Episode 2 - Sahilon Pe Chal Ke By Gulmira Rustum

All Episodes
ساحلوں پہ چل کے – گل مرہ رُستم

Episode 2

ساحلوں پہ چل کے – گل مرہ رُستم

کشتی جانے کا وقت ہوا تو سب اس میں سوار ہوئے حورین امر سے کافی دور بیٹھی کروز پہنچ کر وہ سب اس میں سوار ہوئے کروز ایک فائیو سٹار ہوٹل جیسا تھا ریستوران بار سوئمنگ پول شاپنگ مال اور بہت کچھ ہر کوئی اپنے شوق کی جگہوں کی طرف بڑھنے لگے حورین بھی شاپنگ مال کی طرف بڑھی خوب کچھ دکانیں دیکھنے کے بعد ایک جوتوں کی دکان پہ رکی گولڈن کلر کے بہت ہی نفیس ہیلز دیکھ کر اسکا دل للچایا ہیلز پہن کر شیشے میں اپنے پیر دیکھنے لگی ۔

“اچھے ہیں” امر کب آکر اسکے پیچھے کھڑا ہوا اُسے پتہ نہ چلا ۔

“تم کب آئے؟” اس نے آہستگی سے پوچھا اور شیشے میں اپنا اوراسکا عکس دیکھنے لگی کِتنے خوبصورت لگتے تھے دونوں ساتھ امر بھی یہی دیکھ رہا تھا ۔

“میں بس ابھی “امر نےمسکرا کر کہا حورین نے ہیلز پیک کروائی تو ادائیگی امر نے کی ۔

“نہیں پلیز امر مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا میں نہیں لوں گی “حورین نے منع کیا وہ نہ مانا تو وہ احتجاجاً دکان سے باہر نکلی وہ اسکے پیچھے آیا اور شاپنگ بیگ اُسکی طرف بڑھایا ۔

“نہیں امر میں نہیں لے سکتی “حورین سینے پر ہاتھ باندھے تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی وہ بھی تیزی سے آکر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا ۔

“کسی کا تحفہ یوں نہیں ٹھکراتے” امر نے گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے شاپنگ بیگ اُسکی طرف بڑھایا۔

“تحفے محرموں کے دیے ہی اچھے لگتے ہیں “ حورین کی آواز بہت مدھم تھی امر کا شاپنگ بیگ پکڑا ہاتھ نیچے گِرا ۔

“میں محرم بننے کو تیار ہوں” امر کی آواز محبت سے بھرپور تھی ۔

“یہ باتیں بڑوں کےطے کرنے کی ہیں” حورین کو اب خفّت محسوس ہو رہی تھی کہ اتنی تفصیل سےسمجھانا پڑ رہا تھا۔

“لیکن کچھ عرصہ ہمیں ایک دوسرے کو understand تو کرنا ہوگا ناں” حورین کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔

“اور اگر ہم understand نہ کر پائے تو ؟ چھوڑ دیں گے پھر کوئی دوسرا انڈرسٹینڈ کرنے کے لئے ڈھونڈیں گے یہ سائیکل تو پھر کبھی ختم نہ ہو زندگی میں کمپرومائز بھی کسی چیز کا نام ہے “ حورین نے اپنا نظریہ اسے سمجھایا ۔

“دیکھو حورین میں تمہاری بات سے متفق ہوں لیکن کبھی کبھار فیصلے غلط بھی ہوتے ہیں تو ہمیں بس کچھ عرصہ دیکھنا ہے کہ ہم ایک ساتھ رہ بھی سکتے ہیں یا نہیں” امر نے رساں سے اسے سمجھایا۔

“ لیکن میں تمہاری بات سے متفق نہیں ہوں فیصلے غلط ہوئے تو اللّٰہ نے ہمارے سامنے اختیار کاراستہ رکھا ہے یہ کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہےحرام رشتے کی “ حورین اپنی بات کہہ کر آگے بڑھی امر خاموشی سے اُسے جاتا دیکھنے لگا اتنی جلد بازی تو اُس نے کبھی گرل فرینڈ رکھنے میں نہیں کی بیوی تو زندگی بھر کے لیے تھی اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے حورین کو کھونا بھی نہیں چاہتا تھا واقعی میں حورین اسے بہت اچھی لگی تھی ۔

