قسط نمبر 6
”بچہ؟ یہ بچہ ہے عمر دیکھو اسکی کوہیار جتنا ہے اسکو دیکھو کتنا بڑا بزنس سیٹ اپ ہے اسکا کبھی کسی آفس میں ہے کبھی کسی آفس میں ہمیشہ کام کی بات کرتا ہے اور ایک تو یہ ہے ہی نالائق خود کسی کام کا نہیں دوسرا تم نے اسکا اور بھی زیادہ منہ کالا کیا ہوا ہے ” مشتاق ٹیبل پر غصے سے ہاتھ مار کر بولے جب کہ شاہویر غصے سے انہیں گھورے جا رہا تھا ۔
”بس بھی کیجیے کر لے گا جب سر پہ پڑے گی کیوں اپنا بی پی ہائی کر رہے ہیں“ رضوانہ شوہر کا غصہ ٹھنڈا کرتے ہوئے بولیں۔
”رضوانہ تم نہیں جانتی میں کتنا پریشان ہوں اس کی حرکتوں سے بتایا نہیں اس نے تمہیں دو دن پہلے حوالات سے نکال لایا ہوں اسے یہ تو شکر آئی جی میرا اچھا دوست ہے ورنہ جیل میں چکّی پیستا ” انکی آواز میں اب نمایاں بے بسی اور پریشانی جھلک رہی تھی رضوانہ بھی یہ سن کر دہل کر اسے دیکھنے لگیں جبکہ شاہویر غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے مار کر بند ہو گیا ۔
———————————-
پیپلز اسکوائر کے پُر رونق علاقے میں یو ژائن ژائی مسلم ریسٹورنٹ میں غازیہ اپنا لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی کوئی اسائنمنٹ پورا کر رہی تھی کہتے ہیں ناں کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے اب غازیہ کی بھی وہی مثال ہے ہر وقت بیٹھی کوئی نہ کوئی کام کر رہی ہوتی تھی فارغ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے اسے اب الجھن ہوتی تھی یقیناً یہ چینی قوم کا اَثر تھا اُس پر جبکہ کوہیار کرسی کی پشت پر ٹیک لگائے آنکھیں موندھے بیٹھا تھا شاید تھکن کی وجہ سے نیند میں تھا ریسٹورنٹ میں معمول کا رش تھا جس جگہ وہ بیٹھے تھے وہاں ایک بڑی پینٹنگ لگی تھی پرانے زمانے کے منگولوں کی گھوڑوں پر بیٹھے کھلاڑی ایک بھیڑ کو ہر کوئی اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہا ہو جیسے اور مسلم ریسٹورنٹ کی ایک نشانی یہ تھی کہ میل ویٹرز ٹوپی جبکہ فیمیل اسٹاف حجاب پہنتے تھے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ ایک حلال ریسٹورنٹ ہے ویٹر انکے سامنے کھانا سرو کرنے لگا بیف نوڈلز ،ڈمپلنگز گریلڈ چکن کے ساتھ مُختلِف ساسز سرو کیے تھے غازیہ نے لیپ ٹاپ بند کر کے رکھا اور اسے دیکھنے لگی کہ شاید خود اٹھ جائے لیکن وہ شاید گہری نیند میں تھا۔
اسکا نام پکارنے لگی تھی پتہ نہیں کیوں ایک جھجک سی محسوس ہوئی لیکن پھر آہستہ آواز میں پکارا ۔
”کوہیار ” اسکے کہتے ہی کوہیار نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں غازیہ نے کھانے کی طرف اشارہ کیا تو وہ پہلے ڈش دیکھنے لگا پھر کھانا شروع کیا وہ بہت رغبت سے کھا رہا تھا غازیہ نے سوچا کہ اتنی لمبی فلائٹ کے بعد بھی اسکا دل کھانے کو کیسے کر رہا ہے ایک عجیب سا غصہ آرہا تھا کوہیار پر شاید اس دن شاہویر کی وجہ سے یا پھر کچھ اور وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی ۔
