قسط نمبر 9
شاہویر سیدھا ہو چکا تھا اور اپنی بیلٹ سے ایک پستول نکالی اور کوہیار کی طرف تانی ۔
”یہیں رک جاؤ “ طرف پستول تانے وہ چلّا کر بولا کوہیار جو اسکی طرف بڑھنے لگا تھا اسے بریک لگا اور وہ کھا جانے والی نظروں سے شاہویر کو دیکھنے لگا ۔
”میں نے سوچا تھا تمہیں بڑی تسلی سے زمین بوس کروں گا تمہارا غرور توڑوں گا لیکن اب ایسے ہے تو ایسے ہی صحیح “ وہ پستول لاک کرنے لگا تھا ایسے لمحوں میں نہ سوچنے کا وقت ہوتا ہے نہ آگے والے کے پگھلنے کا ایسے وقت میں بس بچاؤ کرنا ہوتا ہے اور بچاؤ کرنے کے لیے ہمارے پاس دو یا چار سیکنڈ ہوتے ہیں۔
غازیہ ہنوئی کے گلے پر پیر رکھے انکی طرف دیکھنے لگی تو شاہویر کے ہاتھ میں گن دیکھ کر اسکے اوسان خطا ہونے لگے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اسکی نظر ٹیبل پر پڑے سوفٹ ڈرنک کے کین پر پڑی اور گھوم کر ایک لات مار کر شہویر کی طرف مارا وہ جو ٹریگر دبانے لگا تھا اسکی منہ پر کین لگا کوہیار نے اسکی ہاتھ پستول چھین کر خوب گھونسوں سے اسکا منہ نیل کر دیا وہ گر کر کراہنے لگا اور اپنی پستول واپس لینے کے جتن کرنے لگا ۔
”چابی کہاں ہے ؟“ہنوئی کا گریبان پکڑ کر وہ غُرّائی وہ جو اسے ایک چھوئی موئی سی لڑکی تصور کر رہا تھا جلدی جلدی اپنی جیبیں ٹٹولنے لگا اور کانپتے ہاتھوں سے چابی نکال کر اُسے تھمائی تب تک کوہیار شاہویر کو ڈھیر کر چکا تھا ۔
”کوہیار شٹر کھولو ”وہ چلائی اور گاڑی میں بیٹھی کوہیار نے شٹر کھولا اس نے تیزی سے گاڑی نکالی کوہیار بھی گاڑی میں بیٹھا وہ گاڑی تیزی سے آگے بھگا لے گئی شاہویر گیراج سے باہر نکل کر انکے پیچھے بھاگا لیکن وہ اسکی دسترس سے بہت دور جا چکے تھے اسکی فرسٹریشن اور غصّہ اور ناکامی اسکے گلے سے ایک چیخ کی صورت برآمد ہوئے اور اپنے بال نوچتا وہ واپس گیراج کی طرف چلا گیا۔
دوپہر کے کھانے کے بعد جب سب اپنے کمروں میں آرام کی غرض سے گئے تھے اس وقت زارون کچن میں تھا ڈرٹی کچن میں کام والی برتن دھو رہے تھی یہ کام والی بہت عرصے سے انکے گھر آتی ہے فریج سے پانی کی بوتل نکال پانی پینے کے بہانے وہیں ٹیبل پر بیٹھ کر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا پھر گلا کھنکھار کر تمہید باندھی ۔
”باجی آپ کتنے عرصے سے یہاں آتی ہیں ؟“ زارون برائے بات سوال کیا ۔
”نو سال ہونے کو ہیں صاحب جی بڑی بی بی مجھ پر بہت بھروسہ کرتی ہیں“ وہ اپنے گن گانے لگی تو زارون زبردستی مسکرایا ۔
”ہماری شادی پر تو آپ تھیں ناں “ وہ بات کو اپنے مطلب کی طرف گھمانے لگا ۔
”جی صاحب جی سارے کام تو میں نے کیے تھے یاد ہے شادی کی صبح پراٹھے میں نے ہی تو بنائے تھے آپکے اور بھابھی کے لیے “ بڑے فخر سے بتایا زارون کواپنے ولیمے کا کھانا یاد نہ تھا اسکے پراٹھے کیا خاک یاد آتے لیکن پھر بھی مسکرا سر ہلایا ۔
”الویرہ کے منگیتر کے لیے بھی بنایا ہوگا ناں آپ نے “ یہ بات سن کر وہ کچھ لمحے چپ کر گئی ۔
”نہیں صاحب جی وہ تو بہت کم آئے ہیں اس طرف اور بی بی نے صرف چائے بنوائی اور مجھے بھی یاد نہیں بہت پرانی باتیں“ زارون اس سے بات نکلوا رہا تھا کہ مہرالنساء نے اتنے اعتماد سے کہا ہے تو اسے بھی پتہ لگانا تھا کہیں اسکا سکہ کھوٹا تو نہیں ۔
”اچھا تو وہ بہت کم آتا ہے“اس نے پوچھا ۔
”جی زیادہ سے زیادہ دو تین بار “ وہ سن کر اٹھنے لگا جب اسکا بھائی یہاں خود کبھی آتا نہیں پھر وہ کیوں یہ سارا دھنڈورا پیٹ رہی ہے حد ہے وہ سوچ کر رہ گیا ۔
”لیکن جب بھی آتے گاڑی بھر کر سامان لاتے طرح طرح کے کپڑے جوتے میک اپ کا سامان پہلے وہ خود آتے تھے تو لاتے پھر انکی بڑی بہن عیدوں پر تحفے تحائف لاتی تھیں ”وہ برتن دھوتی پھر پاس رکھے سٹیند میں لگاتی جاتی ۔
”اور الویرہ باجی اس سامان کے لیے خوش ہوتی ہونگی ناں“ یہ سن کر اسکی بولتی ذرا دیر کے لیے بند ہوئی۔
”صاحب جی چھوٹا منہ بڑی بات الویرہ باجی خوش تو کیا ہوتیں وہ سارا سامان کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیتیں پھر میں اور جمیل(مالی) اٹھا کر آدھا آدھا بانٹ لیتے دو ایک دفعہ ایسا کرنے پر بڑی بی بی نے ڈانٹ دیا پھر وہ سامان اپنی بہن کے بچوں کے لیے بھجواتیں “ اسکا منہ بن گیا یقیناً چیزوں کے جانے کا اسے بہت دکھ تھا لیکن زارون اسکا چہرہ دھواں دھواں سا تھا تو کیا اسکی ماں اور بہن نے اسے اندھیرے میں رکھا؟ ۔
———————————
گاڑی تیزی سے ہائیوے پر دوڑ رہی تھی اُنکے بیچ گہری خاموشی تھی غازیہ اپنے انہیں کپڑوں میں تھی بلیک جرسی والی میکسی اور برگنڈی کوٹ لیکن کوہیار کا کوٹ انہوں نے اُتار دیا تھا یقیناً غازیہ کو گاڑی سے اتارا نہیں تھا جبکہ کوہیار کو گاڑی سے اتارا بھی تھا اور اس پر تشدد بھی کیا تھا ۔
”غازیہ تم ٹھیک ہو ؟“ کوہیار نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا اسکا نام بھی ایسے لیتا تھا جیسے اسکا ہرجانہ بھرنا ہو اور ظاہر ہے ایسا ہی تھا غازیہ نے اسکی طرف دیکھا تو دل دھک سے رہ گیا اسکے چہرے پر نیل کے نشان تھے ہونٹوں سے خون رس کر جم چکا تھا ۔
”میں تو ٹھیک ہوں لیکن تم“ اسکے زخم کی طرف دیکھ کر کہا ۔
”میں بھی ٹھیک ہوں ڈونٹ ورری “ وہ اسکے لیے فکر مند تھی وہ ہلکا سا مسکرایا پیاس سے اُنکے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اُنکی یہی دعا تھی کہ جلد از جلد انہیں کوئی آبادی مل جائے یا پھر کوئی پولیس اسٹیشن جہاں سے وہ مدد لے سکیں کوہیار کا سارا سامان وہیں اس گیراج میں رہ گیا اسکا پاسپورٹ کیش کارڈ سب کچھ یہ اسکے لیے ایک اور پریشانی تھی لیکن اس وقت یہاں سے کسی محفوظ جگہ پہنچنا اسکی اولین ترجیح تھی ایک ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد صبح کی کرنیں پھوٹنے لگیں انہیں اس گیراج میں کتنا وقت گزرا اسکا اندازہ انہیں ابھی گاڑی کی گھڑی دیکھ کر ہوا انہیں پورے بیالیس گھنٹے ہو چکے تھے اس قید میں اور صد شکر وہ کالی بھیانک رات گزر چکی تھی ذرا دور جا کر انہیں ایک پولیس موبائل دکھی جسے دیکھ کر انکی جان میں جان آئی پولیس موبائل کو روک کر انہیں سارا واقعہ سنایا پولیس نے انہیں فرسٹ ایڈ دی اور اس گیراج کی طرف چلے چونکہ پولیس کو ان دونوں کی گمشدگی کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی اس لئے انہیں جلد سے جلد تحفظ دیا گیا اور شنگھائی پہنچایا گیا پہلے ہسپتال میں انکا معائنہ کیا گیا پھر وہیں پولیس نے انکے ویڈیو ریکارڈ بیان کی اور شاہویر اور ہنوئی کے خلاف رپورٹ درج کی ہسپتال کا ایمرجنسی روم دنیا کی ہر جدید مشینری سے آراستہ انہیں وارڈ میں بیڈ دیے گئے کوہیار کی کلائیوں کی پٹی ہو رہی تھی جب کوہیار نے دیکھا غازیہ گود میں ہاتھ رکھے خلا میں گھور رہی ہے اسے ایسا محسوس ہوا اسکی آنکھوں کی سطح گیلی ہے ۔
”تم بہت بہادر ہو “ کوہیار ڈاکٹر کو اپنی کلائیوں کی پٹی کرتے دیکھتے ہوئے بولا غازیہ بس پھیکا سا مسکرائی اسکا ذہن منتشر تھا اور کوہیار اچھے سے جانتا تھا اسے کیا مسئلہ تھاوہ ہی تو تھا جو اسکی ٓانکھوں کی بدلتی دھوپ چھاؤں سے واقف تھا ۔