———————————————

کروز شپ نے کچھ جزیروں کاچکر لگا کر شام تک واپس ہو جانا تھا دسمبر کی دھوپ کی میٹھی گرمی کے نیچے بیٹھے وہ سب آؤٹ ڈور ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے حورین کا دل کھانے سے اچاٹ ہو گیا تھا دل پر عجیب سی دھند چھا گئی شاید امر اسکی باتوں سے ہرٹ ہوا ہو وہ دو چار نوالے کھا کر شپ ڈیک پر آئی اور نیچے بہتے پانی کو دیکھنے لگی ہوا بہت تیز تھی اسکے بال اڑنے لگے ۔

“ تمہاری وجہ سے اس نے وہ سب چھوڑا جو اسکی زندگی تھی “ حورین نے منہ پھیر کر دیکھا تو ایمبر شپ ڈیک کے پاس کھڑی تھی ہرے رنگ کی پیروں کو چھوتے بغیر بازو والی ڈریس میں کھری تھی اُسے کینا توز نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔

“نہ وہ اب نائٹ کلب آتا ہے  نہ لڑکیوں کے پاس آتا ہے بس تمہارے غم میں گھلتا جا رہا ہے کیا جادو کیا ہے تم نے اس پر “ وہ چلتے ہوئے بالکل اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔

“یہ تو تم خود سوچو کہ تم کیا نہ کر سکی اُس کے لیے کہ وہ میرے پیچھے چلا آیا “حورین بھی اسکے مقابل کھڑی ہو گئی ۔

“ہہہ یہ سو کالڈ موڈیسٹی بہت اچھے سے جانتی ہوں میں تم جیسی لڑکیوں کو ،میں جیسی بھی ہوں کھل کر ہوں منافقت نہیں مجھ میں لیکن تم نے اسکی آنکھوں پر شرافت کاپردہ چڑھایا ہے اُس کو چاک ہونے میں ذرا بھی وقت نہیں لگے گا” وہ متنفر لہجے اور سرد آواز میں کہہ رہی تھی ۔

“منافق ؟ خود کو آبجیکٹیفائی نہ کرنا منافقت کیوں ہوگئی اور اگر وہ میری وجہ سے غلط راستے چھوڑ رہا ہے تو میں اسے اپنانے میں دیر نہیں کروں گی “ حورین بھی اتنے ہی سرد لہجے میں بولی ایمبر پیر پٹختی غصے سے بڑبڑاتی چلی گئی جبکہ حورین اپنا دل پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔

“نائٹ کلب ،لڑکیاں “ اس نے ریلنگ کا سہارا لیا کہ اسکی ٹانگیں اُسکا بوجھ اٹھانے سے انکاری تھیں ۔

“اے اللّٰہ میں کیا کروں مجھے رستہ دکھا” اسکا دل بہت مضطرب ہو چکا تھا ایمبر کے سامنے وہ دھڑلے سے کہہ گئی کہ اسے اپنا لیگی لیکن اگر وہ نہ سدھرا تو کیا ؟۔

——————————————-

وہ جیٹ سکیئنگ کررہا تھا جب اسکی نظر حورین پر پڑی وہ ساحل پر کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ جیٹ اُس کی طرف لے آیا نیلے رنگ کے پرنٹڈ میکسی میں بالوں کی چوٹی بنا کر سائڈ سے گرائے

“وانا رائڈ “ جیٹ اسکے قریب روک کر اس نے پوچھا ۔

“پھر کبھی” حورین نے مسکرا کر جواب دیا امر شاید اسکا مطلب سمجھ گیا تبھی مسکرا دیا ۔

“مجھے تم سے بات کرنی ہے” کہتی وہ پلٹ گئی وہ بھی جیٹ اتر کر اسکے پیچھے آیا ساحل پر ایک درخت پر دو جھولے باندھے تھے جس پر بیٹھنے سے پیرپر پانی پر پڑتے تھے آج صبح سےبادل چھائے تھے اور کبھی ہلکی بارش ہوتی کبھی رک جاتی ایک جھولے پر حورین بیٹھی ایک پر امر ۔

“کیا بات کرنی ہے ؟” امر کا دل عجب لے پر دھڑکنے لگا کہ پتہ نہیں کیا کہے گی ۔

“کیا ہابیز ہیں تمہاری”حورین ہلکے جھولے لے رہے تھی جبکہ امر بیٹھا گھنٹے پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہا تھا