”تمہارا روزہ ہے ؟“ کوہیار نے گرلڈ چکن کاٹتے ہوئے پوچھا غازیہ نے نہ میں سر ہلایا ۔
”تو کھاؤ تم بھی ” کچھ زیادہ ہی لاپرواہی سے کہا غازیہ نے چاپ اسٹکس پکڑ کر نوڈل کھانا شروع کیا لیکن کوہیار اپنے کانٹے میں اتنے زیادہ نوڈل پھنسا کے کھا گیا کہ آدھا بول ہی خالی ہوگیا غازیہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کوہیار کو دیکھنے لگی دکھنے میں تو کتنا مہذب لگتا ہے بھُکّڑ کہیں کا اب وہ ڈمپلنگ اٹھا کر کھانے لگا غازیہ نے بھی بھنویں بھینچ کر ڈمپلنگ اٹھانا شروع کیا تو کیا دیکھتی ہے اس نے وہ بھی تیز تیز کھانے شروع کر دیے غازیہ نے بھی تیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے تیز تیز کھانا شروع کیا آخری ڈمپلنگ بچا دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جیسے ٹرافی کے لئے دو رائولز لڑ رہے ہوں غازیہ نے چاپ اسٹکس سے تیزی سے اٹھانے کی کوشش کی لیکن کوہیار نے اچک کر اپنے منہ میں ڈال دیا اور ہاتھ ٹشو سے پونچھتے ہوئے فاتحانہ نظروں سے غازیہ کو دیکھنے لگا غازیہ کے چاپ اسٹکس ٹیبل پر ہی گر گئے اسکا منہ کھلا رہ گیا تب ہی ویٹر بل لے کر آگیا ۔
”بل دو ناں میں تو مہمان ہوں ” کھانے کے ساتھ سرو کی گئی پیشن فروٹ ٹی پیتے ہوئے معصومیت سے بولا جبکہ غازیہ کے تو سر سے لگی تلووں پہ بھجی موبائل نکال کر سکین کر کے پیمنٹ کی اور کھا جانے والی نظروں سے کوہیار کو دیکھنے لگی جبکہ وہ مزے سے نیلے پھولوں والی چینی پیالی میں چائے پیئے جا رہا تھا غازیہ کی نظروں میں جو کوہیار کا امیج تھا وہ تو اب نہیں رہا ۔پھر وہاں سے نکل کر اُسے اسکے ہوٹل چھوڑنے گئی جب گاڑی سے نکلنے لگا تو بولا ۔
”کل تھوڑا جلدی آنا مجھے بہت کام ہیں ”بول ایسے رہا تھا جیسے وہ اسکی ٹریول گائیڈ لگی ہو ۔
”جی ضرور آتی لیکن کل یونی میں میری پریزنٹیشن ہے ” اپنا غصہ پی کر ذرا جتا کر بولی۔
”میں انتظار کر لونگا ”کہہ کر اتر گیا اور گاڑی کا دروازہ بند کر دیا۔
”ٹور گائیڈ سمجھ رکھا ہے ہونہہ ”وہ کہہ کر گاڑی زن سے آگے بڑھا لے گئی ۔
————————————
زاویار اپنی اسٹڈی کم آفس میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر ہاتھ چلا رہا تھا جب دستک دے کر اسکا پی ایس داخل ہوا کچھ ڈاکومنٹس سائن کروا کر اسکی طرف مسکرا کر دیکھنے لگا وہ جو عینک لگا کر دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف مصروف ہو گیا تھا۔
”جو بات ہے بول دو دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ” وہ مٹھی ہونٹوں پر رکھے بہت نرم لہجے میں بولا تو پی ایس کی مسکراہٹ غائب ہوگی اور وہ سیدھا کھڑا ہو گیا دن میں دو چار بے عزتیاں تو اسکی لازمی تھیں جیسے کوئی مریض صبح دوپہر شام کی دوائی لے ۔
”سر خبر ہی ایسی ہے آپ بھی سنیں گے تو ایسے ہی مسکرائیں گے ” مکّارانا لہجہ جواب میں وہ کچھ نہیں بولا بس انتظار کرنے لگا کہ اب منہ سے کچھ بولے ۔
