“اب منگنی کی کیا ضرورت ہم ڈائریکٹ شادی کریں گے “ ضمیر اس ہی بینچ پر درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے بولا ۔
“تمہیں کیا جلدی پڑی ہے “ملکہ بھنویں سِکوڑ کر بولی ۔
“گھر کا ایڈوانس دے چکا ہوں اگلے مہینے قبضہ مل جائیگا پھر کیا میں اکیلا گھر میں ناچتا پھروں ؟” وہ بھی تیز ہوا ۔
“ وہ تو میری ماں ہی فیصلہ کریں گی کہ کب ہوگی شادی ؟”
“میں جیجا کو منا لونگا “وہ بولا تو لہجے میں یقین تھا دونوں نئی زندگی کی منصوبوں میں مصروف تھے ہاں ضمیر نے ٹھیک کہا تھا کہ زندگی میں اب وہ جو جی رہے تھے وہ انکے کے لیے یادگار بننے والا تھا ۔
———————————-
وہ اپنے چھوٹے سے باورچی خانے میں بیٹھی روٹیاں بنا رہی تھی جب اسکے اور ماں کے کمرے سے زور زور سے چلانے کی آواز آئی وہ بھاگتی ہوئی اندر گئی تو روزی کھڑا تھا اسکی ماں اپنا سر پیٹ رہی تھی ۔
“مجھے پتہ ہوتا تو ایسا ناخلف بیٹا ہوگا تو میں اپنا پیٹ کاٹ دیتی لیکن تجھے پیدا ہونے نہ دیتی “ شیریں بی سر پیٹتی بولی آنکھوں سےآنسو مسلسل بہہ رہے تھے ملکہ دوڑ کر ماں کو سنبھالا ۔
“کیا ہوا ماں کیوں رو رہی ہے تو ؟“ ملکہ نے حیرانی اور پریشانی سے پوچھا ۔
“ یہ تیرا بھائی نہیں تیرا دشمن ہے تیری بربادی پڑھنے آیا ہے “شیریں بی روتے ہوئے کہا جیسے آواز گلے میں اٹک گئی تھی ۔
“تو کیا مجھے اتنا حق نہیں اسکے بھلے کا ہی تو کہہ رہا ہوں “روزی خان چمک کر بولا ۔
“کیوں سوچ رہے ہو میرا بھلا ؟” ملکہ کو ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ مسئلہ دراصل ہے کیا ۔
“یہی کہ تیری شادی ضمیر سے نہیں امجد سے ہوگی اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے “ روزی انگشتِ شہادت دونوں ماں بیٹی کی طرف اٹھا کر بولا ملکہ کے سر پر تو آسمان ٹوٹ پڑا وہ سکتے میں کھڑی اپنے بھائی کو دیکھ رہے تھی کہ واقعی جو اسکا دشمن بن چکا تھا ۔
“میں مر کر بھی اپنی شہزادیوں جیسی بیٹی اس موالی کو نہ دوں تمہارا فیصلہ نہ میں مانوں گی نا ملکہ “ شیریں بی چیخ کر بولی
“مجھے پتہ ہے تم ماں بیٹی کو کس بات کا غرور ہے “ کہتا ہوا وہ ملکہ کی الماری کی طرف بڑھا الماری میں سے ملکہ کا لیپ ٹاپ نکالا اور زمین پر دے مارا ملکہ سن سی کھڑی تھی یہ دیکھ ایک چیخ اسکے حلق سے بلند ہوئی اور اس جھپٹ پڑی اسکا منہ نوچنے لگی لیکن وہ مرد تھا جسامت میں مضبوط اُسے خود سے الگ کر کے زمین پر پٹخ دیا شیریں بی ملکہ کی طرف لپکی ۔
“کل نکاح ہوگا ملکہ کا امجد سے اور میرا گل مینہ سے تیار رہنا “ تنبیہ کرتا وہ نکل گیا اور پیچھے شیریں بی سارا قصہ سمجھ گئیں ۔
————————————-
شبیر گنگناتا ہوا گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھا تھوڑے ہے فاصلے پر حبیبہ کھڑی تھی اُسے ہاتھ کے اشارے سے روکا شبیر کا تو منہ ہی کڑوا ہو گیا صبح صبح کالی بلّی کی طرح اسکا رستہ کاٹ گئی سارا دن برباد۔