“تم نے کیا سنا ہے؟”امر سمجھ گیا کہ بات کس طرف جا رہی ہے ۔

“لڑکیاں نائٹ کلب اور بھی کچھ ہے تو بتا دو ”جھولا جھولتے ہوئے وہ بولی۔

تھوڑی دیر تو وہ چپ رہا کسی گہری سوچ میں لگتا تھا ۔

“ہاں یہ سچ ہے لیکن جب سے اس بات کا احساس ہوا ہے کہ یہ چیزیں ایک پرسکون زندگی کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہیں میں نے چھوڑ دیں کوئی بھی اچھی لڑکی مجھ جیسے لڑکے کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہے گی مجھے خود اپنی زندگی کو اس دلدل سے نکالنا ہوگا ورنہ نہ محبت ملے گی نہ وفا نہ عزت “وہ اپنے پیروں سے ٹکراتی لہروں کو دیکھتا دھیمی آواز میں کہتا گیا ۔

“کیا تم یہ زندگی چھوڑ سکتے ہو؟”جھولا روک کر وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔

“میں چھوڑ چکا ہوں” وہ ایک عزم سے بولا وہ جھولےسے اٹھی اورواپسی کی راہ لی

“حورین کچھ کہو گی نہیں ؟ “ ۔

“جب تمہارے والدین آئینگے تو امی بابا کو میں ہاں کر دونگی اب ڈیٹ تو وہی فکس کریں گے میں تو نہیں کرونگی نہ” معصومیت سےکہتی وہ جانے کے لیے پلٹی امر بے اختیار مسکرا دیا آخر کار وہ اسکی ہونے جا رہے تھی اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔

————————————-

رات کھانے کے بعد وہ ٹہلنے باہر آئی تو امر اسکے انتظار میں بیٹھا تھا اسے دیکھ کے مسکرا کرکھڑا ہو گیا

“تم نے اپنا نمبر نہیں دیا نہ انسٹاگرام کچھ نہیں کہ میں کال کر کے پوچھ لیتا “وہ اسکےساتھ چلتے ہوئے کہنے لگا ۔

“میں نے جان بوجھ کر نہیں دیا “ساتھ چلتے ہوئے وہ بولی ۔

“کیوں اب تو ہماری شادی ہو جائے گی پھر کیوں ؟” اس نےاحتجاج کیا اور حیران بھی ہوا

“جب ہو جائے گی تب میرا فون ہی تمہارا ٹھیک ہے لیکن ابھی نہیں “ وہ اطمینان سے بولی وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا ۔

“تو میں تمہارے گھر اپنے والدین کو کیسے بھیجوں گا “

اسکی فکریں بےحساب تھی ۔

“میں تمہیں اپنا پتہ بابا کا نام آفس سب دے دونگی فکر مت کرو”اس نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا وہ بھی مسکرایا ۔

“چلو ٹھیک ہے آئسکریم کھاؤ گی ؟”آئس کریم پارلر پر نظر پڑی تو پوچھا ۔

“نہیں” یاد ہے اسے وہ آئس کریم ۔

کافی دیر تک واک کرتے وہ تھکی تو ولاز طرف جانے لگی ۔

ویلا کی طرف جاتا رستہ تھوڑا سنسان تھا جہاں حوریں نےکتا دیکھ کرشیرسمجھ لیاتھا وہ بات یاد کر کے دونوں بہت ہنسے پھر وہ ساحل کی طرف منہ کر کے لہروں کو دیکھنے لگی ۔

“آج یہاں ہماری آخری رات ہے میں اس جگہ کو بہت مس کرونگی” ساحل کو دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کیں جبکہ امر کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔

“آخری رات کیا مطلب؟” وہ حیرت سےپوچھنے لگا

“ہم کل صبح ہی یہاں سے چلے جائیں گے ہماری فلائٹ ہے کراچی کی “ امر کے دل پر ڈھیروں اداسی پڑ گئی دل پر عجیب وحشت سی چھا گئی ۔

حورین کا اپنا دل بھی بوجھل تھا وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی کیوں لہریں بھی انکے بچھڑنے پر اداسی لیے ہوئے تھی حورین نےرخ موڑ کر امر کو دیکھا اسکی آنکھیں بجھ گئی تھیں اسکے جانے کاسن کر

