قسط نمبر 8
سردی اپنے زوروں پر تھی ہوا ایسی تھی کہ جسم کو چھو جاتی تو کرنٹ لگتا ایسے میں کوہیار اور غازیہ اپنے بزنس ٹرپ کو اختتام تک پہنچا کر واپس شنگھائی کی طرف گامزن تھے غازیہ نے بلیک ہائی نیک جرسی میکسی کے اوپر اپنا برگنڈی کوٹ پہنا تھا اور گلے میں کالا سکارف بالوں کی فرینچ برید گندھی تھی ہاتھ میں کالے پٹے والی سمارٹ واچ پہنی تھی اور کوہیار نے ڈارک بلیو ڈینم کے اوپر بلیک شرٹ اور بلیک اوور کوٹ پہنا تھا اور گردن میں گرے پیٹرن والا مفلر ڈالا تھا اسکے کریڈ اوانٹس کی خوشبو سے گاڑی مہک رہی تھی۔
غازیہ خوش تھی کہ اسکا ٹاسک بہت اچھے سے مکمل ہو گیا اب عبداللہ بھائی بھی خوش وہ بھی اور کوہیار بھی بس اب شنگھائی سی پورٹ سے انہیں اپنا سامان کراچی کی جانب شپ کروانا تھا ۔
ٹیکسی ائیرپورٹ کی جانب رواں تھی دونوں اپنے آگے کا لائحہ عمل طے کرتے ہوئے جا رہے تھے غازیہ کو شینجن بہت یاد آنے والا تھا خصوصاً نانسان وہ دونوں سکون سے بیٹھے تھے کہ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ڈرائیور اپنی زبان میں شور کرتا ہوا نکلا وہ دونوں بھی اسکے پیچھے نکلے ایک بائک والا ٹیکسی کے سامنے گرا پڑا تھے اور کراہ رہا تھا ڈرائیور غصے میں کچھ بڑبڑا رہا تھا یہاں کے لینگویج بیرئیر کی وجہ سے لوکلز سے کنیکٹ ہونا بہت مشکل تھا کوہیار حالانکہ یہاں آچُکا تھا پھر بھی چند ضروری جملوں کے سوا کچھ نہیں سیکھا تھا اور یہ جو تیز تیز بولتے تو کچھ بھی پلّے نہ پڑتا لیکن غازیہ یہاں رہ چُکی تھی اور زبان اور لہجوں سے مانوس تھی سو سمجھ رہی تھی ۔
”ڈرائیور کہہ رہا ہے بائک والا جان بوجھ کر اسکے سامنے گرا ہے ”غازیہ نے کہا آدھے گھنٹے کی بحث مباحثے کے بعد ٹریفک پولیس جب آئی تو بائک والا اپنی غلطی مان کر معافی مانگ کر نکل گیا اب جب غازیہ نے گھڑی دیکھی ۔
”اف کوہیار ہم بہت لیٹ ہو گئے“ٹیکسی والے کو ٹیکسی تیزی سے بھگانے کا کہہ کر وہ اب بے چینی سے پہلو بدلنے لگے آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ائیرپورٹ پہنچے تو بھاگتے ہوئے سامان گھسیٹتے ہوئے اپنے گیٹ نمبر تک پہنچنے میں بھی وقت لگا بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے تو گیٹ کیپر نے انہیں روک لیا ۔
”سوری سر پلین از ریڈی فار ٹیک آف “ اور غازیہ انہیں منتیں کرنے لگی کہ انہیں پلین میں بٹھا دے لیکن ظاہر ہے یہ ممکن نہیں تھا وہ معذرت کرتا گیا اور بدلے میں کسی دوسری طرح سے ہیلپ کی پیشکش کی جیسے کہ ہوٹل بک کروانا دوسری فلائٹ بک کروانا وغیرہ لیکن کوہیار نے غازیہ کو چلنے کو کہا۔
”چلو کوئی ٹرین پکڑتے ہیں اب یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں “ بھاگتے دوڑتے ٹرین اسٹیشن تک گئے لیکن شاید آج انکا آب و دانہ شنگھائی میں نہیں تھا ٹرین بھی نکل چکی تھی اور اگلی ٹرین رات دس بجے نکلے گی مایوس ہو کر دونوں اسٹیشن سے نکلے اسٹیشن کے خارجی راستے پر ٹیکسیوں کی قطار لگی تھی ۔
”اب کیا کریں کوہیار اگر کل ہم نے اپنے مال کی کلیئرنس نہیں کروائی تو وہ اسے کیو میں لگا دیں گے اورپھر بہت ٹائم لگے گا “ ہر ملک کا اپنا قانون ۔
”اب کیا کر سکتے ہیں رات کی ٹرین میں جائینگے اور کیا “ وہ خود کو پُر سکون کرتے ہوئے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر بولا اور اپنے بیگ سے آئس ٹی کی ایک بوتل نکال کر غازیہ کی طرف بڑھائی ۔
”بہت لیٹ ہو جائیں گے “ وہ جھنجھلائی ہوئی تھی اچانک اُسے کچھ سوجھا اور اپنا بیگ دھکیلتی ٹیکسیوں کی طرف چلی ایک دو ٹیکسیوں سے پوچھا سب نے منع کر دیا ۔
”کیا کر رہی ہو غازیہ ۱۰ گھنٹے کا سفر ہے کون جائے گا وہاں تک “ کوہیار نے اسے باز رکھنے کو کہا لیکن وہ غازیہ تھی جو ایک بار ٹھان لے کر کے ہی دم لیتی ہے ۔
”لیکن اگر ہم نہیں گئے تو ہمارا سامان رہ جائے گا “ وہ سخت کوفت سے بولی برا ہو اس بائک والے کا جو کالی بلی کی طرح انکا راستہ کاٹ گیا ۔
”جس میں خیر ہے ہر کام کے پیچھے کوئی مصلحت چھپی ہوتی ہےاٹس اوکے “ کوہیار اُسکی نسبت پُر سکون تھا اور اسے بھی پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھاایسے معاملات میں وہ خود کو ہمیشہ پرسکون رکھتا تھا کیونکہ جلدبازی میں ہمیشہ غلط فیصلے ہو جاتے ہیں لیکن مسئلہ یہاں یہ تھا کہ غازیہ ضد پر اڑی تھی اور وہ اسکے سامنے کچھ بول نہیں سکتا تھا وہ اسے دیکھنے لگا جو ایک چھوٹی بچی کی طرح منہ پھلائے بیٹھی تھی اور آئس ٹی کی بوتل منہ سے لگا کر پینے لگی کوہیار مسکرا کر اسے دیکھنے لگا جب غازیہ نے اسکی طرف دیکھا تو اس نے جلدی سے منہ پھیر لیا کہ اگر غازیہ نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھ لیا تو اسکی بھی خیر نہیں ۔
