آمنہ کے گھر سے نکل کر وہ اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی آمنہ کا گھر ایک پوش علاقے میں تھا اور ملکہ کا گھر اس پوش علاقے دوسری طرف ایک خالی پلاٹ پر بنا ایک عارضی کچا گھر تھا سڑک کنارے چلتے ہوئے اسے محسوس ہوا کوئی اسکی پیچھے آرہا تھا مڑ کر دیکھا تو وہ تھا ۔
“تم یہاں؟ “ سپاٹ چہرے کے ساتھ کہتی وہ مڑی ۔
“کیوں اس سڑک پہ میرا چلنا سرکار نے بند کر رکھا ہے ؟” وہ الٹا برا مان کر بولا ۔
“جیسے میں تو تمہیں جانتی نہیں “ اسکے قدم تیز ہوئے پیچھے سے ضمیر بھی تیز تیز چلتا اس سے قدم ملانے لگا تھوڑا لمبا چوڑا چینی شکل والا لڑکا جسکے بال ہلکے بھورے چہرہ گورا بالکل ملکہ جیسا لیکن سخت جیسے بہت زیادہ مزدوری کرنے سے اسکے پٹھے اور جسامت چوڑی اور سخت بنا دی تھی جیسے آج کل کے نوجوان جم میں مہینوں خوار ہوتے ہیں اس طرح کی مسلز بنانے کے لیے۔
“ہاں تم مجھے جانتی نہیں ورنہ تمہیں پتہ ہوتا کب سے میں یہاں کھڑا تمہارا انتظار کر رہا تھا “ ضمیر نے گلہ کیا ۔
“تو میں نے تو نہیں کہا تھا کہ میرا انتظار کرو اور ویسے بھی کسی نے تمہیں میرے ساتھ دیکھ لیا کیا کیا باتیں بنائینگے تم نہیں جانتے کیا ؟” ملکہ نے احتیاطاً نظریں گھما کر دیکھا کہیں چچی تو نہیں دیکھ رہی ۔
“تو کہتے رہیں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے زندگی گزارنا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ کوئی عشق عاشقی نہیں کرنا چاہتا پاکیزہ رشتے میں بندھنا چاہتا ہو بس جاننا چاہتا ہوں کیا تم بھی میرے لیے وہی محسوس کرتی ہو جو میں کرتا ہوں “ وہ صاف لفظوں میں اپنے جذبات کا اظہار کر گیا یہ دیکھے بغیر کہ شرم کے مارے ملکہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا ۔
“ کیسی بے شرمی والی باتیں کرتے ہو تم “ بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ اسکی چہرے پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ رینگی تھی ۔
“ پتہ ہے میں نے بجلی کا کام بھی پورا سیکھ لیا ہے اب اپنا گیراج کھولوں گا اور ساتھ میں بجلی کا کام بھی کروں گا شادی کے بعد ہم ان کچے گھروں میں نہیں رہیں گے ملکہ ہم پاکستانی شہریت لے کر یہیں اپنا خوبصورت سا آشیانہ بنائیں گے “ بہت ہی نرم لہجے میں کہتا ضمیر مستقبل کے خواب بن رہا تھا ۔
“اِن شا اللّٰہ “ ملکہ خوش ہوتے ہوئے بولی پھر زباں دانتوں تلے دبا لی ۔
“اوہ ! اسکا مطلب “ وہ کہنے لگا ہی تھا کہ ملکہ بھاگ گئی اور گلی سے مڑ کر اپنے گھر کے اندر گھس گئی ضمیر مسکراتا ہوا واپس ہو گیا ۔
چن لیا تمہیں سارا جہاں چھوڑ کر
——————————
سلطنت کی شادی کی تیاری تھی اسکے بھائی روزی خان نے اس کے منگیتر سے دس لاکھ لے کر شیریں بی کو صرف دو لاکھ دیے جس سے سلطنت کا جہیز تیار کر رہی تھی گھر میں تناؤ کاوماحول تھا آج بھی شیریں بی ہاجرہ باجی کے گھر کام کرتے ہوئے بیہوش ہو گئیں ملکہ نے آکر روزی کو کہا کہ چلو ماں کو جا کر لے آتے ہیں ۔