“کیا ہوا” حورین نے اُسے بجھا ہوا دیکھ کر پوچھا لیکن وہ کیسا بدقسمت سا خود سر لمحہ تھا کہ امر نے اسکے گال پکڑے اور اس پر جھکنے لگا حورین نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن اُسکی پکڑ مضبوط تھی یکایک ایک زناٹے دار تھپڑ سے اُسکا سارا جسم گونج اٹھا ۔

حورین اس سے دور جا کر کھڑی ہوئی وہ رونے لگی تھی ۔

“ایسا کیسے کر سکتے ہو تم میرے ساتھ “ حورین کی گھٹی گھٹی سی آواز نکلی اور وہ بھاگتی ہوئی اپنے وِلا میں چلی گئی اور امر وہ کتنی دیر تک گال پر ہاتھ رکھے شل سا کھڑا رہا لڑکیاں مرتی تھیں اس پر کہ وہ ان سےبات کرے انہیں توجہ دے غصّے کی ایک تیز لہر اسکے دل و دماغ میں دوڑنےلگی اسکی مٹھیاں بھنچ گئیں سمجھتی کیا ہے خود کو غصے سے اسکےجبڑے تن گئے وہ غصے سے کھولتا اپنے وِلا آیا سونے کے لئے لیٹا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ساری رات سگریٹ پھونکتا سوچتا رہا صبح جب اپنے وِلا سے نکلا تو حورین اوراسکی فیملی جا چکے تھے دل پر منوں بوجھ آن گرا لیکن ابھی بھی اسے غصّہ تھا وہ تھپڑ اسکی عزت نفس اسکی مردانگی پر پڑا تھا دو دن بعد اُسے بھی واپس پاکستان جانا تھا اور عملی زندگی میں قدم رکھنا تھا اسے فِلحال اس بارے میں نہیں سوچنا تھالیکن دل پر کس کا زور۔

——————————————

پاکستان آ کر کچھ عرصے میں اس نے اپنے والد سلمان جعفر اور بھائی حماد جعفر کے ساتھ کنسٹرکشن کمپنی سنبھالی لیکن پھر اسکے والد نے اسے دبئی بھیجا جہاں انہوں نے ایک کنسٹرکشن کمپنی کے ساتھ معائدہ کیا تھا جو مل کر انکے ساتھ کراچی میں بلڈنگز بنا رہے تھے وہ دبئی آگیا اور اپنے کام میں مصروف رہتا لیکن اِسی دوران اُسے شدید اینکسائٹی اٹیک ہوا وہ سائکائٹرسٹ کے پاس گیا اور کتنے سیشنز کے بعد تھوڑا بہتر محسوس کیا ۔

“تم صرف کام کے بارے میں بات کر رہے ہو حالانکہ میں پوچھ رہا ہوں کہ تم کسی لڑکی کو دل تو نہیں دے بیٹھے “ ڈاکٹر جمال نے ہر بار کی دہرائی بات اس بار پھر دہرائی۔

“میرا دل ہے میں کسی لڑکی کو کیوں دونگا “ وہ مسکرا کر اپنا کوٹ پہننے لگا ۔

کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ایک دن ایک دوست کے ساتھ کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں اذان ہوئی اُسکا دوست نماز پڑھنے اُترا ۔

“چلو تم بھی “ ۔

“آہ اوکے” بنا سوچے سمجھے وہ مسجد کے اندر داخل ہوا جا کر وضو کیا اور نیت کرنے لگا نماز شروع تو کر دی لیکن اختتام تک چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا دل کا میل اور غبار نکالنے لگا کتنی دیر وہ بنا حس و حرکت حالتِ تشہُّد میں بیٹھا رہا ۔

اپنا ہر گناہ یاد آنے لگا گوکہ وہ ہر بری عادت چھوڑ چکا تھا لیکن دل پر گناہوں کا بوجھ اتنا تھا کہ کبھی کبھار دل پھٹنے لگتا ۔

“تم ایسا کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ “ اسکی روتی ہوئی آواز آج پھر سنائی دی ۔