”میں نے دیکھا ہے تم اپنے بھائیوں سے بہت کلوز ہو تمہیں کال کر کے انہیں سب کچھ بتا دینا چائیے“ کوہیار نے کہا تو غازیہ نے اسے کٹیلی نظروں سے دیکھا ۔
”انہوں نے وہ ویڈیو دیکھ کر جو سوچنا تھا سوچ لیا اور کہہ بھی دیا ”اسکی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر اسکی گود میں گرے ۔
”میری پوری زندگی میں ہمیشہ عبداللہ بھائی نے مجھے ڈیفینڈ کیا ہے سکول میں ،کالج میں اور جب سے میں یہاں آئی ہوں مجھ سے کبھی ایسے بات نہیں کی ” اس کے آنسو مسلسل گر رہے تھے اور وہ آنسو کوہیار کے دل پر گر رہے تھے ۔
”تم بہت خاص ہو غازیہ اور تمہارے آنسو بہت قیمتی انہیں ایسے ضائع مت کرو کسی اور کی بری نیت کے بدلے تم اپنے آنسو مت ضائع کرو بلکہ اٹھو اور اسکا سامنا کرو کہ انکا ٹاکرا غازیہ سے ہوا ہے“ کوہیار نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بہت نرم لہجے میں کہا بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جو لڑکیاں کسی کامیاب منزل تک پہنچنے کی اہل ہوتی ہیں تو حاسد انکی زندگی میں ایک ایسا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے قدم روک لیں اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں لیکن نیت نیک اور ارادہ مضبوط ہو تو ایک لڑکی پہاڑ بھی سر کر لیتی ہے غازیہ بھی یہی سوچنے لگی کہ اپنے بھائی سے بات کرے گی تبھی اسکی دوست فینگ وارڈ میں داخل ہوئی ساتھ ثریا اور عاصم بھی تھے فینگ نے دوڑ کر اسے گلے لگایا ۔
”غازیہ تم ٹھیک تو ہو ؟“ ثریا اور عاصم بھی پریشان کھڑے تھے ۔
”ہاں بالکل ٹھیک ہوں “ وہ مسکرائی۔
”پتہ نہیں کس کڈنپیر شامت آئی تھی جس نے غازیہ مادام کو کڈنیپ کیا ” ثریا بولی تو سب ہنس دیے اور یہ تو کوہیار بھی جان گیا کہ واقعی اس کڈنپیر کی شامت آئی تھی ۔
”تمہارے بھائی بہت پریشان ہیں انکی ہر دو منٹ بعد کال آرہی ہے تم ایک بار ان سے بات کرو“ فینگ نے فون اسکی طرف بڑھایا غازیہ نے کوہیار کی طرف دیکھا۔
”فی الحال انہیں شاہویر کے بارے مین مت بتانامیں خود وہاں جا کر ان سے بات کروں گا“کوہیار نے بات کرتے دیکھ کر کہا غازیہ نے فون پکڑ لیا تب ہی فون بجنے لگا سمیع کی کال تھی اس نے فون کان سے لگا کر ہیلو کیا ۔
”غازیہ تم ٹھیک ہو تمہیں کوئی چوٹ تو نہیں آئی آر یو اوکے کون تھے وہ میں اُنکی جان لے لوں گا “ سمیع کی آواز آئی وہ پریشان تھا وہ غصے میں تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ جس نے اسکی بہن کے ساتھ یہ سب کیا ہے اسے مٹی میں ملا دے ۔
”میں ٹھیک ہوں سمیع میں بالکل ٹھیک ہوں “ اسکی آواز رند رہی تھی لیکن سمیع سے عبداللہ نے فون لے لیا ۔
”غازیہ بیٹا مجھے معاف کر دو “ یہ سن کر غازیہ کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا پھنس گیا اور اب وہ سسکنے لگی ۔
”جب تک مجھے معاف نہیں کرو گی میں مرتا رہوں گا ”۔
”نہیں بھائی ایسی کوئی بات آپ مجھ سے کیوں معافی مانگ رہے ہیں “ سارا غصہ سارا دکھ ایک لمحے میں انکی آواز سن کر بھول گئی ۔
”مجھے لگا میں نے تمہیں کھو دیا “ آگے سے وہ بھی رو رہے تھے محبت ہمیشہ شہزادوں کے بھیس میں نہیں ملتی وہ تو ہمارے پیدا ہوتے ہی کئی چہروں میں ہمارے ساتھ ہی ایک گھر میں رہتے ہوئے ملتی ہے عبداللہ سے کتنی دیر بات کر کے انہیں تسلی دلوا کر ہی اس نے کال بند کی انکا سامان پولیس نے انہیں پہنچا دیا تھا کوہیار کا تمام سامان موجود تھا سوائے اسکے پاسپورٹ اور کاغذات کے جس کے لیے ہسپتال سے سیدھا پاکستانی ایمبسی سے اسکے لیے نئے پاسپورٹ کی درخواست دی گئی جبکہ پرانا کینسل کر دیا گیا پولیس کی طرف سے ایک خصوصی پرمٹ لے کر اسے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔
————————————
بالآخر چائنیز نیو یئر کی شام آ گئی تقریباً دس سے پندرہ دن نئے سال کا جشن منایا جاتا اور شنگھائی کے سب سے پُر رونق علاقے دی بونڈ میں رونقوں کا سماء دوہرا تھا بہتے دریا کے دونوں طرف جنگلے لگے تھے دونوں طرف سیاحوں کے لیے دل بہلانے کا ہر سامان تھا مال ہو یا مارکیٹ یہ ایک فوڈ سٹریٹ بھی تھا اور ایک پارک بھی درمیان سے گزرتا پانی اسکے اوپر بنے پُل سے لوگ گزرتے جاتے ہر کسی نے مقامی چینی لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس میں زیادہ تر سرخ رنگ پہنے ملتا ہر طرف روشنیوں کا سماء تھا رنگ و بو نہیں کہہ سکتے کہ چائنیز لوگوں سے اچھی خوشبو کی توقع رکھنا ایسے ہے جیسے خزاں میں پھول ،آسمان میں ڈرون شو چل رہا تھا ہزاروں چھوٹے چھوٹے ڈرون کبھی آسمان میں اڑتے ڈریگن کی شکل اختیار کرتے کبھی کبھی دوڑتے ہُنہناتے گھوڑوں کی کبھی ایک رقص کرتی لڑکی کی تو کبھی ایک پانڈا کی دی بونڈ میں مختلف سٹال لگے تھے یہاں کی ایک خوبی یہ تھی یہاں حلال کارنر بنایا گیا تھا مختلف مسلمان ملکوں کے باشندوں نے اپنے سٹال لگائے تھے نہ صرف کھانا پینا بلکہ زندگی کا ہر سامان جس میں زیادہ تر وہاں کے سوینیر ہوتے ۔
غازیہ فینگ اور ثریا کے ساتھ واک کرتی ہوئی پُل کی طرف جا رہی تھی میرون رنگ کی چائنیز میکسی میں بالوں کو ویوز ڈالے اونچی ہیل پہنے اور میرون ہی کیپ شال پہنے جس کے گلے پر فر تھا کیپ بھی اسکے پیروں تک آتا جیسے کسی ملکہ کا شاہی لباس تھا فینگ کو سمیع اور عبداللہ کی طرف سے سخت ہدایت تھی کہ غازیہ کے ساتھ سائے کی طرح رہنا اس بار فینگ کے بال برگنڈی تھے سفید مقامی لباس میں باب کٹ بالوں میں وہ کب سے غازیہ کو ہنسائے جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ خرید کر کھلا بھی دیتی ابھی بھی ایک لبنانی اسٹال سے فلافل لے کر دیا جب کوہیار کا میسج آیا اس نے اپنا لوکیشن اسے بھیجا پھر جنگلےمیں کہنیاں رکھے اسکا انتظار کرنے لگی ۔
”وہ لڑکا آخر تھا کون جس نے تمہیں کڈنیپ کیا ؟“ بالآخر فینگ نے پوچھا ۔
”کوہیار کا کوئی دشمن ہے ” غازیہ کی آنکھیں آسمان پر ہوتے ڈرون شو کو دیکھ رہی تھیں فینگ بھی اسکے ساتھ کھڑی تھی جبکہ ثریا دوکان کے اندر گھس گئی سردی بھی اچھی خاصی تھی ۔
”تمہاری کوہیار سے کوئی کمیٹمنٹ ہے ؟“ اس نے کتنی آسانی سے یہ سوال پوچھا شاید وہاں ایسی باتوں پر پردہ نہیں جو ہم خود سے بھی کہنے سے ڈرتے ہیں ۔
”نہیں وہ کہیں اور کمیٹڈ ہے “ غازیہ نے اسکی طرف دیکھے بغیر کہا ۔
”اور تم ”غازیہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ”میں کیا ؟“ فینگ ہلکا سا مسکرائی ۔
”تم نے کبھی اس سے اسکی منگیتر کے بارے میں بات کی ہے ؟“ اور غازیہ پر جیسے کسی نے یخ ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہو اور اس زار سردی میں اسکا وجود منجمد ہو گیا ہو فینگ نے پُل کی طرف اشارہ کیا ۔
