قسط نمبر 2
کوہیار چلا گیا تو وہ جو اپنے کام کے لیے آئی تھی وہ بھی کر کے نکلی باہر آکر ڈرائیور کو کال کی تو اس نے یہ کہا کہ اسے ایک گھنٹہ لگے گا ۔
تب ہی وہ کوئی ٹیکسی ڈھونڈنے لگی جب ایک کالی ایس یو وی آکر رکی ۔
“آئیے میں آپکو چھوڑ دیتا ہوں کہاں جانا ہے “ کوہیار نے شیشہ نیچے کر کے پوچھا ۔
“جہاں مجھے جانا ہے وہ آپکے راستے میں نہیں پڑتا “اسنے صاف منع کر دیا کسی کی گاڑی میں اس طرح بیٹھ جانا اسکی لیے قابل قبول نہیں تھا ۔
“ٹیکسی ولا بھی تو اجنبی ہے مجھے تو پھر بھی آپ جان چکی ہیں “ غازیہ متذبذب سی تھی ۔
“سوچ کیا رہی ہیں “۔
“سوچ رہی ہوں اگر آپ نے مجھے کِڈنیپ کرنے کی کوشش کی تو میں بھی کراٹے میں گرین بیلٹ ہوں “ کاندھے اچکا کر وہ لا پرواہی سے بولی ۔
“بالکل دہان میں رکھوں گا” اس نے مسکراہٹ دبا کر دروازہ کھولا اور وہ فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئی ۔
“دی فرینچ کافی چھوڑ دیں میری فرینڈ انتظار کر رہی ہے “۔
“اوکے جہاں آپ کہیں “ کوہیار نے گاڑی فیز ایٹ کی طرف موڑی ۔
“آپ ہر لڑکی کو یونہی لفٹ دے دیتے ہیں “ اس نےترچھی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
“میری ماں اور بہن کے بعد آپ پہلی خاتون ہیں جو میری گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہیں “ ہلکی مسکراہٹ ہونٹوں پہ لیے اسے دیکھ کر وہ بولا غازیہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا ۔
“اورآپ ہر مہمان کو یونہی رائیڈر سمجھتی ہیں “ اور اس بات پر دونوں ہنس دیے ۔
“مجھے لگا تھا کہ آپ “ غازیہ لفظ ڈھونڈنے لگی ۔
“خڑوس ہوں مسکراتا نہیں “ غازیہ لب بھینچ کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی کہ یہی القابات تو وہ اسے دے رہے تھی ۔
“نہیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں “ وہ خجل سی ہوئی ۔
“لوگ میرے بارے میں یہ اندازہ ضرور لگاتے ہیں “وہ بڑی لاپرواہی سے کہ رہا تھا ۔
“اِسکا مطلب آپ صحیح لوگوں سے آج تک ملے نہیں ہوں گے “ ۔
“ایون مائے کلوزسٹ “وہ مسکرایا “اسکا مطلب میں خود صحیح بندہ نہیں ہوں “ ڈرائیو کرتے ایک نظر اسکی طرف دیکھا ۔
“نہیں اسکا مطلب آپ بڑی کوشش کرتے ہیں لوگوں کی ایکسپکٹیشنز پر اترنے کی جو ایک انسان کے لیے ممکن نہیں “ اس نے کہا تو کوہیار نے گاڑی روکی ۔
“اگر آپ کو خود سے محبت نہیں تو کوئی اور کیوں کرے گا “منزل پہنچ چکی تھی یہ کہہ کر وہ گاڑی سے اتری اور کیفے کے اندر چلی گئی وہ اُسے جاتے دیکھتا رہا پھر لب بھینچ گئے اور تیزی سے گاڑی بھگا لے گیا ۔
—————————
بارات کا فنکشن شروع ہو چکا تھا اور تمام مہمان آچکے تھے فنکشن سمندر کنارے کنٹری کلب میں ارینج کیا تھا مہمانوں کو سن سیٹ سے پہلے ہی مدعو کیا تھا کہ روشنی میں دعوت کا اور سن سیٹ کا مزا لیا جائے اور آج کل کی دنیا تو ہے ہی تصویروں کی دُنیا کہ لوگ اپنی پکچر لینا انجوائے کر سکیں ۔