“اللّٰہ مجھے معاف کر دے میں بڑا گناہ گار اور سیاہ کار ہوں اور جو میں نے اسکے ساتھ کیا ،مجھے معاف کر دو حورین میں غلط تھا “ جو درد وہ دو سالون سے دل میں دبائے بیٹھا تھا آج نکل کر باہر آیا ۔

“اللّٰہ آسانی سےمعاف کر دیتا ہے اب تم بھی خود کو معاف کر دو “ وہ داڑھی والا پولو شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس ایک پُرنور چہرے ولا نوجوان تھا

“لیکن جب تک انسان معاف نہ کرے اللّٰہ معاف نہیں کرتا” امر نے ندامت سے کہاوہ لڑکا مسکرایا

“دیکھو اللّٰہ سے سچے دل سے معافی مانگو وہ معاف کر دیتا ہے لیکن انسان کے سامنے سو سال بھی سر جھکا کر بیٹھو گے تو وہ کہے گا کہ یہ کافی نہیں میں یہ نہیں کہ رہا کہ جس کے حق میں غلطی کی ہے اس سے معافی مت مانگو تم ظرف دکھا کر معافی مانگو پھر اسکا ظرف وہ معاف کرے نہ کرے تم گلٹ میں خود کو ختم مت کرو موو آن کر جاؤ “ رافع کی باتوں سے اسکے دل کا بوجھ کافی ہلکا ہوا اور پھر وہ رافع سے ملنے لگا اسکی سنگت میں وہ دین سے قریب ہوا حال تو یہ تھا کے وہ خود اب لوگوں کو اسلام کی طرف موٹیویٹ کرتا تھا اسلامک موٹیویشنل اسپیکر اپنے پوڈکاسٹ میں بلاتے تھے اسکا انسٹاگرام بھی ایسی ہی پوسٹس سے بھرا ہوتا تھا ۔

———————————————

فیراویرا کے ساحل پر چلتے ہوئے کتنی یادیں ذہن سے نکل کر آنکھوں کے سامنے زندہ ہونے لگی سفید شرٹ اور خاکی پینٹ کے پانچے موڑھے آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ لگائے وہ یادوں کے دریچوں میں کھویا ہوا تھا اب نہ وہ سلور ہائی لائٹس والے بال تھے نہ بازو میں ٹیٹو جسے اس نے لیزر سے جلوایا تھا لیکن نشان ابھی بھی باقی تھا بال اب کلاسک سائڈ پارٹ کئے ہوئے چہرے پر ہلکی داڑھی وہ ایک جینٹل مین لگتا تھا۔

وہ وِلا جس میں حورین اور اسکی فیملی رہے تھے وہ اسی میں رہ رہاتھا اس نے انفارمیشن ڈیسک سے اُنکے بارے میں انفارمیشن چاہی تو انہوں نے معذرت کر لی کہ وہ اپنے کلائنٹس کی انفارمیشن ڈسکلوز نہیں کرتے ویسے بھی تین سال پرانی فائلز ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں یہاں بھی کچھ نہ ملا تو وہ واپس دبئی آگیا ۔

———————————-

حورین کا ایم بی اے مکمل ہوا تو کچھ عرصہ تو گھر بیٹھی امی کے ساتھ گھر داری سیکھتی رہی لیکن جلد ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ گھر داری بھی آسان نہیں

“میں تو کہتی ہوں امی آپکو تمغہ ِ شجاعت ملنا چاہئے یہ گھر چلانے کے لیے بلکہ ہر ماں کو ملنا چاہیے “تھوڑی دیر کچن میں کھڑی ہو کر اس کی جان نکلنے لگتی۔

“اچھا بس اب ڈرامے بند کرو اور چاول کا پانی چیک کرو” شائستہ گھور کر کہتے ہوئے کچن سے نکلی تب ہی بابا کچن کے اندر آئے۔

“بابا اپنے دوست کی کمپنی میں میری جاب کی بات کی آپ نے ؟” بابا کے آتے ہی اس نے بیتابی سےپوچھا ۔

“ہاں ہاں بات کی میں نے تم کل ہی جوائن کرنا “ بابا پتیلوں کے ڈھکن اٹھاتے ہوئے بولے

“شکر ہے کل سے کچن میں کام نہیں کرنا پڑے گا” وہ خوشی سے کہتی کام کرنے لگی ۔

“تمہاری ماں پچھلے ستائیس سال سے یہ کام بغیر کسی شکایت کے کرتی ہے بیٹا” اسکی پیٹھ تھپتھپا کر آگے بڑھ گئے ۔

