قسط نمبر 1
رات کے تین بجے گاڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی سناٹے کو چیرتی خاک اڑاتی ایک تین منزلا عمارت کے سامنے جا رکی گاڑی سے اتر کر ایک سیاہ پوش تیز تیز بلڈنگ کے اندر داخل ہوا داخلی دروازے پر ایک گارڈ محتاط کھڑا تھا ۔
“سر جی زرا جلدی کیجئے گا کسی کو بھنک بھی پڑ ہم سب کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا “ گارڈ نے خوفزدہ سی آواز میں کہا ۔
“اپنا اکاؤنٹ چیک کرو “ سیاہ پوش بڑے سرد انداز سے کہہ کر آگے بڑھ گیا گارڈ نے جلدی جلدی جیب سے اپنا موبائل نکال کر دیکھا لیکن خوف ابھی بھی اسکے چہرے پر طاری تھا ۔
سیاہ پوش دوسری منزل کے ایک کمرے میں داخل ہوا جہاں پہلے ہی ایک انیس بیس برس کا لڑکا کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا تھا کمپیوٹر کی روشنائی اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی اسکے آنے پر چونکا پھر اطمینان بھری سانس بھری پھر سکرین کی طرف متوجہ ہوا ۔
“کہاں تک پہنچا ولید “ سیاہ پوش نے لڑکے سے پوچھا ۔
“ارے بھائی وہ تو کب کا ہو گیا میں تو ایسے ہی گیم کھیل رہا ہوں تم تو جانتے ہو یہ چھوٹے کمپوٹرز میرے سامنے کچھ بھی نہیں “ولید کالر جھاڑ کر بولا جبکہ سیاہ پوش نے ایک غصے بھری نظر سے اسے دیکھا ولید نے گھبرا کر ہنکارا بھرا ۔
“آج جو بھی ڈیل اور ٹینڈرز ہوئے ہیں وہ سب میں نے یہاں سے ڈیلیٹ کر دیے ہیں انکا کوئی رکارڈ اب موجود نہیں لوگ ڈھونڈتے رہ جائینگے لیکن کچھ ملے تب ناں” آبرو اُچکاتا عینک ناک پر چڑھاتا ایک شیطانی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا یہ سن کر سیاہ پوش بھی مطمئن ہوگیا اور مسکرایا۔
“کام ہو گیا سارے ثبوت مٹ گئے “ دھیمی چال چلتا کھڑکی تک آیا اور بلائنڈز انگلی سے نیچے کر کے باہر دیکھا سڑک اندھیر اور سنسان تھی دور کسی کُتے کے بھونکنے کی آواز آرہی تھی ۔
“آر یو شیور ؟ کوہیار کے نام کی ہر ڈیل مٹ گئی “ اس نے دوبارہ لڑکے سے گویا تصدیق چاہی۔
“بالکل ویسے جیسے آپ نے کہا “ کہہ کر اپنی جیب سے چاکلیٹ نکال کر ریپر ہٹا کر کھانے لگا ۔
“ہمم ! جب تک اس کروڑوں کی ڈیل کا پردہ پاش ہوگا تب تک وہ بہت بے بس ہو جائے گا “کہہ کر وہ بنا چاپ پیدا کئے کمرے سے نکل گیا اور پیچھے ولید اپنی بچی چاکلیٹ منہ میں ٹھونستے اپنے گیجٹس اور کیبلز اٹھا کر اسکے پیچھے لپکا ۔
——————————
کراچی کے فیز ایٹ میں امین احمد لاشاری کے گھر آج رونقیں سجی تھیں آخر کو انکے سب سے چھوٹے صاحب زادے کی شادی جو تھی رات کو مہندی کا فنکشن تھا اس لیے گھر میں مہندی کے گانے سپیکر پر گونج رہے تھے نیچے ایک کمرے میں بیٹھی آٹھ سے دس لڑکیاں مہندی لگوا رہی تھیں جب ایک چودہ سالہ لڑکے نے دروازے سے سر نکال کر کہا ۔
“شرم نہیں آتی باہر ازان ہو رہی ہے اور تم لوگ یہاں گانا بجا رہے ہو “ یہ سن کر لڑکیوں نے جلدی جلدی دوپٹے سر پہ لیے اور سپیکر بند کر دیا ۔
“ایک منٹ مجھے تو اذان کی آواز نہیں آرہی یہ میثم کی چال ہے “ حفصہ نے کہہ کر دوبارہ اسپیکر چلایا ۔
“جل رہے ہیں یہ لڑکے ہم زیادہ انجوائے کر رہے ہیں ناں”یہ بارہ سالہ عمارا تھی تب ہی دھاڑ سے دروازہ کھلا ۔
“کافر ہو گئے ہو تم سب “ عبداللہ احمد نے اتنے سرد لہجے میں کہا کہ لڑکیوں کی سٹی گم ہوگئی کوئی ریموٹ ڈھونڈ رہا تھا تو کوئی دوپٹہ جس کے ہاتھ مہندی لگی تھی وہ دوسرے کی منتیں کر رہی تھی کہ دوپٹہ پہنا دے عبداللہ کہہ کر نکل گئے پیچھے تمام لڑکیوں کی سانس بحال ہوئی ۔
“آئس کریم آرڈر کر دو مجھے تو پسینے آگئے “ علیزے نے اپنا فرضی پسینہ صاف کر کے کہا تو سب متفق ہوئے اور اپنا اپنا آرڈر نوٹ کروانے لگے۔
“اور پیمنٹ کون کرے گا” حفصہ نے پوچھا ۔
“غازیہ آپی کریں گی ایک تو وہ بر سرِ روزگار ہیں دوسرا انکے بھائی کی شادی ہے اس خوشی میں وہ پیمنٹ کریں گی “ عمارہ نے ہاتھ کی مہندی پر چاشنی لگاتے ہوئے کہا ۔
“واہ ! چالاکُو ماسی کیا تم لوگوں کا کچھ نہیں لگتا سمیع “ غازیہ جو اس کمرے میں بیٹھی تمام لڑکیوں کی نسبت بہت ہی ہلکا ڈیزائن بنوا رہی تھی اس تُک پر حیران ہو کر انکو دیکھنے لگی ۔
“ہمیں شرم مت دلوائیں آپکو مایوسی ہوگی “ علیزے نے کہا ۔
پھر بیٹھ کر سب آئس کریم کا انتظار کرنے لگیں۔
——————————
آفس کے داخلی دروازے سے جب وہ نکلا تو تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ڈارک موکا براؤن ڈریس شرٹ اور بیج پینٹ ساتھ لوفرز پہنے بال میڈیم لینتھ فلو سٹائل میں دھوپ کا چشمہ لگا کر وہ عجلت میں آکر اپنی گاڑی میں بیٹھا اور فون پر بات کرنے لگا۔
“سمیع کیسے ہو “ اس نے سمیع کو کال ملائی سمیع ایف بی آر میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور اسکا دوست بھی ۔
“آج اس ناچیز کو کیسے یاد کیا “۔
“چھوڑ یار یہ ڈائیلاگ بازی یہ بتا کہاں مل سکتا ہے “ ۔
“تو شاید بھول رہا ہے آج میری شادی ہے اور میرا گھر سے باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے “ سمیع اُللّٰہ نے تسلی سے اپنے لاؤنج کے صوفے پر پاؤں پھیلا کر کہا ۔
“بس میں آرہا ہوں “ فون کاٹ کر کوہیار عالم شاہ نے گاڑی موڑ کر سمیع کے گھر کا رستہ لیا ذہن میں ایک بھونچال سا تھا اس نے گہری سانس بھری ۔
——————————-
رائڈر آئس کریم لے کر دروازے پر کھڑا تھا اب مسئلہ یہ تھا کے ہر کوئی مہندی لگا کر بیٹھا تھا اور مہندی خراب ہونے کے ڈر سے کوئی ہل کے نہیں دے رہا تھا غازیہ نے حفصہ سے کہا کہ آرڈر ریسیو کر لے ۔
“غازیہ آپی آج میں شعلے کا ٹھاکر بنی ہوئی ہوں مجھ سے امید لگانا بیکار ہے “ اس نے اپنے مہندی لگے ہاتھ آگے کر کے دکھائے صاف ہری جھنڈی دکھائی تو علیزے کو کہا ۔
“میرے پاؤں میں مہندی لگی ہے آنے جانے کے قابل نہیں ہوں “وہ بھی سُر میں بولی ۔
“اُف اللّٰہ نکمی ساری “ اب غازیہ خود ہی چلی آئی گیٹ کھولا رائیڈر کو دیکھا تو حیران رہ گئی یہ رائڈر ہے یا کوئی ماڈل تھوڑے بڑھے بال اونچا لمبا قد خوبصورت نین نقش اور ڈریسنگ تو واہ بھئی واہ ۔
“آئس کریم “ غازیہ نے کہا اور اسکے خالی ہاتھ دیکھنے لگی کوہیار کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ کہہ کیا رہی ہے مرون کلر کے چکن کاری سوٹ میں اسکی بڑی بڑی آنکھیں ہیرے جواہرات لگتے تھے اور لمبے بالوں کو آدھا کیچر میں باندھے کچھ لٹیں چہرے پر گرائے وہ بہت خوبصورت لگی لیکن کوہیار نے اپنی نظریں پھیر دیں ۔
“آئس کریم “ وہ دوبارہ بولی تو سمجھا لیکن تب تک رائیڈر بھی گیٹ کی دوسری طرف کھڑا تھا آگے آیا اور پیپر بیگز میں آئس کریم اسے تھمانے لگا تھا اس نے ہاتھ آگے بڑھائے ہتھیلیوں پر مہندی لگی تھی ۔
“اوہ!” رائیڈر نے افسوس سے کہا اور آئس کریم کے بیگس کوہیار کو تھما دیے اور چلا گیا کوہیار کبھی آئس کریم بیگز کو دیکھتا کبھی غازیہ کو دیکھتا ۔
“اور آپ کون ہیں ؟” غازیہ نے آبرو اچکا کر پوچھا ۔
“کوہیار عالم شاہ میں سمیع اللہ سے ملنے آیا ہوں “
“اچھا آپ اندر آجائیں بھائی آپکا ہی انتظار کر رہے تھے شاید “ غازیہ نے راستہ چھوڑا وہ اسکے عقب میں چلتا ہوا ڈرائنگ روم تک آیا مین ڈور سے داخل ہوتے ہی بالکل ساتھ ہی ڈرائنگ روم کا دروازہ تھا غازیہ نے اشارے سے اسے اندر جانے کو کہا ۔
“اور یہ کہاں رکھوں ؟” آئس کریم کے بیگ اوپر اٹھا کر دکھائے ۔
“اوہ !” پھر ساتھ پڑی مین انٹرنس کے سامنے ایک کنسول کی طرف اشارہ کر کے کہا “یہاں رکھ دیں “ وہ رکھ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا غازیہ بے خیالی میں اسے ڈرائنگ روم کے دروازے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھنے لگی جب وہ رُکا اور پیچھے مڑ کر دیکھا دونوں کی نظریں ملیں غازیہ نظریں جُھکا کر گھر کے اندر چلی گئی جب کہ کوہیار بھنویں بھینچ کر ڈرائنگ روم کے اندر داخل ہوا –
——————————
گرے اور وائٹ کے امتزاج کے ماڈرن کچن میں کھڑی مہرالنساء کافی بناء رہی تھی سوچوں کا محور کہیں دور ہی تھا دل میں ایک اضطراب سا تھا جسے چاہ کر بھی وہ زبان نہ دے پا رہے تھی کس سے کہے –
“کاش ماں آج آپ ہوتی تو ہمیں یہ تکلیف نہ سہنی پڑتی “ وہ دل ہی دل بڑبڑائی پھر کافی کے دو مگ تیار کر کے لاؤنج کی طرف آئی تیس سالہ مہرالنساء شادی کے ان پانچ سالوں میں اور بھی حسین ہو گئی تھی شادی کے بعد سے دوبئی میں مقیم تھی اور بہت خوش تھی محبت کرنے والا شوہر جو اسکے بابا کے کزن کے بیٹے تھے اور دو پیاری بیٹیاں زندگی مکمل اور پُر سکون تھی لیکن جب بھی یاد آتا کہ اسکا گھر بچانے کی خاطر کوئی اور بلی کا بکرا بن رہا ہے تو ہر چیز سے دل اچاٹ ہوجاتا ۔
“بالکل آپکے ٹیسٹ کے مطابق “ ذوالفقار عالم شاہ کوئی نیوز چینل دیکھ رہے تھے مسکرا کر ٹی وی بند کر کے اسکی طرف متوجہ ہو گئے سفید ہلکی داڑھی سفید قمیض شلوار میں انکی بارعب شخصیت اور بھی با وقار لگتی تھی مہرالنساء اپنا مگ اٹھا کر دوسرے صوفے پر جا بیٹھی ۔
“ تمہارے ہاتھ کی کافی بہت مس کرتا تھا بیٹا “ ایک سِپ لے کر وہ مسکرا کر بولے ۔
“اور میں جب بھی وہاں زارون کی کافی بناتی تو آپکو بہت یاد کرتی “ اس نے مسکرا کر کہا پردیس میں رہنے والوں کے دل میں اپنوں کے لیے ایک کسک ہوتی ہے ذوالفقار یہ سن کر مسکرا دیے۔
“اچھا بیٹا میرے ایک دوست کے بیٹے کی شادی ہے ود فیملی انوئیٹ کیا ہے آپ بھی آجانا کیونکہ زمان اور اسکی بیوی تو یہاں ہیں نہیں “
“کسکی شادی ہے اور کب ہے ؟” ۔
“امین احمد کے بیٹے سمیع اللہ کی شادی ہے آج رات مہندی ہے اور کل رات کو بارات “ انہوں نے اپنا مگ رکھ کر کہا ۔
“اوکے بابا میں آجاؤنگی “ وہ سوچ کر ہی خوش ہوگئی کتنا دل کرتا تھا اسکا کسی شادی میں شرکت کرنے کا دبئی میں رہنے کی وجہ سے وہاں ایسے مواقع کم ہے ملتے تھے۔
“اور اس بار اپنے بھائی کی شادی کی بھی ڈیٹ فکس کروا دو عمر ہوگئی ہے اسکی سمیع اللہ اُس کا کلاس فیلو تھا “ بابا نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا تو اسکی رنگت غیر ہوئی۔
“بابا وہ الویرا کی پڑھائی ختم ہو تو بات کریں گے “ اس نے مگ میز پر رکھ دیا جیسے کافی کی کرواہٹ اسکے دل میں چبھ گئی ہو ۔
“یہ کیسی پڑھائی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی بات کرو ان سے یا پھر ایک دن میں خود جا کر بات کروں گا جو پڑھنا ہے شادی کے بعد پڑھ لیگی ہم کوئی اس پر روک ٹوک کرنے والے تو ہیں نہیں “ ذوالفقار عالم شاہ کو واضح جُھنجُلاہٹ ہوئی تھی۔
“جی بہتر بابا میں کرتی ہوں بات “ مگ اٹھا کر وہ کچن کی طرف آگئی کہ اب اسے اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ بات زیادہ دن دب کر رہنے والی نہیں اور یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی اور آنے والے طوفان کی زد میں اسکا آشیانہ بھی متاثر ہونے والا تھا کچن سلیب پر ہتھیلیاں رکھ کر سر جھکائے وہ گہری سانسیں لے کر خود کو کمپوز کرنے لگی ۔
————————-
مہندی کی رات آگئی ہر طرف رونق ہی رونق کراچی گولف کلب میں آؤٹ ڈور انتظام کیا گیا تھا اس جگہ کو ایونٹ پلینرز نے مہندی کے مطابق خوب سجایا تھا مردوں عورتوں کا سیٹ اپ الگ الگ تھا ۔
غازیہ نے ایمرلڈ گرین کلر کی میکسی پہنی تھی جس میں قرمزی کلر کے پینل لگی تھے اور بہت ہی نفیس کام کیا گیا تھا بیچ سے مانگ اور بال اسٹریٹ کیے ہوئے تھے کانوں میں بڑی بڑی بالیاں پہنے اور بہت ہی نفاست سےکیا گیا میک اپ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور اسکے ارد گرد لڑکیوں کا ٹولہ منڈلاتا پھر رہا تھا خاندان کی ہر لڑکی اس سے متاثر تھی چھوٹوں کے ساتھ چھوٹی بڑوں کے ساتھ بڑی سب کو خوش رکھنا جانتی تھی خاندان کی اکلوتی لڑکی جو پڑھنے باہر گئی اور پڑھائی کے ساتھ وہیں اپنا بزنس بھی شروع کیا چائنہ میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں سے سامان پاکستان ایکسپورٹ کرتی تھی جس میں زیادہ تر خواتین کے استعمال کا سامان ہوتا جیسے میک اپ ، بیگس ، جوتے اور بھی بہت کچھ ۔
“غازیہ تمہارا فون کب سے بج رہا ہے “ غازیہ لڑکیوں کے بیچ کھڑی فوٹو گرافر سے تصویریں کھچوا رہی تھی جب اسکی امی ظاہرہ نے آکر اسکے ہاتھ میں موبائل تھمایا۔
“یہ تو ان نون نمبر ہے “ اس نے کال لوگ چیک کی پھر ایک میسج آیا ۔
“پک اپ آئیم ادینہ “ میسج دیکھ کر اس نے خود کال کی کہ اسکی بچپن کی دوست کی کال تھی وہ تھوڑا باہر کی طرف آگئی کہ شور کی وجہ سے آواز نہیں آرہی تھی ۔
“ادینہ کہا ہو تم “ کال ملتے ہی اس نے دریافت کیا ۔
“یار میں کب سے گولف کلب میں پھر رہی ہوں کس طرف ہے تم لوگوں کا فنکشن” ادینہ نے بڑی بیزار انداز میں کہا ۔
“میں تمہیں لوکیشن بھیج دیتی ہوں “ غازیہ نے کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا۔
“میں اپنا فون گھر بھول گئی ہوں یہ ڈرائیور کا فون ہے وہ بھی بٹنوں والا “ ادینہ نے کہا تو غازیہ اپنا سر پیٹ کررہ گئی مجبوراً خواتین والے بیرونی حصے میں آکر اسے سمجھانے لگی تب ہی سامنے ایک کالی گاڑی آکر رُکی ڈرائیونگ سیٹ پر کوہیار عالم شاہ براجمان تھا جب کہ اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پر مہرالنساء بیٹھی تھی مہرالنساء کی نظر غازیہ پر پڑی پھر اپنے بھائی پر جو غازیہ کی طرف دیکھ کر اب سپاٹ نظروں سے سامنے دیکھنے لگا مہرالنساء کے دل میں ایک خواہش سے ابھری لیکن سر جھٹک کر گاڑی سے اترنے لگی ۔
“یہ سمیع اللہ کی بہن ہے آپ اسکو بول دیں کہ آپ میری بہن ہیں “ کوہیار نے مہرالنساء کہا تو اس نے کن اکھیوں سے دیکھ کر سر ہلایا ۔
غازیہ نے مہرالنساء کو کوہیار کی گاڑی سے اترتے دیکھا اس سے ملی اور اپنا تعارف کروایا اور وہ اسے خوش آمدید کرتے ہوئے اندر کی طرف لے گئی کہ ابھی تھوڑی دیر میں رسمیں شروع ہونے والی تھیں ۔
——————————
رسموں کے دوران سمیع اللہ کو اسکی دلہن رومیسا کے پاس بیٹھایا گیا وہ دونوں ہی خوش تھے تھوڑی دیر میں سمیع کو عورتوں کے بیچ اکیلے بیٹھے شرم آنے لگی تو واپس مردانے کی طرف چلا گیا لڑکیوں کی چیخ و پکار شروع ہوگئی کہ سمیع بھائی کے ساتھ تو فوٹو کچھوائی ہی نہیں تو سب لڑکیاں غازیہ کو لیے سمیع کے پیچھے بھاگیں انٹرنس کی راہداری عُبور کرکے جب وہ سب نکلیں تو سمیع وہاں اپنے دو دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا ایک تو کوہیار اور دوسرا شاہویر یہ دونوں کزن تھے اور سمیع کے کلاس میٹس تھے شاہویر ایک گورا چِٹّا نوجوان تھا قد میں کوہیار سے چھوٹا تھا نفاست سے تراشیدہ بال اور ہلکی فرنچ داڑھی غازیہ کو دیکھتے ہی اسکی نگاہیں خیرہ ہو گئیں کوہیار نے نگاہیں جھکا دیں اور شاہویر کو بھی ٹہوکا دیا ۔
“اُف سمیع بھائی دوستوں کو چھوڑ کر ہمیں بھی وقت دیں ہمیں آپکے ساتھ فوٹو کھینچنی ہے “ لڑکیاں گلہ کرنے لگیں ۔
“سوری لیڈیز ہیز آل یورس “ شاہویر ہاتھ اٹھا کر بولا اور کوہیار کے پیچھے نکلنے لگا اور نکلتے ہوئے ایک نظر غازیہ کے خوبصورت سراپے کو دیکھا دونوں وہاں سے نکل گئے ۔
“تو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیگا ناں “ کوہیار کی گہری کالی آنکھیں شاہویر کو غصے سے دیکھنے لگیں ۔
“تمہارے لیے بھابھی بھی تو ڈھونڈنی ہے مائے ڈیئر “ ۔
“شی از ناٹ یور ٹائپ “ کوہیار نے کندھے اچکا کر اسے جتایا ۔
“وٹ ڈو یو نو اباؤٹ مائے ٹائپ “ شاہویر نے آبرو اچکا کر پوچھا ۔
“ہو نوز بیٹر دین می ہاں“ کوہیار اسکے سامنے ذرا جھک کر اسکے کالر سے ندیدہ گرد جھاڑ کر طنزیہ انداز میں بولا تو وہ گڑبڑا سا گیا اور کھسیانی سی ہنسی ہنسا ۔
—————————-
رات کو بارات تھی اور اُسے عبداللہ بھائی کے آفس کسی ضروری شپمنٹ کو ریسیو کرنے جانا تھا چائنہ سے غازیہ جو بھی شپمنٹ کرتی تھی یہاں اسے ریسیو کرنا اور ڈسٹریبیوٹ کرنا عبداللہ بھائی کا کام تھا اور ادینہ کی کال پر کال کہ آجاؤ کہیں بیٹھ کر کافی پیئیں ۔وہ تیار ہو کر نکلی اسکائی بلیو لمبی قمیض اور ٹراؤزر اور اسکے ساتھ ہم رنگ دھاگوں کے کام والا دوپٹہ اور اسکے ساتھ پیروں میں پنک کلر کے لمبی ہیل والے کورٹ شوز لمبے بال آدھے سر تک پونی میں بندھے ہوئے تھے وہ ڈرائیور کے ساتھ آفس کے لئے نکلی اُسے آفس اتار کر ڈرائیور خود کسی کام سے چلا گیا کہ گھر میں شادی کا ماحول تھا اور ایک گاڑی بھی فارغ نہیں تھی ۔
سی ویو کے سامنے ایک بڑی اور خوبصورت بلڈنگ کے فورٹینتھ فلور میں انکا آفس تھا چودھویں مالے پر پہنچ کر سیدھا وہ عبداللہ بھائی کے آفس میں داخل ہوئی عبداللہ بھائی وہاں پہلے سے ہی وہاں کسی سے محوِ گفتگو تھے وہ جب داخل ہوئی تو دونوں نفوس اسکی طرف متوجہ ہوئے غازیہ کو بڑی خجالت محسوس ہوئی ۔
“سو سوری بھائی میں تھوڑی دیر بعد آتی ہوں “کہہ کر وہ نکلنے لگی جب عبداللہ نے اسے پکارا۔
“ارے نہیں بیٹا اندر آؤ “ انہوں نے پکارا تو وہ اندر چلی آئی ۔
“کوہیار یہ میری سسٹر ہیں غازیہ امین انہوں نے ہی آپکا لاسٹ اسائنمنٹ ایکسپورٹ کروایا تھا “ عبداللہ احمد نے اسکا تعارف کروایا۔
“اور غازیہ یہ ہمارے ایک بہت پُرانے دوست اور کلائنٹ ہیں کوہیار عالم شاہ “ وہ مسکرا کر اٹھا اور غازیہ سے حال احوال دریافت کیا گرے کلر کے پولو شرٹ اور بلیک پینٹ میں بالوں کو پیچھے کی طرف لگائے کسی قیمتی پرفیوم میں مہکتا وہ بڑا دلکش اور وجیہہ لگ رہا تھا ۔
“اچھا تو یہ خڑوس مسکراتا بھی ہے “ غازیہ نے پہلی بار اسے مسکراتے دیکھ کر دل ہی دل سوچا ۔
“غازیہ بیٹا آپ کوہیار کی نیکسٹ شپمنٹ کی تفصیلات ذرا دیکھ لیں انکی انویسٹمنٹ بھی دیکھ لیں “ پھر ایک گھنٹے تک غازیہ آفس میں کوہیار کے آرڈرز کی تفصیلات دیکھتی اور کہیں کوئی غلطی نظر آتی تو اسے ایڈجسٹ کر لیتی۔
