Synopsis
ہلکے نیلے پانیوں پر بنے لکڑی کی روش پر وہ چلتا ہوا اپنے واٹر وِلا کی طرف جا رہا تھا ہوا سے اسکے قدرے بڑھے ہوئے بال اڑ اڑ رہے تھے جن پر اُس نے ہلکے سے سلور ہائی لائٹس کروا رکھے تھے کثرتی بازو جم جانے کا پتہ دے رہے تھے وہ اپنے وِلا کے سامنے پہنچا ہی تھا کے پیچھے سے ایک نسوانی آواز آئی۔
“Amr whats the plan tonight”
ایک بہت ہی خوبصورت برٹش لڑکی اسکے پیچھے تیز تیز چلتے ہوئے ہانپتے ہوئے اُس تک پہنچی ۔
“سوری ایمبر آج میں بہت تھکا ہوا ہوں مجھےآرام کرنا ہے “ وہ واقعی میں سارا دن ڈائیونگ کر کے تھک گیا تھا اس لیے اب کسی بھی نائٹ کلب جانے کی اس میں ہمت نہیں تھی ایمبر تھوڑی مایوس ہوئی لیکن اوکے کہتی پلٹ گئی مالدیوز آئے اسے آج دوسرا دن تھا یونیورسٹی سے فارغ ہوکر کچھ دن وہ آرام سے انجوائے کرنا چاہتا تھا اور اسکے بعد اُسے بابا اور بھائی کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹانا تھا اِسی لئے وہ یہ کچھ دن دوستوں کے گروپ کے ساتھ مل کر انجوائے کرنا چاہتا تھا ۔
—————————————
ساتھ والا وِلا دو دن سے خالی تھا آج اُسے اس میں کوئی ہلچل محسوس ہوئی وہ ڈنر کرکے وِلا کے بیرونی حصے میں آکر سن چیئر پر بیٹھا سگریٹ پھونکنے لگا جب اسے کسی کے گانے کی آواز آئی ایک نسوانی آواز شاید ساتھ والے وِلا میں جو آئے تھے انہی میں سے کوئی تھی لیکن بہت ہی خوبصورت آواز تھی اور اتنا خوبصورت گا رہی تھی کوئی انڈین گانا تھا شاید لیکن بول تو اردو تھے۔
عداوتیں تھیں
تغافل تھا
رنجشیں تھیں مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا
بے وفائی نہ تھی
دونوں وِلاز کے بیچ میں ایک لکڑی کا پارٹیشن تھا جو دونوں کو الگ کرتا تھا اور وہ وِلا کے بیرونی حِصّے میں بیٹھا تھا جہاں ایک چھوٹا سا سوئمنگ پول تھا جس کے پاس دو سن چیئرز اور اوپر کنوپی لگی تھی وہ اٹھا اور لکڑی کے پارٹیشن کے پاس جا کر کھڑا ہوا درز سے دیکھنے کی کوشش کی بس اتنا دیکھائی دیا کہ وہ بیٹھی ہاتھ میں پینٹنگ برش تھا اور بال ایک طرف گرے تھے کینوس پر پینٹ کرتے گُنگُنا رہی تھی چہرہ وہ نہ دیکھ سکا وہ اُسکی آواز میں اتنا کھویا کہ جب خیال آیا کہ وہ ایک لڑکی کو تاڑنےوالی بے حد غیر اخلاقی حرکت کر رہا ہے تو بےاختیار پیچھے ہوا وہ ٹھرکی تو نہیں تھا واپس وِلا کے اندر گیا اور بیڈ پر ڈھیر ہو گیا وہ آج بہت تھک چکا تھا ۔
——————————————
صبح آنکھ جلدی کھلی تو وہ ناشتہ کرنے ریزورٹ کے ریسٹورنٹ میں آیا سیاحوں کا ناشتہ عموماً پیکج کے ساتھ مفت ہوتا ہے اس لیے صبح ریسٹورنٹ میں رش تھا اور سارے ٹیبل بھرے تھے پہلے اس نے سوچا لوٹ جائے اور وِلا میں ناشتہ منگوا لے کیونکہ انہیں تھوڑی دیر تک پیراگلائیڈنگ کے لیے نکلنا تھا ایمبر اور باقی گروپ ناشتہ کر کے تیار ہونے گئے تھے اس نے ناشتہ لیا اور سمندر کے بالکل پاس ایک لڑکی اکیلی ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی اس طرف گیا ۔
“کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟باقی کوئی ٹیبل خالی نہیں” اس نے انگریزی میں اجازت مانگی لڑکی نے سر اٹھا کراُسے دیکھا پھر اطراف میں نظر دوڑائی واقعی ساری جگہ بھری ہوئی تھیں۔
“شیور “اس نے کندھے اچکا کر کہا ہلکے گلابی رنگ کی اے لائن قمیض اور کُھلا ٹراؤزر ساتھ ہم رنگ دوپٹہ لمبے بالوں کو آدھا کیچر میں باندھ رکھا تھا آنکھیں گہری بھوری بہت ہی نازک گورا چہرہ اتنے ہی نازک ہاتھ جن میں بریسلٹ پہنا تھا جس میں فلسطین کا نقشہ بنا تھا امر نے شارٹس پہنے تھے اور آدھے بازو والی شرٹ جس سے اسکے بازو پر بنا ٹیٹو جھلک رہا تھا اسکا لمبا قد اور گہری سیاہ ہنٹر آنکھیں اُسے بہت جاذبِ نظر اور پرکشش بناتی تھیں گیلے بالوں کو سر کے پیچھے جمائے وہ ٹیبل پر بیٹھا حورین اپنے ناشتے میں پھر سے مصروف ہوئی اور امر بھی بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا تبھی حورین کا فون بجنے لگا فون اٹھا کر اس نے کان سے لگایا ۔
“جی امی میں آگئی ہوں ناشتہ کرنے “وہ مسکرا کر کہنے لگی “ہمم تھوڑی دیر بیچ پر ٹہلوں گی پھر چلینگے “ فون بند کر کے اس نے کافی کا کپ ہونٹوں سے لگایا ۔
“you sing well” امر ناشتہ کرتے ہوئے مصروف سا بولا ۔
حورین کا ہونٹوں تک کپ لیجاتا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا اور اسکی بھنویں حیرت سے ابھریں۔
“جی”اسے لگا اس نے غلط سنا ہے ۔
“کل رات آپ گا رہی تھیں ناں”امر نے استفسار کیا دیکھنے والی بات گول کر گیا کہ وہ اسے ٹھرکی سمجھے گی۔
“کیا میری آواز بہت اونچی تھی “اس نے پریشانی سے پوچھا اس کی پریشانی دیکھ کر وہ مسکرا دیا ۔
“میں نے تو سنا آپکے بالکل ساتھ والے وِلا میں تھا میں”امر نے جوس کا گلاس منہ تک لے جاتے کندھے اچکا کر کہا ۔
“اف یار” وہ منہ ہی منہ بڑبڑائی امر نے اسکی کوفت نوٹ کی ۔
“انڈین گانے پسند ہیں آپکو” امر جوس پیتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔
“میں انڈین گانے نہیں سنتی وہ تو پاکستانی گانا ہے “وہ سمندر کی لہروں کو دیکھتے بولی باہر دسمبر کی سنہری دھوپ چمک رہی تھی اس مہینے میں یہاں کا موسم بہت زبردست ہوتا ہے کافی ختم ہوگئی تو وہ اپنی جگہ سے بیچ پر ٹہلنے اٹھی ساتھ امر بھی اٹھا کہ اُسے اپنے دوستوں کو دیکھنا تھا کہ تیار ہوئے کہ نہیں ۔
وہ بھی بیچ پر آکر روکا حورین آگے تھی اور وہ پیچھے ساتھ وہ کال کر کے سب کو جلدی آنے کا کہہ رہا تھا حورین پانی پر چلنے لگی سمندر کی لہریں اسکے پیروں سے ٹکرا کر واپس چلی جاتیں ہوا سے اسکے بال اڑے جا رہے تھے جب اس نے دیکھا کہ اسکے پیروں کے پاس ایک سیپ پڑا ہوا ہے اس نے جھک کر سیپ اٹھایا اور کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ بغیر چھری کے کھلنے والا نہیں تھا امر فون پر بات کرتے ہوئے اُسے سیپ کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھنے لگا پھر آگے بڑھا اپنے بیگ سے ایک چابی چین نکالی جس میں ایک چھوٹی سی چھری نتھی تھی ۔