کوہیار چلتا ہوا پل کی دوسری طرف سے نمودار ہوا کالے بٹنوں والی شرٹ کے ساتھ کالی پینٹ اور کالے لونگ بوٹ انکے ساتھ ڈارک مرون رنگ کا سوئیڈ کا اوور کوٹ جس کے کاندھوں پر گولڈن اور رنگین دھاگوں سے ڈریگن بنے تھے بال میڈیم لینتھ فلو سٹائل اور اونچا لمبا قد ہر گزرنے والے کی نظر اپنی طرف ضرور کھینچتا تھا پُل پر چڑھتے ہوئے اس نے دیکھا غازیہ بھی پُل کے دوسری طرف سے آرہی تھی وہ چلتے ہوئے پُل سر کرنے لگی پُر سوچ نگاہیں اور وہ لمحے یادگار بن گئے۔
اُس ایک لمحے میں یہ عیاں ہو گیا تھا،
تمہاری ذات میں کچھ تھا ایسا ،
کہ جینے کا احساس نکھر گیا،
جو بھٹک رہا تھا صدیوں سے،
وہ دل اب سنبھل گیاـ،
اور ہر بار کی طرح اب بھی وہی ہوا کوہیار ان آنکھوں میں نہیں دیکھ سکا اور نظروں کا زاویہ بدل دیا غازیہ مسکرائی اسے عورتوں کی آنکھوں کے اندر جھانکنے والے مرد سخت نا پسند تھے ۔
”آج یہاں ہماری آخری شام ہے ”کوہیار نے پل کے جنگلے پر دونوں ہاتھ رکھ کر نیچےبہتے پانی کو دیکھا ۔
”ہماری نہیں تمہاری میں تو آتی رہوں گی “ وہ کاندھے اچکا کر لا پرواہی سے کہہ کر ڈرون شو دیکھنے لگی۔
”تم خوش ہو میرے جانے سے ؟“ اس نے گمبھیر لہجے میں پوچھا اسکی آنکھیں سوال کر رہی تھیں کہ کیا اسکی کمی محسوس کی جائے گی اور غازیہ بھی کچھ دیر تک خاموش رہی وہ جانتی تھی کہ وہ اسے روک نہیں سکتی دل پر ایک بوجھ سا پڑتا تھا کہ اس پر اسکا کوئی حق نہیں تھااس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا کہ اسے اپنے سامنے چھوٹے چھوٹے روئی کے گالے گرتے دکھائی دیے اس نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ہوا میں پھیلائیں اور خوشی سے کھلکھلانے لگی کوہیار بھی برف کو گرتے دیکھ کر خوش ہوا اسے یاد نہیں آخری بار اس نے برف کب دیکھی لیکن یہ بہت خوبصورت احساس تھا اور اسے اس طرح خوش ہوتے دیکھ کر اسے اور زیادہ خوشی ہو رہی تھی۔
”تمہارا ٹرپ برف کی وجہ سے اور بھی زیادہ یاد گار بننے والا ہے “ وہ مسکراتے ہوئے بولی تو آسمان میں آتش بازی کے مظاہرے ہونے شروع ہوئے اور انکی روشنی پل پر کھڑے دونوں نفوس کو چمکا رہی تھی ۔
”میرا نہیں تمہارا ڈونٹ فورگیٹ میں ایک ٹریولر بھی ہوں ؟“ وہ پُر سکون ہو کر بولاتو وہ سر جھٹک کر رہ گئی ایسا لگ رہا تھا اس پُل کو سجانے کے لیے اُن دونوں کو مومی مجسموں کی طرح لا کر رکھا گیا ہے ۔
تب ہی ایک اُدھیڑ عمر خاتون ایک کارٹ دھکیلتی انکے پاس رکی اسکے کارٹ میں دنیا جہاں کے موتیوں اور نگوں سے بنائے جویلری کا سامان تھا ۔
”سر ٹیک دِس فور میڈم“ ٹوٹی انگریزی میں اپنی بات سمجھائی۔
”اوہ ! نو نو ہِز میڈم ان پاکستان ایم جسٹ بیزنس اکوانٹینس “ اس نے مسکرا کر عورت کو کہااسکی بات سن کر کوہیار کی بھنویں بھینچ گئیں عورت نے مایوسی سے انہیں دیکھا اور آگے بڑھنے لگی فینگ کی باتوں کا اثر تھا یا وہ اُسے اپنی دسترس سے دور لگا تب ہی جان بوجھ کر یہ بات چھیڑی۔
”ارے لے لو ناں اپنی منگیتر کے لیے کچھ یاد گار رہے گا “ ساتھ ہی اسکا سامان دیکھنے لگی کوہیار کا دھواں دھواں چہرہ دیکھے بغیر کہ اسکی رنگت اسکی بات سے کس قدر متغیر ہوئی پہلے تو وہ ایک لمحے خاموش رہا لیکن پھر اپنی نظروں کا زاویہ غازیہ کی طرف موڑا۔
”یہ مشورہ مفت تھا یا اسکے بھی پیسے کاٹو گی “ وہ اتنی سرد مہری سے چبا چبا کر بولا کہ ایک لمحے کے لئے غازیہ دنگ رہ گئی اور اسے پہچاننے سے انکاری ہو گئی آتش بازیوں کی ساری روشنی دھندھلا گئی وہ ستارہ کی طرح سارے سماء کو روشن کر کے پروانے کی طرح بجھ گیا غازیہ کے آبرو تن گئے اسے طیش آنے لگا ۔
”بول تو ایسے رہے ہو جیسے ہم تمہاری خیرات پر پل رہے ہیں“غازیہ بھی چبا چبا کر بولی ۔
”مائنڈ یور بیزنس “ تیز نظروں سے دیکھتے اُسکے پہلو سے ہو کر گزرا وہ بھی رکی نہیں برف نے ابھی تک اپنا فسوں بھکیرا بھی نہیں تھا اور پانی پر چھلکتے آتش بازیوں میں وہ خوبصورت مومی مجسمے مخالف سمتوں میں چل پڑے نہ وہ سماء رہا نہ وہ روشنیاں برف کی چادر بھی پھیکی پڑ گئی ۔
————————
کوہیار شنگھائی انٹرنیشل ائیرپورٹ پر واپس پاکستان جانے کے لیے تیار کھڑا تھا تھوڑی دیر میں اسکی امیگریشن ہونی تھی اور اس نے واپس اپنے ملک چلے جانا تھا بیرون ملک روانگی کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے آخری بار پیچھے مڑ کر دیکھا شاید کہیں وہ آجائے لیکن اسے نہ آنا تھا وہ نہیں آئی پھر اپنا چشمہ لگا کر اندر داخل ہوا وہ چائنہ غازیہ سے اپنی غلط فہمی دور کرنے آیا تھا لیکن اب دل پر ایک بوجھ لے کر جا رہا تھا یہ وقت کیسے گزرا اسے تو پتہ ہی نہ چلا ۔
وہ میٹرو کا سفر ۔
وہ بارش میں اسکوٹی چلاتے آگے پیچھے دونوں ۔
وہ بنگالی کیفے سے بھاگتے دونوں ۔
وہ گیراج کے اندھیرے میں قید دو مسافر ۔
یہ سفر بہت مشکل ہونے والا تھا وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا آج کوہیار پر ایک انکشاف ہوا تھا کہ وہ دنیا کی ہر چوٹی سر کر لے لیکن محبت کے معاملے میں اپنے بخت سے نہیں لڑ سکتا اسکی محبت کے آڑے ایک آشیانہ آتا ہے جسے بکھیرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
جہاز میں بیٹھتے بیٹھتے وہ ایک بڑا فیصلہ کر چکا تھا لیکن نہیں جانتا تھا کہ وہاں بہت کچھ اسکے انتظار میں تھا بس اپنے وطن کی مٹی میں اسکے قدم رکھنے کا انتظار تھا ۔
——————————————
منہانگ کے علاقے میں یہ چھوٹا سا آفس بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا باہر سردی لیکن اندر گرم ماحول تھا اور ایسے میں آفس چیئر پر بیٹھ کر غازیہ کا دماغ بھی اچھا خاصا گرم تھا کیمل کلر کے بند گلے کے سویٹر کے ساتھ ڈارک براؤن کھلے پینٹس میں گردن میں ڈارک براؤن پھولوں والا سکارف لپیٹے بالوں کا جوڑا بنائے بڑی مصروف سی بیٹھی تھی ۔
”عاصم تمہاری عقل کہاں ہے تم نے شپمنٹ کی ڈیٹ تو لگائی ہے نہیں کیا خاک پتہ چلے گا کتنے دن پرانی ہے ”وہ عاصم پر برسی تو ثریا اور فینگ جو اپنے اپنے کرسیوں پر بیٹھے تھے انکے بیچ نظروں کا تبادلہ ہوا عاصم خجل سا ہو کر بڑبڑاتا ہوا اپنی جگہ بیٹھ کر دوبارہ ڈیٹیل بنانے لگا صبح سے ہر کسی کو الگ الگ ڈانٹ کر اب وہ مصروف سی اپنی جگہ پر بیٹھی تھی اسکی بھنویں بھینچی ہوئی تھیں اسے ہر بات پر غصہ آرہا تھا اسے خود نہیں معلوم تھا کیوں تھوڑی دیر گزری جب فینگ اُسکی ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھی اسکے ہاتھ کافی کے دو مگ تھے اور سپائس اینڈ بیکر کا ایک ڈبہ جس میں ایک سنامن رول پڑا تھا بے اختیار اسے میٹرو میں اسکا بیگ سے ڈبہ نکال کر اسکےسامنے رکھنا یاد آیا اس نے گہری سانس بھر کر کرسی پر ٹیک لگا دی اور آنکھیں بند کر لیں کیا اب اس سے جڑی ہر چیز اسکی یاد دلائے گی ثریا اور عاصم اسے مصروف دیکھ کر لنچ کے بہانے رفو چکر ہو گئے ۔
”کافی پی لو مجھے پتہ ہے تمہارے سر میں درد ہے “ فینگ نے کافی اسکے سامنے رکھتے ہوئے کہا اس نے سیدھے ہو کر کپ تھام لیا لیکن اسکے انداز میں ایک گہری خاموشی تھی جیسے اگر لفظ زبان سے نکلے تو سب کو اسکے دل کی حقیقت بیان کر دیں گے ۔
”وہ چلا گیا ؟“ فینگ نے سادگی سے پوچھا ۔
”کون ؟“ وہ انجان بنی رہی جانتی تھی فینگ جو منہ میں آئیگا کہے گی ۔
