Malika Diyar E Ghair

All Episodes
Malka-e-diyar-e-ghair-by-gulmira-rustum

ملکہ دیارغیر – گُل مرہ رُستم

Gulmira Rustum 14 min read

Synopsis

وہ کچن میں ناشتے کے برتن ڈش واشر میں ڈال رہی تھی اور ساتھ ساتھ بڑبڑا راہی تھی صبح ہی اسکی شوہر کے ساتھ منہ ماری ہو گئی۔

”نا عزت دو نا قدر بس سارا دن کچن میں کھپی رہتی ہوں میں ” ڈش واشر سیٹ کر کے سیدھی ہوئی تو کیبینٹ کے شیشے میں اپنا عکس نظر آیا بکھرے بال تھکا چہرہ اور بھی زیادہ کوفت ہوئی ۔

”پتہ نہیں سارا نے ابھی تک کوئی کام والی کیوں نہیں بھیجی ” جھنجھلاتی ہوئی آمنہ لاؤنج کا بکھیڑا سمیٹنے لگی دو دن پہلے اسکی کام والی سے ان بن ہوگئی اور وہ کام چھوڑ کر چلی گئی دو دن میں ہی گھر کے کام نبٹا نبٹا کر اسکی عقل ٹھکانے آگئی اتنے بڑے گھر کی صفائی اسکے بس سے باہر کی بات تھی کھانا تو وہ پہلے ہی خود بناتی تھی لیکن اب کپڑے دھونا استری کرنا اکبر کے کپڑے تو دھوبی کے پاس جاتے لیکن وہ اپنے اور بچوں کے خود استری کرتی ان سب کاموں میں کام والی اسکا ہاتھ بتاتی لیکن اب تو سب کام اس پر تھے اور وہ تھی کہ ہلکان ہوئی جا رہی تھی اور اکبر سے بھی صبح خوب لڑائی کی کے میں اب اور نہیں کر سکتی اب وہ بیچارہ کیا کرتا آفس کے لئے دیر ہو رہی تھی اس لیے کچھ بولے بغیر ہی نکل گیا جس سے آمنہ کو اور بھی زیادہ تپ چڑھ گئی ابھی ظہر کے قریب وہ تھوڑی فارغ ہوکر نماز پڑھ کر دعا مانگ رہی تھی کہ بیل بجی دعا سے فارغ ہوکر باہر آئی تو سارا کے ساتھ ایک اور نووارد کو دیکھا وہ یقیناً کام کے لیے آئی تھی جو چپ چپ سر جھکائے بیٹھی تھی آمنہ سارا سے گلے ملی اور جب اس لڑکی سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے اپنا چہرہ اٹھایا ایک دو تین ، تین سیکنڈ لگے تھے اسے پہنچاننے میں اس لڑکی کی آنکھوں میں بھی ایک شناسائی سی ابھری اور ایک خوشی کی لہر

” ارے ملکہ تم یہاں ” وہ لڑکی آمنہ کے سامنے اٹھ کھڑی ہوئی تو آمنہ اس سے بغل گیر ہوئی وہ چھوٹی آنکھوں والی گول بے رونق چہرہ لیے بہت ہی پرانے کپڑے پہنے لیکن صاف ستھرے حال میں تھی آنکھوں کے نیچے ہلکے چہرے پہ چھائیاں

”تم جانتی ہو اسے ” سارا نے حیرت سے پوچھا

”ہاں یہ تو مانو میرے گھر کے بچوں کی طرح تھی اتنی ذہین سعد کو پڑھانے ٹیوشن ٹیچر آتے تھے کچھ پوچھتے تو جواب یہ دیتی ” آمنہ مسکرا مسکرا کر بتا رہی تھی اور سارا بھی حیرت سے دیکھ رہے تھی

”مجھے لگا تمہاری شادی ہوگئی ہے اور یہاں سے کہیں اور چلی گئی ہو تم لوگوں نے تو اطنا ذاتی گھر لینا تھا ناں “ اچانک سے آمنہ کو یاد آیا تو پوچھا آمنہ نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ملکہ کو اس حال میں بھی دیکھے گی اسکا دل بہت دکھا