“ادھر دیں”اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا حورین نے اسکے ہاتھ میں سیپ رکھا اس نے کاٹ کر کھولا تو اس کے اندر ایک موتی چمک رہا تھا “ہا”حورین اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی “واؤ کتنا پیارا ہے نا “موتی اٹھا کر وہ دیکھنے لگی امر مسکرایا اور سر ہلایا تبھی ایمبر اور اسکا گروپ آیا اور اسے ایک لڑکی کے ساتھ کھڑے مسکراتے سب نے دیکھ لیا تھا اور اس بات کے تو سب گواہ ہیں کے امر جعفر ان لڑکوں میں سے تھا جو خود سے کبھی کسی لڑکی کے پیچھے نہیں گیا ایمبر کے ساتھ اتنے سالوں کی دوستی میں بھی ہمیشہ ایمبر کو ہی ہر چیز میں پہل کرنی ہوتی تھی اور ابھی امر کو کسی اور کے ساتھ مسکراتا دیکھ کر اسکا دل بھی ڈوبا تھا یہ سچ ہے عورت جس سے محبت کرتی ہے اسکی ایک نگاہِ غلط بھی کسی اور پر برداشت نہیں کر سکتی خیر اس وقت تو یہ کڑوا گھونٹ پی کر وہ جانے کے لیے تیار تھی۔
———————————
حورین اپنے خاندان کے ساتھ مالدیوز آئی تھی اُسکے امّی ابو اسکا چھوٹابھائی اور چچا چچی اور انکے دو بیٹے وہ لوگ مالدیوز پہلی بار آئے تھے اور حورین کو یہ جگہ بہت پسند آئی تھی حوریں ۲۳ سال کی تھی جبکہ یوسف ۲۰سال کا تھا اور اسکے چچا زاد بھائی حنان ۱۵سال کا اور بڑا زایان۱۸ سال کا تھا حنان اور زایان کا آدھا دن لڑنے میں گزرتا تھا جبکہ یوسف کا آدھا دن حورین کو چڑانے اور تنگ کرنے میں گزرتا تینو لڑکوں کی خوب یاری دوستی بھی تھی تو حورین کبھی کبھی انکی دوستی سے جل بھن کے ماں اور چچی سے لڑتی کہ ایک بہن یا کزن اس کے لئے بھی پیدا کرتے اسے اکیلا پن تو محسوس نہ ہوتا یہاں آئے انکو دوسرا دن تھا سارے دن کے نکلے شام میں ہی واپس آئے سارا دن بوٹنگ کی فشنگ کی ایک دوسرے دویپ گئے مالدیوز ایک جزیروں کا مسلمان مُلک تھا یہاں کی ۹۹ فیصد آبادی مسلمان تھی اور دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے تھے یہ ایک جزیرہ نہیں بلکہ سینکڑوں چھوٹے جزیرے تھے جن میں سے ایک وہ ریزورٹ تھا جس میں وہ فِلحال رہائش پذیر تھے فیراویرا ریزورٹ ایک جزیرے پر مشتمل تھا اور جو وِلا انہوں نے بک کروائے وہ پانی کے اوپر لکڑی کے بنے تھے سارا دن پانیوں پر گھومنے کے بعد وہ واپس ریزورٹ آئے تو سب پہلے کھانا کھا کر سونے نکلے لیکن حوریں پہلے نہا دھو کر فریش ہوئی پھر کھانے کو ریسٹورنٹ تک آئی ہلکے فیروزی رنگ کی گھٹنوں سے اوپر آتی قمیض اور اسکی نیچے کُھلا ٹراؤزر اور ایک پرنٹڈ سکارف جس میں مختلف رنگوں کے پھول بنے تھے گردن کے گرد باندھے کھلے بالوں کے ساتھ بیٹھی اپنے لئے کھانا آرڈر کر رہی تھی جب امر اور اسکے دوست بھی ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اُنکا گروپ پانچ لوگوں پر مشتمل تھا امر ایمبر گبریل اسحاق اور لوسی یہ سب یونیورسٹی فیلوز تھے یونیورسٹی آف آرکیٹیکچر اسپین میں ایک ساتھ گریجویٹ کیا تھا تبھی سب کی گاڑھی چھنتی تھی یونیورسٹی ختم ہوئی توہر کسی نے اپنی زندگی میں مگن ہوجانا تھا اور اور جب حقیقی زندگی کے تجربے شروع ہوتے ہیں تو اپنا ہوش نہیں رہتا دوستیاں کون نبھائے ابھی بھی سب باتوں میں لگے تھے کہ امر کی نظر حورین پر پڑی وہ کوئی کورین ڈرامہ دیکھ رہی تھی جس میں وہ اتنی منہمک تھی کہ کسی طرف ہوش نہیں تھا امر کی آنکھوں کا ارتکاز تھا کہ حورین چونکی اور امر کی طرف دیکھا لیکن وہ پہلے ہی نظروں کا زاویہ بدل چکا تھا کھانا آیا کھانا کھایا گیا پھر حورین باہر آئی اور سمندر کنارے چلنے لگی اسکے بال ہوا سے اُڑ رہے تھے اور ہوا اسے بہت ٹھنڈی لگ رہی تھی ۔
“آپ کچھ بھول آئی ہیں”امر نے پیچھے سے آواز دی وہ مڑی تو اسکے ہاتھ میں اُسکا موبائل ہوا میں لہرایا
“اف میں یہ ہر جگہ بھول کیوں جاتی ہوں” وہ خود کو کوستی امر تک آئی اور اس سے فون لے لیا۔
“تو کیا یہ پہلی بار نہیں “ امر نے حیرانی سے پوچھا
“نہیں بہت بار ہو چکا ہے ایسا لیکن یہ کبھی گما نہیں ہے“ حورین نے کاندھے اُچکائے اور ساحل پر چلنے لگی کہ اسکا وِلا تھوڑے فاصلے پر تھا وہ بھی ساتھ چلنے لگا ۔
“تو کیا کرتی ہیں آپ ؟” اس سے بات برائے بات کرنے کا دل چاہ رہا تھا پتہ نہیں کیوں شاید حورین کی شخصیت میں ایک طرح کی سادگی اور معصومیت سی تھی جو شاید آج کل اسے دیکھنے میں بہت کم ملتی تھی ۔
“میں ایم بی اے کر رہی ہوں اور شوقیہ فوٹوگرافی بھی کرتی ہوں اور آپ کیا کرتے ہیں “۔
“میں اپنے شوق پورے کرتا ہوں ” حوریں نے اُسکی طرف دیکھا ۔
“واؤ امپریسیو لیکن زندگی شوق پورے کرنے سے تو نہیں گذرتی نہ “۔
“ میری موم کی کی طرح بول رہی ہیں مس؟” امر نے ساتھ قدم ملاتے ہوئے پوچھا ۔
“حورین ہمایوں اور آپ “ حورین نے سامنے آتے وِلاز کو دیکھتے ہوئے پوچھا وہ اب ولاز کے بالکل نزدیک پہنچ گئے تھے ۔
“امرسلمان جعفر “ امر نے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“واؤ کول نیم“امر ہنس دیا وِلا پُہنچ چکے تھے اور امر کے وِلا کے سامنے ایمبر کھڑی تھی انہیں ہنستا مسکراتا دیکھ کے اُسے آگ ہی تو لگی تھی ۔
“میں کب سے کھڑی تمہارا انتظار کر رہی ہوں امر “ حورین کو سراسر نظر انداز کئے وہ امر سے بولی حورین بنا اَثر لیے اپنے وِلا کے اندر چلی گئی ۔
“تم کیوں میرا انتظار کر رہی ہو ایمبر میں نے تو وہیں گڈ نائٹ بول دیا تھا “امر ہلکے لہجے میں کہتا کارڈ سوائپ کر کے اپنا دروازہ کھولنے لگا پہلے تو وہ کچھ بول نا سکی پھر امر شارٹس کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اس ہی کی طرف دیکھنے لگا ۔
“مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے “ وہ مسکرا کر کہنے لگی آنکھوں میں ایک الوہی چمک تھی ۔
“ہاں بولو میں سن رہا ہوں”کہتے ہوئے اپنی جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکل کے سگریٹ سلگائی اور کش لینے لگا۔
“یہاں نہیں اندر چلو”ایمبر جُھنجُلا کر بولی وہ آنکھیں چھوٹی کر کے ایمبر کو دیکھنے لگا پھر سر ہلا کر ہنسنے لگا
“دیکھو ایمبر میں ون نائٹ اسٹینڈ کو اپریسیٹ نہیں کرتا اور امید کرتا ہوں تم بھی یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو وی آر جسٹ فرینڈزصبح ملیں گے گڈ نائٹ “کہتا وہ اپنے وِلا کے اندر چلا گیا اور دروازہ بند کر دیا ایمبر کتنی دیر تک وہیں کھڑی اپنی عزتِ نفس کی دھجیاں بکھرے دیکھتی رہی اسکی محبت میں وہ خود چل کر آئی اور اُسی نے ٹھکرا دیا گرم آنسو اسکے گالوں سے بہنے لگے۔
———————————-
آج انہیں وُدھو آئلینڈ جانا تھا اس لیے امر اور اسکا گروپ تیار ہو کر بوٹ کے سامنے آکر رُکے تھے یہ ٹرپ ریزورٹ کی طرف سے تھا تو دوسرے سیاح بھی جانے کے لیے تیار تھے کہ حورین اور اسکی فیملی بھی وہیں آگئے یوسف حنان اور زایان مسلسل حورین کو چڑائے جا رہے تھے۔
“حور آپی آج تو ہم ڈائیونگ کریں گے بہت مزہ آئے گا لیکن آپ کو کیا معلوم “زایان دانت نکالے یوسف کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگا حورین سفید شرٹ اور جینز کے اوپر پیروں تک آتا شرگ اور گلابی ہوائی چپل پہنےہوئے تھی اور آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ لگائے بال پشت پر کھلے چھوڑے تھے جو ابھی بھی ہوا سے اُڑ رہے تھے وہ آگے جا رہی تھی اور تینوں لڑکے اسے چڑاتے اسکے پیچھے کیوں کہ حورین کو تیرنا نہیں آتا تھا اور کبھی کسی نے سکھایا بھی نہیں لڑکوں کو تو باقاعدہ ٹرینر رکھوا دیا تھا اور اسے اس بات کا اب شدت سے احساس ہو رہا تھا ۔
“بکواس بند کرو اپنی تم لوگ منہ توڑ دونگی تم تینوں کا کر لو گے پھر اچھے سے ڈائیونگ “ تیزی سے مڑ کر انگلی اٹھا کر دانت پیستے ہوئے وارننگ دی لیکن وہ کہاں باز آنے والے تھے ۔
“ہائے سوئمنگ سیکھ کر میں نے تو اپنی پشتوں پر احسان کیا ہے لیکن حورین ہائے بیچاری “یوسف سینہ مسلتا ہوا بولا ۔
“امی دیکھیں اس بدتمیز کو “ وہ روہانسی ہو کر ماں کی مدد مانگنے لگی ۔
“اوہو یوسف ابھی اگر کچھ بولے تو یہیں چھوڑ دونگی تمہیں بتا رہی ہوں مت ستاؤ اپنی بہن کو” شائستہ کی تنبیہ سے وہ چپ تو کر گئے لیکن آنکھوں ہی آنکھوں اشارے ابھی بھی جاری تھے حورین ان سے بالکل الگ آکر بوٹ کے پاس بیٹھ گئی امر دُور کھڑا یہ کاروائی دیکھ کر زیرِ لب مسکرایا ۔