”وہی جس کے جانے سے تم ہم بچاروں کو کب سے ڈانٹ رہی ہو ”
”وٹ رابش فینگ ایسا کچھ نہیں پلیز“ اس نے دامن بچانا چاہا ۔
”تم مان کیوں نہیں لیتی غازیہ کہ تمہیں وہ اچھا لگتا ہے اس طرح ڈینایئل سے خود کو کیوں تکلیف دے رہی ہو ”فینگ نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا غازیہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی ۔
”تو کیا فرق پڑ جائیگا اگر میں مان لوں ؟“ اس نے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ نہیں میرا مطلب ”۔
”میرے ماننے سے کچھ نہیں ہوگا فینگ وہ کسی اور کا ہے اسکی لائف کسی اور کے ساتھ کمیٹڈ ہے اور ویسے بھی میرے پاس وقت نہیں پیار محبت کے لیے مجھے اپنا بزنس سیٹ کرنا ہے میں یہاں پیار محبت کے چکروں میں پڑنے نہیں آئی میں اپنے بھائی کا بازو بننے آئی ہوں ایک کامیاب بزنس ویمن بننا میرا خواب ہے میں وہ خواب چکنا چور نہیں کر سکتی “ کاندھے اچکا کر کہا اور اپنا کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا اور سنامن بن سے ایک ٹکڑا نکال کر منہ میں ڈالا ۔
”گڈ دیٹس دی سپرٹ اب بھولنا مت کہ تم کیا ہو “ فینگ نے ہاتھ اوپر کر کے تالی کا اشارہ دیا غازیہ نے ہاتھ مارا ۔
”اب اپنا مورال بلند کرو لڑکی ہمیں بہت کام ہیں“ فینگ اپنا کپ اُٹھاتے ہوئے نکلی اور پیچھے غازیہ بھی مسکرانے لگی فینگ چلی گئی تو اپنا کپ اٹھا کر کھڑکی کے پاس آکر کھڑی ہو کر سڑک سے گزرتی یکا دُکا گاڑیوں کو دیکھنے لگی ۔
”اتنا آسان تو نہیں بھولنا “ منہ ہی منہ بڑبڑائی۔
———————————
سمیع اپنے دفتر سے نکل کر آئی ٹی انویسٹیگیشن روم کی طرف جا رہا تھا کہ راہداری میں اسے الطاف ملا ۔
”سر آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے “ اس نے راستے میں سمیع کو روکتے ہوئے کہا تو اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
”سر کوہیار صاحب کے کیس کے سسپیکٹس کی ایمیل آئی پی ایڈریس ٹریک کر کے انکو سارے نام ایمیل کر دیے لیکن انہوں نے کوئی رسپانس نہیں دیا “ الطاف اپنا ٹیبلٹ جو ہاتھ میں اٹھایا تھا اسکی سکرین سمیع کو دیکھاتے ہوئے بولا سمیع نے پہلے سکرین کو دیکھا پھر غصے سے الطاف کی طرف دیکھا ۔
”تمہارا باس میں ہوں یا کوہیار ؟“الطاف سمیع کی غُصیلی نظروں سے پزل ہوا ۔
”سوری سر آپ نے کہا تھا کوہیار کی مدد کرو “ وہ شرمندہ سا ہوا ۔
”میں نے مدد کرنے کو کہا تھا اُسے رپورٹ دینے کے لیے نہیں اور تم یہ بات مجھے آج بتا رہے ہو ؟“ سمیع کو اُس پر شدید غصہ آیا اور ٹیب لے کر اُس میں نام دیکھتے دیکھتے اسکی آنکھیں خیرہ رہ گئیں جو نام اسکے سامنے کھلے تھے ان میں سے کچھ نام ایسے تھے جن تک رسائی مشکل تھی جو اپنا کالا دھندہ کرتے ہیں لیکن وائٹ کالر ہوتے ہیں لیکن ایک نام شاہویر مرزا اسکی آنکھوں میں چبھ گیا تو کیا غازیہ کے اغوا میں شاہویر کا بھی ہاتھ تھا وہ تیزی سے پیچھے مڑا اور واپس اپنے آفس میں داخل ہوا کہ یہ دشمنی اب صرف کوہیار تک محدود نہیں رہی اب اس نے سمیع اور اسکے خاندان کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔
———————————
کوہیار صبح کراچی پہنچنے کے بعد اپنے کمرے میں بند ہو گیا پھر شام کو سب کے ساتھ کھانے پر بیٹھا خوب گپ شپ کی وہاں اس نے کسی کو اپنے چائنہ میں ہوئے اغوا کے بارے میں نہیں بتایا تھا اس لیے سب لا علم تھے ۔
رات کو باہر لان میں آبیٹھا سفید بیگی ٹی شرٹ میں اور کالے کھلے ٹراؤزر میں کرسی کی پشت پر سر ٹکائے آسمان میں دور دور ٹمٹماتے کچھ ستاروں کو دیکھنے لگا آلودگی کی وجہ سے شہروں میں آسمان کے ستارے اب بڑی مشکل سے نظر آتے ہیں اس نے صحرائوں اور نخلستانوں میں اکیلے راتیں گزاری ہیں وہاں اللّٰہ سبحانہ وتعالی کی یہ تخلیق دیکھنے لائق ہے وہ بڑی گہری سوچ میں غرق تھا جب مہرالنساء نے ہنکارا بھرا ۔
”کیا سوچا جا رہا ہے ؟“ مہرالنساء نے بھاپ اڑاتے کافی کے دو مگ اٹھائے تھے اس گھر میں مہرالنساء کی کافی کسے پسند نہیں ہے اس نے مسکرا کر ایک مگ پکڑا اور سیدھا ہو بیٹھا ۔
”کچھ نہیں بس اپنے ٹرپ کے بارے میں سوچ رہا تھا “ کہہ کر اپنا مگ اپنےہونٹوں کے قریب لے گیا کافی کی مہک اسکی نتھنوں سے ٹکرا کر اسے بیدار کرنے لگی اسکی آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری جسے مہرالنساء نے محسوس کیا ماں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا لیکن ایک بہن وہ ہستی ہے جو ماں کا ہر کردار دل سے نبھاتی ہے اور مہرالنساء کی آنکھوں سے وہ چمک نہیں چھپی ۔
”تو کیا کیا ٹرپ میں “ مہرالنساء نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا ۔
”بیزنس اور کیا ،سامان خریدا جسکا ٹینڈر لیا تھا “ اس نے اپنی کافی کا گھونٹ لے کر کہا۔
”اور ٹرین میں بیٹھ کر میوزک سنا “ مہرالنساء نے آبرو اچکا کر اسے دیکھا جب کہ کوہیار سن سا رہ گیا اور حیرت بھری نظروں سے اپنی بہن کو دیکھنے لگا ۔
“ تمہیں کیسے ؟“ وہ پوچھنا بھی چاہتا تھا لیکن کہہ بھی نہیں پایا بہت سارے سوال اسکے دماغ میں گڈ مڈ ہونے لگے جب کہ مہرالنساء ہنس کر اسکی حالت سے محظوظ ہونے لگی ۔
”سچ بتاؤ مہر تم کیسے جانتی ہو کیا یہاں سب کو وہ ویڈیو بھیجی گئی ہے“ وہ بہت فکر مند نظر آنے لگا اسے پتہ تھا جس معاشرے میں وہ رہ رہا ہے وہ خود تو آسانی سے نکل جائیگا لیکن غازیہ کو رہتی عمر تک اِسی چیز کا طعنہ دیا جائیگا ۔
“ اوہو فکر مت کرو کسی کو نہیں پتہ زارون کو کسی نے بھیجی تھی اس نے مجھے بھیجی“ مہرالنساء نے اسے فکر مند ہوتے دیکھ کر کہا ۔
”تو پھر جو زارون بھائی کو بھیج سکتا ہے وہ تو کسی کو بھی بھیج سکتا ہے “ اس کی پریشانی کم نہیں ہوئی ۔
”ہاں لیکن بھیجی نہیں اب تم ریلیکس ہو جاؤ اس پر کوئی نام نہیں آیا “ وہ گہری سانس بھر کر اپنے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔
”اور نام آئے گا بھی نہیں میں جانتی ہوں تم ایسا ہونے نہیں دو گے “ مہرالنساء نے اسکا کندھا تھپتھپایا لیکن وہ اب کسی اور طرف سوچنے لگا ۔
”تم نے کہا زارون بھائی کو ویڈیو بھیجی ہے کسی نے “ اچانک اس پر ایک انکشاف سا ہوا ۔
”اورتم نے تو واپس چلے جانا تھا ناں تم ابھی نہیں گئیں پچھلے ہفتے کے ٹکٹس تھے ناں تمہارے؟“ وہ اب پریشانی سے مہرالنساء کو دیکھنے لگا ۔
مہرالنساء پھیکا سا مسکرائی پھر ساری بات شروع سے آخر تک بتائی اسکی سسرال والوں کا اسے دعوت پر بلانا اور الویرہ کا بدلا رویہ اسکا انکو سنانا اور آخر میں زارون کی ناراضگی ،کوہیار کچھ دیر تک خاموشی سے سنتا رہا ۔
”میں اپنے طریقے سے ہینڈل کر لیتا مہر تمہارا گھر ہے وہ تمہارا خاندان تم نے میری خاطر اپنا گھر داؤ پر لگا دیا “ کوہیار نے دھیمے لہجے میں کہا ۔