” جی باجی میں نے اور کہاں ہونا ہے جہاں میری اوقات تھی وہیں پر آج بھی بیٹھی ہوں ” بہت ہی نم لہجے میں کہتی اس نے اپنی پلکیں جھکائیں گویا آنسو پی رہی ہو

”لیکن تمہاری شادی ہو گئی تھی تو پھر ” آمنہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے پوچھے کہ اُسکے ماہ و سال کیسے گزرے اور یہ اس حال میں کیسے پہنچی ۔

سارا بھی خاموشی سے دونوں کے چہرے تک رہے تھی وہ تو بس اتنا جانتی تھی کہ ملکہ بہت سخت حالات سے گزر رہی ہے اسی لیے امنہ کے کہنے پر اسے یہاں لے آئی ۔

” میرے نصیب نے بہت اونچائی سے پٹخ کے مارا ہے ” اسکی چھوٹی چھوٹی اجڑی آنکھوں میں درد سا ابلنے لگا لیکن ہونٹوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ ابھری اس نے آنکھیں میچیں اور شاید کسی سفر پر روانہ ہو گئی وقت کے سفر پر بہت سال پیچھے

—————————-

وہ ساتھ سالہ لڑکی دروازے کے پیچھے چھپی اندر بیٹھے بچے کو پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھی ۔

”تو اب بتاؤ پلانٹس اپنی خوراک کیسے بناتے ہیں ؟ ” استاد جو پچھلے آدھے گھنٹے سے اس اونگتے بچے کو سمجھا رہا تھا اب کوفت اور بیزاری اسکے چہرے پر واضح تھی ۔

”کون سے پلانٹس؟“ بچے نے الٹا سوال کیا استاد کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے ۔

”فوٹوسینتھسز ” دروازے کے پیچھے کھڑی اس چھوٹی آنکھوں گورے گول چہرے پھولے گالوں والی بچی کی آواز آئی استاد نے چونک کر دیکھا بچی اُستاد کو متوجہ پا کر بھاگنے لگی ۔

”ارے بیٹا رکو ادھر آؤ“ استاد نے آواز دی وہ گھبراتے ہوئے کمرے کے اندر آئی استاد نے اسے بٹھایا وہ بچہ بھی اب انکی طرف متوجہ تھا

”آپ کب سے کھڑی سن رہی ہیں ؟“ استاد نے پوچھا ۔

” جب سے آپ نے پلانٹس والا سبق شروع کیا ”وہ اپنی باریک سی آواز میں سر جھکا کر بولی لیکن لہجے میں اعتماد تھا ۔

”اچھا یہ بتاؤ ایک پلانٹ کا بیچ کہاں سے بنتا ہے ؟“استاد نے وہی سوال پوچھا جو وہ تھوڑی دیر پہلے بچے کو سمجھا رہے تھے ۔

”پھول سے ” بچی نے جواب دیا استاد مسکرائے بچہ بھی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا استاد نے دو چار ایسے ہی سوال اور بھی پوچھے تمام سوالوں کے جواب صحیح ملے

”اب سے روز آپ سعد کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں گی ” ملکہ بہت خوش ہوئی یہ سن کر اور زور زور سے سر ہلانے لگی کتنا شوق تھا اسے سکول جانے کا اکرام سر جب گھر سے باہر نکل رہے تھے تو ملکہ کی ماں باہر پوچا لگا رہی تھی اکرام سر کو دیکھ کر منہ چھپا کر دوسری طرف نکلنے لگی کہ سر نے پکارا ۔

”ملکہ پڑھائی میں بہت اچھی ہے اور اسے شوق بھی ہے آپ اسے اسکول بھجوا دیں یہاں پاس ہی ایک سکول ہے اسکو وہاں داخل کروا دیں ”۔

ملکہ کی ماں شیرین بی پہلےتو سنتی رہی پھر بولی

”صاحب ہمارا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے کہاں سے پڑھائیں انکو ” ٹوٹی پھوٹی اُردو میں جواب دیا

لیکن کسی طرح انہیں منا کر اکرام سر نے لڑکیوں کے سرکاری سکول میں داخلہ کروا دیا جس گھر میں شیریں بی کام کرتی تھی وہاں کی مالکن ہاجرہ نے اس کےسکول کی وردی اور کتابیں خرید کر دیں۔

ملکہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما پا رہی تھی سکول جا کر اندازہ ہوا وہ بہت ذہین تھی ہر سال پوری کلاس میں پوزیشن لے آتی تھی بلا کا اعتماد تھا نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی تھی لیکن اب گھر میں ایک بھائی اور چار بہنوں کی کفالت شیریں بی کے لیے مشکل ہو رہی تھی جیسے تیسے کر کے بڑی دو بیٹیوں کی شادیاں کر دیں جو سال دو سال میں ایک چکر لگاتی تھیں لیکن پھر بھی ضروریات زیادہ تھیں اس لیے گیارہ بارہ سال کے ہوتے ہی شیریں بی کے بیٹے نے بھی کام شروع کر دیا لیکن اس حال میں بھی ملکہ کے سکول کا خرچہ اٹھانا مشکل تھا اس لیے اب وہ پریشان رہنے لگی نہ کتابیں پوری مل رہی تھی نہ ہی غیر نصابی سرگرمیوں کا خرچہ پورا کر پا رہے تھی گھر میں جتنی کمائی آتی اتنے لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنا مشکل تھا کُجا کہ اسکے اضافی خرچے اُٹھائے جاتے گھر بھی اپنا نہ تھا افغان مہاجر ہونے کی وجہ سے ایک پلاٹ میں کچا سا گھر بنا تھا پلاٹ کا مالک ہر ماہ بجلی گیس کا کرایہ وصول کرنے آجاتا انہی پریشانیوں میں گھری شیریں بی بیمار رہنے لگی اور مجبوراً ملکہ کو سکول چھوڑنا پڑا اس لیے انکی جگہ کام پر ملکہ چلی گئی ہاجرہ باجی کی بیٹی کی شادی قریب تھی اس لیے انکے کام اب بہت تھے ۔

”ملکہ بیٹا آمنہ باجی کو چائے دینے اوپر جاؤ اور انکے کمرے سے استری کے کپڑے بھی لے کر آنا ” ہاجرہ نے ملکہ کو چائے پکرائی ملکہ چائے لے کر اوپر آئی دروازہ کھلا تھا آمنہ کمپیوٹر پر کوئی اسائنمنٹ تیار کر رہے تھی وہ شادی سے پہلے اس کام سے فارغ ہو جانا چاہتی تھی ۔

”ارے ملکہ تم کب آئی کتنی بڑی ہو گئی ہو ”سر پر دوپٹہ نماز سٹائل میں لیے اس نے شرماتے ہوئے کپ آمنہ کے سامنے رکھا اور کمپیوٹر سکرین کی طرف دیکھنے لگی آمنہ نے اسکی نظروں کا زاویہ دیکھا ۔

”تمہیں پسند ہے کمپیوٹر ” آمنہ نے کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا ملکہ نے مسکرا کر سر ہلایا ۔

”ہمارے سکول میں بھی ہے میری ٹیچر بھی بہت اچھی ہے ” اس نے بڑے فخر سے کہا۔

” اچھا تو تمہیں بھی کمپیوٹر چلانا آتا ہے؟“ آمنہ نے کپ رکھ کر بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے کہا ۔

”نہیں ” اس نے اداسی سے کہا ۔

”تو سکول والے سکھاتے نہیں ؟“ آمنہ نے اچھنبے سے پوچھا ۔

”سکھاتے ہیں لیکن اسکے لیے ایک ہزار روپے فیس دینی پرتی ہے ” کہہ کر وہ لب کاٹنے لگی آمنہ معاملہ سمجھ گئی جلدی سے اٹھ کر الماری سے اپنا بیگ نکالا اور اس میں سے ہزار کا نوٹ نکال کر ملکہ کے ہاتھ تھمایا ۔