بوٹ چلنے میں ابھی پانچ دس منٹ تھے اس لئے سب سوار ہونے لگے حورین احتجاجاً ان سے دور جاکر بیٹھی اور منہ بھی دوسری طرف پھیر لیا امر اور اسکا گروپ اُسی طرف آکر بیٹھے سب کو لائف ویسٹ پہنا دی گئیں اور سفرشروع ہوا امر ہورین کے بالکل پیچھے بیٹھا تھا حورین کی ساتھ والی کرسی پر لوسی بیٹھی تھی جبکہ امر کی ساتھ والی سیٹ پر ایمبر بیٹھی تھی لُوسی انگریزی میں حورین سےباتیں کرتی رہی ان دونوں میں کل رات کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی تھی امر چلتی کشتی اور پیچھے بہتے پانیوں کو دیکھ رہا تھا دھوپ چھاؤں کا موسم تھا کبھی ہلکے بادل آجاتے کبھی دھوپ امر آگے کو ہو کر نیچے پانی میں دیکھنے لگا جب ہوا سے حورین کے لمبے بال اُڑ کر اُسکے چہرے سے ٹکرانے لگے اس نے آنکھیں بند کر کے اسکے بالوں کو اپنے چہرے پر محسوس کیا کوئی اور ہوتی تو شاید وہ اُسے ٹوک دیتا کہ اپنے بال سمیٹو میں ڈسٹرب ہو رہا ہوں وہ اپنی حالت پر حیران ہوا تین چار گرل فرینڈز بھگتانے کے بعد ہر لڑکی کا یہی رونا تھا کے وہ رومینٹک نہیں تھا انہیں ٹائم نہیں دیتا تھا اب ایمبر کو بھی اس نے کوئی آسرا نہیں دیا تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا آخر میں اسکا بھی یہی رونا دھونا ہوگا ودھو آئلینڈ پہنچے تو سب اترے اور ڈائونگ کی تیاری کرنے لگے یہ ایک الگ جزیرہ تھا یہاں پر ریزورٹ تو نہیں تھا لیکن یہاں بھی ریسٹورنٹ بنے تھےڈیپارٹمنٹل سٹور بھی تھا ہر انتظام تھا بیچ کے سامنے سن چیرز لگی تھی جس کے اوپر کنوپی لگی ہوئی تھی سب ڈائیونگ کرنے گئے تو امی بابا الگ سے واک پر نکلے وہ وہیں اپنے بیگ سے پینٹنگ کا سامان نکال کر رکھنے لگی اور ساتھ گنگنانے لگی
وہیں اپنے لیے کھانا منگوایا اس نے اس نظارے کی پینٹنگ بنائی جو بہت پیارا لگ رہا تھا ۔
“پینٹنگ سے زیادہ اچھی آپکی سنگنگ ہے “وہ پیچھے سے آکر بولا وہ جو پینٹنگ کو آخری ٹچز دےرہے تھی رک گئی ۔
“مجھے لگا میں اکیلی ہوں “اُسے بہت خفّت محسوس ہوئی ۔
“تو آپ صرف اکیلے میں گاتی ہیں “اس نے ساتھ والی چیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا حورین نے اسکی طرف دیکھا سفید رنگ کے پرنٹڈ بٹنوں والے شرٹ اور گھٹنوں تک آتے شارٹس اور آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ پہنے اسکے بڑھے ہوئے بال جن میں کچھ سلور ہائی لائٹس تھیں گیلے اور بکھرے تھے بلاشبہ وہ بہت ہینڈسم تھا حوریں نے اُسے دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا ۔
“کچھ شوق صرف اپنے لیے ہی ہوتے ہیں آپ ڈائیونگ کرنے نہیں گئے” حورین نے اپنی پینٹنگ سکھاتے ہوئے پوچھا ۔
“گیا تھا لیکن کچھ مسنگ لگا تو جلدی آگیا “ امر نے ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوئے کہا اور اپنا فون نکل کر پیکچر کھینچی حورین نے اُسے تصویر کھینچتےدیکھا ۔
“آپ غلط طریقے سے تصویر کھینچ رہے ہیں”حورین نے اُسکے فون کی طرف اشارہ کر کے کہا ۔
“اوہ آپ تو فوٹوگرافر بھی ہیں آپ ہی کھینچ دیں” اسنے فون آگے کر کے دیا حورین نے پیکچر کھینچ کر اُسے دکھایا کہ آئی فون پر اگر یہ سیٹنگ یہ زوم اور فیچر آن کیا جائے تو کیسے پیکچر پروفیشنل فوٹوگرافر کی طرح لگتی ہیں ۔