دلہن نے سرخ عروسی لباس زیب تن کر رکھا تھا جب کہ سمیع نے کالی شیروانی پہن رکھی تھی وہ دونوں ساتھ بیٹھے بہت جچ رہے تھے فوٹو گرافر اُنکی تصویریں کھینچ رہا تھا کبھی کوئی آکر ان مل کر وہیں بیٹھ کر دو چار باتیں کر لیتا ۔
غازیہ نے لائٹ پنک آرگنزا ساڑھی پہن رکھی تھی بالوں کا میسی بن اور جوڑے پر بے بی بریتھ چھوٹے چھوٹے پھول لگا رکھے تھے بالکل نیچرل میک اپ میں وہ تمام محفل میں سب سے زیادہ حسین لگ رہی تھی ایک تو خوبصورت دوسرا اپنی پرسنیلٹی کیری کرنا خوب جانتی تھی ۔
سمندر کی لہریں چٹانوں سے سر پٹخ پٹخ کے واپس جا رہی تھیں اور یہیں ایک سپاٹ دولہا دلہن کے فوٹو شوٹ کے لیے بنایا گیا تھا تھوڑے بہت پھول لائٹنگ وغیرہ تمام لڑکیوں نے تصویریں کھنچوانے کے بعد غازیہ کی باری آئی فوٹو گرافر نے اسکے ہاتھوں میں ایک سفید گلابوں کا بکے تھمایا اور ہر طرف سے اسکی تصویریں کھینچی وہاں سے فارغ ہو کر وہ دوبارہ فنکشن کی طرف جانے لگی تو سامنے شاہویر کھڑا تھا۔
وہ سائڈ سے ہو کر گزرنے لگی ۔
“یہ آپکا ہے “ ایک گلاب کی کھلتی کلی اسکی طرف بڑھا کر بولا غازیہ نے مڑ کر اسکے ہاتھ کی طرف دیکھا اسکے آبرو تن گئے ۔
“نہیں تو یہ پھول ہر دوسرے ویس میں لگے ہیں آپ واپس وہیں لگا دیں “لاپرواہی سے کہہ کر آگے بڑھ گئی پیچھے وہ ڈھٹائی سے کھڑا مسکراتا رہا ۔
“تمہیں نظر انداز کروں
مجھ میں اتنا غرور کہاں
تمہیں دیکھوں نظر بھر کے
میری آنکھوں میں اتنا نور کہاں “ کہتے ہوئے وہ مردانہ فنکشن کی طرف بڑھ گیا ۔
————————
فنکشن احتتام کو پہنچا مہرالنسا نکلنے لگی جب غازیہ اسے سی آف کرنے باہر تک لائی
“ ٹو بی ہونیسٹ بہت عرصے بعد دیسی شادی میں اتنا مزہ آیا ہے “ مہرالنساء الوداعی کلمات ادا کر رہی تھی اور غازیہ بھی اُسکا شکریہ ادا کر رہے تھی سامنے گرے تھری پیس میں کوہیار گاڑی سے ٹیک لگائے اسکا انتظار کر رہا تھا جب مہرالنساء کے ساتھ کھڑی غازیہ کو دیکھا غازیہ نے بھی اسے دیکھا ایک لمحہ تھا ان نظروں میں اور کوہیار نے نظریں پھیر لیں اور موبائل نکال کر کسی سے کال پر بات کرنے لگا غازیہ مہرالنساء کو رُخصت کر کے دوبارہ اندر آگئی لیکن ایک عجیب احساس کے ساتھ ۔
“کیا ہے یہ انسان “پھر سر جھٹک کے مہمانوں میں مشغول ہوگئی کہ اسرا اور امی اُسے بار بار کسی نہ کسی سے ملوا رہی تھیں۔
——————————-
وہ دونوں سمیع کے کمپیوٹر کے سامنے جھکے تھے جب کہ سیٹ پر ایک آدمی بیٹھا ماؤس پیڈ پر ہاتھ چلا رہا تھا ۔
“سر جس دن ڈیلز ہوئی ہیں اس دن کی تمام تفصیلات مٹا دی گئی ہیں یہاں کچھ بھی نہیں مل رہا تمام فائلز ایمپٹی ہیں “ وہ آدمی ایک کے بعد ایک فائلز کھول کھول کر انہیں دیکھا رہا تھا ۔
“اسکا مطلب کہ ڈیلز ہوئی ہیں اور کوہیار کے نام پر ہوئی ہیں “ سمیع نے سیدھے ہوتے ہوئےکہا
“اماؤنٹ کتنی آرہی ہے “ کوہیار کے ابرو تنے ہوئے وہ ابھی تک مانیٹر کو دیکھ رہا تھا جیسے اسکا پھنسانے والا یہی مانیٹر ہے اور وہ اسکی گردن مروڑ دے گا۔
“یہ تو اچھا ہوا چیمبر آف کامرس میں تمہاری ممبر شپ ہے جو تمہیں ڈیل کی اِی میل آگئی ورنہ جب تک ہمیں پتہ چلتا بہت دیر ہو چکی ہوتی “ سمیع نے تشویش سے کہا ۔
“میرے دشمن مجھے نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اس لئے میں نے اپنی تیاری پوری کر رکھی ہے “ وہ کمپیوٹر کے سامنے سے سیدھا ہو کر بولا اور ابرو اچکا کر سمیع کو دیکھا کوہیار کا امپورٹ کا بزنس تھا فیکٹری مشینری سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والا روزمرہ کا سامان یہ وہ باہر سے امپورٹ کرتا تھا پچھلے کچھ عرصے سے گورمنٹ سیکٹر میں بھی وہ سامان سپلائی کرنے لگا جس کے باقاعدہ ٹینڈرز اس کے نام الاٹ ہوتے اسکی کمپنی ہر جگہ اپنے اثاثے اور انکم اور تمام ڈاکومینٹیشن پوری رکھتی تھی ایف بی آر ہو یا سی ڈی ایس یا سی ڈی سی ہر جگہ وہ کلین چٹ تھا اور انکا باقاعدہ ممبر تھا اور یہ بات یقیناً اسکے دشمن نہیں جانتے تھے اسکے نام کسی بھی ڈیپارٹمنٹ میں کوئی بھی چیک نکلتا اسکا پتہ اسے پہلے ہی چل جاتا اور اب بھی یہی ہوا کوہیار کے نام چیک نکلا تھا لیکن ابھی اسے اسکی تہہ تک پہنچنا تھا
“سر ایک کام ہو سکتا ہے جس کمپیوٹر سے یہ ڈیلیٹ ہوا ہے وہیں سے ریٹریو ہو سکتا ہے “ سمیع نے اور کوہیار نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
“لیکن کیسے “ سمیع پوچھا
“میرے پاس ایک راستہ ہے “ کوہیار کے چہرے پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ چمکی ۔
——————————
وہ سب دوپہر کھانے کی میز پر بیٹھے تھے جب سمیع گھر میں سب کو سلام کرتا ہوا داخل ہوا
“سمیع یہ کیا حرکت ہے بیٹا رومیسا اکیلی بیٹھی ہے تمہیں چھٹی لینے کو کہا تھا ناں “ ظاہرہ کو اپنے بیٹے پر سخت غصّہ چڑھا تھا
“ارے امی کوہیار کا ضروری کام تھا ورنہ نہیں جاتا “ سمیع نے انہیں پُر سکون کرنے کی کوشش کی ۔
“تو کوئی اور نہیں آفس میں کیا “ ماں کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔
“چلیں سوری امی اب نہیں جا رہا کہیں “ سمیع کہہ ظاہرہ سے رہا تھا اور دیکھ رومیسا کو رہا تھا رومیسا نے مسکرا کر نظریں پھیر لیں جیسے ناراضی کا اظہار کر رہے ہو ۔
“کوہیار کی بہن وہ مہرالنساء ہے ناں بڑی پیاری سی تھی “اسرا نے استفسار کیا ۔
“ہاں وہی اس نے اپنا تعارف کروایا تھا “ غازیہ نے جواب دیا پتہ نہیں کیوں یہ نام سن کر دل کی دھڑکن کیوں تیز ہو گئی وہ خود اپنے آپ پر ہنس دی ۔
“انکی ماں تو شاید کافی سال پہلے فوت ہو گئیں ناں “ ابھی بھی اسرا سمیع سے پوچھ رہے تھی
“جی تب سے ہی کوہیار بڑا خاموش طبع سا ہو گیا ہے “ سمیع نے مزید بتایا ۔
“تو شادی کروا دیں اسکی “ ظاہرہ کو ہر مسئلے کا حل شادی لگتا تھا آوارہ ہے شادی کروا دو ،
ڈیپریس ہے شادی کروا دو ، بیروزگار ہے شادی کروادو ،نکما ہے شادی کروا دو ، بہت امیر ہے شادی کروا دو ۔
“منگنی تو ہو چکی ہے اسکی اب شادی بھی شاید ہو جائے جلد ہی “ سمیع نے بڑے عام لہجے میں کہا ظاہرہ بھی سر ہلا کر گویا مطمئن ہوگئی لیکن وہاں بیٹھی غازیہ جو اپنی چاولوں کی پلیٹ پر جھکی تھی نہ جانے کیوں سر اٹھا کر نہ دیکھ سکی ۔کیوں اُسے کچھ برا لگا تھا اپنی ہی حالت سے بے خبر وہ عجیب سی حالت میں پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا کر دو گھونٹ پی کر اپنے کمرے میں آگئی بیڈ پر بیٹھ کر گہری سانس لی خود کو کمپوز کیا ۔
“اسکی منگنی ہو چکی ہے “ غازیہ نے اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا
“جسٹ آ ٹائم بیئنگ اٹریکشن “
خود سے جھوٹ بولنا سب سے مشکل کام ہے یہ شاید غازیہ نہیں جانتی تھی ۔
————————-
اس تین منزلہ آفس کی تیسری منزل پر آج معمول کی گہما گہمی تھی وہی حال جو ہر سرکاری دفتر میں ہوتا ہے صدیقی صاحب اپنے آفس میں بیٹھے تھے جب کوہیار وہاں داخل ہوا
“ارے آج میرے دفتر کو رونق کیسے بخشی “ صدیقی کوہیار کو دیکھ کر بانچھیں کھول کر مسکرایا ۔
“کچھ کام کی بات کرنی تھی “ کوہیار نے ٹیبل کی سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا صدیقی کے چہرے پر واضح تغیر محسوس کیا تو سمجھ گیا کہ دال پوری کالی ہے ۔
“ضرور کیسا کام “ صدیقی خود پر قابو پاتے بولا اور ساتھ پیشانی سے پسینہ بھی پونچھا
“ارے لگتا ہے بڑی گرمی لگ رہی ہے آپکو ایک جوس تو منگوا دیں میرے لیے بھی اپنے لیے بھی “ پیپر ویٹ گول گول گھماتے بولا لہجہ بالکل ہلکا لیکن صدیقی کی چھٹی حس اسے الارم کر رہی تھی ۔
“کیوں نہیں ضرور “ اس نے انٹر کام اٹھا کر کولڈ ڈرنک لانے کا کہہ کر ریسیور رکھا ۔
“تو بتائیے کوہیار صاحب میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں“صدیقی نے کہنی میز پر رکھ کر تھوڑا آگے ہو کر پوچھا ۔
“اصل میں مجھے ایک آفس کے لئے کچھ الیکٹریکل ایکویٰپمنٹ سپلائی کرنی ہے جیسے کمپیوٹرز “اس نے کمپیوٹر کی طرف اشارہ کیا ۔
“لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کمپیوٹرز ریلائیبل نہیں ہیں دھوکہ دے دیتے ہیں ناکارہ ہو جاتے ہیں اب آپ بتائیں مجھے یہ آفر لینی چاہئے یا نہیں “ وہ دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھ کر آگے کو ہوا اور صدیقی کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔
“دیکھیں کوہیار صاحب آپ مجھے بڑے عزیز ہیں “ اس نے پسینہ پونچھ کر کہا تب ہی چپراسی جوس لیکر آگیا ایک کوہیار کے سامنے رکھا ایک صدیقی کے سامنے صدیقی نے گلاس منہ سے لگایا ایک ،دو ،تین گھونٹ کوہیار مسکرایا گلاس رکھ کر وہ دوبارہ کوہیار کی طرف متوجہ ہوا ۔
“کوہیار صاحب میں تو ہمیشہ آپ کا بھلا چاہوں گا اس لئے کہتا ہوں یہ ٹینڈر نہ لیں “ کہتے ہوئے وہ اپنی آنکھیں مسلنے لگا پھر ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا۔
“یہ کیا کیا” کہہ کر وہ گرنے لگا میز کا کونہ پکڑ کر وہ گھٹنوں کے بل گرا کوہیار مسکرا کر اسے دیکھنے لگا پھر کرسی سے اٹھ کر دھیمی چال چلتا ہوا صدیقی تک آیا میز کا کونہ اس سے چھوٹ گیا اور منہ کے بل نیچے گرا کوہیار پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا ۔
“اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو اس بات کا ذکر بھی کسی سے مت کرنا اگر ان سے بچ بھی گئے تو میں نہیں چھوڑوں گا “ کہہ کر وہ اٹھ گیا ۔
“الطاف “ آواز لگائی وہی بندہ جو دو منٹ پہلے جوس لے کر آیا تھا وہی داخل ہوا چپراسی کے یونیفارم میں تھا ۔
“اسے پکڑ کر کرسی پہ بٹھاؤ “ وہ دونوں اسے گھسیٹتے ہوئے کمپیوٹر ٹیبل تک لے گئے کمپیوٹر آن کر کے الطاف اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور کوہیار پیچھے کہ اگر کوئی اندر آ بھی جائے اسے شک نا ہو بائیو میٹرک سے لوگ ان کر کے الطاف کی بورڈ اور ماؤس پیڈ پر جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگا ۔
“بِنگو “ الطاف نے خوش ہوتے ہوئے کوہیار کی طرف دیکھا “کسی اناڑی کا کام ہے “ کوہیار طنزیہ مسکرا دیا ۔
“کیمرے بند کر دو “ کوہیار نے کمرے کے ایک کونے میں لگے کیمرے کی طرف اشارہ کیا ۔
“وہ تو آتے ہی میں نے سیکورٹی روم سے جا کر بند کر دیے “ الطاف نے بڑے فخر سے کہا ۔
“ ہیک کر کے “ کوہیار نے ابرو چڑھا کر اُسے دیکھا ۔
“ارے نہیں وہ گارڈ ایسے ہی اونگ رہا تھا میں گیا اور اس روم کا اور لوبی کا کیمرا بند کردیا “ اس نے گردن اکڑا کر کہا ۔
“اچھا وہ تو میں بھی کر سکتا تھا “ کوہیار نے کوئی اَثر لئے بغیر کہا ۔
“ لیکن کیا تو نہیں ناں “ الطاف بد مزہ ہو کر بڑبڑایا ۔
“کیا بولا “۔
“کچھ نہیں میری اوقات میں کچھ بولوں “اس نے سر جھٹکا “ہم یہ سب کاپی کریں گے اتنا ٹائم نہیں کہ فائلز کھولیں “ الطاف نے ایک وائر کے ذریعے ایک چھوٹا کالا سا چوکور بکس اٹیچ کیا تھوڑی ہی دیر میں صدیقی بھی کراہنے لگا ۔
“جلدی کرو ایسا نہ ہو یہ شور کرنا شروع کر دے “یہ کہتے ہوئے کوہیار نے صدیقی کا فون کھولا اسکے چہرے پاس فون لے جا کر اسکے پپوٹے کھینچ کر اسکا فون انلاک کیا اور اسکے ای میلز دیکھنے لگا سکرول کرتے کرتے اسکے چہرے پر ایک مطمئن سی مسکراہٹ پھیل گئی اپنے فون پر کچھ کاپی کر کے اسکا فون واپس رکھ دیا ۔
“کاپی ہو گیا چلو نکلتے ہیں یہاں سے “ اِلطاف نے کہا اور دونوں آگے پیچھے ہوتے نکل گئے اور پیچھے صدیقی کو ہلکا ہلکا ہوش آنے لگا تھا ۔
——————————————
سمیع کی شادی کے ایک ہفتے بعد شاہویر کی امی رضوانہ غازیہ کا رشتہ لے کر آئیں بظاہر تو اس پرپوزل میں کوئی کمی نہیں تھی ظاہرہ کو بھی اچھے لگ رہے تھے ۔
“عبداللہ بیٹا پچیس سال عمر شادی کے لیے ٹھیک ہے “ظاہرہ تو پوری راضی دکھ رہی تھیں۔
“امی دیکھیں یہ اسکی زندگی کا سوال ہے کوئی جلدی نہیں بظاہر تو سب اچھا ہے لیکن تھوڑی چھان بین تو کرنی ہوگی اور سب سے ضروری یہ کہ آپ غازیہ کی مرضی پوچھیں اگر وہ کہے گی تو ہی کوئی بات ہو سکتی ہے “ عبداللہ موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوئے بولا ۔
“مجھے تو صحیح لگا غازیہ کو کیا اعتراض ہوگا میری شادی تو بیس سال میں کر دی آپ لوگوں نے “ اسرا نے گلہ کیا ۔
“بس کردو اسرا تمہیں خود ہی بڑی جلدی پڑی تھی اور اب ہر وقت بیٹھی شکایتیں کرتی رہتی ہو “وہ بھی ماں تھیں اور اسرا کی ہر وقت گلہ کرنے کی عادت سے نالاں تھیں تب ہی غازیہ اوپر سے نیچے آئی لائیلیک کلر کا ایمبرائڈری ولا سوٹ جس کی چھوٹی قمیض اور کھلا ٹراؤزر تھا اور شیفون دوپٹہ کاندھوں پر ڈالا ہوا تھا بالوں کو سائڈ سے چوٹی بنا کے سامنے ڈالا تھا اسکی آنکھیں شہد رنگ اور بھی زیادہ چمک رہی تھیں موبائل ہاتھ میں لیے کسی کو وائس نوٹ بھیج رہے تھی سیدھا آکر دھپ سے ماں کے پہلو میں گر گئی ۔
“اب تم بتاؤ کیا کہتی ہو “ اسرا نے اسے گفتگو میں شامل کیا۔
“کس بارے میں “ موبائل رکھ کر اس نے بہن کی طرف دیکھا ۔
“تمہارے لیے نیا رشتہ آیا ہے شاہویر مرزا نام ہے بندے کا “ اسرا نے چہیکتے ہوئے کہا۔
“منع کر دیں “ اس نے بالکل عام سے لہجے میں کہا جبکہ اسرا اور ظاہرہ کے منہ بن گئے یہ پہلی بار نہیں تھا کہ اس نے ایسے منع کیا ہو کئی رشتے آئے جو ماں باپ کو پسند آئے وہ اس نے ریجیکٹ کر دیے۔
“لیکن کیوں “ ظاہرہ شاک میں بولیں۔
“امی ابھی نہیں کرنی میں نے میرا ایم بی اے کمپلیٹ ہو جائے “ اس نے بہانہ گڑھا لیکن سچ بات تھی اسے شاہویر بالکل عجیب نیگیٹو سا لگا ۔
“تمہارا آخری سمسٹر ہے منگنی کر لیں گے “ اسرا بولی۔
“میں نے نہیں کرنی فی لحال” وہ دو ٹوک لہجے میں کہہ کر اٹھی ۔
“آخر کیوں نہیں کرنی ہر رشتہ ایسے ہی ٹھکراؤ گی تو لوگ رشتہ لانا ہی بند کر دیں گے “ ماں تھی غصے میں بولی یہ ایک حقیقت بھی ہے۔
“امی کیوں پیچھے پڑی ہیں اسکے یہ کام زبردستی کے تُو نہیں ہیں “ عبداللہ نے ماں کو ٹوکا اور غازیہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور پیچھے ظاہرہ بڑبڑاتی رہ گئیں ۔
————————————
مہرالنساء کی بڑی بہن زیب النسا آئی تھی دونوں بہنیں بیٹھ کر خوب گزرے سالوں کو یادیں تازہ کر رہی تھیں وہی جو دو بہنیں کرتی ہیں دنیا کے ہر موزوں پر باتیں دونوں بہنوں کی شکلیں بہت ملتی تھیں جبکہ بھائی دونوں الگ شکل کے تھے دونوں لاؤنج کے صوفے پر بیٹھی تھیں جب کوہیار بھی آگیا ۔
“رفیق میرا پروٹین شیک بنا دو تھوڑی دیر میں جم جاؤنگا “ وہ اپنے جوتے اتارنے لگا ۔
“امین احمد لاشاری کے بیٹے کی شادی اٹینڈ کی بڑا مزہ آیا “ مہرالنساء نے ڈرائی فروٹ کی پلیٹ اپنے اور زیب النسا کے بیچ رکھتے ہوئے کہا ۔
“وہی ناں شاہویر کے لئے جسکی بیٹی کا ہاتھ مانگا ہے “ زیب النسا نے پلیٹ سے کاجو اٹھا کر منہ میں ڈالا ۔
“بہت پیاری ہے میں نے دیکھا ہے “ مہرالنساء کہہ کر کوہیار کی طرف دیکھا کہ شاید تائید کرے گا لیکن صوفے پر ٹیک لگائے وہ بڑے آرام سے شیشے کے پار مالی کو لان کو پانی دیتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
“نصیب والا ہے شاہویر “ زیب النسا نے کہا مالی پھولوں کو پانی دے رہا تھا عصر کا وقت تھا سورج زوال پذیر تھا بظاہر کوہیار پرسکون تھا۔
“وہ شاہویر سے کبھی شادی نہیں کرے گی “ وہ بولا تو اسکی آواز میں چٹانوں کی سی سختی تھی دونوں بہنوں نے چونک کر اسے دیکھا کہہ کر وہ رُکا نہیں اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
“خدا پوچھے اس الویرا سے “ زیب النسا سر پکڑ کر بیٹھ گئیں “ہمارے ہیرے جیسے بھائی کی زندگی خراب کر دی “ زیب النسا باقاعدہ آنسو بہانے لگی تھی جب کہ مہرالنساء کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئ۔
“ہمیشہ نیگیٹو ہی سوچنا اگر کوہیار کو یہ لڑکی پسند ہے تو اسکا مطالب یہ ہے کہ اگر کوہیار نے ٹھان لی تو اسے کوئی انسان نہیں روک سکتا “ اسے امید کی کرن نظر آنے لگی زیب النسا بھی رونا دھونا بھول کر اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔
“ہاں لیکن مہر پھر تمہارے لیے کتنی مشکلات کھڑی ہوں گی کچھ اندازہ ہے تمہیں“ زیب النسا دوبارہ سے مضطرب سی ہو کر بولی ۔
“اپنے سکون کے لیے میں اسے قربان نہیں کر سکتی “ وہ شیشے سے باہر کھلتے ہوئے پھولوں کو دیکھ کر کہنے لگی جو ڈوبتے ہوئے سورج کی آخری کرنوں سے اپنی زندگی کی کرن لے رہے تھے ۔
———————————
وہ اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر ڈھیر ہو گیا اور آنکھوں پر بازو رکھ کر اپنی سوچوں کو جھٹکنے لگا دل مضطرب تھا ہونٹوں پر قفل لگا تھا اور آنکھیں ویران اپنی شکست کو تسلیم کرنے میں ناکام ۔
I was desired but never loved
I was an option , not the one
I was a choice but never chosen
I loved unconditionally
I was treated like I never deserved
I was the maybe but not the one