”سر ایک اڑتی خبر ہے کہ کوہیار عالم شاہ کے نام پر پچاس کروڑ کا ٹینڈر نکلا ہے لیکن جو سامان منگوایا گیا تھا وہ تو تھا ہی نہیں اسکی جگہ پرانا کباڑ بھیجا گیا تھا ” بس اس نے کہہ دیا لیکن زاویار نے مڑ کر پی ایس کو دیکھا حیرت یا بے یقینی پھر کندھے اچکا کر بولا ۔
”ہر عروج کا زوال ہے بٹ آئی ہوپ یہ کوہیار نے نہیں کیا ” پی ایس اسکے ردّعمل سے بہت مایوس ہوا اور فائل اٹھا کر باہر نکلا ۔
اسکے جاتے ہی زاویار کے ہونٹوں پر ایک کمینی سی مسکراہٹ چمکی۔
”کوہیار اس بار تو بڑی گہری چوٹ لگنے والی ہے ” رقابت کا مزہ تب تک نہیں آتا جب تک سامنے والے کو کاری ضرب نہ لگے ۔
——————————-
آٹھ بجے ہی یونیورسٹی پہنچ کر اپنا پریزنٹیشن دینے کے بعد وہ کوہیار کو لینے اسکے ہوٹل تک گئی وہ گاڑی میں بیٹھی انتظار کر رہی تھی ڈارک براؤن کھلے پینٹ اور سویٹر کے اوپر لائٹ براؤن اوور کوٹ پہنے بالوں کو آدھے سر تک بیچ سے مانگ نکال کر پونی میں باندھا ہوا تھا اور کافی کلر کا سکارف گلے کے گرد لپیٹے ہوئے تھی پورے دس منٹ بعد وہ ہوٹل سے نکلا اور غازیہ کو تو ایک منٹ انتظار بھی گوارا نہیں یہ تو عبداللہ بھائی کی خاطر اسکے نخرے برداشت کر رہی تھی جب وہ نکلا تو بلیک شرٹ اور کریم کلر پینٹ کے ساتھ ایک گرے کلر کا پفر جیکٹ پہنا ہوا تھا ۔
”اتنا تیار ہوگا تو لیٹ تو ہونا ہے” اس نے دل میں سوچا وہ آکر گاڑی میں بیٹھا اسکے پرفیوم سے پوری گاڑی مہک گئی ۔
”میں آپکا ایک گھنٹے سے ویٹ کر رہی ہوں ” غازیہ کو دس منٹ ایک گھنٹہ بنانے میں شاید ایک سیکنڈ لگا کوہیار نے اچنبھے سے اسے دیکھا ۔
”ہمم! اصل میں ایک کپل کی بڑی گرما گرم بحث ہورہی تھی وہی کھڑا ہو کر سن رہا تھا شوہر کو بیوی سے شکایت تھی کہ جی آپ ہمیشہ لیٹ کر دیتیں ہیں تو بیوی کا دماغ گرم ہو گیا اور شروع ہوگئی لڑنے ” وہ بڑی تفصیل سے بولا تو غازیہ آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھ رہے تھی ۔
”تو آپ نے مجھے اس لئے ویٹ کروایا ” وہ بے یقینی سے بولی۔
”نہیں اصل میں میں اس کنکلوژن تک پہنچا کہ خواتین کو کبھی یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ وہ لیٹ کرتی ہیں بلکہ انکو احساس دلانا چاہئے وہ بہت ٹائم کی پابند ہیں اب جیسے میں صبح نو بجے سے آپکا ویٹ کر رہا ہوں لیکن میں نے آپکو فیل نہیں ہونے دیا کہ آپ لیٹ ہیں بلکہ میں خود ہی لیٹ ہوں ” وہ ہاتھ نچا کر بولا تو غازیہ منہ کھولے حیرت زدہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
”واؤ امیزنگ کیا لاجک ہے ” گاڑی سٹارٹ کر کے بولی سمجھ نہیں آیا کہ اسکی بات پر ہنسے یا اس سے جھگڑے کہ وہ بھی تو آٹھ بجے سے نکلی ہے ۔