“آپ جیسی پروفیشنل فوٹوگرافر کی خدمات مل جائیں تو میں خود کو خوش قسمت سمجھوں گا“وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“یہ کچھ زیادہ نہیں ہو گیا “حورین ہنس دی پھر اسکا فون پکڑ کر اصلی تصویریں کھیچنے لگی جو امر کو بہت پسند آئیں وہ داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔
شام ڈھلنے لگی تھی تھوڑی دیر اور رک کر بوٹ کو واپس ریزورٹ پہنچنا تھا وہ سب ابھی وودھو آئلینڈ میں رات کو چمکتا پانی دیکھنے کے لیے رُکے تھے بائیولومینس ذرّات ودھو آئلینڈ کی وجہ شہرت تھی چھوٹے جاندار ذرّات جو پانی میں جگنو کی طرح چمکتے تھے سمندر کی لہریں ایسے چمکتیں کہ جیسے ان میں لاکھوں نیلی روشنیاں جل بجھ رہی ہیں کوئی اپنا نام ریت پر لکھتا تو اُسکا نام نیلی روشنی سے چمکنے لگتا سب بیچ پر جمع ہو گئے امر اور حورین پہلے سے ہی یہیں پر تھے اندھیرا ہوتے ہی سمندر نیلی جادوئی روشنی سے چمکنے لگا یہ نظارہ اتنا سحر انگیز تھا کہ حورین کتنی دیر بے حس و حرکت کھڑی دیکھتی رہی امی بابا اور چچا چچی بیچ پر واک کر رہے تھے اور ہر کوئی بیچ پر اپنا نام لکھ رہا تھا حورین ساحل پر چلنے لگی تو اسکے قدموں کے نشان نیلی روشنیوں سے چمکنے لگی امر بھی ساتھ چلنے لگا اس سے دو قدم پیچھے دونوں کے قدم ساحل پر اپنا نشان چھوڑنے لگے جیسے ہمیشہ سے ہی ساتھ چلنے کے لیے بنے ہوں
“زندگی کے بارے میں کیا سوچا ہے آپ نے “امر نے حورین کو آگے چلتے ہوئے دیکھا اسکے بال ہوا سے اُڑ کر پھر اسکی پشت پر گر رہے تھے ۔
“پڑھائی ختم ہونے کے بعد جاب کروں گی امی کا ہاتھ بٹاؤنگی گھر کے کاموں میں اف یہ گھر کے کام مجھ سے بالکل نہیں ہوتے”پھر وہ ہنسنے لگی ۔
“اور شادی “ امر رک گیا وہ بھی رکی اور مڑ کر اُسے دیکھا ۔
“جہاں امی بابا کہیں گے ماں باپ سب سے بہتر فیصلہ کرتے ہیں اولاد کے لیے “ وہ کندھے اچکا کر بولی وہ مطمئن تھی ۔
“ڈونٹ یو لو اینی باڈی ؟” وہ جیسے اپنا خدشہ بیان کر رہا تھا ۔
“ہمم !نہیں شادی سے پہلے محبت شیطان کا ٹیمپٹیشن ہے اور میں حرام کے ریلیشنز میں نہیں پڑنا چاہتی “ وہ ساحل پر بیٹھ گئی اور اپنا نام لکھنے لگی ۔
“تو تم کیسے انسان سے شادی کرنا چاہتی ہو؟” وہ بہت ہی مدھم آواز میں ساحل پر بیٹھ کر اپنا نام لکھتے ہوئے بولا ۔
“جو کسی کا نہ ہو بس میرا ہو مجھ سے وفا نبھائے میری عزت کرے “ وہ اٹھی اور ہاتھ جھاڑنے لگی وہ بھی اٹھا بوٹ کے جانے کا وقت ہو رہا تھا بابا اسے بلا رہےتھے امر کے دل پر بوجھ سا پڑ گیا وہ تو حورین کی لسٹ میں کہیں بھی فٹ نہیں تھا وہ تو کتنی گرل فرینڈ بھگتا چکا تھا انہیں اپنا بنا چکا تھا ساحل پر دونوں کے نام تو ساتھ جگمگا رہے تھے لیکن ایک دوسرے سے بالکل دور تھے کبھی کبھی ہمارے اپنے ہی کیے گناہ ہمیں ہماری خوشیوں سے دور کرتے ہیں ایمبر دور کھڑی اسے کسی اور کے ساتھ اپنا نام لکھتے دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں میں کرچیاں ابھری تھیں آنکھیں دھندھلا گئیں ۔