”ٹو بی ہونیسٹ کوہیار میں نے تم زیادہ اپنی وجہ سے کیا ہر وقت یہی خوف یہی ڈر کہ مجھےجھکے رہنا چاہئے کسی نے کچھ بھی منہ اٹھا کر کہہ دیا میں سنتی رہوں کہ کہیں میرے بھائی کا گھر خراب نہ ہو میں وہاں اس گھر کی بہو نہیں بلکہ الویرہ کی نند ہوں مجھے اپنی پوزیشن کلیئر کرنی تھی اور ویسے جو بھی وہاں ہو رہا تھا میں برداشت نہیں کر سکتی تھی “ مہرالنساء کہہ کر چپ ہوئی اسکی آنکھیں گیلی تھیں ان پانچ سالوں میں اس نے کوہیار سے کبھی اس معاملے میں بات نہیں کی تھی کہ شاید ہو سکتا ہے سب ٹھیک ہو جائے الویرہ ٹھیک ہو جائے اور ایسا نہ ہو اسکی یہی باتیں انکی زندگی کے لیے ناسور بن جائیں لیکن اب وہ جان گئی تھی کہ سب کے لیے سچ جاننا ناگزیر ہو چکا ہے پہلے وہ مصلحت تحت چپ رہی لیکن اب پانی سر سے گزر چکا تھا اس لئے کوہیار سے بات کرنا ضروری تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ کوہیار تو بہت پہلے سب کچھ جان چکا تھا۔
”اور اب زارون کیا کہے گا “ وہ اب بھی اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا
”اسکا امتحان ہے کوہیار اُسے فیصلہ کرنا ہوگا “ مہرالنساء اداسی سے گویا ہوئی اور اسی طرح اب ستاروں کو دیکھنے لگی جیسے تھوڑی دیر پہلے کوہیار دیکھ رہا تھا ۔
”ویسے تمہاری پسند مجھے بھی پسند ہے “ اِسی طرح ہونٹوں پر مسکراہٹ لئے بولی۔
”کم آن مہرو ایسی کوئی بات نہیں ہے “ وہ جھینپتے ہوئے بولا لیکن دل میں ایک کانٹا سا چبھا انکی آخری ملاقات بہت تلخ تھی ۔
”کھانا پکانا جانتی ہے “ مہرالنساء نے بوڑھی عورتوں کی طرح ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے کہا۔
”کنگ فو جانتی ہے “ مہرالنساء کی آنکھیں حیرت سے وا ہوئیں ۔
”تم تو گئے بیٹا ”ہاتھ ہوا میں جھلّا کر بولی تو وہ بھی ہنس دیا اور مہرالنسا نے بڑے عرصے بعد اپنے بھائی کے چہرے پر ایسی ہنسی دیکھی تھی ۔
——————————
سمیع نے صبح کوہیار کو ایمرجنسی میں کال کر کے بلایا وہ جب وہاں پہنچا تو ایف بی آر کے دفتر میں عجیب مچھلی بازار کا سماء تھا حتیٰ کہ انکا سکواڈ تک وہاں کھڑا تھا انکے مرکزی دفتر میں سمیع کے ساتھ اسکے کچھ سینئر آفیشل بیٹھے تھے جن میں رئیس حاکم زادہ بھی بیٹھا تھا جو ایف بی آر کا کمشنر تھا اسکے بارے میں مشہور تھا کہ ایک بار اُسے کسی کا کیس مل جاتا اور اس پر ہلکا سا گمان بھی رئیس کو جنونی کر اس کے پیچھے لگا دیتا اسے سلاخوں کے پیچھے پھینک کے ہی دم لیتا اور جب کوہیار عالم شاہ اس دفتر میں داخل ہوا تو رئیس اسے بہت گہری نظروں سے دیکھنے لگا وہ ہی نہیں بلکہ اس دفتر میں صدیقی اور آفاق بیگ بھی موجود تھے آفاق بیگ کے کتنے آفر کوہیار نے ٹھکرائے تھے یہ تو اب اسے یاد بھی نہیں رہے تھے ۔
دفتر میں یکا یک خاموشی چھا گئی کوہیار کے آتے ہی سب چوکنا ہو کر بیٹھ گئے سمیع نے کوہیار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ انکی بالکل سیدھ والی کرسی پر بیٹھ گیا پھر انکوائری شروع ہوئی سب سے پہلے تو کوہیار کے پرانے تمام ریکارڈ نکالے گئے وہ تناؤ سے بھنویں سکوڑے بیٹھا اپنی تمام فائلز دکھا رہا تھا اور ہر دوسرے منٹ ایک کٹیلی نظر صدیقی پر ڈال دیتا اب اسے بھی شاید کوہیار کا ڈر نہیں رہا تھا تب ہی تو اسکی چہرے پر بڑی مکروہ سی مسکراہٹ پھیل جاتی کوہیار اپنی جگہ تاؤ کھا کے رہ جاتا ۔
”سر کوہیار عالم شاہ نے پہلے ہی ہمیں اس بات کی اطلاع دی کہ کوئی انکے نام پر چیک نکلوا رہا ہے ”سمیع نے رئیس سے کہا تو اس نے بس سر کو جنبش دی سمیع پہلو بدل کر رہ گیا ۔
”سب سے پہلے مجھے بتائیں کہ آخر مجھ پر ایلیگیشنز کیا ہیں ؟“اسکا ضبط جواب دے گیا تو پوچھ بیٹھا اسکی کنپٹیوں کی رگیں تنی ہوئی جبڑے بھنچے ہوئے تھے وہ کتنےعرصے سے اس دن کے لیے تیار تھا لیکن آج خود پر لگے الزامات نے اُسے جنجھوڑکر رکھ دیا تھا ۔
”کوہیار صاحب آپ کو پتہ ہونا چاہئے پھر بھی میں آپکو بتا دیتا ہوں آپ کو ایک ٹینڈر دیا گیا تھا تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کے لیے سولر پینل لگوانے کا لیکن سرکار کے خرچے پر سولر پینل چائنہ سے منگوا کر آپ نے کوئی سولر پینل نہیں لگوائے اور آپ کو پچاس کروڑ کی پوری ادائیگی بھی کی گئی “ رئیس حاکم زادہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا کوہیار سمیت سب خاموشی سے اسکی بات سن رہے تھے سمیع اپنے سینئر آفیشل کو دیکھ رہا تھا بات اسکے ہاتھ میں نہیں بلکہ رئیس کے ہاتھ میں تھی یہی بات پریشان کن تھی ۔
”اور اسکا آپکے پاس کیا ثبوت ہے ؟“وہ بڑے سرد لہجے میں رئیس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔
”وہی ثابت کرنے تو ہم یہاں آئے ہیں ،صدیقی صاحب “ اسکی طرف کروفر سے دیکھ کر کہا اور صدیقی کو اشارہ کیا صدیقی اٹھ کے ایک فائل بغل میں دبائے رئیس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور فائل اسے تھمائی رئیس نے فائل کھولی تو پہلے صفحے پر ٹینڈر کی تمام تفصیلات تھی اور دوسرا صفحہ پلٹا تو پڑھتے پڑھتے اسکی بھنویں بھنچیں پھر صفحے پلٹنے لگا ۔
”یہ شاہویر مرزا کون ہے ؟“رئیس نے سرد آواز میں پوچھا اسکی آواز میں غصےکا عنصر شامل تھا اور فائل کھول کر انگلی سے کنٹریکٹر کے نام کے سامنے انگلی رکھی صدیقی پہلے رئیس کی شکل ہونکوں کی طرح دیکھنے لگا ۔
”جی سر ؟ “ پھر فائل اٹھا کر غور غور سے دیکھ کر پڑھنے لگا کہ شاید پڑھنے سے یہ نام بدل جائے لیکن نہیں نام لکھا تھا کنٹریکٹر شاہویر مرزا کتنی دیر تو وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں پایا ۔
”سر یہ شاید غلطی سے “ اسکے ماتھے میں پسینہ چمکنے لگا وہ جلدی سے اپنا لیپٹاپ اٹھا لایا اور کھول کر فائل رئیس کے سامنے کھولی لیکن اس بار رئیس نے اسے تند نظروں سے دیکھا ۔
”شاید آپکو لگ رہا ہے کہ یہاں سرکس چل رہا ہے“رئیس نے ایک آبرو اٹھا کر غصے سے اسے دیکھا اسے وقت ضائع کرنے والے لا پرواہ لوگوں سے سخت چڑ تھی اب وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگا اب کے کوہیار اپنی کرسی پر آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر گال تلے انگلی رکھے صدیقی کو انہی نظروں سے دیکھنے لگا جن نظروں سے تھوڑی دیر پہلے وہ کوہیار کو دیکھ رہا تھا ۔
صدیقی نے اپنی آنکھیں تھوڑی مثل کر دوبارہ دیکھا اسکے لیپ ٹاپ پر بھی شاہویر مرزا لکھا ہوا تھا پیچھے آفاق بیگ بھی اسے پریشانی سے دیکھنے لگا ۔
”اب آپ اس امر کے جوابدہ ہیں کہ آپ کو علم ہی نہیں کہ ٹینڈر کسے الاٹ کیا گیا اور ایک ہفتے کے اندر اندر آپ نے مطلوبہ سامان جمع کروانا ہے نہیں تو اسکی بھرپائی آپ کریں گے “ ایک تیز نظر صدیقی پر ڈالی اور لیپ ٹاپ اسکی سامنے کھسکادیا جبکہ وہ تو اس کایا پلٹ پر انگشتِ بدندان تھا تب ہی کوہیار ہنکارا بھر کر سیٹ سے اٹھا اور ایک طنزیہ نظر صدیقی اور آفاق پر ڈالی۔
”صدیقی صاحب کبھی کبھی لوگوں کے چہروں اور نیتوں کی طرح حالات بھی بدل جاتے ہیں“ کوہیار نے جھک کر اسکی انکھوں میں ذومعنی انداز میں کہااور وہاں سے نکل گیا۔