اِس دن انہوں نے تین مینوفیکچرر کمپنیز کو وزٹ کیا لیکن کوہیار نے ان تینوں کو ریجیکٹ کردیا غازیہ کو جھنجھلاہٹ تو ہوئی لیکن کہا کچھ نہیں کیوں کہ وہ اپنے کلائنٹ کو فورس نہیں کر سکتی تھی صبح ناشتے کے بعد دونوں نے کچھ نہیں کھایا تھا حالانکہ ہر کمپنی میں وزٹ کے دوران انکو لنچ بھی آفر کیا جاتا لیکن چائنہ میں باہر کھانے کا کوئی بھروسہ نہیں کیوں کہ وہ زیادہ تر حرام ہوتے ہیں غازیہ کو بہت نیند آ رہی تھی کیوں کہ اپنی جمائیاں روک رہی تھی سردی شدت پکڑ چکی تھی لیکن گاڑی میں ہیٹر چل رہا تھا آس پاس حلال کھانے کی جگہ ڈھونڈی تو شکر ایک چھوٹا سا کیفے ملا کوہیار نے برگر آرڈر کروائے کیفے ایک بنگلادیشی ماں اور بیٹے کا تھا لڑکا کوئی اٹھارہ انیس برس کا تھا ۔لڑکے نے انہیں برگر سرو کیے تب ہی غازیہ نے کافی کا آرڈر دیا کیونکہ اسکی آنکھیں نیند سے بند ہو رہی تھیں ایک تو تھکن دوسرا کیفے کا گرم ماحول اسکا دل کیا ادھر ہی بستر بچھا کر سو جائے ۔
دونوں اپنے اپنے برگر کے ساتھ انصاف کرنے لگے غازیہ ساتھ ساتھ ان ماں بیٹے کی حرکتیں نوٹ کرنے لگی ۔
”بیچارہ اپنی ماں کا واحد سہارا ہے ” غازیہ نے بڑے افسوس سے اس لڑکے اور اسکی ماں کی طرف دیکھا ۔
”تمہیں کیسے پتہ؟ ” کوہیار اپنے کولڈ ڈرنک کا سِپ لیتے ہوئے اب غور سے ماں بیٹے کو دیکھنے لگا ۔
”وہ دیکھو اس تصویر میں انکے ساتھ لڑکے کا باپ بھی ہے لیکن یہ تصویر بہت پرانی ہے بچہ بہت چھوٹا ہے ”غازیہ اندازہ لگاتے ہوئے بولی جب کہ کوہیار سر ہلاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
”اتنی گہرائی سے دوسروں کی لائف کیوں دیکھ رہی ہو ہمیں اپنی زندگی سے اتنی فرصت نہیں ہونی چاہئے کہ ہم دوسروں کی لائف میں کیا ہو رہا ہے اسکے بارے میں سٹریس لیں ” اس کے کہنے پر غازیہ منہ چڑھا کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی باہر شام کے اندھیرے پھیل رہے تھے ہر کوئی اپنے گھروں کا رخ کر رہے تھے چینی بڑی محنت کش قوم ہیں وہ کبھی محنت سے نہیں گھبراتے اپنا کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑتے اور ان میں بلا کا اتفاق ہے اور یہی چیز یقیناً انکی کامیابی کا راز ہے غازیہ دیکھ رہی تھی ہر کوئی بہت خاموشی سے اپنے رستے جا رہا تھا بلاوجہ کا شور شرابا نہیں تب ہی وہ لڑکا انکی کافی لے آیا کافی پی کر ذرا تازہ دم ہوئی اور نیند بھی آنکھوں سے ذرا اڑ گئی ۔
”تم کیا کہہ رہی تھیں کہ لڑکا اپنی ماں کا آخری سہارا ہے ” اپنی کافی کا کپ خالی کر کے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا ۔
”ہاں ” زور و شور سے سر ہلایا گیا ۔
”تمہیں اسکے لئے اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اسکا ایک بڑا سہارا بھی آگیا ” کوہیار نے کچن سے نکلتے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا غازیہ نے پیچھے دیکھا تو تصویر والا آدمی کھڑا تھا جسے تھوڑی دیر پہلے غازیہ مرا ہوا سمجھ کر اسکی فیملی کے لیے افسوس کر رہی تھی زبان دانتوں تلے دبا کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اس گدھے کو کوہیار کے سامنے ہی آنا تھا اُف شرمندگی سی شرمندگی۔
”یہ بھوت ہے ” اس نے اتنے کونفیڈینس سے کہا کہ کوہیار کا قہقہہ چھوٹ گیا ۔
”بل تم دو گے اب تمہاری مہمانی ختم ” غازیہ کو بِلاوجہ اس پر غصہ آیا ۔
”ضرور کیوں نہیں بچے کے والد کے زندہ ہونے کی خوشی میں میری طرف سے ٹریٹ ” کہہ کر اپنا فون نکال کر بِل پے کیا غازیہ اٹھ کر کیفے سے باہر جانے لگی کوہیار بھی اسکے پیچھے تھا جب غازیہ نے اپنا شولڈر بیگ ایک کاندھے سے دوسرے کندھے میں ایک جھٹکے سے ڈالا اور وہیں دیوار پر لگی ایک چھوٹی سی شیلف میں کچھ ڈیکوریشن پیسز رکھے تھے بیگ کے لگتے ہی وہ دھڑام سے نیچے آ گرا اور ساری چیزیں چکنا چور ہو گئیں غازیہ کو تو سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہوا وہ بس پھٹی آنکھوں اور کُھلے منہ سے ٹوٹی چیزوں کا ڈھیر دیکھ رہی تھی لیکن کوہیار نے اسکے بیگ کا ہینڈل پکڑا اور دروازے سے باہرکھینچتا ہوا لے گیا ۔
”بھاگو ” بس اتنا کہا اور غازیہ بھی بنا سوچے سمجھے باہر کو لپکی۔
”اے سٹاپ ”پیچھے آدمی چیخنے لگا لیکن تب تک غازیہ بھی ہوش سنبھال کر کوہیار کے پیچھے بھاگتے ہوئے پارکنگ تک آئی گاڑی میں بیٹھ کر تیزی سے گاڑی نکال کر لے گئے آدمی اُنکے پیچھے چلاتا رہ گیا ۔
”اُف اللّٰہ بچ گئے آج تو ” غازیہ بیک ویو میرر سے پیچھے دیکھتے ہوئے بولی جب کہ کوہیار اس پر ہنسنے لگا غازیہ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور یہ پہلی بار تھا جب اس نے کوہیار کو ہنستے دیکھا تھا۔
”بس بھی کر دو اتنی بھی کوئی بڑی بات نہیں تھی ” غازیہ اسے غصے سے دیکھ کر بولی لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑا وہ ہنسے جا رہا تھا ۔
”جس بندے کو تم نے مردہ ڈکلیئر کر دیا وہی تمہارے پیچھے بھاگ رہا تھا ” ہنستے ہوئے بولا اور غازیہ سر جھٹک کر باہر ونڈ سکرین کے پار دیکھنے لگی ۔
”ویسے تم بہت جلدی جج کرتی ہو ”کوہیار نے ہنسی روک کر کہا ۔
”میں کب جلدی جج کرتی ہوں ؟“۔
”جیسے آج کیا جیسے اس دن شاہویر کے ساتھ دیکھ کر مجھے جج کیا کہ میں اسکے ساتھ مل کر تمہارا راستہ روک رہا تھا ” وہ اب شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے بولا کیوں کہ شاید یہی کلیئر کرنے تو وہ یہاں تک آیا تھا کوہیار کو فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ اسکے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں لیکن غازیہ لوگوں سے الگ تھی ۔
”تو کیا تم اسکے ساتھ نہیں تھے ؟“ غازیہ کو یاد آیا تو اسکا دماغ گرم ہونے لگا ۔
”نہیں میں اسکےساتھ نہیں تھا میں اسے تمہارے پاس آنے سے روک رہا تھا نہ میں اسکے ساتھ تھا نہ ہی کبھی ہوں گا یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا ” وہ دو ٹوک الفاظ میں بہت سنجیدگی سے بولا اور کوہیار بات اس انداز سے کرتا تھا کہ آگے کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اسکے لہجے کا یقین اسکی شخصیت کا خاصہ تھی اور یقیناً غازیہ پر بھی وہی اَثر ہوا تھوڑی دیر گاڑی میں خاموشی چھائی رہی کیوں کہ وہ سوچ میں پڑ گئی اور اس دن ہوئے واقعے کو اپنے دماغ میں دوبارہ دہرانے لگی ۔