”ہیلو میم“ ایک چینی ان کے سامنے آکر اپنے مخصوص چینی لہجے میں بولا غازیہ نے بس غصے سے اسکی طرف دیکھا لیکن کوہیار کی تو عادت ہے ہر کسی کو سکین کرنے کی وہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا ۔
”میم شاید آپ کہیں دور جانا چاہتی ہیں ؟“ چینی نے غازیہ سے پوچھا ۔
”تو اور کیوں کھڑی ہوں میں یہاں “ ۔
”میں آپکو لے کر جا سکتا ہوں کہاں جانا ہے ؟“ وہ بڑی تمیز سے بات کر رہا تھا ۔
”شنگھائی “ وہ بیزاری سے بولی کیوں کہ جانتی تھی کہ اتنی دور تو یہ لے جائے گا نہیں ۔
”بڑی خوشی کی بات ہے میں بھی اسی طرف جا رہا ہوں اگر سواری ملی تو میری دہاڑی لگ جائے گی “ غازیہ خوشی سے پھولے نہیں سمائی اور اس سے کرائے کے بارے میں بات کرنے لگی جب کوہیار نے اسے ٹوکا ۔
”ہم اسکے ساتھ نہیں جائینگے ہم رات کو ٹرین میں جائیں گے “ کوہیار اس ڈرائیور کی طرف ایک غلط نظر ڈال کر بولا ۔
”میں جاؤنگی تمہاری مر ضی ہے ”وہ کہہ کر گاڑی میں اپنا بیگ رکھنے لگی کوہیار کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ گاڑی میں بیٹھ گئی نا چار وہ بھی بیٹھا اسے اکیلا اتنے لمبے سفر پر تو نہیں چھوڑ سکتا ناں گاڑی روانہ ہوئی سفر شروع ہوا شینجن چائنہ کے ایک کونے میں تھا اور شنگھائی دوسرے کونے میں جیسے کراچی اور پشاور ۔
——————————
مہرالنساء واپس دبئی نہیں گئی وہ کراچی میں ہی رہی اسے زارون کے فیصلے کا انتظار تھا اور زارون، اس نے مہرالنساء کو کال کرنے کی زحمت ہی نہیں کی کیونکہ وہ یہ مسئلہ دیکھنے خود پاکستان آچُکا تھا سرمد اپنے لاؤنج میں بڑے کروفر سے بیٹھے انیلا کو سن رہے تھے جو زارون سے اس دن کے ہوئے واقعے کو بیان کر رہی تھیں تھوڑا کانٹ چھانٹ کر قصہ مختصر کیا خود کو بالکل پاک صاف کر کے خاموش ہوئیں زارون مضطرب تھا کیونکہ الویرہ کا نہیں اسکا گھر اسکا خاندان داؤ پر لگا تھا لیکن اضطراب کے ساتھ شدید غصہ بھی تھا ابھی تو اس نے کوہیار کی ٹرین میں بیٹھی ایک لڑکی کے ساتھ ویڈیو کے بارے میں تو کچھ کہا ہی نہیں ۔
”بیٹا اب تم ہی سمجھاؤ مہرالنساء کو یہ کوئی طریقہ ہے ایسے تو رشتے ختم نہیں ہوتے کہ فلاں وقت ہماری دعوت نہیں ہوئی “ انیلا بہت ہی دکھ بھرے لہجے میں بولیں زارون پھر بھی کچھ نہیں بولا بس انکی ہی سنتا جا رہا تھا وہ بہت سنجیدہ تھا ۔
”اگر مجھے پتہ ہوتا کہ یہ نوبت آئے گی تو کبھی بھی اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا نہ کرتا “ سرمد کو اب یقیناً پچھتاوا ہو رہا تھا حالانکہ شاید وہ بھول رہے ہیں کہ یہ بھی انکا ہی مشورہ تھا کہ اس رشتے داری کو اور زیادہ مضبوط بنائیں کوہیار جیسا لائق فائق داماد بخت والوں کو ہی ملتا ہے ۔
”ارے کوئی بات نہیں زارون سمجھا لیگا مہرالنساء کو کچھ دن کی ناراضگی ہے سب ٹھیک ہو جائے گا “ انیلا کسی طور اب یہ رشتہ ختم نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
”انکی دعوت کرو اُن سب کو گھر پر بلاؤ میں خود ذوالفقار سے بات کرونگا کہ اپنی بیٹی کو سمجھائے “ سرمد نے کہا تو زارون نے خاموش نگاہوں سے انہیں دیکھا اور بغیر کچھ بولے اپنے کمرے میں آگیا اور صوفے پر بیٹھ گیا کتنا خالی کمرہ تھا اسکا اسکے جانے کے بعد اسکی یاد کیوں آرہی تھی وہ تو خوش تھے پھر انکے بیچ یہ دیوار کیوں آگئی اسے مہرالنساء سے محبت تھی اس نے منہ سے تو کبھی اظہار نہیں کیا لیکن عمل سے تو اظہار کیا تھا ناں مہرالنساء کو ہر آسائش دبئی میں اتنی لگژری زندگی دو اتنی پیاری بچیاں کبھی اُنکا جھگڑا نہیں ہوا جب تک وہ تھی اُسے احساس ہی نہیں ہوا لیکن جب سے وہ گئی ہے ایسا لگ رہا ہے اسکے دل کا ایک حصہ الگ ہوا ہے ماں باپ الویرہ کے لیے فکر مند ہیں اسکے بارے میں ایک بار بھی نہیں کہا کہ اسکا گھر داؤ پر لگا ہے اسے اپنی بچیاں بہت یاد آرہی تھیں صوفے کے پاس ٹیبل پر رکھی انکی تصویر اٹھا کر دیکھی اور مسکرایا پھولے گالوں اور خوبصورت آنکھوں والی پھر ایک گہری سانس کھینچ کر تصویر واپس رکھی دو دن سے آیا تھا اپنی بیٹیوں سے ملا ہی نہیں فون اٹھا کر کال ملائی کچھ گھنٹیوں بعد کال اٹھائی۔
”مجھے تم سے ملنا ہے “ وہ اجنبیت سے بولا ۔
”کیوں ؟“ یک لفظی جواب وہاں بھی اجنبیت کے ریکارڈ توڑے جا رہے تھے ۔
”پلیز مہرالنساء ”وہ جذباتی ہوا ۔
”اوکے وقت اور جگہ میں ٹیکسٹ کر دوں گی ”اور فون بند زارون نے حیرانگی سے فون کو دیکھا جو اسکی کال کا گھنٹوں انتظار کرتی تھی جو اس سے تھوڑی دیر اور باتیں کرنے کے لیے منتیں کرتی تھی کیا یہ وہی مہرالنساء ہے ؟۔
————————————-
مشتاق مرزا کے آفس جانے کے بعد رضوانہ بھی تیار ہو کر کہیں جا رہی تھیں ابھی گھر میں ہی تھیں کہ مشتاق واپس آگئے اور انکے چہرے کے آثار دیکھ کر ہی پتہ لگ رہا تھا کہ ضرور کوئی بات ہے ۔
”خیریت آپ واپس آگئے ؟“رضوانہ بھی انہیں ایسے اچانک دیکھ کر پریشان ہوئیں لیکن آتے ہی وہ اپنے بیڈروم کی طرف گئے ڈریسنگ روم کی الماری میں رکھا لاکر کھولا کاغذات اوپر نیچے کیے ۔
”گلشن والے بنگلے کے کاغذات کہاں ہیں رضوانہ؟“ پوچھ کر ڈھونڈنے لگے ۔
”یہیں لاکر میں ہیں کہاں جائیں گے “ وہ خود بھی آگے بڑھ کر دیکھنے لگی لیکن کاغذات نہیں تھے نہیں ملے ۔
”تمہارا بیٹا بیچ چکا ہے وہ بنگلہ “ صوفے پر ٹائی ڈھیلی کر کے بیٹھ گئے اور سر ہاتھوں میں گرا لیا ۔
”ایسے کیسے بیچ گیا ؟“ رضوانہ بھی انکے پاس بیٹھ گئیں ۔
”آج مجھے ایک ای میل ملی جس میں اس گھر کے بکنے کا سٹامپ پیپر اور کچھ کاغزات تھے پھر میں تصدیق کرنے کرائے دار سے کرایہ لینے گیا کہ پچھلے چھ ماہ سے کرایہ بھی نہیں دیا وہاں جا کر پتہ چلا کہ یہ گھر ہی بک چکا ہے اور موصوف شاہویر مرزا نے پانچ کروڑ کا بیچا ہے“ رضوانہ دل پکڑ کر بیٹھ گئیں ۔
”پتہ نہیں اب اور کتنی آزمائش اس لڑکے کے ہاتھوں دیکھنی ہیں، ہے بھی تو سب اسکا کون سا میں اپنی قبر میں لے جاؤنگا“ مشتاق بہت دکھ سے بولے۔
”اللّٰہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ“ وہ خود بھی دکھی تھیں ایسی امید تو نہیں لگائی تھی انہوں نے اپنے بیٹے سے ۔
”تھوڑا صبر تو کرے ایسے تو ساری جائیداد دو دن میں کھا کر بیٹھ جائے “ مشتاق از حد پریشان تھے
——————————
شینجن سے نکلے انہیں ایک گھنٹہ ہوا تھا یہ سفر کتنا حسین تھا راستہ خوبصورت غازیہ دو بار شنگھائی سے شینجن آچُکی تھی لیکن بائے روڈ یہ پہلی بار تھا وہ شیشے سے باہر دیکھنے لگی اور اپنے فون سے سنیپ بنانے لگی کوہیار بھی شیشے سے باہر دیکھنے لگا اسکی ایک ہی فکر تھی کہ وہ خیر سے شنگھائی پہنچ جائیں کیونکہ راستے میں ماؤنٹ ووہی کے جنگلات بھی آتے ہیں اور پہلے نہ کبھی وہ یہاں آیا ہے نہ یہ جگہ دیکھی ہے ۔
غازیہ سیٹ پر ٹیک لگائے سکون سے باہر کے نظارے دیکھ رہی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا دیکھا تو عبداللہ بھائی کا نام چمک رہا تھا اس نے مسکرا کر ریسیو کر کے کان سے لگایا لیکن وہاں پہلے تو خاموشی تھی لیکن اسکے بعد جو وہ بولے ۔
”میں نے تمہیں آزادی اس لیے دی ہے کہ تمہارا جو دل چاہے کرو میرے منہ پر کالک پونچو “ وہاں سے ایک سخت غصے بھری آواز میں کہا گیا ۔
”جی میں سمجھی نہیں کیا ہوا ؟“ وہ واقعی میں حیران تھی اور کوہیار کو بھی فون سے آواز آئی اس لیے سیدھا ہو کر بیٹھا اور کان کھڑے ہو گئے ۔
”تم وہاں بیزنس کرنے گئی ہو یا کوہیار کے ساتھ عشق لڑانے ؟ ”وہی دل چیرنے والا لہجہ غازیہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا جس عبداللہ بھائی نے زندگی میں کبھی ڈانٹا نہیں آج وہ اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں اور کوہیار بھی یہ سن کر حیران ہوا ۔
”بھائی آپ کیا کہہ رہے ہیں میں نے آخر کیا کیا ہے جو آپ ایسی بات کر رہے ہیں ؟“اسکے حلق میں آنسوؤں کا پھندا سا پھنس گیا ۔
”بہت مایوس کیا ہے تم نے مجھے غازیہ ”کہہ کر فون بند کر دیا اور انکے نمبر سے ایک ویڈیو ریسیو ہوئی غازیہ نے جب کھولا تو وہی ویڈیو کوہیار کے آبرو تن گئے اور سمجھ گیا کہ یہ شاہویر کا کیا دھرا ہے اسکے ساتھ دشمنی تو ٹھیک تھی لیکن اس نے غازیہ کو ٹارگٹ کیا یہ اسکے لیے بالکل قابل قبول نہیں تھا لیکن اس وقت اسے جو سب سے زیادہ تکلیف دے رہی تھی وہ غازیہ کے آنسو تھے جو فون کو دیکھ کر اسکی آنکھوں سے گرے تھے ۔
”یہ اسی آدمی نے کیا ہوگا جو ٹرین میں ہمارے ساتھ بیٹھا تھا “ کوہیار نے کہا تو اسے بہت غصہ آرہا تھا۔
”لیکن وہ ایسا کیوں کرے گا اور عبداللہ بھائی کو وہ کیسے جانتا ہے ؟“ غازیہ نے آنسو پونچھتے ہوئے پوچھا ۔
”اس نے نہیں یہ شاہویر نے کیا ہے “ کوہیار کی آنکھوں میں غصہ اور آگ جھلک رہی تھی ۔
”لیکن وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟“ کوہیار کوئی جواب دینے لگا تھا جب اس نے دیکھا کہ ڈرائیور نے کالا ماسک پہن رکھا ہے جو لیبز میں پہنتے ہیں اور گاڑی میں رکھا ایک ہیومڈفائر کا بٹن دبایا جس سے دھواں نکلنا شروع ہوا ۔
”ہے سٹاپ دی کار “ کوہیار اس پر چلایا لیکن وہ گنگناتا ہوا گاڑی کی رفتار اور بھی زیادہ بڑھا گیا کوہیار کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی بہت غلط ہو رہا ہے جو بھی ہے بہت غلط ہے اس نے ایک مکّا ڈرائیور کے منہ پر رسید کیا ڈرائیور اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا گاڑی بے قابو ہوئی گاڑی نے جھٹکا کھایا لیکن ڈرائیور نے اپنا گال پکڑے پھر سے اسٹیرنگ وہیل سنبھالا کوہیار نے آگے بڑھ کر اسکا گلا پکڑا لیکن اسکی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اس نے غازیہ کی طرف دیکھا غازیہ کی آنکھیں بند تھیں وہ بے ہوش تھی کوہیار اپنی جگہ پر بیٹھا اس نے فون نکال کر ہیلپ لائن ملانی چاہی اسکی سانس بھاری ہونے لگی اور انگلیاں ناکارہ ہو نے لگیں اپنی تمام تر ہمت جمع کر کے فون ملانا چاہا کال ملاتے ہی اُسکی آنکھیں بند ہو گئیں فون اسکے ہاتھ سے گر پڑا بند ہوتی آنکھوں سے اس نے دیکھا کہ ڈرائیور پیچھے دیکھ کر گنگنا رہا تھا اور بس پھر مکمل اندھیرا۔
———————————
پوش علاقے کے اس ریسٹورنٹ میں زیادہ رش نہیں تھا ریسٹورنٹ کا خوبصورت ماحول ہلکے اوکاسٹک میوزک سے ایک الگ ہی سماء باندھا تھا لیکن زارون پر لمحہ لمحہ بھاری ہو رہا تھا اپنے دیے گئے وقت سے مہرالنساء آدھا گھنٹہ لیٹ تھی کافی دیر بعد انٹرنس پر اُسکی نظر پڑی سفید چکن کاری سوٹ میں شیفون کا دوپٹہ سر پر لیے ہاتھ میں ایک قیمتی بیگ اور پیروں میں سفید ہیلز بال دوپٹے کے نیچے کھلے تھے سر پر آنکھوں سے اتار کر چشمہ چڑھایا اور ادھر ادھر زارون کو ڈھونڈنے لگی زارون نے ہاتھ ہوا میں ہلا کر اسے اشارہ کیا تو وہ آکر کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی انداز صاف اکھڑا اکھڑا تھا ۔
”کیسی ہو مہرالنساء ؟“ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”کیوں بلایا ہے مجھے یہاں ؟“ ایک کٹیلی نظر اس پر ڈال کر پوچھا زارون بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگا ۔
”کیا ہوگیا ہے ایسے کیوں بات کر رہی ہو ابھی تو میں نے کچھ کہا بھی نہیں ”اسے مہرالنساء پر تپ چڑھنے لگی اس عورت کو خوش رکھنے کے کیا کم جتن کیے تھے اس نے۔
”تو کہو ناں زارون جو بھی کہنا ہے وہی سننے تو آئی ہوں میں یہاں “ کہہ کر بازو باندھے رخ موڑ گئی کہ جس سے اتنی محبت کی ہے اب اسکا یہ اجنبی چہرہ دیکھنے لائق نہیں تھا زارون گہری سانس بھر کر رہ گیا ۔
”کیوں کر رہی ہو ایسا ؟“ اسکا لہجہ ٹوٹا ہوا سا لگا اس نے اچنبھے سے اسکی طرف دیکھا ۔
”یہ جاننے کے لیے کہ ہمارا رشتہ آخر ہے کہاں یہ رشتہ میر ے اور تمہارے دم پر قائم ہے یا کوہیار اور الویرہ کے“ اسکی آنکھیں بھی چمکنے لگیں ۔
”آف کورس ہمارے دم پر ہے لیکن کوہیار جو کر رہا ہے وہ بھی تمہارے سامنے ہے مہر “ اسکا پارہ پھر چڑھنے لگا ۔
”ہماری خوشی کی گارنٹی مہرالنساء اور زارون ہیں یا پھر کوہیار اور الویرہ؟“وہ میز پر ہاتھ رکھ کر جھک کر بولی ۔
”مہرالنساء اور زارون ”۔
”تو پھر دوسروں کی خاطر ہمارا گھر کیوں ٹوٹ رہا ہے “ وہ ہموار سی آواز میں بولی ۔
”کیونکہ میں اپنی بہن کو بھی اس طرح دھوکا کھاتے تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا “ وہ بے رخی سے بولا مہرالنساء مسکرا دی ایک تلخ مسکراہٹ جیسے دل ٹوٹنے پر رو نہیں سکی تو مسکرا دی دل میں چھپی ایک امید تھی ایک مان تھا کہ شاید زارون اسے کہہ دے مہر چلو اپنے گھر میری بچیاں مجھے بہت یاد آرہی ہیں یا پھر وہ اسکی طرف کی کہانی سنتا لیکن وہ اپنی طرف سے پہلے ہی شاید فیصلہ کر چکا تھا ۔
”زارون میں اپنے بھائی کی صفائی نہیں دوں گی لیکن تم اپنی تحقیق پوری کر کے آؤ وہ بھی غیر جانب داری سے تاکہ کل کو پچھتانا نہ پڑے “ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اٹھ کر چلی گئی اور وہ اسےخالی نگاہوں سے جاتا دیکھتا رہا ۔