“میں نے کیا تم لوگوں کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے رات بھر کتوں کی طرح مزدوری کر کے آیا ہوں میری بیوی بیمار ہے اب میں کس کس کو سنبھالتا پھروں “ روزی کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا پٹخ کر زمین پر دے مارا سدا کا بدلحاظ روزی ماں کا لحاظ بھی نا کر اسکا ۔
“سلطنت کی شادی کے پیسے نا کھا جاتے تو ماں سکوں کا سانس لیتی جوان بیٹے کے ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے گھروں میں ذلیل ہیں” ملکہ غُصّے سے کہتی اسکے سامنے تن کر کھڑی ہوئی ۔
“آج تو تمہارا منہ توڑ دوں گا میں دو چار کورس کر کے خود ہیروئن سمجھنے لگ گئی ہے “ روزی بھی دھاڑا کہ سات ماہ کی حاملہ بیوی اسے روکنے لگی اور باہر سے سلطنت بھی آوازیں سن کر اندر بھاگ آئی ۔
“چلو ملکہ ماں کو لینے چلتے ہیں کیوں الجھ رہی ہو اس سے “ سلطنت اسے کھینچتے ہوئے لےگئی ۔
“ہاں ہاں جاؤ بڑے پیسے کما رہی ہو نا تو دے دو ماں کو قبر میں لے جانے کو چھپا رکھے ہیں کیا “ روزی ابھی تک چلائے جا رہا تھا ۔
ماں کو ہسپتال ہاجرہ باجی لیکر گئی تھیں ملکہ انہیں واپس لائی شیریں بی کو بستر پر لٹایا سلطنت انکی دوائیں دے رہے تھی جب ملکہ نے اپنی الماری کھول کر اس میں سے ایک چھوٹی ڈبی نکالی اس میں سے رکھے لفافے میں سے پیسے نکال کر ماں کی گود میں رکھے
“کوئی ضرورت نہیں اب اس حال میں کہیں جانے اور کام کرنے کی “ شیریں بی نے تھکن زدہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا
“نہیں ملکہ یہ تیرے ہیں آخر کو تیری بھی تو شادی ہونی ہے “ وہ نقاہت زدہ آواز میں بولی کمرے میں جلتے پیلے بلب کی روشنی میں بھی ملکہ کی آنکھوں کا کرب چھپا نہیں تھا
“تب کی تب دیکھیں گے آپ بس سلطنت کی چیزیں برابر کر دیں “ شیریں بہت خوش ہوئی اور جھولی اٹھا کر اسے دعائیں دینے لگی ۔
“ضمیر کی ماں نے تمہارا ہاتھ مانگا ہے بڑا ہی اچھا بچہ ہے محنتی اور صالح “ شیریں بی اب جانچتی نظروں سے ملکہ کو دیکھنے لگی۔
“ارے ماں ہاں کر دے مجھے پتہ ہے ملکہ کو بھی اچھا لگتا ہے “ ماں کے کندھے سے لگی سلطنت بولی ۔
“مجھے نہیں پتہ “ شرما کر سرخ چہرہ لیے وہ کمرے سے باہر بھاگی ۔
——————————-
سلطنت کی شادی کا دن آ پہنچا انکے چھوٹے سے کچے صحن میں سرخ قالین بِچھے تھے اور اطراف میں لائٹ لگائے تھے سلطنت کو سفید رنگ کی میکسی پہنا کر جالی والے دوپٹے سے گھونگھٹ کر رکھا تھا جبکہ ملکہ نے میرون رنگ کی میکسی جسکی کمر پر گولڈن سکوں والی بیلٹ باندھ رکھی تھی اور سر پر ہرا سلک کا پھول دار رومال بندھا تھا میک اپ اس نے اپنا بھی خود کیا تھا سلطنت کا بھی کیا تھا دونوں ہی بہت حسین لگ رہیں تھیں انکے ہاں رواج ہے کہ دولہا دلہن کو شادی کے دن ساتھ بٹھاتے ہیں دلہن دولہے کو میٹھی روٹی کھلاتی ہے بدلے میں دلہا اسے کوئی تحفہ دیتا