”اِسکا مطلب میں نے تمہیں غلط سمجھا تو تم نے اُس وقت کیوں نہیں کہا ” غازیہ نے اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھے پوچھا اب وہ بھی زیادہ بال کی کھال اتارنے والی نہیں تھی ۔
”تم اُس وقت اتنے غصے میں تھی کہ اگر میں کچھ کہہ دیتا تو تم اور بھی غلط سمجھتیں ” ۔کوہیار نے برستی بارش میں شیشے سے باہر ایک بہت بڑی تھری ڈی سکرین کو دیکھا جو ایک چوک پر لگی تھی جس میں ایک ماڈل اپنی ہتھیلیوں سے گلاب کی پتیاں پھونک مار کے گراتی ہے تو ایسا احساس ہوا کہ وہ پتیاں اُنکی گاڑی پر آکر گریں ۔
”اس نے بہت غلط کیا میں مانتا ہوں اور مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ وہ ایسا کچھ کرنے ولا ہے تو میں اسے روک لیتا لیکن اسے تم تک آنے نہ دیتا ” کوہیار کو بہت افسوس تھا اسکی حرکت کا اس نے کتنا اس بارے میں سوچا اور غازیہ کو کوہیار کو اسکے ساتھ ملا ہوا سمجھنا یہ اور بھی تکلیف دَہ تھا اسکے کے لیے ۔
غازیہ کواحساس ہوا کہ اس نے کوہیار کو بِلاوجہ غلط سمجھا ہے اور تلافی کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی تب ہی وہ بول پڑا۔
”ویسے تم اس آدمی کے ڈر سے بہت تیز بھاگ رہی تھیں ” کہہ کر وہ پھر ہنسنے لگا اب کے غازیہ بھی ہنسنے لگی اور اِسی بات پر ہنستے مذاق اڑاتے کوہیار کا ہوٹل آ پہنچا ۔
”کل ہم شینجن جائیں گے دو چار دن وہاں لگیں گے صبح ۸ بجے کی فلائٹ ہے تو ذرا ٹائم پر تیار ہونا ہے اور وہاں سردی بھی زیادہ پڑے گی شاید برف باری ہو اس لیے اسکا انتظام بھی کرنا ” کوہیار گاڑی سے اترنے لگا تو اس نے کہا ۔
”اوکے ان شاء اللہ ” کہہ کر وہ ہوٹل کے اندر آگیا لفٹ میں داخل ہوا تو لفٹ کے تین طرف شیشے لگے تھے اپنا عکس دیکھا تو پہچان نہیں پایا اس کے چہرے پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ تھی ویسے تو ہر وقت اسکے آبرو تنے ہوتے تھے اور پچھلے دو دنوں میں اس نے جتنی باتیں کی ہیں جتنا وہ ہنسا ہے شاید زندگی میں اتنا نہیں ہنسا اُسکی شخصیت ایسی تھی کہ وہ بہت کم گھلتا ملتا تھا لیکن اب کیا ہوا ؟ کیوں اسکا دل غازیہ کے سامنے ایسے کُھلنا چاہتا تھا جیسے وہ اپنے ساتھ ہوتا تھا کیوں وہ چاہتا تھا کہ اس سے اپنے سارے گزرے قصے بیان کرے اپنے دل کی بات کرے ۔
دل کی بات ؟۔
مسکراہٹ گہری ہوئی دل کھِلنے لگا ۔
لیکن یکا یک شیشے میں کوہیار کے پیچھے الویرہ آکر کھڑی ہوئی مسکراہٹ ایک دم غائب اور الویرہ کا عکس ہوا میں تحلیل ہو گیا اور مہرالنساء کا عکس شیشے میں نمایاں ہوا اسکی آنکھوں میں آنسو تھے کوہیار کے دل پر پہاڑ سا گر پڑا وہ کیوں بھول گیا تھا اپنی حقیقت خود سے جڑے رشتوں کی حقیقت شیشے پر اپنا ماتھا رکھ کر ہتھیلی شیشے پر رکھ دی۔
کوئی اور آکر چھو لے اس دل کو ۔
