈ بٹنوں والی شرٹ اور ساتھ سفید پینٹ پہنی تھی اور دھوپ کا چشمہ لگائے اپنے دوستوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھا باقی سیاح بھی آنے لگے حورین اور اسکی فیملی بھی پہنچ گئے حورین بیج کلر کے پیروں تک آتی پرنٹڈ میکسی میں ملبوس بال پشت پر کھلے چھوڑے جوگرز پہنے ہوئے تھی آج حورین کی بجائے انکی توپوں کا رخ زایان کی طرف تھا کسی انگریز لڑکی سے باتیں کرنے کے چکر میں تھا لڑکی نے جھڑک دیا تھا اب وہ لوگ اسکی خوب ٹانگ کھینچ رہے تھے۔
“اللّٰہ معاف کرے ہمارے زمانے میں تو ایسا نا ہوتا تھا” یوسف جواس سے صرف دو سال بڑا تھا بولا
“ہاں ہاں تم تو دکیانوس کے زمانے کے ہو “ زایان جل کر بولا۔
“ویسے عمر دیکھی ہے تم نے اپنی حرکتیں دیکھو شرم بھی نہیں آئی “حورین نے چوٹ کی۔
“عمر کو چھوڑو شکل دیکھی ہے اپنی اُس ہیرو کی طرح لگتا بھی تو بات تھی شکل کا بھی ہیرو کام کا بھی “ حنان نے کہتے ہوئے سامنے کھڑے امر کی طرف اشارہ کیا حنان کے اشارے پر ان سب نے اسکی طرف دیکھا وہ اپنے دوستوں سے محو ِ گفتگو تھا لیکن انکے اشارے اور دیکھنے کو اُس نے نوٹ کیا ۔
“ہاں بڑا daring ہے چلتی بوٹ سے ایسے کودا پانی میں “ یوسف نے بھی تائید کی حورین کادل عجیب لےپر دھڑکنے لگا۔
“ہاں تو میں بھی کودنے والا تھا اس دن حور آپی کو بچانے”یہ سن کر تو اور بھی زیادہ اُسکو چڑانے لگے لیکن حورین اُسکا دماغ واپس اس گھڑی میں پہنچا ہوا تھا وہ پانیوں میں بالکل گہرائی میں جا رہی سانس نہیں لے پا رہی تھی وہ آکر اسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے اوپر کی طرف کھینچتا ہے وہ اسکے ساتھ اوپر کھینچتی جاتی ہے اسکے بال پانی میں کھل کر سلو موشن میں تیرنے لگے سطحِ آب پر پہنچ کر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر وہ ہوش خُرد سے بیگانہ ہو گئی ایک الوہی سی مُسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر چمکنے لگی ۔
“یہ میں کیا سوچ رہی ہوں مجھے اس راستے نہیں چلنا اس راستے کبھی سکوں نہیں صرف تکلیفیں اور رسوائی ہے یہ شیطان کے ٹمپٹیشنز ہیں مت بھولو” اسکا دماغ اسے جھڑکنے لگا “ہاں خود سے کیا وعدہ مت بھولو” مسکراہٹ چہرے سےغائب ہوئی وہ گہری سانس بھرکر سمندر کی طرف دیکھنے لگی۔