ہے دولہا کو بلوایا گیا ساری لڑکیاں قطار میں کھڑی اُنکی خوشیوں کے نغمے گا رہے تھیں دولہا آیا اسکے ساتھ اسکے دوست بھی آئے جن میں ضمیر بھی تھا ضمیر تو ملکہ کو دیکھ کر کھل ہی گیا سفید شلوار قمیض میں وہ بہت پیارا لگ رہا تھا اسکی تو نظریں ملکہ سے ہٹ کر ہی نہیں دے رہی تھیں دل تھا کہ اس ملکہ کے آگے ہتھیار ڈالے ہوئے تھا جو دل کے تخت پر براجمان تھی اور شاید اس محفل میں ایسی کوئی لڑکی نہ تھی جو ضمیر کا ساتھ نہ چاہتی ہو ۔
اور شیریں بی نے بھی ضمیر کی ماں کو رضامندی دے دی تھی تب ہی دونوں ایک دوسری کو دیکھتے ہی ایک نئے جذبے اور احساس سے گزر رہے تھے ۔
مختصر یہ کہ تم پیارے ہو
خلاصہ یہ کہ جان سے بھی زیادہ
————————-
اگلے ہفتے ملکہ کی منگنی ہونی تھی لیکن وہ بہت مصروف تھی اسے اب بہت سے پیسے کمانے تھے وہ خواب جو ضمیر نے دیکھا تھا اب اسکی آنکھوں میں بھی سج گیا تھا انکا اپنا چھوٹا سا آشیانہ ۔
وہ گھر میں کام نہیں کر سکتی تھی اس لیے اکیڈمی میں اپنا لیپ ٹاپ لے کر آتی تھی یہیں سے انٹرپرینیور شپ کرتی جس سے فِلحل دن میں دو سے تین ہزار کما لیتی تھی انہی دنوں اسے ایک کمپنی کی گرافک ڈیزائننگ کا کام ملا جس سے اُسے دو سے تین لاکھ ملنے تھے اور پارلر کی کمائی الگ لیکن ابھی اُسے بہت آگے جانا تھا –
وہ اکیڈمی سے نکلی تو عصر کا وقت تھا گہرے بادل چھائے تھے وہ تیز تیز چلنے لگی تب ہی ایک بائک اسکے ساتھ آکر رکی مڑ کر دیکھا تو ضمیر بیٹھا تھا کالے شلوار سوٹ میں بہت جچ رہا تھا ملکہ کے چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ پھیلی ۔
“تم کیوں آئے ہو ؟”
“ اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے “ اس نے جواب دیا ۔
“تمہاری ہونے والی بیوی کو گھر جانا ہے بارش ہونے والی ہے “ اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
“لیکن مجھے اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ بارش میں پکوڑے کھانے ہیں “ وہ بائک کی ٹنکی پر کہنی رکھ کر بڑی فرصت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔
“کیسے چلونگی میں تمہارے ساتھ “ ۔
“فراری ہے ناں “ اس نے اپنی بائک کو تھپتھپایا ملکہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
“چلو آج ہم بھی فراری کی سواری کرتے ہیں “ وہ آکر اسکے پیچھے بیٹھی پکوڑے لے کر قریب ہی پڑتے ایک باغ کی طرف چلے جہاں بڑے بڑے درختوں کے نیچے بینچ لگے تھے جس میں سے ایک بینچ پر وہ بیٹھ گئے اور پکوڑوں کا پیکٹ کھول کر کھانے لگے ۔
“پتہ ہے میں نے سوچا ہے کہ بہت سارے پیسے جمع کر کے ہمارے گھروں سے تھوڑی دور ایک جگہ ہے جہاں چھوٹے چھوٹے گھر بنے ہیں وہاں ایک گھر لیں گے “ ملکہ نے پکوڑا چٹنی میں ڈبوتے ہوئے کہا ۔