”کل سکول جاتے ہی تم نے ٹیچر کو فیس دینی ہے اور کمپیوٹر کی کلاس لینی ہے اور اگلی بار بھی میں دونگی فیس ٹھیک ہے تمہیں جب بھی ضرورت ہو میرے پاس آجانا ”کہتے ہوئے آمنہ نے اسکا گال تھپتھپایا ملکہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی وقت گزرتا گیا اور آمنہ کی شادی ہو گی ملکہ وہاں بھی اس سے ملنے جاتی تھی لیکن اب ملکہ کے بھائی کی شادی ہوگئی جو جمع پونجی تھی بھائی کی شادی پر خرچ ہوگئے اور الٹا قرضہ بھی چڑھا انکے ہاں رواج تھا کہ جس لڑکی کا رشتہ مانگا جاتا اسکا باپ ایک رقم لڑکے سے وصول کر کے اپنی بیٹی دیتا اور وہ رقم لاکھوں میں ہوتی شیریں بی پیسے جمع کرتی اور لڑکا بھی جو کماتا اسے اپنے اوپر خرچ کرنے کے بجائے اپنی من پسند لڑکی کے لیے بچا کر رکھتا پہلے اگر تھوڑا بہت بھی کچھ ملتا اب تو وہ بھی ملنے سے رہا اس لیے مجبوراً اب ملکہ کو بھی کام کرنا پڑتا انہی دنوں آمنہ کے ہاں جڑواں بچوں کی ولادت ہوئی بچوں کے کام اتنے تھے کے وہ پورے نہ کر پاتی نہ نیند پوری ہوتی ایک سوتا تو دوسرا جاگ جاتا اس وجہ سے آمنہ کی صحت دن بہ دن گرنے لگی اسکی مدد کے لیے ہاجرہ نے ملکہ کو بھجوایا وہ صبح سے شام تک آمنہ کے ساتھ ہوتی اور اسکے چھوٹے چھوٹے کام کر کے دیتی ایک دن بچے سو رہے تھے تو وہ آمنہ کے ساتھ سٹور کی صفائی کروا رہی تھی جب سٹور میں رکھی سلائی مشین پر آمنہ کی نظر پڑی ۔

”امی نے مشین تو بے کار میں دے دی میں نے کون سے سلائی کرنی ہے یہاں ” آمنہ بیزاری سے کہتی کپڑے سے مشین جھاڑنے لگی۔

”باجی میں سمیر اور ازمیر کے کرتے بنا دوں اس مشین سے ” ملکہ مشین دیکھتے ہی بولی۔

”تمہیں آتی ہے سلائی ؟“ آمنہ نے پوچھا تو فٹ سر ہلانے لگی ۔

آمنہ نے اپنی مشین اسے دے دی اس طرح وہ سلائی بھی سیکھ گئی کون سا ہنر تھا جو بڑے ہوتے اس نے نہیں سیکھا سلائی کڑھائی یہاں تک کہ آمنہ کے ساتھ لگ کر کھانا بنانا بھی سیکھ لیا اور پھر آمنہ کے گھر آنے سے پہلے ایک بیوٹی پارلر میں کورس بھی کیا ملکہ بالا کی زہین تھی بس اُسے آگے بڑھنے کے لیے تھوڑے سہارے کی ضرورت تھی وہ کوئلے کی کان میں ایک چھپا ہوا ہیرا تھی جس پر خود کو منوانے کی دھن لگی تھی اور اللّٰہ تعالیٰ نے بھی ہر وقت میں اسکی مدد کو ایسے لوگ بھیجے جو اسکی خوبیوں سے واقف تھے اور اسے آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے وہ اقبال کا قول ہے نہ

 ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ”

 وہ دنیا کے ہر ہنر کو تسخیر کر لینا چاہتی تھی لیکن ہمیشہ زندگی میں ہماری خوشی میں خوش ہونے والے ملیں یہ ضروری تو نہیں ۔

———————————-

بوسیدہ سا لکڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے ٹھاٹ کا پردہ گرایا تو اسکے پیچھے وہی کھڑی تھی جس سے وہ کالی بلی کی طرح ڈرتی تھی اسکا تو منہ ہی کڑوا ہوگیا آگے سے چھوٹی آنکھوں والی چپٹے چہرے والی اور چھوٹی گول ناک والی حبیبہ کھری تھی لمبی ویلوٹ کی میکسی اور کانوں میں لمبے سے بُندے پہن رکھی تھی اور چوئنگ گم چباتی ملکہ کو سر سے پیر تک دیکھتی ہوئے مسکرانے لگی ملکہ نے اسے پوری طرح سے نظر انداز کر دیا اور اپنا عبایہ سنبھالتی تیز تیز چلنے لگی