پیچھے صدیقی حیران تھا اس نے کوہیار عالم شاہ کا نام اپنے سامنے لکھوایا تھا تو یہ کیا ہو گیا کیسے ہو گیا ؟اس نے کوہیار کو انڈر اسٹمیٹ کیا تھا اس نے اندر ہی اندر انکی چال ان پر الٹا کر انہیں مات دی تھی اسے لگا تھا شاہویر جو ہر وقت سائے کی طرح اسکے ساتھ پھرتا تھا اسکی ہر حرکت پر نظر رکھا ہوگا لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا اندھیرے میں کوہیار نے شاہویر کو رکھا تھا ۔
”لیکن یہ کیسے ممکن ہے “ صدیقی کی آواز حلق سے نکل کر نہیں دے رہی تھی ۔
رات کے تین بجے گاڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی سناٹے کو چیرتی خاک اڑاتی ایک تین منزلا عمارت کے سامنے جا رکی گاڑی سے اتر کر ایک سیاہ پوش تیز تیز بلڈنگ کے اندر داخل ہوا داخلی دروازے پر ایک گارڈ محتاط کھڑا تھا ۔
”سر جی زرا جلدی کیجئے گا کسی کو بھنک بھی پڑ ہم سب کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا “ گارڈ نے خوفزدہ سی آواز میں کہا ۔
”اپنا اکاؤنٹ چیک کرو “ کوہیار عالم شاہ بڑے سرد انداز سے کہہ کر آگے بڑھ گیا گارڈ نے جلدی جلدی جیب سے اپنا موبائل نکال کر دیکھا لیکن خوف ابھی بھی اسکے چہرے پر طاری تھا ۔
کوہیار دوسری منزل کے ایک کمرے میں داخل ہوا جہاں پہلے ہی ولید کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا تھا کمپیوٹر کی روشنائی اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی اسکے آنے پر چونکا پھر اطمینان بھری سانس بھری پھر سکرین کی طرف متوجہ ہوا ۔
”کہاں تک پہنچا ولید ”سیاہ پوش نے لڑکے سے پوچھا ۔
”ارے بھائی وہ تو کب کا ہو گیا میں تو ایسے ہی گیم کھیل رہا ہوں تم تو جانتے ہو یہ چھوٹے کمپوٹرز میرے سامنے کچھ بھی نہیں ”ولید کالر جھاڑ کر بولا جبکہ کوہیارنے ایک غصے بھری نظر سے اسے دیکھا ولید نے گھبرا کر ہنکارا بھرا ۔
”آج جو بھی ڈیل اور ٹینڈرز ہوئے ہیں وہ سب میں نے یہاں سے ڈیلیٹ کر دیے ہیں انکا کوئی رکارڈ اب موجود نہیں لوگ ڈھونڈتے رہ جائینگے لیکن کچھ ملے تب ناں“ آبرو اُچکاتا عینک ناک پر چڑھاتا ایک شیطانی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا یہ سن کر وہ بھی مطمئن ہوگیا اور مسکرایا۔
“ کام ہو گیا سارے ثبوت مٹ گئے “ دھیمی چال چلتا کھڑکی تک آیا اور بلائنڈز انگلی سے نیچے کر کے باہر دیکھا سڑک اندھیر اور سنسان تھی دور کسی کُتے کے بھونکنے کی آواز آرہی تھی ۔
”آر یو شیور ؟ کوہیار کے نام کی ہر ڈیل مٹ گئی“ اس نے دوبارہ لڑکے سے گویا تصدیق چاہی ۔
”بالکل ویسے جیسے آپ نے کہا ”کہہ کر اپنی جیب سے چاکلیٹ نکال کر ریپر ہٹا کر کھانے لگا ۔
”ہمم ! جب تک اس کروڑوں کی ڈیل کا پردہ پاش ہوگا تب تک وہ بہت بے بس ہو جائے گا “ کہہ کر وہ بنا چاپ پیدا کئے کمرے سے نکل گیا اور پیچھے ولید اپنی بچی چاکلیٹ منہ میں ٹھونستے اپنے گیجٹس اور کیبلز اٹھا کر اسکے پیچھے لپکا
”کوہیار بھائی فرحان بھائی بے قصور ثابت ہو جائینگے ناں؟“ بہت بار کا دہرایا سوال اس نے پھر دہرایا۔
”ہاں وہ بے قصور ہے اور ہم نے بس اسکے دشمنوں کو بے نقاب کرنا ہے “ وہ رک کر اسکی طرف دیکھ کر بولا۔
”ٓاپ کے اور فرحان بھائی کے مشترکہ دشمنوں کو“کوہیار سر ہلا کر آگے بڑھ گیا ولید کوہیار کو جاتے دیکھنے لگا اسکے بڑے بھائی کو ایک بہت بڑے کیس میں پھنسایا گیا تھا وہ اور اسکی ماں بالکل اے رہ گئے تھے اور اس کڑے وقت میں وہ کوہیار ہی تھا جس نے اسکے سر پر ہاتھ رکھاانکو سہارہ دیا انکی خبر گیری کرتا رہا اور وہ کوہیار ہی تھا جس نے ولید کو شاہویر اور صدیقی سے ملوایا اور انکو بھنک بھی پڑنے نہیں دی کہ ولید کوہیار کے ساتھ ملا ہوا ہے اور انکی اندر ہی اندر انکی جڑیں کاٹ رہا ہے۔
—————————
آج سے دو سال قبل
فرحان کے گھر میں بس تین لوگ ہی تھے اسکی ماں عابدہ اور اسکا چھوٹا بھائی ولید ،ولید صرف دو ماہ کا تھا جب اُنکے والید حارث عزیز کار حادثے میں جاں کی بازی ہار گئے اور بیوی اور بچوں کو اکیلا چھوڑ گئے فرحان ولید سے عمر میں آٹھ سال بڑا تھا آٹھ سال تک عابدہ اور حارث دعائیں کرتے رہے کہ انکے ہاں دوسری اولاد ہو بالآخر آٹھ سال بعد انکی دعائیں قبول ہوئیں اور ولید کی پیدائش ہوئی لیکن قسمت کی ستم ظریفی کہ ولید ابھی دو ماہ کا تھا کہ حارث کا انتقال ہو گیا ان بیٹوں کو کیسے جوان کیا وہ تو اللّٰہ جانتا تھا یا پھر عابدہ ، فرحان اور ولید اچھے خاصے ذہین تھے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ کے لیے فرحان نے ایگزام دیا تو پہلے اٹیمپٹ میں ہی کلیئر کر دیا اور اسکی نوکری فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں لگی اچھی تنخوا اور ساتھ سرکار کی طرف سے گاڑی اور پرانا مکان بیچ کر ایک نئے فلیٹ میں شفٹ ہوگئے زندگی کی گاڑی بہت اچھی چل رہی تھی عابدہ بھی مطمئن تھیں اور بیٹے کے لئے رشتہ تلاش کرنے لگیں اور ایک جگہ ایک لڑکی ماہنور بہت پسند آئی اور اس سے رشتہ طے ہوا ظاہر ہے اتنا قابل لڑکا ہے تو انہوں نے پہلی بار ہی ہاں کر دی اور ولید کا جھکاؤ ٓائی ٹی کیطرف تھا اس لیے او لیول کے بعد اسکا ارادہ بی ایس آئی ٹی کرنے کا تھا کیونکہ وہ کون سا کمپیوٹر تھا جو وہ اپنے کنٹرول میں نہ کر سکے ۔
فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں پرانے سی ای اُو کے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نئے سی ای اُو کی پوسٹنگ کے پہلے ہی ہفتے فرحان کو ریکارڈ میں ہیر پھیر محسوس ہوئی پہلے تو اس نے توجہ نہیں دی لیکن سالانہ سرکاری دفتر کے اخراجات میں دن کے دس سے پندرہ لاکھ روپے کا اضافہ ہونے لگا چونکہ ریکارڈ کمپیوٹر میں فیڈ کرنے اور اسکی تصدیق کرنے کی ذمہ داری فرحان کی تھی اس لیے وہ تمام فائلیں اٹھا کر سیدھا سی ای اُو کے دفتر میں انکے سامنے فائلیں کھول کر رکھنے لگا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھا ۔
”سر آپ اس بارے میں کیا جانتے ہیں ؟“ فائل انکے سامنے رکھ کر وہ خود سکون سے ٹیک لگا کر بولا جب ہمارا دل گناہوں سے بے داغ ہوتا ہے ناں تو ہم اِسی طرح بے فکر ہو جاتے ہیں جیسے فرحان اس وقت تھا اور اِسی طرح جب ہم کسی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں تو ہم اندر سے گھٹ بھی رہے ہوں ہم وہ گناہ کرنا نہیں چھوڑتے ویسے ہی جیسے اس وقت صدیقی ڈِھٹائی سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک مکروہ مسکراہٹ چہرے پر لئے اسکی طرف دیکھ کر بولا ۔
”برخوردار خود بھی جیو ہمیں بھی جینے دو “ صدیقی مسکرایا جیسے اسے ایک ٹکے کا فرق نہ پڑا ہو فرحان کو اسکی بات پر غصہ تو بہت آیا لیکن ضبط کر گیا ۔
”سر ہم یہاں عوام کی خدمت کے لئے بیٹھے ہیں جس کا اچھا خاصا معاوضہ ہر ماہ ہمیں مل رہا ہے یہاں جیو اور جینے دو کی کوئی پالیسی نہیں ہے ”وہ بڑے تحمل سے بولا لیکن اسکی بات نے گویا صدیقی کو آگ ہی تو لگا دی تھی ۔
”تم ہوتے کون ہو مجھے اخلاقیات کا سبق دینے والے، میں نے اپنی ساری زندگی عوام کی خدمت کی ہے اب تم جیسے لوگ آکر مجھے سمجھائیں گے کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں اور یہ کام اس ملک میں ہر دوسرا بندہ کرتا ہے کوئی قیامت نہیں آگئی اب جاؤ اور رپورٹ تیار کرو“غصے میں منہ سے جھاگ اڑاتے فائل اپنے سامنے سے اٹھا کر اپنی دراز میں رکھی فرحان اپنے کالر جھاڑتا کرسی سے اٹھا ۔