“ماں جیسا صبر کہاں سے لاؤں ؟” خیر وہ خوش تھی کل سے آفس جوائن کرنا تھا ۔

————————————————-

وہ اپنے آفس چیئر پر بٹھا لیپ ٹاپ کی پیڈ پر انگلیاں چلا رہا تھا جب سلمان جعفر کی کال آئی بلیوٹوتھ سے کال ریسیو کی ۔

“اسّلام علیکم بابا “ بات کرتے ہوئے نظریں ابھی بھی سکرین پر جمی ہوئی تھیں ۔

“وعلیکم السلام میرے بیٹے “سلام دعا کے بعد وہ اصل مدعے پر آئے ۔

“ بیٹا کراچی کا آفس اب آپ نے سنبھالنا ہے “سلمان نے اصل بات بتائی۔

“بابا میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں یہاں سیٹل ہو چکا ہوں وہاں آکر پوائنٹ زیرو سے شروع کرنا مشکل ہے “ وہ اپنی ہر بار کی دہرائی بات پھر بتانے لگا سلمان صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری ۔

“بیٹا دیکھو تمہارے بھائی سے اب سنبھالا نہیں جا رہا اسکے اور تمہاری بھابھی کے ایشوز چل رہے ہیں کچھ عرصہ دبئی رہیں گے سب سے دور تو شاید ٹھیک ہو جائیں “ بابا نے جب اصل بات بتائی تو وہ کچھ لمحے تو سوچتا رہا۔

“اوکے بابا اگر ایسا ممکن ہے تو ٹھیک ہے میں آجاؤنگا” اس نے آنکھیں انگلیوں سے مسلیں

“شاباش میرا شیر بچہ “ سلمان صاحب کی خوشی بھرپور آواز آئی ۔

کرسی کی پشت سے سر ٹیکا کر آنکھیں موندے وہ سوچنے لگا ۔

“حورین”

“میری وجہ سے آپ مشہور ہو گئے”

“تحفے محرموں کے دیے ہی اچھے لگتے ہیں “

“شاید جب تک زندگی رہے میں دہراتی رہوں کہ میری زندگی پرتمہارا قرض ہے”

اسکے کانوں میں اسکے جملے شہد بن کر گھلتے رہے

“اے اللّٰہ حورین کو میری زندگی میں شامل کر دے “ حورین امر کی ہر دعا میں شامل تھی ۔

————————————-

حورین کو آفس جوائن کئے اب کافی دن ہو رہے تھے وہ یہاں کافی خوش تھی یہاں کا ماحول بہت دوستانہ تھا سب سے گھل مل گئی ذیشان صاحب کو اسکا کام بہت پسند آیا واقعی وہ محنتی تھی اور کریٹیو بھی وہ اپنی گاڑی میں آتی جاتی تھی آج جب وہ آفس سے گھر پہنچی تو ڈرائنگ روم کچھ مہمان بیٹھے تھے وہ جانتی تھی انکا مقصد اس لیے سیدھا اپنے کمرے میں آکر وضو کیا اور نماز پڑھی جب امی اسکے کمرے میں آئی۔

“بیٹا سعدیہ مامی آئی ہیں جلدی نیچے آؤ” امی حکم صادر کر کے نکل گئیں اسکا تو حلق تک کڑوا ہو گیا سعدیہ مامی اور انکا دو نمبر بیٹا اُف وہ کلس کر رہ گئی ۔بڑبڑاتی اور دوپٹہ درست کرتی جب وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو مظفر اپنی ماں کے پاس بیٹھا تھا اتنی تیز نظریں اُسکی کہ سر سے پر تک سکین کرتی تھیں ماں تو بھتیجے کی محبت میں اتنا نہیں سمجھتی تھیں کہ وہ کتنا بڑا ٹھرکی ہے وہ جب سعدیہ مامی سے ملی تو مظفر بھی کھڑا ہو گیا اور ہاتھ ملانے آگے بڑھایا حورین اسے نظر انداز کر کے اپنی ماں کے پاس بیٹھی ۔

“بھائی بتا رہی ہوں شائستہ حورین تو میرے گھر ہی آئے گی “ مامی پیار سے حورین کو دیکھتے ہوئے بولی اور مظفر کی ایکس رے کرتی نظریں پہلے ہی اس پر جمی تھیں۔