“ہاں ان شا اللّٰہ لیکن جب کل آئیگا تو اللّٰہ پاک اسکا وسیلہ بھی لائیگا جو ابھی ہم جی رہی ہیں نا ملکہ وہ ہماری زندگی کا سب سے بہترین پل ہے شاید ہم اسکے بعد سینٹکروں بار بھی آجائیں یہاں پکوڑے کھائیں ہم یہی لمحے یاد کریں گے اس لئے کہتا ہوں اِسی لمحے کو جیو کل کا مالک اللّٰہ ہے “ضمیر نے کہہ کر پکوڑا اٹھا کر منہ میں ڈالا اور مسکرایا ۔
“باتیں تو بہت اچھے سٹوڈنٹس کی طرح کرتے ہو “ ملکہ نے مسکرا کر کہا ۔
“ہاں میں اچھا اسٹوڈنٹ تھا لیکن ہم کہاں آگے بڑھ سکتے ہیں ملکہ ہم آگے بڑھ گئے تو گیراج کون چلائے گا تندور کون چلائے گا ہوٹلوں میں چائے کون دیگا “ بظاہر تو وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا لیکن ملکہ نے اسکی آنکھوں کی اداسی بھامپ لی اور یہ درد ملکہ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ جب وسائل نہ ہوں تو تعلیم اور ڈگری ایک لگژری ہیں ملکہ نے اسکی طرف پانی کی بوتل بڑھائی جسے اس نے تھام لی ۔
“اب جا کر تھوڑی دیر بارش میں کھڑے ہو جاؤ “
“وہ کیوں” اس نے چونک کر پوچھا
“آخر میں بھی تو دیکھوں تم اپنی ہونے والی بیوی کی کتنی بات مانتے ہو “ ملکہ نے اتراتے ہوئے کہا تو ضمیر اپنی انگلیاں اپنے ہلکے بھورے بالوں میں چلانے لگا درخت کے نیچے سے اٹھ کر وہ برستی بارش میں کھڑا ہو گیا ۔
“اگر اور بھی کچھ منوانا ہے تو میں حاضر ہوں “ بارش میں بازو پھیلائے کھڑا ملکہ سے کہہ رہا تھا جب کہ وہ کھلے دل سے مسکرا رہی تھی تب ہی ضمیر نے اسے بارش میں آنے کا کہا وہ بھی اٹھ کر برستی بارش میں کھڑی ہوگی اور دونوں ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے۔
طویل راستہ
ہلکی بارش
ہزاروں باتیں
میں اور تم
—————————
ایک دن بعد منگنی ہونی تھی لیکن قسمت میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا اور ملکہ کی زندگی کا پاسا ایسا پلٹا کہ جب مستقبل تابناک اسکی آنکھوں کی آگے چمک رہا تھا اور وہ زور و شور سے اپنی تیاریوں میں لگی تھی منگنی سے ایک رات پہلے روزی خان کی بیوی کی حالت بگڑی ابھی ڈلیوری میں بہت وقت تھا لیکن وقت سے پہلے ہی اسکا بی پی شوٹ کر گیا ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ نئی شادی شدہ جواں لڑکی دم توڑ گئی بچہ بھی نہ بچ سکا کیوں کہ اسکا وقت پورا نہ تھا اس طرح خانہ شادی خانہ مرگ بن گیا ملکہ کو اپنی منگنی رکنے سے زیادہ اپنی جوان بھابھی کی موت کا تھا ۔
—————————-
روزی خان اپنے گھر سے نکل کر کہیں باہر جا رہا جب پیچھے سے حبیبہ کی آواز آئی
“اے روزی آج کل بڑا کھویا کھویا رہتا ہے “حبیبہ ایسے کہہ رہی تھی جیسے دلی رنج ہوا ہو ۔
“بس چچی سمجھو ساری پونجی ڈوب گئی اب دل اس دنیا سے ہی اُچاٹ ہو گیا ہے “ روزی نے بڑے رنجیدہ لہجے میں کہاں –
“ہاں بیٹا غم بھی تو ایسا ہے گھر والی بھی گئی بچہ بھی گیا اور زندگی بھر کی کمائی بھی گئی کتنے دیے تھے اسکے لیے دس لاکھ ہے ناں ؟” حبیبہ بڑے بھولپن سے ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کے بولی روزی کچھ کہہ نا سکا بس سر ہلا کر رہ گیا
“دوبارہ گھر بسا لے بیٹا “ حبیبہ می پچکارتے ہوئے کہا
“چچی اب پیسے کہاں ہیں شادی کرنے کو ؟” روزی نے دل گرفتگی سے کہا
“لو ! یہ بھی کوئی پریشانی کی بات ہے گل مینا سے کر لو میں ایک روپیہ نہیں لونگی اپنی بہن کا تم سے “حبیبہ پیار سے اسکی پیٹ تھپتھپائی حبیبہ کی بات سنتے ہی روزی کے ویران چہرے پر بہار سے آئی ۔
“سچ خالہ” ۔
“ارے ایسی بات بھی کوئی مذاق میں کرتا ہے بھلا “حبیبہ نے ناک سے مکھی اڑائی ۔
“لیکن “ روزی کسی بات کو لیے متذبذب تھا ۔
“لیکن بدلے میں ایک شرط ہے میری “ حبیبہ مکرو آنکھوں میں ایک چمک آئی ۔
“امجد کے لیے ملکہ دے دو اپنے لیے گلمینہ لے جاؤ “ حبیبہ کی بات سن کر روزی چونکا ۔
“لیکن خالہ ملکہ کی منگنی ہو چکی ہے “
“کہاں ہوئی ہے منگنی تو ہوئی ہے نہیں صرف زبانی کلامی ایک بات ہوئی ہے وہ بھی شیریں بی جیسی سادی بندی کی بات کی کیا حیثیت “ حبیبہ اسے دام میں لاتے ہوئے بولی ۔
“ضمیر کہاں ہونے دیگا یہ سب جانتی تو ہیں آپ اسے کسی کی جرات نہیں اس سے بات کر سکے “ روزی نے اصل مسئلہ بیان کیا۔
“ایک نمبر کا لفنگا ہے کتنی بار تو میری مینا کے پیچھے آیا وہ میں سنبھال لوں گی تم بس گھر میں سب کو راضی کرلو “ حبیبہ روزی کو قائل کر چکی تھی اب آگے جو بھی کرنا ہے روزی نے کرنا ملکہ سے اس سے زیادہ بہتر بدلہ کیا ہوسکتا تھا کہ اپنے نکمے بھائی کے پلّے باندھے اسکی ساری کمائی پر پنجے گاڑھ دے ۔
—————————
آج ملکہ کو پارلر کے لیے کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی میڈم اسے سیدھا کر دیں گی وہ گھر کا دروازہ بند کر کے ٹھاٹ کا پردہ گرا کر نکلی کہ دروازے کے سامنے اسکی ماں کا دور پرے کا بھائی بیٹھا تھا جو بہت سال پہلے ایک بلڈنگ میں کام کرتے ہوئے تیسرے مالے سے گر کر سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے اندھا ہو گیا تھا لیکن اندھے پن کے با وجود کوئی عورت پاس سے گذرتی یہ اسکے لیے گانا گانا شروع کر دیتا۔
“عظمت لالہ تم یہاں کیا کر رہے ہو “ ایک لمحے کو وہ روکی ۔
“تیرے پیچھے ایک شیطان ہاتھ دھو کر پڑا ہے “ خلاؤں میں گھورتے ہوئے وہ اٹک اٹک کر بولا ۔
“کیا مطلب “ وہ نا سمجھی سے پوچھنے لگی لیکن دور اندر دل میں کچھ ڈوبا تھا کیوں کہ ملکہ بہت اچھے سے جانتی تھی عظمت یہاں وہاں لوگو کی باتیں سنتا رہتا ہے کان لگاتا ہے وہ اتنا بے ضرر ہے کہ لوگ اسے ان دیکھا کر دیتے ہیں یقیناً اس نے کچھ سنا ہے ۔
“وہ تمہیں رلائے گی “ ملکہ کا دل دہل رہا تھا
“کون ہے وہ تم بتاؤ عظمت تم نے کسی کی باتیں سنی ہیں ناں بولو کس کی باتیں سنی ہیں “ ملکہ اسکی منت کرنے لگی لیکن وہ بغیر کچھ کہے چلا گیا ۔
“ہہہ ! پاگل کہیں کا موڈ خراب کر دیا میرا “ ملکہ سر جھٹکتی کام پر جانے لگی آج اُسے آمنہ کے پاس جانا تھا کیونکہ وہ اس گھر سے کہیں اور شفٹ ہو رہی تھی اور اسے آمنہ کو اپنی اور ضمیر کی منگنی کی خوش خبری بھی دینی تھی ۔