یہ دل نہیں مانتا ۔
اب تو ہم روحوں کی زباں سمجھتے ہیں ۔
———————————
شینجن چائنہ کا پاور حب ٹیک حب ایک سائبر پنک سٹی کہلاتا ہے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ شینجن ہی چائنہ کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے جسے سلیکون ویلی بھی کہا جاتا ہے اور زیادہ تر تاجر شینجن ہی آتے ہیں شاید ابھی آپ کے پاس یقیناً کوئی ایسی چیز ہو جو شینجن میں بنی ہو جیسے موبائل کا کور جیسے ایئر پوڈز یا آپکا چارجر ۔شینجن میں ڈرون پولیس ڈرون فوڈ ڈلیوری روبوٹک ویٹرز اور بھی بہت کچھ جہاں زندگی کے بہت شعبوں میں روبوٹ انسانوں کا کام آسان اور سستے میں کر رہے ہیں ۔
دو گھنٹے کی فلائٹ کے بعد وہ دونوں شینجن پہنچے اور یہاں سے ایک ٹیکسی کر کے وہ ایک ہوٹل میں ٹہرے ہوٹل کا خرچہ کوہیار کا تھا کیوں کہ پراجیکٹ بھی اسی کا تھا کوہیار کا کمرہ دسویں مالے پر تھا جبکہ غازیہ کا سولہویں مالے پر بکنگ ساری غازیہ نے پہلے ہی کروا لی تھی وہ دونوں اپنے رومز میں تھے کوہیار نے جب روم دیکھا تو بس اچھا تھا زیادہ بڑا نہیں تھا مناسب سا باتھروم فریج اور چائے کافی کا سامان ضرورت کا ہر سامان اچھا روم تھا خیر اپنا بیگ کھولنے بیٹھا تو بیگ کے اوپر ایک پاؤچ رکھا تھا کھول کر دیکھا تو اس میں میک اپ کا سامان پڑا تھا روم سروس غازیہ کا پاؤچ اسکے روم لے آئے تھے وہ لوٹانے لابی تک گیا وہاں ریسیپشن کاؤنٹر پر چائنیز لڑکی بیٹھی تھی ۔
”ہاؤ مے آئی ہیلپ یو سر ” فورن تاجروں اور سیاحوں کی وجہ سے کئی جگہوں پر آسانی سے انگریزی بولی اور سمجھی جاتی تھی۔
”میرے ساتھ جو لڑکی آئی تھی کیا آپ اسے یہ پہنچا سکتی ہیں ؟“ پاؤچ دکھاتے ہوئے بولا۔
”ضرور سر روم نمبر بتائیے ” لڑکی نے کوہیار سے پوچھ کر ایک کانسرج کو بلایا ۔
”یہ ڈیلکس روم سکسٹین او سکس میں پہنچا دو ” لڑکی نے جب ڈیلکس روم کہا تو کوہیار نے لڑکی سے پوچھا۔
”کیا ڈیلکس روم آپ کا یہی ہے جو میرا ہے ” کوہیار نے سوچا کیسا ہوٹل ہے اویریج کو ڈیلکس کہہ رہے ہیں۔
”نہیں سر سیکنڈ فلور سے لے کر فوٹینتھ فلور تک سب نارمل رومز ہیں جن کی پرائس کم ہے اور ففٹینٹھ فلور سے ٹوئنٹیتھ فلور تک ڈیلکس رومز ہیں جو وی آئی پی ہیں اور انکی پرائس رینج بھی ایک سو پچاس ڈالر سے شروع ہوتی ہے ” لڑکی نے کہہ تو دیا لیکن کوہیار کا دماغ بھک سے اڑھ گیا اتنا بڑا دھوکہ دل ہی دل غازیہ کی چالاکی کو داد دی تو بھائی ہے یہ اصلی والی بزنس ویمن پھر اپنے آپ ہی ہنستا ہوا اپنے روم تک چلا گیا اور پیچھے ریسیپشن والی لڑکی دیکھتی رہ گئی شاید بیچارے کا دماغ ہل گیا ہو ۔
——————————-
آنکھوں کے گرد کالے حلقے اور چہرہ بے رونق اپنے جوس کے گلاس میں سٹرا گھماتی الویرہ کسی گہری سوچ میں گم تھی جب سیماب نے اُسے جھجوڑا ۔
”کن سوچوں میں گم ہو الویرہ اور یہ کیا حال بنا رکھا ہے اپنا اپنی سکن کا خیال نہیں رکھ رہی تم آجکل ” اسکی بڑی بہن سیماب اسکے ساتھ شاپنگ پر آئی تھی اسے ٹوک کر بولی ۔
”دل نہیں کر رہا آپی ”وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولی اس پر قنوطیت طاری تھی ۔
”الویرہ کیوں اپنے ساتھ ظلم کر رہی ہو چھوڑ دو وہ سب وہ اس قابل نہیں ہے میں نے تو پہلے ہی کہا تھا ” وہ اسکا بازو سہلاتے ہوئے پیار سے بولی وہ اسکی بہن اسکی رازدار تھی کہنے کو بڑی اور سمجھدار تھی لیکن ہر معاملے میں اسکا ساتھ دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط روش پر چل رہی ہے اس راہ میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں اگر وہ اسے بر وقت روک لیتی تو آج اسکا یہ حال نہ ہوتا ۔
”پلیز آپی ” وہ بیزاری سے بولی۔
”نہیں الویرہ میں چپ کر جاتی اگر تمہارا یہ حال نہ ہوتا تم خوش قسمت ہو جو کوہیار جیسا شوہر مل رہا ہے یہ دیکھو آجکل چائنہ میں ہے ” سیماب نے اپنے فون میں اُسکے انسٹاگرام سے ایک تصویر نکال کر دکھائی الویرہ نے سرسری سا دیکھا بلیک شرٹ اور پینٹ میں گرین جیکٹ پہنے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا لیکن ہینڈسم تو وہ ہمیشہ لگتا ہے اس تصویر میں نیا کیا ہے ؟ مسکراہٹ، ایک بہت ہی آسودہ سی مسکراہٹ الویرہ نے جلدی سے نظریں ہٹا لیں جس شخص سے اتنے سال نفرت کی ایک پل میں ہی تو محبت نہیں جاگ سکتی ناں ۔
گھر آکر الویرہ نے دوبارہ کال ملائی اور الویرہ بھی ڈھیٹ بن کر تب تک کال ملاتی رہی جب تک دوسری طرف سے کال اٹھائی نہیں گئی ۔
”آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے کیوں مجھے بار بار فون کر کے تنگ کر رہی ہو ” دوسری طرف سے گرج کر بولا گیا ۔
” تمہیں ہو کیا گیا ہے تم کیوں ایسا کر رہے ہو کیا تمہیں اب مجھ سے محبت نہیں رہی ” الویرہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔
”مجھے تم سے کبھی محبت تھی ہی نہیں میں نے بس کوہیار سے بدلہ لینا تھا اسکو تباہ کرنا تھا کہیں کا نہیں چھوڑنا تھا اور میں اسکے ساتھ اور کیا کیا کرتا ہوں یہ تو اب تم دیکھنا میں اسے زندہ درگور کر دوں گا یو جسٹ ویٹ اینڈ واچ ” غصے سے اسکی سانس پھولنے لگی ۔
”کیا تم ” صدمے سے اُسکی آواز حلق میں پھنس گئی ایسا لگ رہا تھا چھت اسکے سر پر گر پڑی ہو ۔
”ہاں آئی یوزڈ یو ایز اے بیٹ اور اگر تم نے منہ کھولنے کی غلطی کی تو مت بھولنا تمہارے بہت سےراز میرے پاس ہیں ” سرد لہجے میں اسکا کلیجہ چھلنی کرتے اس نے فون بند کر دیا اور الویرہ پھٹی آنکھوں سے فون کو دیکھتی رہ گئی اور زمین پر بیٹھتی چلی گئی دل تھام کر اب اسکی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت گرنے لگے وہ سسکنے لگی وہ کس راہ چلنے لگی تھی کتنی محبت کتنے خواب ایک ساتھ زندگی گزارنے کے دیکھے تھے اتنا بڑا دھوکا ہوا اسکے ساتھ وہ کانٹوں کے راستے چلی تھی تو پیروں پر زخم تو ہونے ہی تھے خون رسنا تھا اب اس نے بیٹھ کر ان زخموں سے رستے لہو کو چھپانا تھا ۔