ہوتے ہیں نا کچھ لوگ جنکی نیگیٹو فطرت اور وائبز سے ہر کوئی ان سے دور بھاگتا ہے بس حبیبہ کے ساتھ بھی وہی قصہ تھا ۔
“یہاں کیوں آئی ہو میری بیوی نے دیکھ لیا ناں اپنے مسٹنڈے بھائیوں سے مجھے بھی مروائے گی تمہیں اور تمہاری بہن کو بھی “ شبیر نے آس پاس نظریں گھوما کر گویا تسلّی کی ۔
“بس یہ آخری بار ایک کام کر دو اسکے بعد ہم کبھی نہیں ملیں گے “حبیبہ اسکی گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھی اور پیچھے خاک اڑتی رہ گئی ۔
—————————
ضمیر کو جیسے ہی ملکہ کا فون آیا تمام روداد سن کر وہ بیحد پریشان ہوا ایسے کیسے اسکی ملکہ کو اس سے کوئی چھین سکتا ہے وہ اسکی تھی اسکی عزت اسکی ہونے والی منکوحہ کوئی اسکی طرف میلی آنکھ بھی کیسے اٹھا کر دیکھ سکتا تھا وہ گیراج سے بھاگتے ہوئے اپنی بائک لے کر نکلا سارا راستہ اسے ملکہ کی سسکیاں اپنے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح لگتی محسوس ہوئیں اس نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بلایا ان میں سے ایک پٹھان تھا جو پولیس میں حوالدار تھا ۔
ملکہ کے گھر کے قریب ہی پہنچا تھا کہ گلی سے ایک تیز رفتار سرخ پک اپ اُسکی بائک کو ہوا میں اڑاتی تیز رفتاری سے نکل گئی ۔
درد کی ایک تیز لہر اور جسم سے بہتا لہو وہ چاہ کر بھی اٹھ نہ پایا اور ملکہ اسکا کیا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا جسم مانو برف کی سِل بن گئی ملکہ انتظار کرتی رہ گئی۔
——————————-
روزی خان اس وقت گھر کی طرف بڑھتا ہوا جا رہا تھا جب اسکے ایک رشتے دار نے اسے ضمیر کے ایکسیڈنٹ کا بتایا اور یہ بھی بتایا کہ پولیس اُسے شک کی بنیاد گرفتار کرنے آرہی ہے
“لیکن میں نے تو کچھ نہیں کیا میرا کیا قصور”روزی کے تو مانو پیروں تلے زمین کھسک گئی
“ضمیر نے خود کہا تھا کہ تم اسکی منگیتر کسی کے نکاح میں دے رہے ہو اور اپنے پولیس والے دوست کو بھی بلایا ہے اسے ہسپتال چھوڑ کر وہ تمہارے پیچھے ہی آرہا ہے “وہ کہہ کر چلا گیا روزی بہت پریشان ہوا یہ سب تو اس نے سوچا ہے نہ تھا اور جیل کے نام سے ہی اسے خوف آنے لگتا وہ حواس باختہ گھر کے اندر داخل ہوا ۔
“ماں اپنا سامان باندھو ہم یہاں سے جا رہے ہیں” وہ گھبرایا سا تیز تیز بس اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اتنے میں رشتے داروں کے کچھ لوگ بھی انکے گھر جمع ہوئے ۔
“ خالہ ضمیر نے خود مجھے فون کر کے بلایا کہ اسکی منگیتر کی زبردستی شادی کر رہا ہے روزی “ سلطنت کا شوہر تھا سلطنت اپنی ماں کے پاس کھڑی انہیں سہارا دیے کھڑی تھی ۔
“ایک سرخ پک اپ مار کے چلا گیا ضمیر تو اپنے راستے جا رہا تھا “ ایک دوسرا رشتے دار باتیں کر رہا تھا جب زور سےکسی کے گرنے کی آواز آئی پیچھے مڑ کے دیکھا تو ملکہ گری پڑی تھی سب بھاگ کر اسکی طرف لپکے جب کہ اسکی دنیا اندھیر ہو چکی تھی ۔
آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے
غم نا سہی ہم ہی سہی
——————————-
چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اُسکی نظریں خشک و خیرہ تھیں جیسے ایک زندہ لاش ہو وہ بائیس سالہ لڑکی اسّی سالہ غم اٹھائے بیٹھی تھی ایک پک اپ کے پچھلی سیٹ پر بیٹھی وہ اور اُسکی ماں اور اگلی سیٹ پر اسکا بھائی اونگ رہا تھا اب تو یاد بھی نہیں کتنے گھنٹے گزرے ہیں اس سفر کو میدان و ریگ زار باہر بھی ویرانی دل کے اندر بھی ویرانی اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی رکی وہ لوگ بارڈر پر تھے روزِی اترا اور آگے جا کر ایف آئی اے حکام سے بات کرنے لگا ۔
“کچھ تو بولو بیٹا کچھ کھاؤ گی “ اسے کھڑکی سے باہر دیکھتے شیریں بی نے دیکھا تو اسکے بال سہلاتی بولی۔
“ماں میرا کوئی ہنر میرے کام نا آیا میں تو بڑی بیکار نکلی آمنہ باجی غلط کہتی تھیں کہ میں کچھ کر دکھاؤں گی “ بہت ہی پُر سوز لہجے میں میں کہتی وہ ابھی تک چاند کو گھور رہے تھی ۔
“تمہارا کیا قصور میری جان یہ تو ان حیوانوں کا قصور ہے جنہوں نے تمہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے “ شیریں بی آنسو پونچھتے بولی ۔
“ضمیر زندہ ہوگا ناں اسے کچھ نہیں ہوا ناں ماں ؟” بے رونق آنکھوں میں امید سی چمکی
“ان شا اللّٰہ وہ ٹھیک ہوگا “ شیریں بی کی آواز نے اُنکا ساتھ نہ دیا ۔
“ماں مجھے جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے ناں تو پتہ ہے مجھی سب سے زیادہ رونا کس بات پر آتا ہے ؟” شیریں بی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔
“اپنے باپ کے مرنے کا اگر وہ ہوتے تو مجھے کوئی غم نہ ہوتا اس روزی کی مجال نہ ہوتی مجھے دکھ دینے کی مجھے ہر تکلف میں بابا بہت یاد آتے ہیں ماں وہ ہوتے تو میرے ساتھ ایسا نہ ہوتا “ اب وہ سسکنے لگی تھی جو آنسو خشک تھے اب وہ بہنے لگے تھے شیریں بی کی گود میں سر رکھ کے وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔
وہ لوگ اتنی بد حواسی اور جلدی میں نکلے کہ بس اتنا ہی معلوم ہوا کہ ضمیر کی حالت خطرے میں ہے اب وہ زندہ ہے یا نہیں انہیں کچھ معلوم نہیں تھا اس میدان میں وہ کہیں کھو جانا چاہتی تھی چاروں طرف مسافروں کی بھیڑ تھی ٹرک ٹرالر اور اِسی طرح کے پک اپ جو مسافروں اور سامان سے لدے ہوئے تھے چار گھنٹے کے اذیت سے بھرے انتظار میں آخر انہیں موقع ملا کے وہ بارڈر کراس کر کے جا سکیں یہاں سے گاڑی نے انہیں بارڈر پر اتارا اپنا سامان وہ لوگ کندھوں پر اٹھائے سرحد پار گئے ایک کرایے کی گاڑی ملی جس میں بیٹھ کر وہ لوگ اپنے آبائی شہر کی طرف بڑھے جو افغانستان کے دوسرے بارڈر پر تھا ازبکستان سے ملتا تھا اسی لیے وہاں کی اکثر آبادی ازبک ہے ۔
بیس گھنٹے کے اذیت ناک سفر کے بعد وہ لوگ اپنے گھر پہنچے زندگی میں پہلی بار اس نے قدم رکھا تھا یہاں ایک بڑا سا صحن کچے بنے قطار میں چار کمرے اور اور بائیں طرف شاید باورچی خانہ تھا پچھلے پچیس سال سے بند پڑا گھر جس کے دو کمروں کی چھتیں بھی گر چکی تھی یہ انکا آشیانہ تھا ۔
“ہم اپنا آشیانہ بنائیں گے یہاں ہمارا اپنا گھر میں اور تم “ ایک سرگوشی سنی اور آنکھوں سے بل بل آنسو گرنے لگے وہ زمین پر گرتی چلی گئی اور دوپٹہ منہ میں رکھ کے رونے لگی ۔
اسکا کالا ملگجا پِشواس مٹی میں اٹ گیا لیکن یہاں کسے پروا تھا اس اجڑے صحن میں جہاں جا بجا جھاڑیا اُگی تھی اب یہی اسکا نصیب تھا اور کہاں جانا تھا ضمیر کو کھو کر اب خود کو بھی کھو دیا ۔
——————————
ضمیر کا ہاتھ ٹوٹا تھا اور اور سر پر چوٹ لگی تھی چار دن بیہوشی کے بعد جب ہوش آیا تم اپنی ماں کو اپنے پاس پایا ۔
“ماں ملکہ کہاں ہے “نقاہت بھری آواز میں کہا پہلے تو ماں اسے ٹالتی رہی جب وہ ناراض ہونے لگا تو ساری روداد سنا دی ضمیر کا جسم اُسکا ساتھ نہیں دے رہا تھا ورنہ اسکا بس نہیں تھا کہ اڑ کر اپنی ملکہ کو ڈھونڈ لائے ہسپتال سے فارغ ہوتے ہی سب سے پہل سلطنت کے پاس گیا کہ وہ کہاں ہیں
“روزی گرفتاری کے ڈر سے بھاگ کر افغانستان چلا گیا اور انہیں بھی ساتھ لے گیا ہم تو پیدا ہی یہیں ہوئے ہمیں کیا پتہ وہاں کا پتا بس یہ پتا ہے بلخ کے شہر میں رہتے تھے ہمارا گھر وہیں تھا “اور یہ سنتے ہی ضمیر بھی وہیں چلا گیا کتنے ہی دن وہ بلخ میں مارا مارا پھرتا رہا یہ ایک سنگلاخ علاقہ تھا بہت زیادہ سرد جس سے اسکے بازو کا درد سوا ہوا بلخ ایک صوبہ تھا یہاں مختلف ضلعے تھے اب یہاں نہ کوئی روزی کو جانتا تھا نہ شیریں کو دو ماہ تک وہاں کی خاک چھان کر وہ نا مراد واپس لوٹا کہ اب جسم کا درد اور دل کا درد اس سے برداشت نہیں ہو پا رہا تھا ۔
دریا ،کوہسار چاند ،تارے
کیا جانیں فِراق و ناصبوری
————————-
دو سال بعد
آج پھر روزی کام پر گیا بس اتنا کما کر لایا کہ دو روٹیاں ہی کھا سکیں یہ دو سال جو انہوں نے یہاں گزارے بہت تکلیف دَہ تھے شیریں بی کی حالت خراب تھی ملکہ بہت پریشان تھی انکو قریب کے شہر لے گئے جہاں صحت کی کوئی خاص سہولت موجود نہیں تھی انہیں ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ انکا آپریشن پاکستان میں ہو گا اس لیے مجبوراً انہیں واپس آنا پڑا روزی انہیں بارڈر تک چھوڑنے آیا آگے سے سلطنت اور اسکا شوہر سرحد کے پار انہیں لینے آئے اس طرح پورے دو سال بعد وہ واپس اس وطن لوٹ آئی جہاں اس نے زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات گزارے تھے اب کی بار وہ کسی دوسرے علاقے میں رہنے لگے اور یہیں اُسے سارا ملی جس نے اسے آمنہ سے ملوایا ۔
————————-
آمنہ صوفے پر ٹیک لگائے کتنی ہی دیر سن سے بیٹھی اس پر بیتی سن رہی تھی ۔
“کیا تم نے ضمیر سے دوبارہ ملنے کی کوشش نہیں کی “
“مجھے نہیں پتہ وہ کہاں ہے ہم اس جگہ گئے ہی نہیں جہاں پہلے رہتے تھے نہ ہم نے کسی سے ملاقات کی ہے اور وہ بھی یہ جگہ چھوڑ کر جاچکا ہے سلطنت کا شوہر کہتا اس نے مجھے بہت ڈھونڈا پھر بددل ہو کر یہ شہر ہی چھوڑ کر چلا گیا کہاں یہ کسی کو نہیں پتہ “ ایس نے اداسی سے کہا۔
وہ جو اتنی ہنر مند اور ذہین تھی ایک دن میں ہزاروں کما لیتی تھی اب اسے فاقے کرنے پڑ رہے تھے سچ کہتی تھی ملکہ اسے اسکے نصیب نے اونچائی سے گرایا ہے کچھ لوگوں کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے وہ خود صبح سے اِسی شکایت میں لگی تھی کہ گھر کے کاموں میں کھپ گئی لیکن ابھی ملکہ کی محرومیاں دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اسے تو اللّٰہ نے ہر نعمت سے نوازا ہے جن میں سب سے بڑی نعمت اسکا ملک تھا جس میں وہ سر اٹھا کر جی رہے تھی آزادی سے ویسے اس نے کبھی بھی اپنے ملک کے لیے شکر ادا نہیں کیا تھا ۔
اس نے ملکہ کو کل دوبارہ آنے کا کہا خود کتنی دیر بیٹھی گم سم سی اُسے ہی سوچتی رہی تب ہی اس نے فون اٹھایا اور اپنے چھوٹے بھائی عاشر کو کال ملائی جو فوج میں لیفٹیننٹ کرنل تھے ۔
“عاشر ایک بندے کا پتا لگانا ہے “ ۔
————————
وہ کئی دن سے آمنہ کے گھر کام پر آرہی تھی آمنہ نے اسے زبردستی اپنا پرانا لیپ ٹاپ تھما کر دوبارہ کام پر لگا دیا تھا ابھی بھی استری لگا کر بیٹھی ہی تھی کہ گھنٹی بجی ۔
آمنہ کچن میں مصروف تھی اس لیے وہ دروازے پر آئی باہر کالے بادل چھائے تھے ۔
“کون ہے ؟” میں ڈور کے سامنے سے آواز لگائی آکر دروازہ کھول کر درز سے جھانک کر دیکھا جو تھا اسکی پیٹھ تھی ۔
“کون ؟” وہ مڑا تو ملکہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گی ۔
“ضمیر “ بس ہونٹ ہلے خوشی کے آنسو خوشی سے مسکراہٹ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا دل کی دھڑکنیں رک سی گی تھیں سامنے بھی یہی حال تھا بادل بھی گرجنے لگے تھے ۔
“بارش ہونے والی ہے اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ پکوڑے کھانا چاہتا ہوں “ اس نے نم آواز میں کہا ۔
“فراری میں بٹھاؤ گے تو چلوں گی “ وہ مسکرا کر بولی تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ خوشی کے آنسو فِراق کے بعد مِلن کے آنسو زندگی کی آزمائش پر وہ پورا اتر چکے تھے ۔
ہم تیرے بعد بھی وابستہ رہے تجھ سے
تو نے قید نہ رکھا
ہم فرار نہ ہوئے