”سنا ہے آجکل پارلر میں لوگ صرف تم سے کام کروانے آتے ہیں ”نخوت سے کہتی اس نے اسے جاتے دیکھا۔

”آپ بھی آجائیں چچی اگر چہرہ نہ بدل دیا میں بھی ملکہ نہیں ” کہتی وہ سر جھٹک کر اپنی منزل کی طرف جانے لگی ۔

” خاندان کا ہر لڑکا تم سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ بیچارے کیا جانیں تم باہر کہاں کہاں کیسے کیسے گھروں میں جاتی ہو اللّٰہ کا شکر ہے ہم غریب ہیں مگر اپنی عزت کا سودا کروڑوں میں بھی نا کریں ” زہریلی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر لیے ناک سے مکھی اڑائی ملکہ کے تو مانو سر پہ لگی تلووں پی بھجی جی چاہا کہ اسکا منہ ہی نوچ لے ۔

”حیرت ہے آپکی بہن تو روز آپکی عزت کا جنازہ مفت میں نکالتی ہے ” بازو سینے پر باندھے وہ حبیبہ کے قریب آئی اور بہت ہی سرد لہجے میں کہا آگے سے حبیبہ پیچ و تب کھا گئی ۔

”کیا کہا تم نے ؟“ حبیبہ تیزی سے اسکی جانب بڑھنے لگی کہ پیچھے سے ملکہ کی بہن سلطنت نکلی ۔

”ارے چچی آپ کے لیے تو میں نے چائے بنائی ہے میٹھے پراٹھے بنائے ہیں شہد والے جلدی چلیں ٹھنڈے ہو جائینگے“ سلطنت چچی کا بازو کھینچتے اندر لے گئی اور آنکھ کے اشارے سے ملکہ کو جانے کا کہا ۔

”دیکھ لوں گی تمہیں میں ” غصے سے کہتی وہ سلطنت کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوئی ۔

ملکہ کے لیے آئے روز حبیبہ اور کئی رشتے داروں کے اس طرح کی باتیں برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا کیوں کہ وہ چپ رہنے والوں میں سے نہیں تھی اور آگے سے سب جا کر اسکی ماں کا گریبان پکڑ تے ہمارے اپنے ہی لوگ ہمارے زندگی بد سے بدتر بنانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

————————-

پارلر سے نکل کر اسےاپنا کمپیوٹر کورس کرنے اکیڈمی جانا تھا اسکے بعد آمنہ کے گھر جانا تھا آمنہ سے اسکا رشتہ اب بڑی بہنوں جیسا تھا وہ نہ بھی بلاتی لیکن وہ ملنے چلی جاتی کیوں کہ وہ اسکی محسن تھی آمنہ کا سوچتے ہی اُسکا دل خوشی سے بھر جاتا تھا ۔

”انٹرپرینیور پیسہ تب کماتے ہیں جب وہ اپنے کام کو وقت دیتے ہیں اگر آپ وقت نہیں دے سکتے تو آپ شکایت ہی کریں گے اور کچھ نہیں ” سر عبید کلاس کے آخر میں اپنے روز کا دہرایا ہوا جملہ آج دوبارہ دہرا رہے تھے کلاس ختم ہو چکی تھی تو ہر کوئی کلاس سے نکل رہا تھا جب سر عبید نے اُسے پکارا ۔

”ملکہ آپکا لیپ ٹاپ اگلے ہفتے تک مِل جائےگا ” سر عبید نے اسے خوش خبری سنائی

”ہا سچّی سر ! ” ملکہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا اس نے اکیڈمی کی طرف سے کچھ ضرورت مند اسٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ ملنے کی سکیم میں درخواست دی تھی جو یقیناً سر عبید کی کوشش کی وجہ سے منظور کر دی گئی تھی ۔

”بالکل مبارک ہو ” سر عبید مسکرا کر کہتے ہوئے اپنی چیزیں اٹھا کر باہر نکلے ۔

جب ہمارا دل تلخی سے کملا جاتا ہے تو ایک اچانک سے خوش خبری دل کو تازگی اور بہار بخشتی ہے۔

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *