“حورین دس منٹ میں اسٹاف میٹنگ ہے سی ای او کے ساتھ کانفرنس روم پہنچو “ منزّہ دروازے سے سر نکال کے بس اتنا بولی اور چلی گئی ۔
“اف میں اسکا سامنا کیسے کرونگی “ سوچتی ہوئی وہ اٹھی اور کانفرنس روم کی طرف چل دی قدم من من بھاری تھے کانفرنس روم میں وہ سب اپنی نشستوں پر بیٹھے انگریزی الفابیٹ یو کی طرح کا کانفریس ٹیبل جس میں سیدھ کی سربراہی کرسی امر کی تھی اور دائیں جانب تیسری کرسی پر حورین کا نام لکھا تھا کاش اسے کوئی آخری کرسی ملی ہوتی اسکی عجیب حالت ہو رہی تھی دل اتنا زور سے دھڑک رہا تھا کہ مانو سینہ توڑ کر باہر نکل آئے گا تب ہی امر اندر داخل ہوا بلیک تھری پیس کلاسک سائڈ پارٹ اونچا لمبا قد اور وہی آنکھیں کالی گہری ہنٹر آنکھیں اور ان پر پلکوں کا جال متوازن چال چلتا ہوا وہ سربراہی کرسی پر بیٹھا بلا کا اٹیٹیوڈ تھا اس میں کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا ذیشان صاحب بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ہیڈ اسے بریف کیے جارہے تھے اور وہ سر کے اشارے سے جواب دے رہا تھا پھر ہر کوئی اپناتعارف کروانے لگا جب حورین کی باری آئی تو وہ ہمت مجتمع کرکے اعتماد سے کہنے لگی
“حورین ہمایوں مارکیٹنگ مینیجر “ اس نے مضبوط لہجے میں کہا اس نے کرسی کے ہتھے پر کہنی رکھی گال تلے انگلی رکھے بس ایک نظر اسے دیکھا ہر کوئی جب اپنا تعارف کروا چکا تو آخر میں امر اپنی سیٹ پر کھڑا ہوا ۔
“اسّلام علیکم میرا نام امر سلمان جعفر ہے اور آپکا نیا باس ہوں امید کرتا ہو دوستانہ ماحول میں کام کیا جائے گا اور کام سے مراد کام ہے تھینک یو “ پُر اعتماد لہجہ گمبھیر خوبصورت آواز میں کہتے ساتھ ہی وہ نکلنے لگا۔
“اف ایک تو اتنا ہینڈسم اوپر سے اتنا نخرہ “ منزّہ نے تبصرہ کیاحورین نے کوئی جواب نہ دیا
وہ دل ہے دل سوچ رہی تھی یہاں کام کرنا اب مشکل ہے۔
—————————————-
اگلے دو تین دن اسکا سامنا امر سےنہیں ہوا کیوں کہ وہ کنسٹرکشن سائٹس کے وزٹ پر تھا لیکن آج وہ آفس آیا تھا اور آفس میں بڑی ہلچل تھی تمام ریکارڈ نکالے بیٹھا تھا امر کا پرسنل سیکرٹری چوبیس سالہ ارسلان تھوڑا فربہ سا چشمہ لگا کر بڑاچاک و چوبند سا گھومتا تھا ابھی بھی امر کے سامنے فائلوں کا پلندہ لا پٹخا امر نے آبرو سِکوڑ کر اسے دیکھا ۔
“باس آپکا بستر یہیں لگانا پڑے گا رات کو کیوں کہ یہ پلندہ تو دو دن تک ختم ہونے والا نہیں “ کہہ کر وہ رکا نہیں اپنے بال سیٹ کر کے نکل گیا۔
“ویئرڈو” امر سر جھٹک کر فائلوں میں مصروف ہوا
لنچ بریک میں امر کھانا آفس میں کھانے کے بجائے کیفیٹیریا میں چلا گیا امر کے داخل ہوتے ہے سب کے بولتے اور کھاتے منہ ساکت ہو گئے امر ذیشان صاحب سے کیفیٹریا کی بابت تبصرہ کرنے لگا کہ یہ کیوں ہے یہ کیوں نہیں حورین منزّہ اور سارا کے ساتھ بیٹھی تھی آج حورین نے سفید چکن کا جوڑا پہنا تھا ساتھ رنگین پرنٹڈ دوپٹہ اور سفید ہیلز بال کھلے تھے اور ہلکے لیئرز میں کٹے بلو ڈرائی کی ہوئے تھے امر حورین کے بالکل ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھا ایسے کہ حورین ساتھ والی میز کی مخالف کُرسی پر بیٹھی تھی ذیشان صاحب نے اپنا اور اسکا کھانا منگوایا اور ساتھ بیٹھے ڈسکس بھی کرتے جا رہے تھے۔
“یہ جا کر ماڈلنگ کیوں نہیں کرتا “منزّہ نے سارا کان میں کہا۔
“خود جا کر پوچھ لو “سارا نے آبرو کے اشارے سے کہا ۔
“میں پوچھ بھی لونگی “ منزّہ نے بھی آبرو اشارے سے کہہ۔
“شش” حورین نے اشارہ کیا لیکن منزّہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
“ایکسکیوز می باس “ منزّہ نے گلا کھنکار کر اسے پکارا وہ ذیشان صاحب کی کوئی بات سن رہا تھا اس کی طرف دیکھا ۔
“باس یہ سارا پوچھ رہی ہے کہ آپ ماڈلنگ کیوں نہیں کرتے ؟” ہر کوئی اُنکی طرف متوجہ تھا سن کر سب خاموش ہوئے ۔
“مجھے شوق نہیں اس لئے “ کہہ کر وہ دوبارہ سے ذیشان صاحب کی طرف متوجہ ہوا لیکن ذیشان صاحب تو منزّہ کی اس جسارت پر دنگ رہ گئے کیفیٹیریا میں ایک شور سا اٹھا حورین اپنی مسکراہٹ دبائے بیٹھی جبکہ سارا کا غصے سے بُرا حال تھا حورین کھانا ختم کر چکی تھی اس لیے لفٹ کی طرف چلی گئی وہ لفٹ کے سامنے کھڑی تھی جب امر فون پر بات کرتا آیا اور لفٹ کے سامنے کھڑا ہوا لفٹ کے دروازے کھلے تو وہ دونوں اندر داخل ہوئے لفٹ کے دروازے بند ہوئے دونوں کا عکس دروازے میں نظر آنے لگا ۔
فون بند کر کے جیب میں ڈالا اور اسکا عکس دیکھنے لگا گزرے سالوں میں وہ اور بھی خوبصورت ہو گئی تھی کیا اُس نے کبھی اُسے یاد کیا ہوگا ۔
خاموشی سے لفٹ کا سفر تمام ہوا دونوں شاید ایک دوسرے کی اپنی موجودگی کا یقین دلا رہے تھے حورین اپنے آفس آکر لیپ ٹاپ کھولے اُنگلیاں چلا رہی تھی جب ارسلان اسکےکیبن میں آیا۔
“مس حورین آپ کے لیے بلاوا ہے موت کے فرشتے کی طرف سے” وہ آیا اور ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔
“کیا؟” حورین حیران ہوئی۔
“باس نے بلایا ہے “ کہہ کر وہ نکل گیا۔
“نمونہ” حورین کہہ کر امر کے آفس کی طرف آئی دروازے پر دستک دی ۔
“کم ان” وہ مصروف سا ڈیسک ٹاپ کے مونیٹر پر کچھ دیکھ رہا تھا۔
“آپ نے بلایا “ حورین اندر داخل ہوتے ہوئے بولی
“جی بیٹھیں پلیز “ امر نےکرسی کی طرف اشارہ کیا
“ مس حورین یہ ڈیٹا ہمارے پچھلے پروجیکٹ کا ہے آپ نے بنایا “اسنے سکرین حورین کی طرف موڑ کر کہا حورین نے بیٹھتے ہوئے سکرین کی طرف دیکھا
“جی یہ میں نے بنایا ہے “ اس نے سکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا نظریں ملی دل ڈوب کر ابھرا کیا وہ مجھے بھول چکا ہے یا ابھی تک وہ تھپڑ اسے یاد ہے۔
“یہ ہمارے موجودہ پراجیکٹ کی فائل ہے آپ اِسی طرح اسکی فائل بنا کر ویبسائٹ پر اپلوڈ کریں” ایک فائل کا اسکی سامنے پٹخ کر اس نے کہا۔
“اوکے” اس نے فائل اٹھائی اور وہ نکلنے لگی تو اسے لگا اُسکا دوپٹہ کسی نے پکڑ کر کھینچا وہ رکی دل زور سے دھڑکا یہ کیا حرکت کی امر نے آہستہ سے مڑ کر دیکھا تو کرسی کے ہینڈل میں دوپٹے کا ٹسل اٹک گیا تھا امر نے بھی اسے رکتے دیکھا تو اس ہی طرف دیکھا
“کورین ڈرامے ذرا کم دیکھا کرو “ اسکی طرف دیکھے بغیر وہ بولا sحورین کو شدید خفت کا احساس ہوا اور گہری سانس بھر کر اسنے دوپٹہ کھینچا اور اپنے کیبن میں آگئی کام کرتے کرتے وقت کا پتا تب چلا جب امر اسکے آفس کے سامنے سے گزر رہا تھا ٹھٹک کر رکا دیکھا وہ بالوں کا جوڑا بنائے کرسی پہ بیٹھی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی انگلیاں چلا رہی تھی ۔
“مس حورین آپ ابھی تک گھر کیوں نہیں گئیں “ وہ اسکے کیبن کے سامنے کھڑا بازو پر کوٹ ڈالے ٹائی ڈھیلی کیے اس سے پوچھ رہا تھا حورین نے اپنی گھڑی دیکھی ۔
“بس ابھی نکلنے لگی ہوں” وہ لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھی اپنا بیگ اُٹھایا اور کیبن سے نکلی امر بھی اسکے ساتھ ہی نکلا۔
“کیسی ہو حورین؟” حورین کے چلتے قدم رکے دل کو دھکّا سا لگا ۔
“ٹھیک ہوں تم کیسے ہو “ امر نے اُسکی طرف دیکھا
“ٹھیک ہوں” آہستہ سے کہا لفٹ کی طرف جاتے ہوئے کچھ لمحے توقف کے بعد امر بولا “مجھے معاف کر دو حورین “امر کی آواز میں ندامت تھی
“میں کب کا معاف کر چکی ہوں “وہ بولی تو آواز میں نرمی تھی امر مسکرایا وہ لفٹ سے سیدھا پارکنگ میں بیسمنٹ آگئے ۔
“تمہیں گھر چھوڑ دوں “ امر نے پوچھا
“نہیں میرے پاس گاڑی ہے “ اس نے ریموٹ دیکھا کر بٹن دبایا بیپ کی آواز سے لاک کھل گئے
“تم بہت بدل گئے ہو امر” اپنی گاڑی کی طرف جاتے ہوئے حورین نے کہا۔
“ہاں دعائیں مستجاب ٹھہرتی ہیں اور زندگی ایک یو ٹرن لیتی ہے”وہ پرسکون تھا ۔
“ہاں وہ لمحہ جب ہمیں انکشاف ہوتا ہے کہ جو راستے بھٹکنے کے ہیں وہ ہر دنیا میں زہر گھولتے ہیں” وہ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولی ۔
“اور وہ انکشاف مجھے مالدیوز میں تم سے ملنے کے بعد ہوا” حورین کی آنکھوں میں روشنی سی چمکی اور وہ اپنی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتی ہوئی گاڑی نکل کر لے گئی ۔
امر وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا پھر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہ بھی نکلنے لگا ۔
———————
حوریں صبح جانے کے لیے بالکل تیار تھی باہر نکلی تو یوسف کی گاڑی اُسکی گاڑی کے پیچھے کھڑی تھی
“اف یہ یوسف بھی نا پتہ بھی ہے صبح میں نے جانا ہوتا ہے لا کر گاڑی یہاں کھڑی کر دی “وہ جھنجھلائی ہوئی اندر جانے لگی کہ زایان اپنے پورشن سے اِسی طرف آیا۔
“کیا ہوا حور آپی کیوں غصے میں ہو “وہ بالکل تیار یونیورسٹی جانے کے لیے نکل رہا تھا زایان قد کاٹھ میں لمبا چوڑا تھا داڑھی رکھنے کی وجہ سے عمر میں بڑا لگنے لگا تھا ۔
“یوسف کی وجہ سے پتہ نہیں کب سدھرے گا میں آفس کے لئے لیٹ ہو رہی ہوں اب یہ گاڑیاں نکالنے میں دس پندرہ منٹ تو لگ ہی جائیں گے” اسے شدید غصہ آیا۔
“اوہو صبح صبح موڈ کیوں خراب کر رہی ہو آپی آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں پھر واپسی پر پک کر لونگا” زایان کہتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا حورین بھی غنیمت جان کر بیٹھ گئی ۔
زایان گاڑی بیسمینٹ پارکنگ میں بالکل لفٹ کے سامنے لے آیا اتفاقاً اس ہی وقت امر بھی اپنی گاڑی سے نکل کر لفٹ کی طرف آرہا تھا امر نے حورین کو گاڑی سے اُترتے اور اس نوجوان سے ہنستے ہوئے بات کرتے دیکھا چہرہ نہیں دیکھ پایا بس سائڈ سے داڑھی اور دھوپ کا چشمہ لگا ہوا دیکھا حورین ہاتھ ہلاتی اللّٰہ حافظ کہتی لفٹ کی طرف بڑھی تو امر کو لفٹ کے سامنے کھڑے پایا گرے تھری پیس کلاسک سائڈ پارٹ میں وہ بہت سنجیدہ لگ رہا تھا حورین نےسلام دیا جس کا اس نے سر کی جنبش سے جواب دیااسکے آبرو تنے ہوئے سینے میں کچھ جلنے لگا وہ دونوں لفٹ میں سوار ہوئے مطلوبہ فلور تک سفر خاموشی سے کٹا لفٹ رکتے ہی امر نے اسکی طرف دیکھے بغیر کہا۔
“ مس حورین کل ولا ڈیٹا آدھے گھنٹے تک میرے ڈسک پر ہونا چاہئے نو ایکسکیوزز “کہتا وہ تیزی سے آگے بڑھا حورین حیران سی اسے دیکھنے لگی خیر وہ جلدی جلدی اپنے آفس میں آئی اور دوبارہ سے اپنا کام چیک کرنے لگی کل سارا مکمل تو کر لیا تھا لیکن کچھ آخری چیزیں بچتی تھیں ۔
امر اپنے آفس میں آیا تو ارسلان اسکے پیچھے آکر اسے آج کے کاموں کی لسٹ تھمائے اپڈیٹ دینے لگا
“آؤٹ” وہ جُھنجُلایا ہوا بولا ۔
“راجر باس” ارسلان سلیوٹ کرتا نکل گیا ۔
“ایڈیٹ” غصے سے کہتا اپنی پاور سیٹ پر آ بیٹھا صبح صبح ہی موڈ خراب ہو گیا تھا اسکاذیشان صاحب اندر آئے دبئی والے نئے پراجیکٹ کے بلیو پرنٹس دکھانے لگے جس پر کچھ دنوں سے کام شروع ہوا تھا اور اسے سائٹ پر وزٹ کرنا تھا یہ ساری ڈیٹیل ذیشان صاحب اور بورڈ کے دو اور ممبران سے ڈسکس کر رہے تھے جب ارسلان نے اسے حورین کے آنے کی اطلاع دی امر نے اسے اندر بلایا جہاں وہ اور دوسرے بورڈ آف ڈائریکٹرز صوفے پر بیٹھے نئے پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے ۔
“سر کل والی فائل میں کمپنی ویبسائٹ پر اپلوڈ کر دی ہے آپ چیک کریں “حورین نے صوفہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا امر نے اسکی طرف دیکھا پھر کھڑا ہوگیا چل کر ڈیسک ٹاپ کے مانیٹر کے سامنے جھک کر کی بورڈ پر اُنگلیاں چلائیں آنکھیں چھوٹی کر کے فائل دیکھی پھر ذیشان صاحب سے مخاطب ہوا
“ذیشان صاحب آئندہ کسی کو ہائر کرنے سے پہلے اسکی قابلیت ذرا دیکھ کر ہائر کریں” وہ سپاٹ لہجے میں کہتا صوفہ کی طرف آیا “آپ جاسکتی ہیں” حورین کی طرف دیکھے بغیر کہا حورین کو بہت زیادہ احساس توہین ہوا اسکا چہرہ خفّت کے مارے سرخ ہو گیا وہ اسکے آفس سے نکل کر اپنے کیبن میں آئی اور اپنی چیئر پر بیٹھ کر چند گہری سانسیں لیں دل کیا جا کر استعفیٰ اُسکے منہ پر مار دے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر ٹیبل پر دے ماری ۔
“سمجھتا کیا ہے خود کو بدتمیز” کسی بھی طور اسکا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا۔
——————————-
“سر آپ نے مس حورین کا کہا تھا کہ میں نے انہیں کیوں ہائر کیا تو سر اُنکو سلمان صاحب نے ہی ہائر کیا اُنکے والد سے واقفیت کی بنا پر “ ذیشان صاحب نے ایک فائل انکے سامنے رکھی ۔
“اچھا تو سفارش سے آئی ہے” امر کے سینے میں لگی آگ کم ہو کر ہی نہیں دے رہی تھی آنکھوں کے سامنے بار بار وہ نوجوان اسکی گاڑی سے نکلتی حورین اس نہج پر تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ اسکی منگنی ہو سکتی ہے اس کا نکاح ہو سکتا ہے یہ سوچ آتے ہی از سر اے نو بےچینی دل کو لپیٹ میں لینے لگی ۔
“سر یہ دیکھیں انکا اکیڈمک ریکارڈ ہمارے ہائر کردہ تمام اسٹاف سے زیادہ قابل ہیں” امر نے وہ فائل پکڑی ذیشان صاحب چلے گئےاس میں حورین کی سی وی تھی اسکی تصویر لگی تھی اسکا موبائل نمبر اور ماریشل سٹیٹس سنگل ہلکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر ابھری دل کو سکون سا ملا کیا سوچ کر اس نے اُسکا موبائل نمبر اپنے فون پرسیو کیا اور فائل اپنے دراز میں رکھ دی کچھ سیکنڈ بعد اسکا انسٹاگرام نوٹیفکیشن بجا اس نے چیک کر کے دیکھا تو ۔
“Hoorain Humayun is in your followers request to follow back” اسے اچھنبہ سا ہُوا اس نے انسٹاگرام کھولا اور حورین کا اکائونٹ چیک کیا تو Silent observer کے نام سے اکاؤنٹ تھا یہ اکاؤنٹ اور یہ نام تو وہ جانتا تھا اسکے دماغ میں جھماکا سا ہوا یہ اکاؤنٹ تو بہت عرصے سے اسے فالو کرتا تھا اسکے ہر پوسٹ پر لائک سب سے پہلے اِسی اکاؤنٹ سے آتا تھا وہ سن سا بیٹھا اپنا فون دیکھتا رہا وہ اتنے عرصے سے جانتی تھی وہ کہاں ہے وہ اسے دیکھتی رہی تھی لیکن کبھی اسے کانٹیکٹ نہیں کیا لیکن کیا اسکے دل میں کوئی جذبہ تھا اسکے لیے تب ہی وہ پچھلے تین سال سے اسے خاموشی سے دیکھتی رہی ۔
ارسلان حورین کو بُلاؤ پانچ منٹ بعد ہی وہ آئی اندر داخل ہوئی تو انداز خفا تھا امر کوٹ اسٹینڈ پر لٹکائےٹائی ڈھیلی کرکے کف موڑے کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔
” بیٹھو “مڑ کر نہیں دیکھا ۔
“میں بیٹھنے نہیں آئی آپ کو جو کام ہے بول دیں میں چلی جاونگی باس” جلےکٹے انداز میں کہتی باس پر زور دے کر بولی امر نے گہری سانس لی پھر آکر ایگزیکٹو ٹیبل کے آگے رکھی کرسی کے کی طرف اشارہ کیا “پلیز حورین “ بہت ہی نرم لہجہ حورین غصے سے بیٹھی اور ہاتھ سینے پر باندھے جیسے کوئی بچہ ناراض ہوتا ہے اور منہ پھیر کر دوسری طرف دیکھنے لگی جب دوسری کرسی کھینچ کر وہ اسکےسامنے بیٹھا
“تم ایسا کیسے کر سکتی ہو میرے ساتھ ؟” بہت ہی مدھم آواز میں پوچھا گیا حورین کا غصہ حیرت میں بدلا۔
“ میں نے کیا کیا؟” وہ حیرت سے پوچھنے لگی۔
“تم پچھلے تین سال سے جانتی تھی میں کہاں ہوں پھر تم نے کانٹیکٹ کیوں نہیں کیا “ اس نے گلہ کیا
حورین نے اسے اچھنبے سے دیکھا تو اسے پتہ چل چُکا تھا ۔
“میں اپنےوالدین کو بھجوا دیتا تمہارے گھر ہم بات کر کے معاملہ سیٹل کر لیتے “ دکھ پچھتاوا کیا نہیں تھا اسکی آواز میں حورین تھوڑی دیر خاموش رہی پھر بولی۔
“مجھے غصہ تھا تم پر لیکن پھر احساس ہوا کے غلطی میری بھی تھی اور سزا میں تمہیں دے چکی ہوں اس لیے بہتر یہی ہیں ہمارے راستے جدا رہیں “ حورین نے اس سے نگاہیں چراتے کہا ۔
“پھر بھی مجھے سٹاک کرتی تھی “امر اب ہلکے سے اس نے فائل اٹھائی اور وہ نکلنے لگی تو اسے لگا اُسکا دوپٹہ کسی نے پکڑ کر کھینچا وہ رکی دل زور سے دھڑکا یہ کیا حرکت کی امر نے آہستہ سے مڑ کر دیکھا تو کرسی کے ہینڈل میں دوپٹے کا ٹسل اٹک گیا تھا امر نے بھی اسے رکتے دیکھا تو اس ہی طرف دیکھ مسکرایا حورین گڑبڑائی ۔
“نہیں ،نہیں تو میں تو بس ایسے ہی”اس سے بات نا بن پائی امر مسکرایا۔
“اور صبح وہ کون تھا جسکی گاڑی سے تم اتری “ امر کے دل میں ایک خوف ساتھا کہیں اسکا خدشہ درست نہ ثابت ہو حورین نے غور سے امر کو دیکھا اچھا تو یہ بات تھی صبح صبح جو اسکا موڈ اتنا خراب تھا حورین نے ہنکارا بھرا ۔
“دراصل امر میں تمہیں بتانا چاہتی تھی “ کہہ کر وہ چپ ہوئی امر کی بے چینی سوا ہوئی ۔
“کیا بتانا چاہتی تھی ؟”۔
“وہ میرا کزن ہے” حورین جان بوجھ کر وقفے دینے لگی۔
“کون سا کزن ؟” اسے لگا سانس بند ہورہی ہے گھٹن ہو رہی ہے۔
“ زایان”امر بھنویں سکوڑے اسے دیکھے جا رہا تھا ۔
“ارے وہی جو مالدیوز میں میرے ساتھ تھے میرے کزن” امر کی جیسے سانس بحال ہوئی ۔
“اتنا بڑا ہوگیا تین سال میں میرے جتنا لگتا ہے “ امر نے سکون کا سانس لیا حورین نے مسکراہٹ دبائی۔
“تم جیلس ہو رہے تھے اس سے؟” حوریں نے بھنویں اچکا کر پوچھا۔
“ہاں کیوں کہ میں تم سےمحبت کرتا ہوں اور”امر کی بات منہ میں تھی کہ ارسلان آفس میں داخل ہوا
“محبت؟”ارسلان نے امر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“تہذیب نام کی کوئی چیز ہے تم میں بندہ دستک دے کر اجازت لے کر اندر آتا ہے”امر غصے سے اُسے دیکھنے لگا۔
“جی باس تہذیب بہت ہے اور مس حورین تھیں اندر آپ اکیلے نہیں تھے تب ہی اندر چلا آیا“ارسلان نے اپنے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا حورین اپنی ہنسی دبائے اٹھی۔
“باس میں جاؤں؟” حورین نے امر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“مس حورین آپ کے ساتھ میری میٹنگ ختم نہیں ہوئی”امر اٹھ کر اپنے کافی ٹیبل کی طرف آیا اور کافی کا کپ نکالنے لگا۔
“لیکن باس میں آپکو بریف کر چکی ہوں میں چلتی ہوں” کہتے ہوئے وہ مسکرا کر اُسکے آفس سے نکلی
“باس یہ محبت کی بات بتائی نہیں آپ نے “ ارسلان چشمہ کے پیچھے سے آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگا۔
“بہت لا پرواہ ہے وہ میں یہی کہہ رہا تھا کام سے محبت اور وفاداری ہونی چاہئے” امر نے کافی میکر کا بٹن دباتے ہوئے بات بنائی ۔
“جیسے مجھے ہے “وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر گہری سانس لے کر بولا۔
امر سر جھٹک کر رہ گیا ۔
———————————
اگلے دن وہ آفس سے ذرا جلدی نکلی فارغ تھی تو مال کی طرف گئی ہلکے پیلے رنگ کے سوٹ میں جس میں سفید پھولوں کا پرنٹ تھا دوپٹہ سر پہ اوڑھے کہ اُسکا ایک پلو آگے اور ایک پیچھے دکانوں پر نظر دوڑاتی کچھ ونڈو شاپنگ کی ۔
“حورین “ ایک نسوانی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی مڑ کر دیکھا تو اسکی بیسٹ فرینڈ ماہنور اسکی طرف بڑھتی آئی دونوں گلے ملیں۔
“کہاں ہو تم جاب کر کے مجھے بھول ہی گئی ہو”ماہنور اس سے گلہ کرنے لگی ۔
“چلو بیٹھ کر کافی پیتے ہیں “ وہ اسکے بازو میں بازو ڈال کر ہنستی باتیں کرتی ایسپریسو میں داخل ہوئیں جب حورین کی نظر وہاں بیٹھے امر پر پڑی جو بلیک ڈریس شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے سلور رولیکس ہاتھ میں پہنے شرٹ کے کف موڑھے مقابل بیٹھے شخص کی بات سن رہا تھا اور کافی کے سِپ لے رہا تھا دفعتاً اسکی نظر بھی حورین پر پڑی لیکن پھر سے اپنے مقابل بیٹھے شخص کی طرف متوجہ ہوا حورین اور ماہنور بھی ایک میز پر بیٹھ گئے حورین نے آرڈردیا جب تک انکا آرڈر آیا امر کے ساتھ بیٹھا شخص چلا گیا تو وہ حورین کے پاس رُکا۔
“اسّلام علیکم “امر نے رُک کر سلام کیا ماہنور نے سوالیہ نظروں سے حورین کو دیکھا ۔
“ماہنور یہ میرے باس ہیں امر سلمان جعفر اور امر یہ میری بیسٹ فرینڈ ہے ماہنور” حورین نے تعارف کروایا ۔
“اوہ تو یہ ہیں وہ شادی کب ہے پھر”ماہنور اپنی دھن میں بولے گئی حورین کو جھٹکالگا امر بھی حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔
“شادی؟”دونوں نے یک زبان ہو کر کہا ۔
“ہاں آپ دونوں کی شادی “ماہنور نے باری باری دونوں کو دیکھا ۔
“ماہنور کیا کہہ رہی ہو”حورین کا بس نہ چلا ماہنور کے منہ پر ہاتھ رکھ دے۔
“یہ وہی ہیں نا جنہوں نے مالدیوز میں شادی کا پرپوزل دیا تھا “ ماہنور نے یاد کر کے کہا
“جی وہی” اب کی بار امر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا حورین پر تو مانو گھڑوں پانی گر گیا ماہنور سے ایک دفعہ صرف پرپوزل کا ذکر کیا تھا اب بہت پچھتاوا ہو رہا تھا۔
“ماہنور پلیز وہ بہت پرانی بات ہے” حورین کو سمجھ نہی آرہی تھی کہ معاملہ اب کیسے سنبھالے۔
“لیکن میں ابھی بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں”امر نے ماہنور کو دیکھتے ہوئے اطمینان سے کہا۔
“تو پھر شادی کب ہے “ ماہنور کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی تھی ۔
“جب حورین چاہے “امر نے محبت بھری نظروں سے حورین کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