”سوری سر لیکن میرے ہوتے ہوئے یہاں یہ سب نہیں چلے گا “ کہہ کر وہ صدیقی کے دفتر سے نکل آیا یہ جانے بغیر کے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال کے آیا ہے ۔
اگلے کئی دن اسکا سامنا صدیقی سے نہیں ہوا کیونکہ صدیقی جان بوجھ کر اسے نظر انداز کر رہا تھا اور دوسری طرف فرحان اندر ہی اندر اپنی تفتیش کر رہا تھا جس کی بھنک صدیقی کو پڑ گئی اور اسکے ساتھ ملے ایک اوپر کے وزیر اور شاہویر مرزا کو بتا دیا ۔
”تم اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہو صدیقی “ سگریٹ کے کش لیتا ہوا آفاق بیگ لاپر واہی سے بولا آفاق ایک سیاست دان کا بیٹا تھا اس لئے اسکو ان چھوٹے موٹے لوگوں کی نہ پرواہ تھی نہ خوف لیکن صدیقی گھبرا جاتا تھا کیونکہ اسکی پوسٹ کا معاملہ تھا جانتا تھا آفاق نکل جائے گا اور شاہویر ایسے کھیلتا تھا کہ اسکا نام و نشان تک کہیں نہیں آتا تھا سارا پریشر صدیقی پر تھا اس لیے اسکا پریشان ہونا لازمی تھا ۔
”میری جان پر بنی ہے اور تم لوگوں کو کوئی فکر ہی نہیں یہ فرحان بے غیرت میرے پیچھے ہی پڑ گیا ہے “ صدیقی نے پریشانی سے اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کر کے کہا تو شاہویر ہنس دیا ۔
”تم ہنس رہے ہو یاد رکھو شاہویر میں ڈوبا تو تم لوگوں کو بھی ڈباؤں گا “ دھمکی آمیز لہجے میں کہہ کر اس نے غصے سے شاہویر کی طرف دیکھا ۔
”پریشان کیوں ہوتے ہیں صدیقی صاحب کر لیں گے کچھ اسکا جب ہم ہیں آپکے ساتھ تو فکر کی کیا بات “ شاہویر صوفے پر ٹیک لگاتے ہوئے آرام سے بولا جبکہ صدیقی سر جھٹک کر رہ گیا ۔
”پلان بتاؤ ورنہ دل کا دورہ پڑ جائے گا اسے “ آفاق نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا صدیقی نے سوالیہ نظروں سے شاہویر کو دیکھا ۔
”کرنا یہ ہے کہ کل سب سے پہلے آپ نے آفس جا کر فرحان کو کسی بہانے سے دفتر سے باہر بھیجنا ہے “ صدیقی غور سے سنتا گیا اور جیسے جیسے شاہویر کہتا گیا صدیقی کے چہرے کی رنگت بحال ہوتی گئی ۔
——————————-
فرحان گھر کی طرف جا رہا تھا جب اسکے کولیگ رمیز کی کال آئی اس نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے بلو ٹوتھ ڈیوائس سے کال ریسیو کی اور مصروف سا ہیلو کہا ۔
”فرحان تم کہاں ہو ؟“ وہ اتنی عجلت اور پریشانی میں بولا کہ فرحان کو گاڑی سائڈ پر کرنی پڑی ۔
”کیا ہوا ہے خیریت ؟“ اسے لگا شاید رمیز کو کوئی پریشانی لاحق ہے ۔
”فرحان جو ثبوت تم صدیقی کے خلاف ڈھونڈ رہے تھے وہ سب تمہارے خلاف تیار کئے ہیں اس نے تمہارے نام پر کر دیے ہیں ایف بی آر والے کب سے تمہارے آفس میں بیٹھے ہیں “ رمیز اسکا دوست تھا کہیں چھپ کے بیٹھا اس سے بات کر رہا تھا اور بہت عجلت میں بول رہا تھا ۔
”ایسا کیسے ہو سکتا ہے میں اس صدیقی کو چھوڑوں گا نہیں میں ابھی آفس آرہا ہوں ”اب وہ آفس کی طرف گاڑی موڑنے لگا جب رمیز نے اسے منع کیا ۔
”پاگل ہو گئے ہو یہاں پولیس بھی آئی ہے بتیس کروڑ کا غبن ڈالا ہے تمہارے سر “ یہ سن کر فرحان کا سر چکرانے لگا اور حد سے زیادہ پریشان ہو گیا کسی اور نے اپنے گناہوں کا بوجھ اس کے سر ڈال دیا تھا اس کا دل ڈوب رہا تھا اسکی ماں اسکا بھائی اسکی منگیتر اسکا یہ چھوٹا سا خاندان تو تباہ ہو جائے گا ۔
”میں بھاگ جاؤں تو سچ کون سامنے لائے گا میرے گھر والوں کا کیا ہوگا “ خوف اور پریشانی سے اسکے پسینے چھوٹنے لگے ۔
”ہوش سے کام لو جذبات سے نہیں تمہیں اندر کروا کر زندگی بھر جیل میں سڑوائیں گے انہوں نے تمہارا ٹرمینیشن لیٹر بھی نکلوایا ہے “ فرحان نے آنکھیں میچ لیں کیا کرے اوسان خطا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو گئی اس نے فون بند کر کے اسٹیرنگ وہیل پر سر ٹکا دیا اور گہری سانس بھری ہاں رمیز ٹھیک کہہ رہا تھا وہ اُسے زندگی بھر جیل سے باہر نہیں آنے دیں گے اس نے فون اٹھایا اپنے بھائی کو کال کی اسے کچھ باتیں سمجھائیں وہ آگے سے رونے لگا لیکن فرحان کے پاس اب وقت کہاں تھا اس نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ کھولا ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں اپنے ساتھ ہونے والا ظلم اور ظالموں کا راز فاش کرنے کی قسم کھا کر اپلوڈ کی پھر ایک آخری کال ملائی ۔
”ہیلو کوہیار“
تھوڑی دیر بعد گاڑی میں فون ایسے ہی رکھا ہوا تھا اور فرحان کہیں نہیں تھا ۔
دوپہر لنچ بریک میں غازیہ اپنا لنچ لے کر دی بونڈ کی طرف آگئی پانی کے اس طرف جہاں پرانے انگریزی طرز کی عمارتیں تھیں یہاں سیاحوں اور مقامی لوگوں کا مجمع سا لگا رہتا ہے آتے جاتے لوگ ہنستے بولتے کسی ریسٹورنٹ کے آؤٹ ڈور ایریا میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے غازیہ ایک اکیلے بینچ پر آکر بیٹھ گئی جہاں رش قدرے کم تھا ہوا سے اسکے بال اڑے جا رہے تھے ہوا ٹھنڈی یخ بستہ تھی اسکی ناک سردی سے سرخ ہو گئی تھی لیکن اس نے سردی کا انتظام کر رکھا تھا کالے رنگ کے پفر لانگ جیکٹ کے ساتھ کالے لانگ شوز اور گلے میں وہی ہرے رنگ کا سکارف اور ہاتھ میں مُستعتیل ڈائل کی سلور گھڑی جس کے ڈائل میں فرانس کے جھنڈے کے رنگ بھرے تھے کتنے ہی دنوں سے برف باری کا سلسلہ جاری تھا آج کہیں جا کر دھوپ نکلی تھی خود سے قدرے دور بیٹھے دو عمر رسیدہ آدمیوں کو دیکھ رہی تھی جو اپنے سامنے رکھے ایک بورڈ گیم جسے ماجونگ کہتے ہیں کھیل رہے تھے یہ لُڈّو کی طرح ہوتا ہےلیکن اسکے اصول الگ ہوتے ہیں وہ بے خیالی میں اُنکی طرف ہی دیکھ رہی تھی ان میں ہلکی سی بحث چھڑ گئی تو غازیہ سر جھٹک کر دوسری طرف دیکھنے لگی یہاں ہمیشہ ہی اسے سکون ملتا تھا بہتا پانی بھی اپنے اندر بہت کچھ سمائے خاموش تھا اسی طرح وہ بھی اپنے دل میں بہت کچھ سمائے خاموشی سے اس بہتے دریا کو دیکھنے لگی جب اسکی نظر اس پُل پر پڑی وہ آتش بازیاں اپنی پوری آب و تاب سے اسکے سامنے چمک اٹھیں ۔
”مائنڈ یور بیزنس ”دو غُصیلی کالی آنکھیں اسکی طرف گھور کر دیکھنے لگیں ۔
سماء ٹوٹا تو غازیہ پر غصہ حاوی ہونے لگا پھر اس نے گہری سانس لی ۔
”شاید وہ کوہیار عالم شاہ سے زندگی میں آخری ملاقات تھی “ پھر گہری سانس لے کر خود کو کمپوز کرنے لگی اسے ایسے کسی بھی انسان یا چیز کے بارے میں نہیں سوچنا تھا جو اسے اسکے مقصد سے ہٹا دے آج ہی اس نے کراکری کی شپمنٹ کوہیار کے انڈسٹریل سامان سمیت پاکستان شپ کر دیے تھے اور اسکی اطلاع عبداللہ بھائی کو دی ۔
اب اسے اس سامان کی آنلائن سیل کرنی تھی اسے لاکھوں نہیں کروڑوں کمانے تھے ایک بہت بڑی ایکسپورٹر اور بیزنس ویمن بننا تھا لیکن ابھی اسے میلوں کا سفر طے کرنا تھا جو مشکل تھا ایک لڑکی کے لیے تو اور بھی مشکل یہ دنیا لڑکیوں کے کسی منزل تک جاتے راستوں پر بہت کانٹے بچھا دیتے ہیں اسے یاد آیا چائنہ اسکالرشپ ملنے پر امی نے کتنی مخالفت کی تھی ۔
”میں نے کبھی اسے مارکیٹ تک اکیلے جانے نہیں دیا اور تم کہہ رہے ہو میں اسے چین بھیجوں “ امی نے عبداللہ بھائی کے سمجھانے پر کہا پھر یہ تو عبداللہ تھے کہ انہوں نے ماں کو سمجھایا اور نا چار انہیں مانتے ہی بنی ۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں گھری تھی کہ اسکا فون بجنے لگا سمیع کی کال تھی فون ریسیو کر کے کان سے لگایا تو وہاں سمیع نہیں وہاں ظاہرہ تھیں اور وہ مسلسل رو رہی تھیں۔
”تم ٹھیک تو ہو میری جان تمہارے بھائیوں نے مجھے خبر تک نہیں دی تم ٹھیک تو ہو “ وہ روئے جا رہِی تھیں غازیہ انکو پُر سکون کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ سن ہی نہیں رہِی تھیں ۔
”مجھے نہیں پتہ تم ابھی کے ابھی میرے پاس آجاؤ ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا غازیہ “ انکی آواز کھردری سی ہوگئی جیسے بہت زیادہ رونے سے گلا بیٹھ گیا ہو سمیع اور عبداللہ نے انہیں غازیہ کے اغوا کی بات نہیں بتائی تھی لیکن آج صبح جب سمیع عبداللہ کو شاہویر کے اس میں ملوث ہونے کی اطلاع دے رہا تھا تو انہوں نے گاڑیوں کے پاس کھڑے ان دونوں کی باتیں سن لی تھیں تب ہی بے چین ہو کر رونے لگی تھیں سمیع نے کال ملا کر دی بات کرتے کرتے اچانک گر پڑیں سمیع اور عبداللہ حواس باختہ ہو کر اُنکو سنبھالنے لگے یہ دیکھے بغیر کے وہاں غازیہ کی کیا حالت ہو گئی تھی ۔
————————————
ساحل پر سمندر کی لہریں سر ٹکرا کر واپس چلی جاتیں سورج کی روشنی سمندر پر پڑتی آنکھوں کو چوندھیا رہی تھی بگلے سمندر کے اوپر اڑے جا رہے تھے ساحل کنارے بنے ایک ماڈرن ہٹ کے سامنے ایک کالی ڈالے والی گاڑی کھڑی تھی دور دور تک کسی انسان کا نام و نشان نہیں تھا سوائے اس ہٹ کے اندر بیٹھے تین نفوس کے وہ دونوں اپنے سامنے بیٹھے اس انیس برس کے لڑکے کو دیکھ رہے تھے ۔
”لیکن تم نے وہ پیپر کیسے بدلا “ فرحان نے ولید سے پوچھا جب کہ کوہیار بھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
”صدیقی انکل اپنے بیٹے سے زیادہ مجھ پر ٹرسٹ کرتے ہیں انکی گاڑی میں کام کے بہانے بیٹھا اور پیپرز چینج کر دیے “ اس نے اپنے نوڈل کا بول جس میں سے بھاپ اڑ رہی تھی اپنے آگے رکھا اور اندر تک سانس کھینچی اسکے منہ میں پانی بھر آیا تو کانٹے سے نوڈل نکال کر کھانے لگا جب دیکھا وہ دونوں اُسے دیکھ رہے تھے پھر اس نے اپنا پیالا اٹھا کر انہیں پیش کش کی کوہیار سر جھٹک کر رہ گیا ۔
”کب بڑے ہو گے تم؟ ”فرحان نے جھنجلاہٹ سے کہا وہ کندھے اچکا کر رہ گیا اور نوڈل کا صفایا کر نے لگا ۔
”فرحان ہمیں کسی طرح وہ سامان یہاں تک پہنچانا ہے نہیں تو وہ بہت آسانی سے چھوٹ جائیں گے جو ہمارے لیے کافی نہیں “ کوہیار کام کی طرف آیا ۔
”لیکن ہم اتنے بڑے ٹرک اتنے سارے چیک پوسٹ سے کیسے گزار کر لائیں گے کل ملا کر پندرہ ٹرک ہیں اور ان پر آفاق بیگ اینڈ کمپنی لکھا ہوا ہے ”اور یہیں آکر انکی تمام عقل کام کرنا چھوڑ دیتی وہ کوئی چھوٹی موٹی چیز تو تھی نہیں تو پھر وہ یہاں تک لائیں گے کیسے ۔
”انہیں دوسرے ٹرک میں ٹرانسفر کر دیں“ ولید نے نوڈل کھاتے ہوئے انکی طرف دیکھا ۔
”ہمارے پاس اتنے ٹرک نہیں ہیں اور انہیں شک ہو جائیگا اور دوسری بات ہمارے پاس اتنے مزدور بھی ہونے چاہئے جو یہ بھاری سامان اُٹھائیں “ کوہیار کی سوچیں بے حساب تھیں یہاں جو جنگ چل رہی تھی وہ اب بہت دور تک آگئے تھے اب یہ صرف کوہیار اور شاہویر کی جنگ نہیں تھی اس میں اور بہت لوگ تھے جن کا خسارہ کر کے اپنا فائدہ بنایا گیا تھا وہ چلتے چلتے ہٹ کے دروازے کے سامنے آ کھڑا ہوا پھر جھٹکے سے مڑا ۔
“ ولید مجھے زاویار کے فارم ہاؤس کا روٹ دکھاؤ “ ولیدنے ایک نظر اسے دیکھا ایک نظر اپنے نوڈل کے پیالے کو پھر کمپیوٹر میں ہاتھ چلانے لگا اور دو منٹ میں زاویار کے فارم ہاؤس تک جاتے راستے کا روٹ نکالا اور کوہیار کو بلا کر دکھایا۔
”یہ نہیں جو روٹ پانی کی طرف سے جاتا ہے “ کوہیار نے سکرین دیکھتے ہوئے کہا وہ ایک کنٹریکٹر تھا اُسے کسی پہاڑ کی چوٹی پر بھی سامان پہنچانا ہوتا وہ راستہ نکل دیتا تھا ولید نے کچھ کلکس کے بعد روٹ دکھایا کوہیار کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری ۔
”پانی کے راستے ؟“ فرحان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ”لیکن کیسے ؟“۔
”ہے ایک طریقہ “ کوہیار نے فرحان کا کندھا تھپتھپایا ۔
—————————-
الویرہ اپنے کمرے میں کانوں میں ائیر پوڈز لگائے بیٹھی موبائل پر لگی تھی جب اسکے کمرے میں انیلہ داخل ہوئی اسکی الماری سے میلے کپڑے نکالنے لگیں ۔
”اوہو امی کتنی بار کہا ہے میرے کمرے میں دستک دے کر آیا کریں “ اس نے ایک کان سے ایئر پوڈ نکال کر کہا ۔
”میرے پاس اتنا ٹائم نہیں یہ چونچلے پورے کرنے کا کبھی اتنا ثواب کما لیا کرو ماں کا ہاتھ بٹالیا کرو“ اور ساتھ ہی بربرانے لگیں ۔
”یہ ثواب میں اگلے گھر جا کر کماؤں گی “ کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔
”کون سا اگلا گھر بی بی اپنی بے وقوفی سے فِی الحال تو وہ گھر اور وہ ہونے والا شوہر تو گنوا چکی ہو “ کپڑے اسکے بیڈ پر پھینک کر بولیں ۔
”ارے امی چِل کریں ٹینشن کیوں لے رہی ہیں میں سب ٹھیک کر دونگی“ وہ بڑے اعتماد سے پیر پر پیر پسار کر بولی جیسے یہ زندگی کا نہیں بچوں کا کوئی کھیل ہو کچھ لوگ رشتوں کے معاملے میں اتنے غیر حساس اور غیر ذمہ دار ہوتے ہیں کہ انہیں احساس تب ہوتا ہے جب وہ رشتے ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں ۔
”بےوقوف لڑکی جب وقت تھا سب ٹھیک کرنے کا تب تو تمہارے نخرے ختم نہیں ہوتے تھے “ انیلہ ہر وقت الویرہ کی پریشانی میں گھل رہی تھیں ۔
”تو یہ سب آپ کو مجھے اس وقت سمجھانا تھا ناں اس وقت آپ نے میرا ساتھ کیوں دیا بتا دینا تھا کہ شاہویر نہیں کوہیار ایک بہتر انسان ہے“وہ صدا کی جذباتی اب بھی جذباتی ہونے لگی اسکی آواز کانپنے لگی ۔
”کتنا سمجھایا تھا تمہیں الویرہ لیکن تم اپنی ضد پر اڑی رہی “ انیلہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں ۔
”تو میرے منہ پر دو تھپڑ مارنے تھے ناں جیسے ہر ماں کرتی ہے ”۔
”میں مارتی تمہیں تو تم نے اپنے باپ سے کہہ کر مجھے گھر سے ہی نکلوا دینا تھا یہ تو تم خود بھی جانتی ہو “ انیلہ بھی تپ کر بولی اپنی بیٹی کو وہ خود بھی اچھی طرح جانتی تھیں باپ کے بے جا لاڈ نے اُسے بہت ہی خود سر کر دیا تھا اُنکی بات سن کر الویرہ تھوڑی دیر چپ رہی پھر سر جھٹک کر بیڈ پر بیٹھ گئی ۔
”اب فکر مت کریں میں سنبھال لوں گی کوہیار کو ٹریک پر لانا میرا کام ہے ”وہ پھر سے پُر سکون ہو گئی تھی انیلہ گہری سانس بھر کر واپس کپڑے اٹھا کر نکلیں دروازہ کھولا تو اُنکو کرنٹ سا لگا ۔
”زا، زارون بیٹا ہم تو بس “ انیلہ کی سانس اٹک کر رہ گئی پتہ نہیں وہ کب سے یہاں کھڑا سن رہا تھا اس کی آنکھیں لال انگارا ہوئی تھیں الویرہ کا بھی سکون غارت ہوا وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی
(جاری ہے)
