“کھڑے کیوں ہیں بیٹھ جائیں” ماہنور نے اسے بٹھایا جبکہ حورین کا خفّت کے مارے برا حال تھا اب رہ رہ کر حورین کو ماہنور سے یہ بات شیئر کرنے کا ملال ہو رہا تھا ۔
وہ بیٹھ گیا تھوڑی دیر یہاں وہاں کی باتیں ہوئیں پھر ماہنور چلی گئی تو امر اور حورین پارکنگ ایریا تک آئے امر حورین کو اسکی گاڑی تک چھوڑنے آیا تو وہیں پر مُظفر اپنی گاڑی سے نکلتا نظر آیا مظفر کی نظر امر اور حورین پر ہنستے باتیں کرتے پڑی غصے کا جوار بھاٹا سا اسکےاندر پکنے لگا ۔
“تو یہ وجہ ہے پُھپّو کے اِنکار کی میں تو تمہیں برا نیک پروین سمجھتا تھا” مظفر حورین کے سامنے آکر تنفر سے بولا ۔
“بکواس بند کرو اپنی “ حورین کا دل کیا اسکا منہ نوچ لے۔
“اس امیر زادے میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں” حورین کوئی جواب دیتی اس سے پہلے ہی مظفر کے منہ پر ایسا مکّا پڑا کہ چار فٹ جا کر دور گرا امر آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس پنجوں کے بل بیٹھا مظفر اپنی ناک پکڑے درد سے بِلبِلا رہا تھا جبکہ حورین ششدر سی کھڑی دیکھ رہے تھی۔
“ہاں تو کیا پوچھ رہے تھے تم “اسکا گریبان پکڑ کر اپنے قریب لایا”اگر منہ سے اب حورین کا نام بھی لیا تو افریقہ کے جنگلوں میں پھنکوا دونگا مجھے ہلکا نہ لینا “ مظفر کی سٹی ایسے گم ہوئی اتنا تیز بھاگا کہ شاید میراتھون میں حصہ لیتا تو ایک میڈل مل جاتا امر اٹھا اور حورین کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہاوہ ٹھنڈی سانس بھر کر گاڑی میں آکر بیٹھی دل خوشی اور مان سے بھر گیا تھا۔
“اپناخیال رکھنا” گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ بولی وہ سر ہلا کر رہ گیا ۔
اس نے گاڑی آگے بڑھا دی دل محبت کے جذبے سے سر شار تھا ۔
———————————-
امر کے والدین اگلے دن ہی اُسکے گھر رشتہ مانگنے آئے حورین انہیں بہت پسند آئی سلمان صاحب کی ہمایوں سے واقفیت بھی نکل آئی منگنی کے بجائے شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی ۱۵ دن بعد کی ڈیٹ ملی وقت کم تھا کام زیادہ حورین نے آفس جانا چھوڑ دیا مال اور بازار کے چکر لگتے کرتے کرتے شادی کا دن آ پہنچا نکاح مہندی کے ساتھ ہی ہوگیا تھا بارات دن حورین نے سرخ عروسی لہنگا اور امر نے کالی شیروانی دونوں ایک ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے کبھی کانوں میں سرگوشیاں کرتے تو کبھی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے آفس کا سارا اسٹاف مدعو تھا۔
“باس آپ تو بڑے چھپے رستم نکلے “ سارا نے کہا
“کیوں ؟” ۔
“اتنے اچانک سے شادی کر لی وہ بھی حورین سے ہمیں تو پتہ بھی نا چلا”۔
“میں نے سنا تھا باس کو محبت کا لفظ بولتے ہوے” ارسلان ہاتھ کھڑا کر کے بولا ۔
“ارسلان تم فائرڈ ہو” ۔
“باس مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں” ارسلان مصنوعی غصے سے بولا اور سب کا قہقہہ بلند ہوا۔
———————————
سرخ لباس میں بیڈ پر بیٹھی تھی جب امر دروازہ کھول کر آیا کتنے رسم او رواج نبٹا نبٹا کر وہ آخر کار یہاں تک پہنچا الماری سے ایک ڈبہ نکالا اور بیڈ تک آیا اس کے سامنے بیٹھا وہ اپنی گود میں رکھی اپنی ہتھیلیاں دیکھ رہی تھی ۔
حورین ایک دفعہ تم نے کہا تھا کہ تحفے محرموں کے ہی دیے اچھے لگتے ہیں “اس نے ڈبہ کھولا گولڈن رنگ کے ہیلز جو اس نے مالدیوز کے مال میں خریدے تھے ۔
“یہ ابھی تک تمہارے پاس” اس سے آگے وہ نہ بول پائی ۔
“تمہارا محرم بن کر تمہیں دینا چاہتا تھا “ حورین نے ڈبہ پکڑ لیا آنکھوں میں محبت کی شادمانی کے موتی چمک اٹھے پھر ایک مخملین ڈبہ نکالا اس میں ایک انگوٹھی تھی اس نے اسے انگوٹھی پہنائی امر کی آنکھوں میں محبت کے ہزاروں جذبے تھے اسکی محبت پاکیزا تھی محرم بن چکی تھی وہ اب اسے حاصل تھی ۔