—————————-
مندی مندی سی آنکھیں کُھلیں سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں وہ ہلکا سا کرّاہ کر اٹھنے لگا لیکن اٹھ نہیں پایا پاس جلتے آگ سے چنگاریاں چٹخنے لگیں ۔
”ہیلو برادر ”شاہویر آگ پر ہاتھ سینکتے ہوئے بولا ویسے بھی وہ جب بھی اس سے ملتا یہی پکارتا جبکہ کوہیار آنکھیں میچ کر درد جذب کرتا حالات کا جائزہ لینے لگا وہ زمین پر پڑا تھا اسکا کوٹ اتار دیا گیا تھا اور مائنس پندرہ کی سخت کاٹتی سردی میں اسکے جسم پر بس ایک سویٹ شرٹ تھا آس پاس دیکھا تو وہ ایک چھوٹا سا گیراج تھا ایک گاڑی کھڑی تھی دو کرسیاں انگیٹھی کے پاس رکھی تھیں اور شاہویر کے علاوہ وہ ڈرائیور جو انکو یہاں لایا تھا وہ بھی بیٹھا تھا ۔
”تم بہت غلط کر رہے ہو شاہویر “ جبڑے بھینچ کر کہا اور ساتھ ساتھ اٹھنے کی کوشش بھی کرنے لگا جب اسے لگا اسکے ہاتھ نہیں ہل رہے کسی چیز سے پیچھے کی طرف باندھے گئے تھے شاہویر اُسکی بات پر ہلکی سی ہنسی ہنس دیا ۔
”تم بہت دور آچُکے ہو اور بہت غلط راستے پر “ کوہیار اسے اپنی گہری کالی آنکھوں سےغصے سے گھورتا ہوا بولا وہ طنزاً ہنس دیا ۔
”تمہارے پیچھے ہی آیا ہوں برو “ وہ کندھے اچکا کر سیٹ پر سیدھا ہو کر بولا اسکے چہرے پر سکون تھا جیسے جو چاہتا تھا پا گیا کوئی پچھتاوا کوئی ملامت نہیں ۔
”غازیہ کہاں ہے ؟“ا یک دم اسے یاد آیا بے چینی اور خوف کی ایک لہر اسکے سر و پا سے ہو کر گزری وہ ادھر ادھرنظریں گھما کر اُسے ڈھونڈنے لگا ۔
”ریلیکس برو وہ میرے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی تمہارے لیے“ وہ سرد لہجے میں بولا۔
”اسکا نام بھی اپنی گندی زبان پر مت لانا “ کوہیار نے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تاکہ شاہویر کا منہ توڑ دے۔
”تم ڈیمانڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو کوہیار“ اپنی ہیزل آنکھوں سے ایک کٹیلی نظر اس پر ڈال کر بولا کوہیار خاموش ہو گیا اور کافی جتن کرنے کے بعد دیوار پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور شاہویر کی طرف دیکھنے لگا اور خود کو یقیں دلانے لگا یہ وہی بندہ ہے جو سائے کی طرح اسکے ساتھ رہتا تھا اسکے ہر کام میں شریک رہتا تھاکبھی کبھار دشمن کا شاطر ہونا ضروری نہیں ہوتا اسکا دشمن ہونا ہی کافی ہوتا ہے شاہویر بھی شاطر نہیں تھا وہ بس دشمن تھا اور کافی حد تک کوہیار کو جزباتی اور مالی نقصان پہنچا چکا تھا ۔
”یاد کرو کوہیار جب تم ہر جگہ لائم لائٹ میں تھے اور میں اسی طرح بےبسی سے دیکھتا تھا سب کر کے بھی تم نے مجھے ہمیشہ احساس دلایا کہ شاہویر مرزا کچھ نہیں اور آج تم ایسے ہی بے بسی سے میرے سامنے گھٹنے ٹیکے بیٹھے ہو “ شاہویر نے طنزیہ مسکرا کر کہا اور ساتھ پڑے ایک سوفٹ ڈرنک کا کین کھول کر منہ سے لگایا ۔
”میں نے تو کبھی زندگی میں سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا تم سے کوئی مقابلہ چل رہا ہے“ کوہیار نے اسے بڑے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتا رہا۔
”کوہیار دی گریٹ جس جس کو زندگی میں ،میں نے چاہا انکو تو ہمیشہ کوہیار ہی پسند آیاپہلے بابا پھر میرے سارے دوست اور اب غازیہ امین “ شاہویر کے لیجے میں صرف اور صرف نفرت تھی۔
اسکے ہاتھ ایک زیپ لاک سے بندھے تھے جو ذرا سی کوشش سے اسکی کھال میں پیوست ہونے لگتا اور ساتھ ساتھ نظریں گھما کر غازیہ کو دیکھنے لگتا یہاں کوئی دوسرا کمرہ نہیں تھا یہ ایک پرانا گیراج تھا جیسے ہائیوے پر عام طور ہوتے ہیں اسکا مطلب ساتھ کھڑی گاڑی میں ہی غازیہ کو رکھا ہے کیونکہ اسکے شیشے نیچےتھے وہ اپنے اور شاہویر کے درمیان فاصلہ ناپنے لگا اور وقت کیلکولیٹ کرنے لگا وہ دو تھے ان کے پاس ہتھیار بھی ہوسکتا ہے وہ اکیلا نہتا اور غازیہ پتہ نہیں کس حال میں ہے اسے نکالنا تھا اُسے غازیہ کو نکالنا تھا وہ یہاں صرف اسکی وجہ سے تھی شاہویر نے اسے بلی بکرا بنایا تھا ۔
———————————
موبائل کان سے لگائے وہ تیس بتیس برس کا آدمی اس عالیشان بنگلے کے لاؤنج کی طرف جا رہا تھا جسے شاید اسکے مالک نے اپنے فارغ وقت کے آرام اور مزے کے لیے بنایا تھا جہاں مالک اپنے ٹریک سوٹ میں ملبوس غالباً ابھی ابھی کثرت کر کے فارغ ہوا تھا اور پسینے میں شرابور تھا لاؤنج کے صوفے پر بیٹھا تھا وہ آدمی مؤدبانہ آکر کھڑا ہوا ۔
”سر مال پہنچ گیا پورے دس ٹرک ہیں گودام میں پارک کر دیا ہے سب کو ”وہ سن کر خوش ہوا ۔
”بہت اچھے محسن سارا مال اپنی نگرانی میں گودام میں شفٹ کرواؤ اور دیکھو کہ مال پورا ہے ایسا نہ ہو آدھا مال کہیں اور گیا ہو “ وہ مصروف سے انداز میں کہتا ہواکھڑا ہوا ۔
”سر مال پورا ہے یہ شاہویر مرزا بڑا ہی کام کا بندہ نکلا جو کام ہم پچھلے دو سال میں نہیں کر سکے اس نے دو مہینے میں کر دکھایا “ محسن شاہویر کی کارکردگی سے بڑا متاثر تھا۔
”زیادہ خوش مت ہو مجھے اس پر ذرا بھی بھروسہ نہیں جس کوہیار کے نام یہ سارا گیم کھیلا ہے اس نے وہ اسکی بچپن کا دوست ہے ہیز نتھنگ بٹ اے پوئزنس سنیک “ وہ کٹیلی نظروں سے اُسے دیکھ کر بولا ۔
”جی سر آپکی بات سمجھ گیا“ وہ ذرا خجل سا ہوا اسکی عادت تھی کچھ زیادہ ہی جلدی خوش ہو جاتا تھا اور مجبوراً زاویار کو اُسے چپ کروانا پڑتا محسن نِکلا تو زاویار تولیے سے اپنی گردن پر آیا پسینہ صاف کرنے لگا اتنا بڑا کھیل شاہویر نے اکیلے نہیں کھیلا تھا اسکی اتنی حیثیت بھی نہیں تھی یہ سارا کھیل پیچھے سے وہ چلا رہا تھا جو بہت زیرک اور کاروبار کے ہر داؤ اوچ سے واقف تھا آگے حالات بہت پیچیدہ ہو نے والے تھے ۔
———————————
عبداللہ آفس سے آئے تو بہت تھکے تھکے تھے یقیناً یہ کوئی جسمانی تھکن نہیں تھی یہ ذہنی تھکن تھی لاؤنج میں سب گھر والے موجود تھے اور اسراء بھی آئی ہوئی تھی فوٹو گرافر نے سمیع کی شادی کی تصویریں بھیجی تھیں بڑی سکرین پر لگا کر سب وہی دیکھ رہے تھے اور کسی نہ کسی تصویر پر تبصرہ کرتے جا رہے تھے لیکن عبداللہ کا ذہن ہزاروں میل دور اپنی چھوٹی بہن کی طرف تھا انہیں اس پر غصہ تو بہت آیا فون کر کے جلی کٹی سنا بھی دی لیکن اب صبح سے دل بے چین ہے انہیں لاؤنج میں آتے دیکھ کر امین لاشاری انکی طرف متوجہ ہوئے ۔
”بیٹا غازیہ سے بات ہوئی ہے تمہاری ؟“ انہوں نے رخ انکی طرف موڑا جب ہمنا نے عبداللہ کو چائے پکڑائی۔
”جی بابا صبح بات ہوئی تھی “ اب کیا بات ہوئی یہ عبداللہ نے نہیں بتایا اور چائے کا کپ ہونٹوں تک لے گئے الائچی کی خوشبو انہوں نے مسکرا کر ہمنا کو دیکھا پتی زیادہ چینی کم اچھی پکی چائے عبداللہ کی فیورٹ اور وہ بھی صرف ہمنا کے ہاتھ کی بنی ۔
”اچھا دوپہر سے ٹرائے کر رہا ہوں فون نہیں لگ رہا اسکا “ اُنکے لہجے میں ہلکی تشویش تھی ۔
”شنگھائی گئے ہیں آج تھکن کی وجہ سے سو رہی ہوگی “ انہوں نے چائے پیتے جواب دیا ذہن تو اُنکا اپنا بھی وہیں تھا عبداللہ جیسے دھیمے مزاج شخص کا آج اس طرح کنٹرول سے باہر ہونا خود انہیں مضطرب کر رہا تھا جب سمیع اُنکے پاس آکر بیٹھا ۔
”بھائی کوہیار کب تک آئے گا ؟“۔
”اِسی ہفتے میں آجائے گا کیوں خیریت ؟“ عبداللہ کو لگا شاید سمیع بھی وہ وڈیو دیکھ چکا ہے ۔
”بھائی کوئی کوہیار کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے اُس کو کرپشن کے بہت بڑے کیس میں پھنسا رہا ہے اسکو پہنچ جانا چاہئے ورنہ ایک بار اس پر کیس ثابت ہوا تو اسے نکالنا بہت مشکل ہو جائے گا “ سمیع نے صوفے پر ٹیک لگا کر تفصیل بتائی عبداللہ کو ایک عجیب احساس نے آ گھیرا۔
”کون ہے اسکا دشمن؟“۔
”ہم ایمیلز ڈی کوڈ کر رہے ہیں فنانس ڈیپارٹمنٹ کے کچھ افسر بھی شامل ہیں اور انکا سرغنہ خیر سے چائنہ اسکی پیچھے پہنچ چکا ہے“ اور سمیع کا یہ کہنا تھا عبداللہ کو لگا انکے پیروں تلے زمین کھسک گئی فون اٹھا کر غازیہ کا نمبر ڈائل کیا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے لاؤنج سے باہر نکل گئے صبح انہوں نے وہ ویڈیو دیکھ کر کتنا بُرا بھلا کہا بغیر یہ سوچے کہ آخر وہ کون ہے جو وہاں موجود بے خبری میں اُنکی تصویریں کھینچ کر اُن تک بھیج رہا ہے انکی غیر رنگت دیکھ کر سمیع بھی انکے پیچھے چل پڑا ساتھ ساتھ وہ غازیہ کا نمبر ملاتے جا رہے تھے ایک بار دو بار تین بار لیکن کوئی جواب نہیں پھر کوہیار کا نمبر ملایا اسکا نمبر بھی بند سمیع انکے ساتھ ہی کھڑا پوچھ رہا تھا کہ آخر انکو ہوا کیا لیکن وہ جیسے سکتے کی کیفیت میں تھے کچھ سمجھ نہیں پا رہے تھے سمیع کی آواز کسی کنویں سے آرہی تھی عبداللہ نے سمیع کو اُس ویڈیو کے بارے میں بتایا سمیع بھی پریشان ہوا اور اسکی دوست فینگ کو کال کی اس سے پتہ چلا انکی صبح کی فلائٹ مس ہو گئی اس لئے بائے روڈ آرہے ہیں لیکن انکی کال نہیں لگ رہی یہ سن کر تو عبداللہ اور بھی زیادہ پریشان ہو گئے اور اب تو سمیع بھی پریشان ہو گیا اس نے فینگ کو دوبارہ کال ملائی ۔
”بات سنو فینگ پولیس ہیلپ لائن کال کرو اور انہیں بولو کہ کوہیار اور غازیہ مسنگ ہیں “ آگے سے فینگ بھی کچھ بولی جب صبح وہ نیند سے اٹھے تھے اُنکے وہم و گُمان میں بھی نہیں تھا یہ جملہ انہیں کبھی زندگی میں سننا پڑے گا یہ جملہ انہیں آج بولنا پڑے گا کہ غازیہ مسنگ ہے دونوں بھائیوں کو لگا اُنکی رگوں سے اُنکا خون نچڑ لیا گیا ہے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کسی کا کوئی پیارا اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو صبر آجاتا ہے مشکل سے ہی صحیح پر آجاتا ہے لیکن اگر کسی کا پیارا اس دنیا میں ہی کہیں زندہ کھو جائے تو ہر گزرتا لمحہ اک سخت پھانسی کے پھندے کی طرح گزرتا ہے ۔
———————————
کب سے آنکھیں کھولے اپنے آس پاس دیکھ رہی تھی وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پڑی تھی کچھ ہی سیکنڈ لگے اسے سمجھنے میں کہ اُسے اغوا کیا گیا ہے اسکا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا وہ اکیلی تھی وہ کہاں تھی اسے کچھ پتہ نہیں اُسے بہت گھبراہٹ ہونے لگی اُسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا اندھیرا پیاس کی شِدّت اسے اپنے حلق میں کانٹے اُگے ہوئے محسوس ہوئے اُسکا دل کیا گلا پھاڑ کر چیخیں مارے کسی کو بلائے لیکن خوف کی شدّت سے اسکی آواز نہیں نکل پا رہی تھی کتنی ہی دیر وہ ایسے ہی پڑی رہی خوف نے اسکے جسم کو مفلوج کر دیا تھا تھوڑی دیر گزری تھی کہ اسے کسی کے بولنے کی آواز آئی ذرا سا سر اونچا کر کے دیکھا دو لوگ کرسیوں پر بیٹھے تھے انکے سامنے آگ جل رہے تھی اور ان سے تھوڑے فاصلے پر کوہیار دیوار سے ٹیک لگائے نیم دراز تھا اسکا سر جھُکا تھا اسکے ہاتھ بندھے تھے شاید اس پر تشدد کیا گیا تھا اسکے چہرے پر نیل کا نشان تھا غازیہ کوہیار کو ہی دیکھ رہی تھی اُسی لمحے کوہیار نے سر اٹھا کر اُسکی طرف دیکھا کوہیار کی آنکھوں میں روشنی سی چمکی اس نے اپنی آنکھوں سے اشارہ کیا غازیہ نے سر ہلایا اس نے واپس سر جھکا دیا غازیہ بھی دوبارہ سے لیٹ گئی اسکے ہاتھ بندھے تھے اسکی گھبراہٹ تھوڑی قابو ہوئی وہ گہری سانسیں لینے لگی خود کو کمپوز کیا اس نے ان تین سالوں میں یہاں بہت کچھ سیکھا تھا وہ ایک سروائور تھی اُسے اپنے ہُنر کو آج کام میں لانا تھا وہ گھر ہزاروں میل دور صرف کتابیں رٹنے نہیں آئی تھی وہ اپنے اندر کی غازیہ باہر نکلنے آئی تھی اس نے آنکھیں موند لیں اور اپنا لائحہ عمل طے کرنے لگی اُسے خود بھی نکلنا تھا اور کوہیار کو بھی نکالنا تھا خوش قسمتی سے اسکے ہاتھ آگے کی طرف زیپ ٹائی سے بندھے تھے اپنی کلائیاں اپنے منہ کی طرف لے گئی اور دانتوں سے کاٹنے لگی ۔
———————————
سمیع کی کال رکھنے کے بعد فینگ نے ہیلپ لائن کال کی ان دونوں کی تصویریں اُنکو بھیجیں تھوڑی بعد ایک پولیس کال آئی۔
”میڈم آخری بار انہیں شینجن ہائی وے میں ایک نان رجسٹر گاڑی میں دیکھا گیا ہے ہماری وہاں پولیس موبائل انکی سرچ میں ہے جلد ہی آپکو اپڈیٹ دیں گے “ پولیس والے نے فون رکھ دیا اور فینگ اور بھی زیادہ پریشان ہوئی چاہے جتنا بھی سیف اور سیکیور ہے اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں فینگ نے سمیع کو کال کر کے بات کی تو سمیع اور عبداللہ کی پریشانی سوا ہوئی ۔
”ہمیں جانا چاہئے سمیع “ عبداللہ پریشانی سے بولے ۔
”تھوڑا انتظار کرتے ہیں ہوسکتا ہے پولیس کوئی سراغ لگا لے “ اب وہ دونوں پر امید نظروں سے فون کو دیکھنے لگے یہ تو کوئی عبداللہ کے دل سے پوچھتا کہ صبح اپنی بہن سے تلخ کلامی کی اور اب یہ سب اگر اسے کچھ ہوا تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کریں گے انکی آنکھیں پانیوں سے دھندھلانے لگیں ۔
———————————-
رات ہلکی سردی پڑ رہی تھی اور سمندر قریب ہونے کی وجہ سے سرد ہوا چل رہی تھی لان چیئرز پر بیٹھی الویرہ کے بال اڑ کر بار بار چہرے پر لگ رہے تھے نیلے رنگ کے کشمیری کڑھائی والے شال کندھوں پر لپٹے وہ بڑی گہری سوچ میں تھی جب سوچوں کا ارتکاز سیماب نے توڑا ۔
”کن سوچوں میں گم ہو پیاری بہنا ”سیماب اسکے پاس بیٹھ کر بولی اور ہاتھ میں پکڑی دو میں سے ایک آئس کریم اسے تھمائی اور ایک خود کھانے لگی الویرہ بھی مسکرا کر کھانے ۔
”سوچ رہی ہوں بھابھی کا ڈرامہ کتنے عرصے چلے گا اگر اسکی بات مان کراسکے گھر والوں نے منگنی توڑ دی تو ” وہ تشویش سے بولی آئس کریم کھاتا ہاتھ رک گیا۔
”زارون اسے کبھی ایسا نہیں کرنے دیگا اور ابّا اور ذوالفقار انکل کی دوستی بھی خراب ہو سکتی ہے وہ ایسا نہیں کرے گی بس وقتی طور پر دھمکا رہی ہے “ وہ ناک سے مکھی اڑا کر بولی جیسے بہت ہی کوئی معمولی بات ہو کچھ لوگوں کے لیے شادی بیاہ ایک کھیل جیسے ہوتے ہیں کبھی دل چاہا تو دل توڑ دیا کبھی دل چاہا تو رشتہ جوڑ دیا ۔
”لیکن کوہیار وہ تو اب مجھ متنفر ہو جائے گا کہ میں نے ہی تو اسے دُھتکارا تھا “ الویرہ کو اب سخت ملال نے آ گھیرا کاش ایک جادو کی چھڑی ہوتی اور وہ وقت میں پیچھے چلی جاتی اسکی محبت کا جواب محبت سے دیتی ۔
”تم ایک کام کرو مہرالنساء کو چھوڑو تم کوہیار سے ڈائریکٹ بات کرو مجھے یقین ہے وہ آج بھی تمہیں ہی چاہتا ہوگا آخر تم اسکی منگیتر ہو تم لوگوں کی شادی ہونے والی ہے جب کوہیار خود ہی تم سے راضی ہوگا تو مہرالنساء کی کیا اوقات ”سیماب مشورہ دے کر دوبارہ اپنے آئس کریم کی طرف متوجہ ہوئی الویرہ بھی سر ہلا کر متفق تھی ۔
”اگر اس نے کوئی رسپانس نہیں دیا میرا مطلب وہ موو آن کرچکا ہوگا “ پھر وہی خدشہ ۔
”جتنا بھی موو آن کر جائے آخر لوٹ کر تمہارے پاس آئے گا مت بھولو اپنی بہن کا بھی مجبور ہوگا اور تمہارے حسن کا بھی اور باقی تم میں اتنا تو ٹیلنٹ ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے لانے کا“ سیماب نے ایک آنکھ دبا کر کہا اور ہاتھ اونچا کیا الویرہ نے ہنس کر اسکے ہاتھ پر تالی دی پھر پُرسکون ہو اپنی آئس کریم کھانے لگی وہ جانتی تھی اب اُسے کیا کرنا ہے ۔
————————————
جلتی آگ کے شعلوں سے چنگاریاں چٹخ رہی تھیں اور دونوں نفوس اس پر جھکے بڑ بڑا رہے تھے ۔
”تم لڑکے کو لے کر ینگ شو چلے جاؤ اور دو ہفتے تک اُسے بندھی بنا کر رکھنا اور میں لڑکی کو لے جاؤں گا اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا اس لیے اسے میرے بارے میں پتہ نہیں کسی طرح بہلا کر سمجھا لونگا ”شاہویر آگ میں ہاتھ سینکتے ہوئے بولا آگ اور خون کا کھیل کھیلتے وہ بے خوف ہو چکا تھا ۔
”لڑکی کی اچھی قیمت مل جاتی“ وہ اپنی داڑھی کھجاتے ہوئے بولا شاہویر نے اسے کٹیلی نظروں سے دیکھا پھر جھٹکے سے اسکا گلا پکڑا ۔
”اسکے بعد ایسی بکواس کی تو یہیں گاڑھ دونگا“وہ غرایا ۔
”سوری باس“ اسکے حلق سے بمشکل آواز نکلی شاہویر نے جھٹکے سے اسے چھوڑا پھر اسکے ہاتھ ایک اسپرے دیا۔
”یہ دوائی اس پر لے جا کر اسپرے کردو تاکہ اسکی نیند گہری ہو جائے“ وہ اسپرے پکڑ کر گردن سہلاتا اور بڑبڑاتا گاڑی کی طرف بڑھا شاہویر پنجوں کے بل کوہیار کے سامنے بیٹھا اور اسکے گھنے بال پکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کیا اسکی آنکھیں بند تھیں پھر اسکا چہرہ جھٹکے سے چھوڑا ۔
”کوہیار دی گریٹ! اتنا بے بس اتنا لا چار ”وہ زہر خند انداز بولا ”بابا آکر دیکھیں اس مثال کو جو آپ مجھے ہمیشہ دیتے تھے “ اس نے چلّا کر کہا پھر زور سے ہنسا لیکن اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے وہ درد جو ہر محفل میں سہتا تھا آج اسکا ازالہ کر رہا تھا ۔
ہنوئی نے اسپرے کرنے کی غرض سے گاڑی کا دروازہ کھولا وہاں غازیہ بے سدھ پڑی تھی ہنوئی نے اپنا ماسک پہن کر اسپرےکی بوتل اسکے چہرے کی طرف لے جا کر اسپرے کرنا چاہا غازیہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور ایک زور دار کِک اسکے اسپرے پکڑے ہاتھ پر مارا ہنوئی بلبلا کر رہ گیا پھر اتنی ہی پھرتی سے ایک پہلو پر لیٹے اسکے سینے پر اپنے جوتے سے لات ماری وہ دھڑام کر کے دیوار پر جا لگا وہ تیزی سے گاڑی سے باہر نکلی شاہویر اس اچانک اُفتاد پر حیران ہوتا انکی طرف دیکھنے لگا جب کوہیار نے اپنے سر سے اک زور دار ہیڈر مار کر اسے گرایا اور سیدھا کھڑا ہو گیا اور تیزی سے ہوا میں اچھل کر اپنے گھٹنے اپنے سینے تک لا کر اپنے پیچھے باندھے ہاتھ آگے لایا اور زپ ٹائی اپنے گھٹنے پر مار کر توڑ دیا تب تک شاہویر سیدھا ہو چکا تھا اور اپنی بیلٹ سے ایک پستول نکالی اور کوہیار کی طرف تانی ۔
”یہیں رک جاؤ ”اس کی طرف پستول تانے وہ چلّا کر بولا کوہیار جو اسکی طرف بڑھنے لگا تھا اسے بریک لگا اور وہ کھا جانے والی نظروں سے شاہویر کو دیکھنے لگا ۔
