قسط نمبر 4
خواتین کو الگ مہمان خانے میں بٹھایا گیا اور مردوں کو ڈرائنگ روم میں مہرالنساء اور اسکی بھابھی عاصمہ نے انہیں بہت اچھی کمپنی دی غازیہ کو مہرالنساء بہت پسند آئی کافی نرم نیچر کی لگتی تھی ۔
غازیہ نے نیوی بلیو رنگ کی انارکلی فراک پہنی تھی جس میں ہلکے نیلے اور گولڈن سے بلاک پرنٹ تھا ساتھ پیروں میں کھسے لمبے بال کُھلے رکھے تھے اور بہت ہی ہلکا میک اپ کیا تھا وہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔
کھانا کھانے کے بعد وہ میٹھا کھانے بیٹھے تھے جب غازیہ کا فون بجنے لگا ہال میں کافی شور تھا اس لیے وہ معذرت کرتی باہر آئی فون کان سے لگایا –
“ہاں ادینہ بولو “ وہ مہمان خانے سے باہر ایک گیلری میں آکر کھڑی ہو گئی جہاں ایک بہت بڑی کھڑکی اور دوسری دیوار پر بہت ساری پینٹنگز لگی تھیں کھڑکی سے باہر سوئمنگ پول نظر آرہا تھا اور اندر زرد روشنی ماحول کو پُر فسوں اَثر بخش رہی تھیں۔
“اچھا اچھا کل میں تمہیں جگہ اور وقت ٹیکسٹ کر دوں گی “ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا اور شیشے سے باہر دیکھنے لگی اسے یہ منظر بہت اچھا لگ رہا تھا پھر وہ پینٹنگز دیکھنے لگی جن کے کونے میں کوہیار کا نام لکھا تھا ۔
“اچھا تو موصوف پینٹنگ بھی کرتے ہیں “ پینٹنگز دیکھتے ہوئے وہ منہ ہی منہ بڑبڑائی۔
“آپ مجھے ایک اَن امیجینیٹیو لے پرسن سمجھتی ہیں غازیہ “اور غازیہ کو جھٹکا سا لگا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سیاہ شلوار قمیض میں بال فلو سٹائل میں جمائے خوشبو سے ساری گیلری کو مہکا رہا تھا اونچا لمبا قد بہت بارعب لگتا تھا ۔
“نہیں مجھے شک سا تھا کہ آپ ہر فن مولا ہوں گے بس شاعری کو چھوڑ کر “ وہ سینے پر بازو باندھے اسکی طرف دیکھ کر بولی وہ مسکرایا مدھم زرد روشنی میں اُسکی مسکراہٹ سحر انگیز لگتی تھی ۔
“ہاں یہ ایک سکِل مجھ میں نہیں “وہ کندھے اچکا کر بولا وہ دوبارہ مڑ کر پینٹنگ کو دیکھنے لگی چھوٹی بڑی ہر سائز کی پینٹنگ فریم کے شیشے میں دونوں کا عکس نمایاں جھلک رہا تھا غازیہ کی نظریں ایک تصویر پر رک گئیں سر سبز پہاڑ کی چوٹی پر ایک محل بنا ہوا تھا جیسے ڈزنی کی موویز میں کیسل ہوتے ہیں بالکل ویسا سفید محل اسکے میناروں کی کون جیسی چھتیں جو ہلکے نیلے رنگ کے تھے ۔
“یہ ایڈن برہ میں وہیں بیٹھ کر بنائی تھی “ کوہیار بھی اب اس پینٹنگ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
“its mesmerinsing “۔
“ ہمم ! “۔
“تو آپ ایک ٹریولر بھی ہیں “ ۔
“ٹریولر ،کیمپر ،بائکر “ ۔
“صرف یورپ تک آپکی ٹریولنگ محدود ہے “ غازیہ نے پوچھا ۔
“یہ پینٹنگ میں نے کمبوڈیا میں بنائی “ ایک تصویر کی طرف اشارہ کر کے کہا جس میں کچھ افریقی بچے ایک درخت کو گلے لگائے کھڑے تھے “اور یہ شام میں کھینچی “ ایک مسجد کے ساتھ سے گذرتی سڑک یہ تصویر کیمرہ سے کھینچی گئی تھی ۔
“اور یہ عراق میں عباسی خلیفہ کا بچا کچا محل تھا جسے منگولوں نے تباہ کر دیا تھا “ یہ بھی کیمرہ سے کھینچی گئی تصویر تھی ۔
“اور یہ شیراز (ایران) میں بنائی “ ایک بڑی پینٹنگ کی طرف اشارہ کر کے کہا ایک صاف ستھری سڑک جس پر سے سکول کی کچھ بچیاں گزر رہی تھیں سڑک کے دونوں اطراف درختوں میں سرخ اور فوشیا پھول کھلے تھے اور فٹپاتھ پر بینچ لگے ہوئے تھے سنہرے رنگ سے رنگی صبح کی کرنیں اس تصویر کو مصوری کا ایک شاہکار بنا رہیں تھیں اور غازیہ اس تصویر کے سحر میں گرفتار ہو گئی تھی ۔
“ کتنی بولی لگائیں گے اس تصویر کی “ غازیہ شیراز والی پینٹنگ کو دیکھ کر بولی کوہیار اُسے دیکھ کر رہ گیا ۔
“یہ پرائس لیس ہے اس میں وہ تمام لمحے قید ہیں جو اس کو بناتے وقت میں نے جیے وہاں سے گزرتے لوگ ہلکی برستی بارش اور بھی بہت کچھ “ اس نے مدھم آواز میں کہا اور تصویر کو اپنی انگلیوں سے چُھوا ۔
“کس چیز نے آپکو اتنا موٹیویٹ کیا یہ سب کرنے کے لیے “ غازیہ نے پوچھا تو اس نے زرد مدھم روشنی میں اسکا چہرہ دیکھا پھر نظریں پھیر کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا ۔
“مجھے لگتا ہے کہ انسان جب اندر سے ٹوٹا ہو تو اسے قدرت جوڑتی ہے سولیٹیوڈ ہمارے زخموں پر مرہم ایسے رکھتی ہے جیسے کوئی انسان نہیں رکھ سکتا “ یہ کہہ کر وہ رکا نہیں گیلری کی دوسری طرف سے نکل گیا اور غازیہ اس جگہ کو دیکھنے لگی اسے جیسے یقین نہیں آیا ہو ایسا انسان بھلا کیوں ٹوٹنے لگا ۔
——————————
کراچی کا سب سے بڑا مال رونقوں کا مرکز غازیہ اور ادینہ مال میں تھوڑی بہت شاپنگ کر کے آکر ایک کافی شاپ میں آکر بیٹھ گئیں ۔
“یار تمہارے جانے کے بعد یہ شہر بڑا سونا سونا سا لگتا ہے “ ادینہ کہنیاں میز پر رکھے مصنوعی اداسی سے بولی۔
“تو آجاؤ ناں تم بھی “ وہ صوفہ چیئر پر ٹیک لگائے بولی کالے رنگ کے پرنٹڈ سوٹ میں سرخ و گلابی گلاب بنے تھے ساتھ ہم رنگ دوپٹہ بال بیچ سے مانگ نکل کر ہاف پونی میں باندھ کر پیچھے کھلے رکھے تھے کلائی میں گولڈن گھڑی غازیہ اور اسکی گھڑیوں کے شوق۔
“ہاں میں آجاؤں تاکہ امی مجھے جائیداد سے عاق کر دے “
“ایک تو تم اور تمہاری جائیداد “ وہ سر ہلا کر مسکرانے لگی جب ویٹر انکو کافی اور سینڈوچ سرو کر کے چلا گیا کافی کا مگ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا۔
“تمہارے اس پرپوزل کا کیا بنا “۔ اپنی کافی میں چینی ملاتے ہوئے پوچھا ۔
“بننا کیا ہے میں نے نہیں کرنی اس لیے منع کر دیا “ کہہ کر اپنے سینڈوچ سے بائٹ لی اور ٹیسٹ کا جائزہ لینے لگی ۔
“وہی تھا نا جو لمبا چوڑا اور ہینڈسم سا تھا “ اچانک یاد آنے پر پوچھا غازیہ نے آبرو اٹھا کر اُسے دیکھا اور کپ واپس ٹیبل پر رکھا ۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا “ غازیہ نے غور سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
“کیوں کہ تمہارے ساتھ جچتا ہے وہ کیا کہتے ہیں چاند سورج کی جوڑی واٹ ایور “ ہاتھ جھلّا کر اپنا سینڈوچ کھانے لگی ۔
“بکواس کرنے کے پیسے ملتے ہیں یا تم مفت میں یہ سروسز دے دیتی ہو “ غازیہ نے اسکو شرم دلانے کی کوشش کی ۔
“تم دوست ہو تمہارے لئے مفت ہے “ اس نے لاپرواہی سے کاندھے اچکا کر کہا اور غازیہ نے ٹیبل پر پڑا نیپکن اسکے منہ پہ دے مارا اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی اور معافیاں مانگنے لگی ۔
————————————
کوہیار اپنے لئے کچھ سامان لینے مال کے جم گیئر شاپ میں کھڑا جم شرٹس دیکھ رہا تھا جب کسی نے آکر اُسکی پیٹھ تھپتھپائی مُڑ کر دیکھا تو شاہویر کھڑا مسکرا رہا تھا وہ دوبارہ سے شرٹس دیکھنے لگا ۔
“کیا ہوگیا ہے میری جان اتنے مغرور کیوں ہو گئے ہو “ شاہ ویر اسے بغیر کچھ کہے مڑ جانے پر ٹوک گیا ۔
“ دیکھ رہے ہو مصروف ہوں “ وہ شرٹس کھنگالتا اپنا سائز دھوندنے لگا جب کہ دل ہی دل اس پر اتنا غصہ آیا کے دل کیا ایک پنچ اسکی ناک میں رسید کر دے ۔
“تم میری کال بھی نہیں اٹھا رہے میں تمہارے ساتھ فٹبال کلب جانا چاہتا تھا “
“مجھے فی لحال کہیں نہیں جانا تم انصر کے ساتھ چلے جاؤ “ اپنی مطلوبہ شرٹ نکال کر کوہیار کیش کاؤنٹر تک گیا ۔
“ انصر کے ساتھ نہیں جانا تمہارے ساتھ جانا ہے” شاہویر جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا وہ کوہیار کا اکھڑا لہجہ محسوس کر سکتا تھا کوہیار شاہویر کو کچھ کہنے مڑا تھا کہ اس نے دیکھا کہ شاہویر کسی کو دیکھنے کھڑا تھا اس نے بھی مُڑ کر دیکھا تو دل نے ایک دھڑکن مس کی کالے کپڑوں میں غازیہ کسی لڑکی سے باتیں کرتی ہوئی اور اپنے ہاتھ میں شاپنگ بیگ پکڑے جارہی تھی اور ساتھ ہی شاہویر دوڑتا ہوا غازیہ تک جانے لگا کوہیار کی چھٹی حس نے اسے الارم دیا وہ بھی اسی پھرتی سے اسکے پیچھا دوڑتا آیا ۔
“سر اپنا بیگ لے لیں “ پیچھے دکاندار پکارتا رہ گیا ۔
دل کے معاملے میں کوہیار ہمیشہ بخت سے مات کھا جاتا تھا آج بھی یہی ہوا آج بھی قسمت اسے چیک میٹ کرنے والی تھی۔
غازیہ ادینہ سے باتیں کرتی بےخبری سے جا رہی تھی جب شاہویر دوڑتا ہوا اسکے سامنے آ کھڑا ہوا غازیہ اس اچانک اُفتاد پر گھبرا کر رک گئی ۔
“ آخر کیوں ! بس ایک بار اپنے انکار وجہ بتا دو “ شاہ ویر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا غازیہ پہلے تو گھبرا گئی لیکن پھر اس پر غصہ حاوی ہو گیا اسی دوران کوہیار بھی قریب آکر کھڑا ہو گیا غازیہ نے بس ایک نظر کوہیار کو دیکھا اور کوہیار نے غازیہ کو اور غازیہ کی نظروں میں جو تھا کوہیار کو پتھر کا بنا گیا ۔
“بولو غازیہ کیوں ٹھکرایا تم نے میرا رشتہ “ وہ پھر سے اپنا سوال دہرانے لگا ادینہ غازیہ کو دیکھتی کبھی کوہیار کو کبھی شاہویر کو ۔
“ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا راستہ روکنے کی “وہ غصے سے پھنکاری اسکی آواز میں ایسی آنچ تھی کہ شاہویر ٹس سے مس نہ ہوا وہ ایک معمولی لڑکی نہیں تھی وہ غازیہ تھی ۔
“بہت اچھا کیا میں نے تمہارا رشتہ ٹھکرا کر ایک لڑکی کو اپنے دوست کے ساتھ مل کر سرِ راہ روکتے ہوئے تمہیں شرم تو نہیں آئی ہوگی “وہ دبہ دبہ سا غُرّائی اور یہ سن کر کوہیار کے اُوپرمانو گھڑوں پانی پڑگیا ہوغازیہ نے اسے غلط سمجھا ہے یہ اسکے لیے سوہان روح تھا۔
“لیکن میں تو بس ایک سوال پوچھ رہا ہوں “ اس نے جی کڑا کر کے کہا۔
“ میں تمہیں کوئی بھی جواب دینے کی پابند نہیں ہوں آئی سمجھ “ ۔
“تم اتنا ہائپر ………..” شاہویر منہ کھول کر کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ کوہیار اسکا بازو پکڑ کر اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے ایگزٹ کی طرف لے گیا پیچھے غازیہ انہیں خون آشام نظروں سے انہیں دیکھنے لگی سخت نفرت تھی غازیہ کو لڑکیوں کو راہ چلتے باتیں سناتے لوفروں سے ۔