“بھابھی مظفر تو میرا اپنا بچہ ہے لیکن بات یہ ہے کہ ہمایوں اس رشتے کے حق میں نہیں اور صاف بات کرنے کو کہا بیٹی انکی ہے بھابھی میری طرف سے معذرت قبول کریں”مامی اور مظفر کے ساتھ حورین کا منہ بھی کھلا رہ گیا دل ہی دل وہ خوش ہونے لگی ۔

“اتنی بے عزتی میں یاد رکھونگی شائستہ اپنے بھائی سے خود بات کر لینا پھر تم “ سعدیہ مامی غصے سے کہتی اٹھی اور اُنکا بیٹا بھی غصے سے پھنکارتا نکلا شائستہ نے روکنے کی کوشش لیکن وہ غصے میں تھی نہیں رکی انکے جانے کے بعد حورین شائستہ کے گلے سے لپٹ گئی ۔

“تُسّی گریٹ ہو ماں جی لو یو “ شائستہ مصنوعی خفگی سے اُسے ہٹانے لگی ۔

“ہاں بس بہت ہوگیا مکھن لگانا چھوڑو ہزار کام پڑے ہیں” ۔

حورین اب بیٹھ کر کباب کھانے لگی جو سعدیہ مامی اور انکے بیٹے کے لیے بنائے گئے تھے ۔

——————————————

آج صبح ہی آفس کےواٹس ایپ گرو پ میں میسج آیا کہ آفس کا نیا سی ای او ۹ بجے تک آفس پہنچے گا تو تمام اسٹاف کا موجود ہونا لازمی ہے اس لیے جتنی جلدی کوشش کی اسے آفس پہنچتے نو بج گئے وہ ہلکے پستہ رنگ کی لمبی اے لائن قمیض جس پر بیج رنگ سے دھاگے کا کام ہوا تھا کے ساتھ ٹراؤزر پہنے دوپٹہ سر پر اوڑھے سفید ہیلز اور سفید بیگ لیے تیز دورتی بند ہوتی لفٹ میں گھس گئی اور اپنا مطلوبہ فلور دبایا اندر کھڑا امر موبائل میں مصروف تھا کہ دونوں نے سامنے دھاتی دروازے میں ایک دوسرے کا عکس دیکھا اور ایک جھٹکے سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا لفٹ اوپر جا رہی تھی اور وہ دونوں خاموش کھڑے تقدیر کے اس معجزے پر حیران تھے حورین اب نیچے دیکھنے لگی اپنے جوتوں کو اور امر وہ دھاتی دروازے میں اسکے عکس کو کیا اسکی دعائے مستجاب ٹھہری تھیں لفٹ مطلوبہ فلور پر کھلی زیشان صاحب امر سے ملنے اُسے خوشامدید کرنے دوسرے اسٹاف کے ساتھ لفٹ کے سامنے کھڑے تھے حورین سیدھا اپنے کیبن میں گُھسّی اور اپنی سیٹ پر بیٹھتی چلی گئی آنسوؤں کا ایک گولا اُسکے گلے میں اٹک گیا جس محبت کو اتنے سال اپنے سینے میں دفنایا تھا وہ زندہ و جاوید اسکے سامنے کھڑا تھا ہاں حورین کے دل میں امر بستا تھا یہ ایسا راز تھا کہ وہ خود سے بھی کہنے سے ڈرتی تھی تین سالوں سے ایسا کوئی دن نہ تھا جب اسکی یاد نہ آئی ہو اسکے انسٹاگرام پوسٹوں کو دیکھتی اسکے پوڈکاسٹ سنتی تھی جو حرکت اس نے کی اس کا جواب اس ہی وقت تھپڑ سے دینے کے بعد بھی کتنے عرصے تک اسے اس پر غصہ رہا لیکن وقت گزرتے ساتھ اسے احساس ہوا غلطی اسکی بھی برابر تھی وہ غلط جگہ پر غلط وقت میں ایک نا محرم کے ساتھ تھی ہی کیوں ،آہستہ آہستہ غصے پر محبت غالب آگئی اور آج اسے سامنے دیکھ کر دل کا راز آنکھوں سے عیاں ہونے کا ڈر تھا دل و دماغ سن سے تھے۔

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *