آخری قسط
”کنٹینرز کے اوپر چڑھو “ کوہیار انہیں جھنجھوڑ کر ایک جست لگا کر کنٹینر کی سیڑھی پھلانگنے لگا فرحان اور سمیع بھی اسکی تقلید میں تھے جب سمیع کا پیر رپٹا اور وہ زمین پر گر گیا کتے سیدھا سمیع کی طرف بڑھنے لگے سمیع کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی کتے بھونکتے سیدھا سمیع کی طرف بڑھے تب ہی ایک ہلکی سی“ چی“ کی ٓاواز ٓائی اور وہ کتے رک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگے سمیع موقع دیکھتے ہی دوڑ کر کنٹینر پر چڑھ گیا کوہیار کے ہاتھ میں ایک فریکوینسی وسل تھی جس کی آواز انسان تو نہیں سن سکتے لیکن کتے بہت اچھی طرح سن بھی سکتے ہیں اور انکے دماغ پر اسکا اثر بھی پڑتا اس لیے بہت زیادہ جنون میں ہونے کے باوجود بھی وہ رک گئے لیکن انکو کنٹینرز کے اوپر دیکھ کر دوبارہ بھونکنے لگے ۔
”اب کیا کریں؟“ فرحان کتوں کو دیکھ کر بولا لیکن کوہیار نے ان پر تاک کر نشانہ لگایا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ ڈھیر ہو گئے اور اب انہوں نے گودام کا تفصیلی معائنہ کرنا شروع کر دیا انکو جو سامان چاہیئے تھا وہ خوش قسمتی سے کنٹینروں میں پہلے ہی بھرا پڑا تھا کوہیار نے ولید کو کشتی قریب لانے کو کہا ولید جب کشتی قریب لایا تو ایک کرین کے زریعے چھ کنتینر اس کشتی میں رکھوائے اس کشتی میں دس کنٹینروں کی گنجائش تھی وہ سامان رکھ ہی رہے تھے کہ گارڈز کو ہوش ٓانے لگا لیکن سمیع اور فرحان نے پہلے ہی ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے تھے تمام سامان کشتی میں لوڈ کرنے کے بعد وہ خود بھی کشتی میں سوار ہو گئے اور کشتی اس گودام سے دور جانے لگی کشتی کے ریلنگ پر دونوں کہنیاں جمائے کوہیار گودام کو دور جاتے دیکھ رہا تھا نفرت اور حسد کی جنگ میں وہ یہاں تک آیا تھا وہ خود نہیں آیا تھا لیکن اسے گھسیٹا گیا تھا اور اب جب وہ آ ہی گیا تھا تو اسے بھی یہ بازی جیتنی تھی کیونکہ ہارنا کبھی اس نے سیکھا نہیں تھا ۔
فائنانس ٓافس میں بڑی ہلچل تھی تیسری منزل کی راہداری میں رئیس حاکمزادہ تیز قدم چلتا ہوا جا رہا تھا اور اسکا وفد بھی اس سے قدم ملائے جا رہا تھا راہداری کے آخری سرے پر پہنچ کر اسکے ایک ماتحت نے دروازہ کھولا جہاں صدیقی کسی سے فون پر محو گفتگو تھا جب دروازہ کھلا تو اس نے نا گواری سے دروازے کی جانب دیکھا لیکن رئیس کی شکل دیکھتے ہی تیر کی طرح سیدھا ہوا ۔
”رئیس صاحب ٓائیے میں آپ ہی کی طرف آرہا تھا“وہ بوکھلا کر اپنی سیٹ سے کھڑا ہوا ۔
”تو پھر آئے کیوں نہیں“رئیس اسکے سامنے کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے بولا صدیقی اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پاتے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھنے لگا جبکہ رئیس کے تمام ماتحت اسکے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
”آپ شاید بھول گئے ہیں کہ ٓاپ کو دیا گیا وقت ختم ہو چکا ہے“ رئیس نے کرسی کے ہتھے پر کہنی رکھ کر طنزیہ انداز میں کہا صدیقی اب تک اپنی گھبراہٹ پر قابو پا چکا تھا ۔
”نہیں جناب بھولا تو نہیں سامان ہم ریکور کر چکے ہیں کوہیار نے کہیں چھپایا تھا ابھی فی لحال ہم نے اپنے ایک دوست کے گودام میں رکھا ہے ٓاج ہی چل کر ہم وہ آپ کو ہینداوور کر دیں گے “ صدیقی بڑی تسلی سے بولا اب اسے کوئی ڈر نہیں تھا شاید یہ مال اسکے نصیب میں نہیں تھا لیکن وہ خوش تھا کہ اسکی نوکری پر کوئی آنچ نہیں آئی ، نوکری ہوگی تو ایسی آفرز آتی رہیں گی۔
”دوست کے گودام میں کیوں ٓاپ ڈپارٹمنٹ کے اپنے گودام میں رکھ سکتے تھے“ صدیقی کو اب رئیس پر غصہ چڑھنے لگا اسکے تو اعتراضات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
”اصل میں کوہیار کا کوئی بھروسہ نہیں یہاں بھی بہت سے لوگ تنخواہ تو سرکار سے لیتے ہیں لیکن کام اسکے لیے کرتے ہیں اس لیے میں نے اپنے دوست پر بھروسہ کیا“ صدیقی چہرے پر مصنوعی سی مسکراہٹ لیے بولا۔
”تو آپ کے اس دوست کا نام ٓافاق بیگ ہے؟“ رئیس نے صابقہ انداز میں پوچھا۔
”ارے نہیں زاویار حمدانی کی بات کر رہا ہوں میں“ ۔
”لیکن زاویار حمدانی کے گودام تو کچھ بھی نہیں ہے میری ٹیم ابھی بھی وہاں موجود ہے “ رئیس نے جب کہا تو پہلے تو صدیقی حیران ہوا کہ ابھی تو اس نے زاویار کا نام لیا نہیں تو اسکو کیسے پتہ چلا اور دوسری بات یہ کہ اگر سامان وہاں نہیں تو کہاں ہے پریشانی میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
”وہاں نہیں تو کہاں ہے؟“۔
”ٓافاق بیگ کے گودام سے ہمیں سارا سامان ملا ہے بمع اس سامان کے جو فرحان عزیز کے نام پر غائب ہوا تھا “ رئیس نے بڑے ہی ہلکے پھلکے انداز میں اسکے سر پر بمب پھوڑا تھا۔
”صدیقی صاحب سرکاری اثاثہ جات میں خورد برد اور ایک سرکاری افسر کو فریم کرنے کے الزام میں آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے“ رئیس کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور پیچھے صدیقی تردید کرتا رہ گیا۔
”میں نے نہیں کیا یہ سب شاہویر کا کیا دھرا ہے رئیس صاحب“ پیچھے وہ چیختا رہ گیا۔
”شاہویر کا بھی پتہ لگواؤ“ رئیس نے اپنے ماتحت کو حکم دیا اور وہاں سے باہر نکل گیا، کچھ لوگوں کو بے ایمانی کرتے ہوئے اس بات کی تسلی ہوتی ہے کہ قیامت بہت دور ہے تب کی تب دیکھی جائے گی لیکن اللّٰہ انکی زندگی میں ہی ان پر قیامت برپا کر کے انکی سیاہ کاریوں کا پردہ فاش کر کے انہیں اس بات کا یقین دلا دیتا ہے کہ قیامت تو تمہارے کان کے پیچھے ہے ۔
زاویار حمدانی ایک پرانی بلڈنگ کی چھت پر کھڑا بڑی ہی گہری سوچ میں غرق سگار کے کش لے کر ہوا میں دھوئیں کے مرغولے چھوڑ رہا تھا جب پیچھے سے اسے قدموں کی چاپ سنائی دی مڑ کر دیکھا تو شاہویر جیبوں میں ہاتھ ڈالے بڑی تسلی سے چلتا ہوا آرہا تھا ۔
”تمہارا پلان فیل ہو گیا شاہویر تم کوہیار کا بال بھی باکا نہیں کر سکے “ کہہ کر اپنا سگار دوبارہ منہ سے لگایا جب کے شاہویر بس اسے غصے سے گھور کر رہ گیا۔
”میں اسے ایسی جگہ سے نقصان پہنچا چکا ہوں زاویار صاحب آپ سوچ بھی نہیں سکتے “ کہہ کر شاہویر مدھم سی ہنسی ہنس دیا اسکی آنکھوں کے گرد کالے ہلقے اور آنکھیں سرخ تھیں اسکی تازہ سرخ و سفید رنگت مرجھا گئی تھی اسے نفرت اور حسد کا ناسور کھا گیا تھا وہ نہیں جانتا تھا کوہیار کو تباہ کرنے کی اس دوڑ میں سب سے پہلے تو وہ خود کو کھو چکا تھا اسے خود کو نہیں کھونا تھا اسے خود کو ثابت کرنا تھا اسے کوہیار سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاییئے تھا اور یہیں تو ٓاکر انسان ابدی خسارے کا سودہ کر لیتا ہے۔
”تمہیں پتہ ہے شاہویر تم ایک ڈے ڈریمر ہو کھلی ٓانکھوں سے خواب دیکھتے ہو میں تو ابھی بھی کہتا ہوں یہ سب چھوڑ کر کہیں دور چلے جاؤ اپنی لائف جیو“ زاویار کو اسکی حالت دیکھ کر دکھ سا ہوا۔
“ نہیں زاویار صاحب اب پیچھے نہیں ہٹ سکتا میرے لیے اب سارے راستے بند ہوچکے ہیں“ وہ گہری سانس بھر کر ٓاسمان کی طرف دیکھ کر بولا ۔
”تو اب کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟“۔
”بس اب اس کی سانسیں چھننے کا ارادہ رکھتا ہوں“وہ بہت سفاکی سے زاویار کی طرف دیکھ کر بولا۔
”پتہ ہے ایک منٹ کے لیے مجھے لگا تھا تم اتنے گھٹیا ہو نہیں جتنے لگتے ہو ”زاویار سگار پھینک کر جیبوں میں ہاتھ ڈالے بولا تو شاہویر کا زور دار قہقہہ چھوٹ گیا۔
”کسی کی یاد دلا دی زاویار صاحب کہ اس دل میں درد سا ہوا“ اپنی ہنسی روکتے ہوئے بولا اسے بے اختیار مال میں کھڑی دھمکی دیتی غازیہ امین یاد آئی اور دل ملال سے بھر گیا۔
”کہیں میری یاد تو نہیں ٓا رہی شاہویر“ شاہویر نے چھت کی پچھلے منڈیر کی طرف دیکھا تو کوہیار نیوی کلر کی پولو شرٹ اور خاکی پیںٹ پہنے سینے پر بازو باندھے کھڑا تھا۔
”تم“ وہ بس اتنا ہی کہہ سکا اسے کسی بہت بڑی انہونی کا احساس ہوا اور اسنے غصے سے زاویار کی طرف دیکھا زاویار نے اسکی طرف دیکھ کر کندھے اچکائے ۔
”دوستوں کے لیے کرنا پڑتا ہے“ زاویار نے کہا تو شاہویر کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا اور کوہیار شاہویر کی طرف بڑھتا ہوا ٓایا۔
”ہاں شاہویر دوستوں کے لیے کرنا پڑتا ہے مجھے ایک موقع دو میں تمہیں یہاں سے نکال کر لے جاؤں گا ہم یہ سب بیٹھ کر حل کریں گے میں جانتا ہوں تمہیں اس وقت ایک دوست کی ضرورت ہے “ کوہیار کی آنکھوں میں اپنے بچپن کے دوست کے لیے نرمی تھی جبکہ شاہویر اسے بڑی سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
”مجھے تمہاری کسی بھی طرح کی مدد نہیں چاہیئے بس اب تم اپنی خیر مناؤ کیونکہ اب تک میں نے تمہارے ساتھ بہت نرمی کی تھی دشمنی کیا ہوتی ہے وہ میں تمہیں ابھی دکھاؤں گا“ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرنے لگا تھا کہ چھت کی طرف آتی سیڑھیوں کے دروازے کی دھڑام سے ٓاواز ٓائی اور بہت سے پولیس والے اسکی طرف بڑھنے لگے وہ بھی تیزی سے چھت کی دیوار کی طرف لپکا لیکن پولیس اہلکار بہت تیز تھے اور اسے پکڑ کر وہیں گرا دیا۔
”زاویار یہ تم نے مجھے دھوکہ دے کر اچھا نہیں کیا“ وہ اہلکاروں کی گرفت میں چیخنے لگا پولیس والوں کے پیچھے سمیع بھی تھا اورپولیس اہلکاروں کو ٓارڈر دینے لگا ۔
”میں نے وہی کیا جو تم نے کیا شاہویر وائے سرپرائزڈ ؟“ زاویار نے کندھے اچکا کر کہا وہ جھٹپٹا رہا تھا اور وہ اسے پکڑ کر پولیس وین میں بٹھا گئے سمیع زاویار اور کوہیار کی طرف آیا ۔
”مجھے ایسا لگ ہی رہا تھا کہ واردات کی رات تمہیں تمام چیزوں کا پہلے ہی پتہ تھا ”سمیع نے کوہیار کو مشکوک نظروں سے دیکھ کر کہا کوہیار ہنس دیا ۔
“ زاویار وہ سب سے پہلا انسان تھا جسے اس سارے کھیل کا پتہ لگا اور وہ ہمیشہ میرا دوست تھا بس ہم نے کسی کو اسکی بھنک نہیں پڑنے دی اور اس کھیل میں ایک دوست کھو کر مجھے یہ بھی معلوم پڑا ہے کہ میرے دنیا میں اور بھی کتنے چاہنے والے ہیں “ اس نے سمیع کا کندھا تھپتھپا کر کہا اور سمیع اس سے بغل گیر ہوا۔
چودہ منزلہ عمارت اپنی پوری شان سے کھڑی تھی اور اسی عمارت کے خارجی راستے سے سے ہو کر نکلتی غازیہ اپنی تمام شپمنٹس کلیئر کر کے جا رہی تھی کیونکہ اسے اگلے ہی ہفتے تک واپس چائنہ جانا تھا اور یہاں اسے کوئی کام ادھورہ چھوڑ کر نہیں جانا تھا اسکا ماننا تھا ادھورے کام وقت کی برکت ختم کر دیتے ہیں، وہ جب دروازے سے باہر نکلی تو سکیورٹی کے پاس کھڑی الویرہ جو اندر جانے کے لیے بحث کر رہی تھی پر اسکی نظر پڑی غازیہ اسے یکسر نظر انداز کر کے آگے بڑھ گئی اور الویرہ بھی اسے دیکھ کر گارڈ کو چھوڑ کر اسکی طرف لپکی غازیہ وہیں کھڑی اپنے ڈرائیور کو فون کرنے لگی۔
”غازیہ امین لاشاری بڑی خواہش تھی تم سے ملنے کی “ بڑے طنزیہ انداز سے کہتی وہ اپنی اونچی ہیل کے ساتھ ٹھک ٹھک کرتی اس تک پہنچی غازیہ نے بیلرینا جوتے پہنے تھے لیکن پھر بھی وہ دونوں برابر لگ رہی تھیں اسکی بات سن کر غازیہ بس سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
”حیران کیوں ہو رہی ہو تمہیں تو بڑی اچھی طرح سمجھ جانا چاہیئے کہ میں یہاں کیوں آئی ہوں؟“وہ بولتی ہوئی تھوڑا اور اسکے سامنے آکر رو برو کھڑی ہوئی۔
”ایم سوری مس جو بھی ٓاپ کا نام ہے مجھ سے دن میں بہت سے لوگ ٓاکر ملتے ہیں ہر کسی کا حساب میں نہیں رکھتی آپ کو جو کام ہے ٓاپ کہہ دیں“بہت ہی پر سکوں انداز میں کہہ کر اسکی ٓانکھوں میں دیکھنے لگی جبکہ الویرہ جبڑے بھینچے بڑے غصے سے اسے دیکھنے لگی۔
”اچھا اور دوسروں کے منگیتروں کے ساتھ ٹرینوں میں بیٹھ کر تصویریں بنوانا وہ بھی تمہارا کام ہے ”تنفر سے دیکھتی سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے گھورنے لگی یہ بات کہتے وقت الویرہ بھول گئی کہ ایک عدد منگیتر کے ہوتے ہوئے بھی اسکے دن رات شاہویر کے ساتھ کٹتے تھے سچ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو اپنے ہی میل سے بدبو نہیں آتی۔
اسکی بات سن کر غازیہ نے ایک گہری سانس بھری اسے غصہ تو بہت ٓایا لیکن اپنا غصہ دکھا کر اسے خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا تھا اس لیے اسکی طرف دیکھ کر مسکرائی۔
”تمہارا قصور نہیں ہے تم نے غلط ہی سمجھنا ہے کیونکہ تم نے وہ دنیا نہیں دیکھی جو میں نے دیکھی ہے اور دوسری بات، انسان ایک ٓائینہ ہوتا ہے جیسا وہ خود ہوتا دوسرے کو بھی اپنی طرح دیکھتا ہے “ غازیہ نے بہت ہی ٹھنڈے لہجے میں جو بات کہی اس سے الویرہ کی رنگت متغیر ہوئی اور غازیہ سمجھ گئی کہ تیر عین نشانے پر لگا ہے۔
”تم جیسی لڑکیاں ہی لوگوں کے گھر اجاڑتی ہیں“ الویرہ سے جب کوئی بات نہیں بن پائی تو اسنے سکہ دوسرے رخ پھینکا لیکن غازیہ کے سکون میں کوئی فرق نہیں آیا۔
”تم اگر اس سب سے باہر نکلو گی تو معلوم ہو کہ دنیا بہت وسیع ہے ”اس نے سر سے پیر تک اسکے سراپے پر اشارہ کیا جو حد سے زیادہ تیار ہوکر ٓائی تھی بہت ہی تیز میک اپ اونچی ہیل اور لگژری لان کا سوٹ شاید وہ اپنی احساس کمتری اسی طرح چھپا رہی تھی، ڈرائیور گاڑی بالکل غازیہ کے سامنے کھڑی کر گیا تو وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی لیکن ایک بار مڑ کر دیکھا۔
”اور ہاں مجھے تمہارے منگیتر میں کوئی انٹرسٹ نہیں وہ تمہیں ہی مبارک ہو “ کہہ کر اپنے دھوپ کا چشمہ آنکھوں پر لگایا اور گاڑی میں بیٹھ گئی اور گاڑی زن سے ٓاگے بڑھ گئی اور پیچھے الویرہ کھڑی پیچ و تاب کھاتی رہ گئی۔
گاڑی جیسے ہی ٓاگے بڑھی غازیہ نے اپنا دل پکڑ لیا کیا وہ وڈیو شاہویر نے ساری دنیا میں وائرل کر دی تھی اسکا دل بیٹھنے لگا اسے پتہ بھی نہ چلا اسکی چھوٹی سی غلطی اسکے لیے وبال جان گئی تھی اسکی بدنامی کا باعث بن رہی تھی اسکی ٓانکھوں سے بے اختیار آنسو نکل رہے تھے اسکی دبی دبی سی سسکیاں ڈرائیور نے سن کر بیک ویو مرر میں دیکھنے کی کوشش کی ، کاش وہ اسکی زندگی میں کبھی نہ آیا ہوتا ،کاش اس دن اس نے اسکے لیے دروازہ نہ کھولا ہوتا کاش عبداللہ بھائی خود ہی اسکے ساتھ بزنس ڈیل کرتے امی کہتی تھیں کبھی کاش مت کہا کرو گناہ ہے لیکن آج اسکی ایسی حالت تھی وہ کہہ رہی تھی اور وہ واپس چائنہ جانا چاہتی تھی جہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا جہاں کسی کو اس وڈیو کا کچھ پتہ نہیں تھا گاڑی گھر کی طرف رواں تھی اور وہ جو خود کو بہت مضبوط سمجھتی تھی کسی ٓاٹھ سالہ بچی کی طرح روئے جا رہی تھی۔
آجکل کراچی کا موسم گرم اور حبس زدہ سا تھا لیکن سمندر کنارے بڑی سہانی ہوا چل رہی تھی مرینہ سیلنگ کلب میں شام کے وقت کشتیوں کی تمام لائٹیں جلائی گئی تھیں اور کشتیوں کے سامنے ہی بنے کیفے میں ایک کرسی پر بیٹھا کوہیار کسی کے انتظار میں بیٹھا تھا سینڈ کلر کی ربڈ ٹیکسچر والی پولو شرٹ اور ٓاف وائٹ پینٹ پہنے ہوا سے اسکے بال اڑ رہے تھے جہاں اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ نبٹانے کے بعد اسے پرسکون ہونا چاہیئے تھا لیکن مشتاق مرزا اور رضوانہ کا اسے رہ رہ کر خیال ٓارہا تھا شاہویر کی گرفتاری نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا آج صبح ہی تو مشتاق انکل کی حالت خراب ہونے پر وہ خود ہی انہیں ہسپتال پہنچا ٓایا تھاوہ انہی پریشان کن سوچوں میں گم تھا جب پیچھے سے زارون نے اسے پکارا اس نے اٹھ کر اس سے مصافحہ کیا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”زارون بھائی اپ کو اندازہ تو ہو گیا ہو گا کہ میں نے ٓاپکو یہاں کیوں بلایا ہے“۔
”کھل کر کہو جو کہنا ہے “ زارون نے کہا ، وہ جانتا تھا کہ اس گفتگو کے بعد ان سب کی زندگیوں کا رخ بدلنے والا ہے اب اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ بدلاؤ بہتری کے لیے تھا یا پھر حالات اور بھی برے ہونے والے تھے۔
”جب ہمارے رشتے جڑے تھے تو کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وقت گزرتے ساتھ سب اتنا کامپلیکیٹڈ ہو جائے گا آپ کا اور مہرالنساء کا رشتہ جڑا تو آپ دونوں خوش تھے اس لیے آپ دونوں کی خوشی میں ہم سب خوش تھے اور پھر میرا اور الویرہ کا رشتہ جڑا جس سے ہم خوش نہیں تھے خصوصاً ٓاپ کی بہن “ کوہیار نے بڑی صاف گوئی سے کام لیا کہ اب باتیں چھپانا کسی بھی طرح مصلحت تلے نہیں تھایہ سن کر زارون کا چہرہ خفت سے سرخ پڑنے لگا ۔
”جس سے نہ صرف ہمارا رشتہ خراب ہوا بلکہ اس کا بہت گہرا اثر آپ کے اور مہرالنساء کے رشتے پر بھی پڑا ہے آکے بچوں پر پڑ رہا ہے جس رشتے میں دلوں کی رضامندی نہ ہو وہ کہاں کامیاب ہوتے ہیں اور ہم سے جڑی بہت سی زندگیاں ہمیشہ ایک عذاب بن کر رہ جائیں گی یہاں تک کہ ہماری آنے والی نسل بھی اسکا شکار ہوگی“ کوہیار جو بات بڑے سکون سے کہہ رہا تھا اسکا چین و سکون کس طرح اسی وجہ سے پچھلے سات سالوں سے غارت تھا اور یہ بات زارون بھی سمجھ گیا تھا کہ کوہیار یقیناً سب جانتا تھا کیونکہ اسکے جیسے شخص کو اندھیرے میں رکھنا ناممکن تھا او روہ اسکی بہن کی پردہ پوشی کر رہا ہے جو اخلاق کے بہت اعلیٰ معیار لوگ ہی کر سکتے ہیں ۔
”پچھلے دنوں الویرہ مجھ سے ملنے ٓائی تھی وہ یہ رشتہ دوبارہ جوڑنا چاہتی ہے ، مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا اگر مجھے کس اور سے محبت نہ ہوتی میں چاہتا ہوں آپ سرمد انکل کو سمجھائیں ناراضگیوں سے کوئی فائدہ نہیں یہی ہم سب کے حق میں بہتر فیصلہ ہے “ کوہیار کی ٓاواز اتنی اٹل اور شخصیت اتنی مضبوط تھی کہ زارون اس سے کسی بات پر اختلاف کر ہی نہیں سکا اور حقیقت تو وہ خود بھی جان چکا تھا اس لیے اب کسی بھی طرح انکار اور بحث کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔
”کوہیار تم مجھے بہت بڑی جنگ میں کودنے کو کہہ رہے ہو ، جانتے ہو ناں ایک طرف مہرالنساء ہے تو دوسری طرف میرے ماں باپ اگر ایک طرف بھی جھکا دوسری طرف بھی میری ہی ہار ہو گی“زارون پریشانی میں آنکھوں کو مسلتے بولا وہ ٓاج کل ویسے بھی بہت مضطرب تھا۔
”یہیں تو آپ غلطی کر رہے ہیں آپ کو ایک طرف جھکنا نہیں ہے بلکہ دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہے دونوں کی باؤنڈریز سیٹ کرنی ہیں اور میں جانتا ہوں ٓاپ یہ کر سکتے ہیں“کہہ کر کوہیار ہلکے سے مسکرا دیا۔
”مکھن لگا رہے ہو؟“ زارون نے مسکرا کر کہا۔
”جو ٓاپ سمجھیں“ کوہیار کندھے اچکا کر مسکرانے لگا۔
”بس اب خدا کے واسطے اپنی بہن کو منا کر بھیج دو نہیں تو میں پاگل ہو جاؤں گا“ اس نے باقاعدہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیے کوہیار ہنس دیا ۔
”وہ بڑا ڈینجر زون ہے وہ سب آپ نے خود ہی کرنا ہے میں بس آپکا ساتھ دے سکتا ہوں“کوہیار نے ہاتھ کھڑے کر لیے جانتا تھا یہ اسکا نہیں بلکہ زارون کا کام ہے اور زارون اسکا مشکور تھا کیونکہ کوہیار نے انکی عزت رکھ لی تھی اسکی بہن کا نام نہیں اچھالا تھااس نے اس معاملے بخوبی ہینڈل کرکے اپنی اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا تھا ۔
ایک سفید چار دیواری میں ایک میز کے اطراف آمنے سامنے دو کرسیاں رکھی تھیں ایک کرسی پروہ بیٹھا تھا اسکے ہاتھوں میں بیڑیاں بندھی تھیں اسکے لب خاموش تھے اسکے سامنے رضوانہ بیٹھی تھیں جب سے آئیں تھیں ٓانسو ہی پونچھے جا رہی تھیں صدیقی اور شاہویر کو تین سال قید جبکہ ٓافاق بیگ بیرون ملک بھاگ چکا تھا اور اسکے گھر چھاپہ مارنے پر تیرہ ارب روپے مالیت کے امریکی ڈالر ملے تھے وہ امریکی شہری تھا وہاں اسائلم لے رکھا تھا لیکن جس دن پاکستان میں قدم رکھا اس دن اسے گرفتار کر لیا جائے گا ۔
”ٓاپ کیوں ٓائی ہیں امی یہ جگہ ٓاپ کے ٓانے کے لیے نہیں ہے ”شرمندگی ، ندامت کیا نہیں تھا اسکے لہجے میں اسکا جھکا سر اٹھ کے ہی نہیں دے رہا تھا اسکے چہرے پر نیل کے نشان تھے یقیناً جیل کے اندر کسی کے ساتھ مار پیٹ ہوئی تھی ۔
”جہاں بچے ہوں گے ماں بھی وہیں ہوگی “ وہ بمشکل خود کو سنبھالتی ہوئی بولیں جواب میں وہ بس خاموش رہا۔
”میں نے تو تمہاری ایسی تربیت نہیں کی تھی پھر کیوں اس بری روش پر پڑ گئے“وہ روتے ہوئے پوچھنے لگیں ۔
”وہ موازنہ جو بابا کرتے تھے ہر کسی کے سامنے مجھے ڈی گریڈ کیا کرتے تھے میرے دل میں نفرت کے سواء کوئی ایمبیشن نہ رہا“ سر اٹھا کر بولا تو ہلکی سی مزاحمت تھی نفرت مفقود تھی۔
”میں مانتی ہوں انکی غلطی تھی لیکن تم بھول گئے وہ تم سے محبت بھی تو اتنی ہی کرتے تھے تمہارے امتحانوں کے وقت سارا وقت تمہارے انتظار میں باہر کھڑے رہتے تھے ، تمہاری بیماری میں ساری رات جاگتے تھے تمہارے غم میں بیمار ہوکر بستر سے جا لگے ہیں تم نے تکلیف کوہیار کو نہیں بلکہ اپنے ماں باپ کو دی ہے ہماری حالت تو دیکھو ہماری اکلوتی اولاد ہو تم اور تمہارا یہ حال “ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں شاہویر کے اپنے آنسو بھی نہیں رک رہے تھے ۔
”پلیز امی ٓاپ ہمت مت ہاریں میں وعدہ کرتا ہوں میں بہت اچھا بیٹا بن کر دکھاؤں گامیں وہ ہر چیز فکس کروں گا جو میں نے خراب کی ہے ٓاپ بابا کو بھی بول دیں شاہویر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ایک دن ضرور پراؤڈ کر دکھائے گا پلیز مجھے بس ایک چانس دیں“شاہویر نے بے چینی سے انکے ہاتھ پکڑ کر کہا ان کچھ دنوں میں ہی جیل میں رہ کر وہ اپنا سبق سیکھ چکا تھا جو اسے بہت پہلے سیکھنا تھا رضوانہ نے اسے دیکھ کر مسکرا کر آنسو صاف کیے ہر گلی اندھیر نہیں ہوتی کچھ نئے راستے بھی ہوتے ہیں۔
زارون اپنا بیگ لے کر اپنے کمرے سے باہر نکل کر اپنے ماں باپ سے رخصت کرنے گیا تو سرمد کا انداز اکھڑا اکھڑا سا تھا البتہ انیلہ کافی بہتر تھیں جانتی تھیں کہ اسی میں سب کی بھلائی ہے اور اپنی بیٹی کی حرکتیں بھی جانتی تھیں اور اس بار اسکی غلطیوں کے لیے بیٹے کا گھر برباد نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔
”بابا دعا دیں جا رہا ہوں “ سرمد لاؤنج کے صوفے پر بیٹھے تھے جب زارون ان سے ملنے آیا۔
”ہاں بیٹا خیر سے جاؤ ہم تو دعا ہی دیں گے “ سرمد نے گلہ ٓامیز انداز میں کہا۔
”بابا ناراض مت ہوں اس میں ہم سب کی بھلائی تھی ”وہ انکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔
”تم سے بڑا زن مرید میں نے نہیں دیکھا“ سرمد نے سر جھٹک کر دوسری طرف دیکھا۔
”تو اسکا مطلب آئینہ میں اپنا چہرہ نہیں دیکھا“اسنے مسکرا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا ۔
”انہوں نے زندگی میں کھبی میری سنی ہے ؟“ انیلہ غصے سے باپ اور بیٹے کو دیکھنے لگیں۔
”اب یہ کیا نیا محاذ کھول کر جا رہے ہو میرے سر پہ“ سرمد نے اسے مصنوعی خفگی سے دیکھتے ہوئے کہا تو زارون ہنس کر ان سے بغلگیر ہوا ان سے مل کر الویرہ کے کمرے کی طرف گیا تو وہ اپنے کمرے کے صوفے پر اکڑوں بیٹھی تھی زارون کے اندر داخل ہونے پر ایک نظر اسکی طرف دیکھ کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
”الویرہ جا رہا ہوں ملو گی نہیں“ اسکے کہنے پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا جب سے زارون نے اس گھر میں اس رشتے کے ختم ہونے کا اعلان کیا ہے تب سے الویرہ نے اس سے بات چیت بند کر دی سرمد بھی ناراض تھے انہیں تو کسی طرح سمجھا بجھا دیا لیکن الویرہ اسکی کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھی ابھی بھی ملگجے پلیے میں بیٹھی دیواروں کو گھور رہی تھی جب وقت تھا تب تو اسے قدر نہیں ٓائی اب جب سب ہاتھ سے چلا گیا تو ہاتھ ملنے کا کیا فائدہ۔
”الویرہ یہی ہم سب کی بہتری میں ”۔
”ٓاپ نے میرے لیے کوئی سٹینڈ نہیں لیا بھائی “ الویرہ نے زارون کی طرف دیکھ کر تقریباً چیخ کر کہا اور رونے لگی زارون نے پہلے اسکی طرف دیکھا اسکے بازؤں سے پکڑ کر اسے جھنجوڑا۔
”وہ سب جانتا تھا الویرہ ، وہ سب جانتا تھا “ زارون نے اتنے سرد لہجے میں کہا کہ وہ رونا دھونا بھول کر پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
”ہاں الویرہ اسے سب کچھ معلوم تھا وہ سب جو تم نے کیا اب تم بتاؤ کیا تم ایسے رشتے میں خوش رہ پاتیں ؟ یا پھر وہ خوش رہ پاتا کیا زندگی ہوتی تم دونوں کی جن رشتوں میں ایمانداری نہیں ہوتی اللّہ ان رشتوں کو پھاڑ دیتا ہے سو بہتر یہی ہے کہ اب تم اس بارے میں نہ ہی سوچو اور اس نے بھی اس باات کا ذکر تک کسی سے نہیں کیا اس کا شکر ادا کرو “ الویرہ اب سر جھکائے بیٹھی تھی شرمندگی سے زمین میں گڑ جانے کو دل کر رہا تھا زارون اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر نکل گیا اسنے مہرالنساء اوربچوں کو پک کر کے ایئر پورٹ پہنچنا تھا پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی اب اور نہیں۔
غازیہ لان ے میں بیٹھی خلاء میں گھور رہی تھی اسے رہ رہ کر الویرہ کی اس دن کی باتیں یاد آرہی تھیں اور پھر وہ ویڈیو پتہ نہیں کتنے لوگوں نے دیکھ دیکھ کر کیا اندازے لگائے ہوں انہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ گیٹ پر بیل بجی بڑی سستی سے اتھ جا کر دروازہ کھولا اور دروازے پر وہی دشمن جان لائٹ براؤن آدھی بازو والی بیگی ٹی شرٹ کے ساتھ آف وائٹ ٹراؤزر پیروں میں سنیکرز پہنے اسکے سامنے کھڑا تھا اور غازیہ کو دیکھ کر اسکے چہرے پر بڑی دلکش سی مسکراہٹ ابھری جبکہ وہ نطریں جھکا کر اسے آنے کا راستہ دے کر دروازے کے ایک طرف کھڑی ہوگئی۔
”کیسی ہو غازیہ؟“وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔
”کیوں پوچھ رہے ہو مجھ سے ؟“ وہ سر جھکائے مدھم لہجے میں بولی۔
”تو کس سے پوچھوں؟“ وہ اسکے بالکل مقابل کھڑا پوچھ رہا تھا۔
”تمہیں کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ ہماری ویڈیو دیکھ دیکھ کر کیسی کیسی باتیں کر رہے ہیں“اسکے لہجے میں اب گلہ سا تھا کوہیار نے اسکی آنکھوں میں ایسی اداسی پہلے نہیں دیکھی تھی۔
”وہ ویڈیو جن جن ک پاس تھی میں نے ڈلیٹ کروا دی پریشان مت ہو اور اس میں ایسا کچھ تھا بھی نہیں “ وہ اسے تسلی دے رہا تھا لیکن اسے اور بھی زیادہ غصہ چڑھ رہا تھا اور اس غصے کو وہ کوئی نام بھی نہیں دے پائی تھی اسکی ادھوری محبت اسکے اندر ہی اندر سر ٹکرا کر اسکا وجود جھنجوڑ رہی تھی۔
”تمہیں فرق نہیں پڑ تا تم مرد ہو کسی نے تمہیں اسکا طعنہ نہیں دیا لیکن میں ایک لڑکی ہوں اور مجھ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں کس کس کو صفائی دیتی پھروں“اپنے سینے پر انگلی رکھے بھیگی ٓاواز میں پوچھ رہا تھا اور کوہیار کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ کیا بات ہو سکتی تھی کہ اسکے دکھ کی وجہ وہ بن رہا تھا ۔
”غازیہ امین کو کب سے لوگوں کی باتوں کا فرق پڑنے لگا لوگ کیا کہیں گے کا جملہ تمہارے لیے نہیں ہے تم جیسی سٹرانگ لڑکیاں ہی تو ان سٹیریو ٹائپس کو توڑنے ٓائی ہیں ”کوہیار کہہ کر اسکی ٓانکھوں سے گرتے آنسو کو دیکھنے لگا جو اسکے گال سے لڑھک کر گرنے لگا تو کوہیار نے اپنی ہتھیلی آگے کر لی اور ٓانسو آکر اسکی ہتھیلی پر گرا۔
”اگر تم اجازت دو میں آج ہی اپنے گھر والوں کو تمہاری طرف بھیجوں گا“کوہیار نے کتنی محبت سے یہ الفاظ ادا کیے لیکن غازیہ اسے بڑی حیرت سے دیکھنے لگی اور پھر اسکی بھنویں بھنچ گئیں ۔
”تمہیں لگتا ہے میں کسی اور کا گھر توڑ کر اپنا بساؤں گی اتنا چیپ سمجھا ہے تم نے مجھے“غازیہ غصے سے چبا چبا کر بولی کوہیار کو ہوا کا رخ دوسری طرف جاتے ہوئے محسوس ہوا۔
”وہ رشتہ ختم ہو چکا ہے غازیہ وہ ہمیشہ سے ہی ایک کھوکھلا۔۔۔“کوہیار کی بات ابھی منہ میں تھی کہ غازیہ نے بڑی سختی سے اسے روک دیا۔
”کچھ دن پہلے تک تو تمہاری منگیتر بڑے دھڑلے سے ٓاکر مجھے کہہ گئی کہ میں اسکے منگیتر کا پیچھا چھوڑ دوں مجھے کیا کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو میں کسی اور کی زندگی خراب کروں گی اور انہیں اس بات کا موقع دوں گی کہ جو انہوں نے میرے بارے میں سوچا وہ سب سچ ہے پتہ نہیں اپنے دل میں یہ غلط فہمی کہاں سے پالی ہے تم نے“وہ بہت جزباتی ہو کر بول رہی تھی اور اپنے الفاظ کی مار کا اسے اندازہ نہیں تھا۔
”غلط فہمی نہیں میں بس ایک پرپوزل دینا چاہ رہا ہوں“کوہیار چاہ کر بھی اس غلط سمت جاتی گاڑی کو روک نہیں پا رہا تھا۔
”کتنا ٓاسان ہے ناں تم لوگوں کے لیے ایک سے دل بھر جائے تو دوسری پھر اسکے بعد تیسری ہے ناں“ یہ سن کر کوہیار کے جبڑے تن گئے اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا سامنے کوئی اور ہوتا تو ایسی بات کہنے پر اپنے پیروں پر کھڑا نہ رہتا لیکن سامنے تو وہ تھی جسکی محبت کے سامنے وہ گھٹنے ٹیک چکا تھا ۔
”جب تصویر کا دوسرا رخ نہیں دیکھا تو اتنی بڑی نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن یاد رکھنا میرے دل میں تمہاری محبت پاک ہے تم اس طرح اس پر کیچڑ نہیں اچھال سکتی “ وہ کہہ کر رکا نہیں چلا گیا غازیہ کے آنسو گرنے لگے لیکن اب انہیں اپنی ہتھیلی میں سمانے والا کوئی نہ تھا۔
غازیہ صبح واپس جا رہی تھی اسکی پیکنگ ہو چکی تھی اس لیے ادینہ اسکے کمرے میں اس سے ملنے آئی کہ اب پتہ نہیں کب ملاقات ہو اس نے اوپر اپنے کمرے میں ہی چائے منگوائی ۔
”یار اتنی گرمی میں چائے “ ادینہ نے اعتراض کرتے ہوئے گھونٹ بھرا۔
”پاکستانی پچاس ڈگری میں بھی چائے پیتے ہیں سو منہ بند کر کے اپنا قومی فریضہ نبھاؤ “ غازیہ نے اپنی پلیٹ میں سموسہ رکھتے ہوئے کہا۔
”منہ بند کروں گی تو چائے کیسے پیوں گی“ کپ رکھ کراپنی پلیٹ میں پاستا ڈالتے ہوئے بولی کھاتے پیتے بغیر باتوں کا مزہ بھی نہیں آنا تھا۔
”چائنہ کے کیفے میں بیٹھوں گی تو یہ چائے بڑی یاد ٓائے گی مجھے “ مصنوعی اداسی سے اپنے کپ کو دیکھتے ہوئے بولی۔
”ہمم! کیفے سے یاد آیا وہ الویرہ نہیں ہے میری بیچ میٹ جو اس دن اوشین والے کیفے میں ملی تھی “ ادینہ نے یاد آتے ہی کہنا شروع کیا یہ دیکھے بغیر کہ غازیہ کے چہرے کا زاویہ ہی بگڑ گیا۔
”ہم اسکی بات کیوں کر رہے ہیں؟“ غازیہ نے تھوڑا غصے سے کہا۔
”ارے سنو تو بڑی انٹرسٹنگ سٹوری ہے ، پتہ ہے اسکی منگنی ٹوٹ گئی ہے “ ادینہ مزہ لیتے ہوئے بولی۔
”کم آن یار ادینہ اس میں خوش ہونے والی کیا بات ہے “ غازیہ کو عجیب سا احساس ہوا جسے سمجھ نہیں پائی۔
”خوش ہونے والی بات یہ ہے وہ اپنی منگیتر کوہیار عالم شاہ جیسے بندے کو دھوکہ دے رہی تھی یونی سے سب کے سامنے شاہویر مرزا کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر جاتی تھی وہ روز اسکے لیے پھولوں کے بکے لے کر یونی کے سامنے کھڑا ہوتا تھا یہ تو ہونا ہی تھا اس دن میں اسے کوہیار عالم شاہ کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئی“ ادینہ تو کچھ اور بھی کہہ رہی تھی لیکن غازیہ وہ سکتے کی حالت میں بیٹھی حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اسکی اس حالت پر ادینہ اسے جھنجھوڑنے لگی۔
”کیا ہو گیا غازیہ“ اسنے غازیہ کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا۔
”مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے ادینہ“ اور دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ وہ اپنا فون ڈھونڈنے لگی ادینہ اسے پوچھتی رہ گئی کہ آخر ہوا کیا لیکن وہ تو جیسے سب بھول گئی تھی یاد تھا تو بس یہ کہ اسکے الفاظ جو اسنے کوہیار کو کہے تھے وہ شاید وہ خود بھی معاف نہ کرے فون ملا تو ایک نمبر ملایا لیکن آگے سے وہ بند اسنے اسکے آفس کال کی ۔
”سر کہیں باہر گئے ہیں کب آئیں کچھ کہہ نہیں سکتا “ وہ پاگلوں کی طرح اسکا نمبر ملانے لگی لیکن جواب ندارد وہ نہیں تھا تو اب کوئی جواب نہیں آنا تھا اسکے اندر کا طوفان جو خود کو سختی سے بند کیے ہوئے تھا آتش فشاں بن کر پھوٹنے لگا اور آج وہ اپنے آنسو نہیں روک پائی ملال بے پناہ تھا ،پچھتاوا بے حد۔
وہ تب ملے جب انہیں ایک دوسرے کی تلاش نہ تھی اور بچھڑے تب جب محبت ہوگئی۔
وہ اسکے آفس میں کھڑی تھی اسے ایک گھنٹے میں ایئر پورٹ پہنچنا تھا لیکن وہاں صرف ایک اکاؤنٹنٹ بیٹھا تھا وہ ٓاخری بار اسے ملنا چاہتی تھی ۔
”کیا وہ بتا کر نہیں گئے کب تک ٓائیں گے؟“ اسکے لہجے میں بے چینی سی تھی وہ جانتی تھی اس کی باتوں سے ہرٹ ہو کر وہ یہاں سے گیا ہے ۔
”میم میں ٓاپ کو بتا چکا ہوں کہ وہ کچھ بھی کہہ کر نہیں گئے انکے جانے کا بھی ولید نے بتایا ہے ٓاپ اس سے پوچھ لیں “ اس ٓادمی کو یقیناً غازیہ کے بار بار سوال کرنے سے کوفت ہورہی تھی اسے کیا معلوم اسے تو ایسا لگ رہا تھا کہ کڑکتی دھوپ میں ننگے پاؤں چل رہی تھی جو لوگ کبھی کسی کا برا نہ چاہیں تو کسی کا نقصان کرکے وہ ایسی ہی حالت میں رہتے ہیں۔
”تو ولید کہاں ملیں گے مجھے؟“ اس نے بے تابی سے پوچھا۔
”ٓاپ تشریف رکھیں میں اسے دیکھ کر آتا ہوں“ اسے بٹھا کر وہ آدمی ایک آفس کیبن کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔
”ولید اٹھو یار“ وہ آدمی اسکے کیبن کا شیشے والا دروازہ کھٹکھٹانے لگا جب دو منٹ بعد مندی مندی آنکھیں لیے وہ لڑکا نکلا ۔
”میں زندہ ہوں میرے گھر والوں کو بول دینا“ کہہ کر دوبارہ دروازہ بند کرنے لگا جب اس آدمی نے دروازے پر ہاتھ رکھا ۔
”سنوتو ڈرامہ کوئین “ اس آدمی کو ولید پر غصہ ٓانے لگا پھر غازیہ کی طرف دیکھ کر پوچھا“ میڈم آپ نے اپنا نام کیا بتایا؟“۔
”غازیہ امین لاشاری“ غازیہ صوفے پر بیٹھی اسکے دفتر کا معائنہ کرنے لگی سادہ گرے صوفے لیکن انکے پیچھے چھ پینٹنگز اوپر نیچے لگی تھیں جو یقیناً اس نے خود بنائی تھیں اور دوسری دیوار پر اسکی اور زلفقار عالم شاہ کی تصویر لگی تھی اور ساتھ اسکی ایک اور تصویر جس میں ایک کالے رنگ کی ہیوی بائک کھڑی تھی اور وہ کالے رنگ کی بائک گیئر پہنے کسی سر سبز وادی میں ہیلمٹ ہاتھ میں لیے کھڑا تھا وہ تصویر کو بڑی غور سے دیکھ رہی تھی جب ولید اسکے سامنے آکر کھنکارا تو اسکی طرف متوجہ ہوئی۔
”تو ٓاپ ہیں غازیہ امین“ ولید آنکھیں چھوٹی کیے اسے غور سے دیکھ رہا تھا غازیہ کو اپنا ٓاپ مجرم سا لگنے لگا پتہ نہیں یہ بھی اسے کوہیار کے جانے کا سبب سمجھ رہے ہیں۔
اسکو کھڑا ہوتے دیکھا تو ولید بھی سیدھا کھڑا ہوا۔
”ارے بیٹھیے ٓاپ کھڑی کیوں ہو گئیں، بتائیے کیا کر سکتا ہوں آپ کے لیے“ وہ ابھی پورا بیدار ہوچکا تھا۔
”کیا آپ جانتے ہیں کوہیار کہاں گئے ہیں ان کا فون بھی سوئچ آف ہے “ وہ اب اس انیس بیس برس کے لاابالی لڑکے کو دیکھنے لگی الجھے بکھرے سے بال بیگی شرٹ اور پینٹ اور انتہائی ذہین آنکھیں وہ بھی غازیہ کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا ۔
”وہ کسی کو بتا کر نہیں جاتے ایک دن جب دل بھر جائیگا تو آجائیں گے“ اسکی بات سن کر غازیہ کے چہرے پر مایوسی سی چھائی جو ولید کو اچھی نہیں لگی ۔
”اسامہ بھائی میڈم کے لیے ایک اچھی سی کافی تو بناؤ یہ ہماری بڑی خاص مہمان ہیں“ اسکی بات سن کر غازیہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی کہ میں اسکے لیے کیسے خاص ہوگئی ، جبکہ اسامہ اسکے آرڈر دینے پر خون خوار نظروں سے دیکھنے لگا اور ولید اشارے سے اسکے آگے ہاتھ جوڑنے لگا۔
”ٓاپ تو کافی کا اچھا خاصہ شوق رکھتی ہیں“ وہ ذرا معنی خیزی سے بولا تو غازیہ آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھ رہی تھی۔
”لیکن آپ مجھے کیسے جانتے ہیں میں تو آپ سے پہلی بار مل رہی ہوں“ غازیہ اپنی حیرت چھپا نہیں سکی۔
”کیونکہ کوہیار بھائی دن میں پچاس بار بھی آپکا انسٹا کھول کر دیکھتے ہیں“ اسنے گال تلے ہاتھ رکھ کر کہا اور یہ سن کر غازیہ کا خفت کے مارے برا حال ہوا ۔
”تو کیا وہ میرا انسٹا سب کو بتا کر کھولتا ہے ؟“ ۔
”وہ تو اپنے سائے کو بھی نہیں بتاتے لیکن مجھے ایسے پتہ چلا کہ مجھے انہوں نے نیٹ سے ایک ویڈیو ہٹانے کے لیے کہا تو میرے پاس انکے فون کا ایکسس آگیا،اور وہ ویڈیو ہر جگہ سے ڈلییٹ کی انکے فون سے بھی اس لیے میں نے انکی اکٹیویٹی ٹریک کی اور ایسے ہی مجھے پتہ چلا کہ آپ ایک کافی لور ہیں “ وہ تو اپنا کارنامہ بڑے فخر سے بتا رہا تھا لیکن غازیہ کے دل پر ملال سا چھانے لگا ۔
”کیا آپ کو واقعی میں نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئے ہیں ؟“ ولید نے نہ میں سر ہلایا وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی۔
”ایک کام ہو سکتا ہے وہ دنیا کے جس خطے میں ابھی تک نہیں گیے وہیں جائیں گے “ اسے جاتا دیکھ کر وہ بھی کھڑا ہو گیا اور سینے پر ہاتھ باندھے۔
”اتنی بڑی دنیا میں کہاں ڈھونڈوں گی“ مایوسی سے کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
”وہ سینٹرل ایشیاء نہیں گئے“ وہ مڑی تو وہ اسی کر طرف دیکھ رہا تھا۔
”ڈبل تھینکس“ وہ مسکرا کر وہاں سے نکل گئی اور ولید جانتا تھا کہ وہ اسکاڈبل شکریہ کیوں ادا کر رہی ہے۔
دی بونڈ میں روز کی نسبت آج ذرا رش کم تھا کیونکہ ٓاج چھٹی کا دن تھا غازیہ ٓاج اپنا لنچ لے کراسی طرف آگئی بنیچ پر بیٹھ کر سامنے گزرتے دریا کو دیکھنے لگی جس کے دوسری طرف بنے برطانوی دور کی عمارات ایک قطار سے بنے اپنے گزرے زمانوں کی داستان سنا رہے تھے، انگریز آئے اور ساری دنیا کو اپنی غلامی کا طوق پہنا گئے کہنے کو ہم آزاد ہو تو گئے لیکن غلامی ہم ابھی بھی کر رہے ہیں انکے رہنے سہنے کا ڈھنگ انکے کھانے پینے کا رجحان سب سے زیادہ غلامی پاکستان ، انڈیا اور بنگلادیش نے کی ہے۔
”بنگلادیش“ وہ سیدھی ہو بیٹھی اسے وہ بنگلادیشی کیفے یاد آیا جہاں وہ اور کوہیار کھانے بیٹھے تھے اور اس سے انکا شیلف بمع ڈیکوریشن کی چیزوں کے ٹوٹا تھا اور اسے پتہ بھی نہ چلا بس گاڑی میں بیٹھ کر اسی طرف چلی۔
کیفے کے اندر داخل ہوئی تو وہی آدمی کاؤنٹر پر کھڑا تھا جسے وہ مردہ سمجھ رہی تھی ایک مسکرہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا وہ کاؤنٹر تک گئی پتہ نہیں اس آدمی نے پہچانا کہ نہیں۔
”کچھ عرصہ پہلے میں یہاں آئی تھی مجھ سے آپکا وہ شیلف گر کر ٹوٹا تھا “ غازیہ نے کہا تو وہ آدمی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
”میں ٓاپکو اسکی ادائیگی کرنے آئی ہوں “ کہہ کر اپنے بیگ سے موبائل نکالا تاکہ ادائیگی کرسکے۔
”ارے وہ تو اگلے دن ہی آپ کے ساتھ جو صاحب آئے تھے انہوں نے کر دی ہم سے معذرت بھی کی ہمارے پےمنٹ بھی کر دی“ ٓادمی نے کہا تو غازیہ نے ٓانکھیں بند کرکے گہری سانس لی۔
”ایم ناٹ سرپرائزڈ“ اداسی سے مسکرائی اور اسی میز پر جا کر بیٹھ گئی جہاں وہ دونوں بیٹھے تھے اور اپنے فون میں وہی نمبر ملایا جو وہ پچھلے تین مہینے سے روز ملاتی تھی لیکن آگے سے وہی جواب جو ہر بار سنتی تھی فون بند کرکے واپس اپنے بیگ میں رکھ دیااور شیشے سے باہر دیکھنے لگی سب کچھ بالکل ویسا ہی تھا بس وہ نہیں تھا۔
فجر کا وقت تھا اور اس ہزاروں ایکڑ پر پھیلے سبزہ زارپر جہاں ہر طرف نظر دوڑاتے تو پہاڑوں پر گھاس ہی گھاس نظر آتی تھی وہیں ایک ندی کنارے کچھ سفید رنگ کے گول خیمے لگے تھے جن کے پاس ہی ایک شیڈ میں کچھ گھوڑے اور دوسری طرف ایک کالی بی ایم ڈبلیو ہیوی بائک کھڑی تھی اور خیمے کی دوسری طرف وہ جائے نماز پرسر بہ سجود تھا نماز سے فارغ ہوا تو اس نے آگ جلائی اور کیتلی رکھ کر چائے بنانے لگا جب دوسرے خیمے سے ایک چھوٹی آنکھوں گول چہرے اور چوڑے سینے والا آدمی نکل آیا روایتی کزاق لباس پہنے آکر کوہیار کے پاس بیٹھ کر ٓاگ سینکنے لگا چونکہ یہاں ابھی تک سردی تھی ۔
”کوہیار آج تم یہاں سے چلے جاؤگے تو مجھے بہت برا لگے گا“ وہ بڑی معصومیت سے بولا۔
”تم بھی آجاؤ میرے ساتھ ”وہ ایک ڈندے سے کوئلے کی راکھ ہٹاتے اور نئی لکڑی ڈالنے لگا ۔
”انا مجھے جانے نہیں دیگی “ مصنوعی اداسی سے بولا۔
”اب اس بارے میں میں کچھ نہیں کر سکتا انا سے میں ٹکر نہیں لے سکتا“ کوہیار ہنس دیا کہ اتنا بڑا ٓادمی اپنی ماں سے ڈرتا تھا یا پھر انکی عزت کرتا تھا۔
”چلو ایک ریس لگاتے ہیں آخر میں اسلن جس کے ہاتھ پر بیٹھا وہ جیتے گا “ یاسین نے آنکھیں گھما کر کہا تو وہ ہنس دیا۔
”چلو ٹھیک ہے“ کوہیار نے ہامی بھر لی اور تھوڑی دیر بعد اس ہرے بھرے میدان میں وہ دونوں گھوڑےدوڑا رہے تھ کوہیار نے ایک کالا روایتی چغہ پہن رکھا تھا جو ہوا سے پھڑپھڑا رہا تھا چھوٹی سی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے تو دونوں نے اپنے ہاتھ اونچے کر رکھے تھے جس میں موٹے چمرے کا ایک حفاظتی دستانہ پہن رکھا تھا اور دور سے ایک عقاب اڑتا ہوا آیا جو تقریباً دو فٹ اونچا تھا اور اتنا ہی طاقتور لگ رہا تھا وہ اڑتا ہوا ٓایا اور سیدھا کوہیار کے ہاتھ پر بیٹھ گیا یاسین نے اسے اپنی زبان میں کتنے ہی اشارے کیے ٓاوازیں کسیں لیکن وہ جا کر کوہیار کے بازو پر ہی بیٹھا۔
”تم تو ہار گئے میرے یار“ کوہیار جتاتے ہوئے بولا۔
”میں تو میں ہوں میرے اسلن کا بھی دل جیت لیا ہے تم نے تو یار“ وہ اپنی ٹوپی اتار کے کوہیار کو دیکھنے لگا جو اسکے عقاب کو سہلا رہا تھا وہ ایسا ہی تو تھا ہر کسی کا دل جیتنے والا اسے باتوں کاہنر اتنا نہیں آتا تھا لیکن اپنے نرم لہجے اور مہربان طبیعت سے ٓاگے والے کا دل موہ لیتا تھا حقیقی زندگی میں صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے رویے سے ہی ہم لوگوں کے دل فتح کر سکتے ہیں ٓاج اسے ٓاسی سے ٓاگے ژائیلو کے میدانوں کی طرف نکلنا تھا جہاں ایک ایسے ہی سرسبز وادی کے درمیان ریسارٹ میں دو دن رک کر آگے جانا تھا کزاکستان رقبے کے لحاظ سے ایک بہت بڑا ملک ہے اس لیے بائک پر نکلتے ہوئے اسے بہت دن لگ سکتے تھےاور اسے کوئی جلدی بھی نہیں تھی نہ کوئی اسکا انتظار کررہا تھا نہ ہی اسکی ماں اس دنیا میں تھی جو اسکے لیے پریشان ہوتی دو چار دن بعد اپنے باپ اور بھائی کو ایک کال کرکے اپنی خیریت بتا دیتاتھا ۔
اپنے درد بانٹنے کو قدرت سے بہتر کیا چیز ہوسکتی تھی۔
غازیہ اور اسکی ٹیم کی میٹنگ تھی کیونکہ اب انکا کام زیادہ ہو چکا تھا اور انہیں بڑی جگہ اور زیادہ ورکرز کی ضرورت تھی وہ چاروں ٹیبل کے گرد کرسیوں پر بیٹھے تھے ثریا پورے ایک ہفتے بعد ٓائی تھی کیونکہ اسکا نکاح تھا اور کھلی کھلی سی انکے بیچ بیٹھی تھی جبکہ فینگ اور اسکے بوائے فرینڈ کا بریک اپ ہو گیا تھا اسلیے اسکا منہ پھولا ہوا تھا۔
”ہمیں ایک مارکیٹنگ منیجر کے لیے ایک ایڈ دینا چاہیئے اور ساتھ میں ایک اکاؤنٹ مینجر بھی چاہیئے “ غازیہ نے اپنے ٹیب پر کچھ لکھتے ہوئے کہا۔
”غازیہ سیریئسلی ہمارے یہ سب کام اے آئی کر سکتا ہے “ فینگ آج بڑی اکتائی ہوئی تھی۔
”سب کام اے آئی نہیں کر سکتا فینگ میرے ہزبنڈ ایک اے ٓائی فرم میں جاب کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ“ثریا کی بات منہ میں ہی تھی جب فینگ نے سکی بات کاٹی۔
”او پلیز ثریا بند کرو اپنا یہ ہزبنڈ نامہ پک چکی ہوں میں سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں وہ صرف تمہیں بیوقوف بنانے کے لیے خود کو جینیئس ثابت کرنا چاہتا ہے “ فینگ غصے سے بھری ہوئی تھی اور بیچاری ثریا پر اپنا غصہ نکالنے لگی۔
”ایکسکیوزمی! کیا مطلب سب مرد “ وہاں بیٹھا اکلوتا مرد اچھا خاصہ برا مان کر بولا۔
”کچھ غازیہ سے ہی سیکھ لو کتنی کامیاب ہے کیونکہ وہ کبھی ایسے جنجھٹوں میں نہیں پڑی تم بھی سال بعد رونے بیٹھو گی بہت اچھا کیا غازیہ جو اس بندے کا پرپوزل ٹھکرا دیا اپنی زندگی جیو اپنا کماؤ انڈیپنڈنٹ رہو “ فینگ اپنے لیے تو کچھ کر نہیں سکی غازیہ کو اب سبق دینے بیٹھی تھی جبکہ غازیہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی کہ کتنی آسانی سے یہ سب کہہ رہی ہے ۔
”نہیں غازیہ فینگ کی بات مت ماننا“ ثریا نے کہا تو فینگ غصے میں آکر ٓافس سے ہی باہر نکل گئی۔
”تم جو کر رہی ہو بہت اچھا ہے غازیہ آک کل کے دور میں عورت کا فائنینشلی مضبوط ہونا بہت ضروری ہے لیکن عورت کے لیے ایموشنلی سٹیبل ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے انسان اور خاص طور پر عورت محبت کے بغیر نہیں رہ سکتی یہ فینگ جیسی لڑکی پچاس جگہ سے دل تڑوا کر اب تمہیں سبق دے رہی ہے کہ تم شادی نہ کرو جب اللّٰہ پاک نے ٓادم کو بنایا تو انکے ساتھ ہی حوا کو بھی بنایا یہ قدرت کا نظام ہے یہ تو ہم انسانوں نے اس نظام کو بگاڑ دیا ہے “ اور غازیہ خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی جو ثریا کہہ رہی تھی وہ سب تو ٹھیک تھا لیکن جس طرح سے اس نے کوہیار کا دل توڑا ہے وہ اسکا مداوا کیسے کرے گی ۔
”لیکن ثریا میں نے اسے کھو دیا ہے وہ مجھ سے بہت دور جا چکا ہے“ ثریا کو لگا غازیہ کی آواز بھی گیلی تھی اور الفاظ بھی۔
”تمہارے پکارنے پر بھی نہیں ٓائے گا؟“ ثریا نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا ۔
”ٓائے گا لیکن میرے اس پر لگائے الزام کی چیخ اتنی بلند ہے کہ میری پکار اس تک پہنچ نہیں رہی“۔
”تم رب سے راستہ مانگو وہ خود ہی سبب بنا دیگا اللّٰہ سے جو مانگو گی وہ دے گا“ کہہ کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دی اور غازیہ بھی مسکرا دی اب اسکا نظریہ بالکل صاف تھا وہ جانتی تھی اسے کیا کرنا ہے۔
آسی سے ژائیلو کے میدانوں تک پہنچنے میں اسے تقریباً تین گھنٹے لگے یہ بھی اسی طرح کا سبزہ زار تھا ہزاروں ایکڑوں تک پھیلے گھاس کے میدان پہاڑوں کے پہاڑ گھاس سے ڈھکے ہوئے اور ساتھ قسم قسم کے رنگ برنگی پھول جب وہ اس ریزارٹ میں پہنچا تو شام کے اندھیرے چھانے لگے تھے اور سردی بھی اپنا زور دکھا رہی تھی یہ وادی اسی طرح تھی لیکن اسکے خیمے روایتی خیمے نہیں تھے بلکہ شیشے کے بنے ہٹ تھے وہ ریسیپشن کاؤنٹر پر آیا تو ایک پتلے اور لمبے لڑکے نے اسکا استقبال کیا اس سے پاسپورٹ اور بکنگ کی تفصیلات مانگنے لگا جب کوہیار نے اپنا پاسپورٹ دکھایا تو وہ لڑکا بڑے غور سے پاسپورٹ کو دیکھنے لگا کوہیار کو تھوڑا غیر معمولی سا احساس ہوا لیکن اس نے نظرانداز کر دیا اپنے مطلوبہ گلاس ہٹ کا کارڈ لے کر وہ تھوڑی دیر آرام کرنے اپنے ہٹ کے اندر آیا پلنگ پر لیٹا شیشے کے اس پار آسمان جگمگا رہا تھا ٓالودگی نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے ٓاسمان پر ناردرن لائٹس کا نظارہ اسے اپنے صحر میں جکڑے ہوئے تھی اور تب ہی اسکی آنکھوں کے آگے دو ٓانکھیں چمکتے ستاروں کی طرح نظر آنے لگیں۔
”تم مجھے کبھی چین لینے نہیں دو گی غازیہ امین“ خود سے کہتا آنکھیں بند کر گیا کہ وہ دو آنکھیں اسکی نیند اڑا دیں گی وہ نیند میں ڈوبنے لگا تھا کہ اسکے کمرے میں پڑا انٹر کام بجنے لگا پہلے تو اس نے نظر انداز کیا لیکن پھر سستی سے اٹھ کر رسیور کان سے لگا کر یس کہا اور آگے سے جو اس نے سنا اسکے ہوش اڑانے کو کافی تھا۔
”میری غلطی کیا اتنی بڑی تھی جو تم نے مجھے اتنی سخت سزا دی؟“ اسکی اواز میں درد تھا نمی تھی گلہ تھا پچھتاوا تھا اور یہ وہ وہ آواز تھی جو وہ ہزار آوازوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔
”میں تمہیں سزا کیسے دے سکتا ہوں غازیہ وہ تو پھر میری ذات پر ظلم ہوگا“۔
”بہت ڈھونڈا ہے میں نے تمہیں“ اسکے لہجے میں ہلکا سا گلہ تھا۔
”اور ایسا تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ غازیہ کچھ ٹھان لے اور وہ اسے نہ ملے“ وہ مسکرانے لگا تھا۔
”اچھا تو تم مجھے مل گئے ہو ؟“وہ بھی مسکرئی۔
”مل سکتا ہوں“ یہ کیسا احساس تھا اسے سرشار کر رہا تھا۔
”اچھا وہ کیسے“وہ انجان بنی۔
”اپنے گھر والوں کو تمہارے گھر بھیج کر آفیشلی مل سکتا ہوں“ جواب تو ہمیشہ سے تیار رکھا تھا۔
”اتنی جلدی مان بھی گئے ؟“ ۔
”وقت ضائع کرنا میرے اصولوںکے خلاف ہے “ وہ دوبدو بولا۔
”تم ٓال ریڈی تین مہینے لیٹ ہو اگر اب اور دیر کی تو میرا ارادہ بدل بھی سکتا ہے“ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی اور اس تین منٹ کال نے اس کے تین مہینے کا ملال دھو دیا وہ اب لیپٹاپ کھول کر بیٹھ گیا تاکہ اپنے لیے فلائٹ بک کر سکے اسے اب اور دیر نہیں کرنی تھی۔
”ایک بار اور سوچ لو غازیہ یہ بڑا رسک ہے“ اس نے تنبیہی انداز میں کہا۔
”میں فیصلہ کر چکی ہوں کوہیار اب تم مجھے پیچھے نہیں ہٹا سکتے ”اس نے فیصلہ کن لیجے میں کہا تو کوہیار سر جھٹک کر رہ گیا ۔
”اوکے اب دروازہ کھلنے والا ہے کوئی آخری خواہش؟“ جہاز کے اندر وہ سکائے ڈائیور اپناپیشہ ورانہ سوٹ پہنے اپنے چہرے پر آکسیجن ماسک لگا رہا تھا جب کہ وہ دونوں بھی سکائے ڈائیونگ سوٹ پہنے جہاز کے دروازے کے سامنے بیٹھے تھے کوہیار غازیہ کو دیکھ رہا تھا کہ کہیں وہ ڈر تو نہیں رہی ہے وہ جانتا تھ وہ بہادر ہے لیکن وہ جتنی بھی بہادر ہو اسکا خیال رکھنا اسکی زمہ داری تھی۔
”اوکے گائز تھری ، ٹو “ اور ون بولنے سے پہلے ہی دروازہ کھلا اور پیچھے سے دونوں کو اس گائیڈ نے دھکا مارا اور خود بھی انکے پیچھے کود گیا اور وہ دونوں ہوا میں پر پھیلائے ہوئے اڑ رہے تھے شادی کے وقت کوہیار کی ایک خواہش تھی کہ جب شادی والے دن انکی اینٹری ہوگی تو بڑی سکرین پر انکی وہی وڈیو چلے گی جو میٹرو میں بیٹھے اس چینی نے بنائی تھی اور اسکے بدلے غازیہ کی تین خواہشیں تھیں ایک تو کوہیار اسے سمندر کی گہرائیوں میں آئی لو یو بولے گا جو وہ دبئی میں سی ڈائونگ کے دوران بول چکا تھا ، دوسرا پہاڑ کی چوٹی پر بولے گا جو وہ ریو ڈی جنیرو کے دی کرائسٹ والے پہاڑ پر بول چکا تھا اور تیسرا اور آخری ٹاسک کہ کوہیار اسے آسمان میں اڑتے ہوئے ٓائی لو یو بولے گا کوہیار کو یہ سب سے آسان لگا کیونکہ جہاز میں بیٹھتے ہی اس نے بول دیا لیکن غازیہ تو پھر غازیہ ہے وہ نہیں مانی اور کوہیار کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ آج آسمان میں اڑ رہے تھے۔
”لو از ان دی ایئر مسٹر پرفیکٹ“ وہ اپنےبازو ہوا میں پھیلائے مائکرو فون سے بول رہی تھی اور انکے ایئر بڈز پر کمپیوٹرائزڈ آواز انہیں زمین سے دوری ناپ کر بتا رہی تھی اور کوہیار نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیے ۔
”مسز پرفیکٹ آئی لو یو آج کل ہمیشہ “ کوہیار اسکے ہاتھ تھامے ایئر فون میں کہہ رہا تھا ۔
جو نصیب میں لکھا ہے وہ ہمیشہ مل کر ہی رہتا ہے نہ وہ وقت سے پہلے ملتا ہے نہ نصیب سے زیادہ لیکن وہ سفر جو ہم اپنی منزل تک پہنچنے میں طے کرتے ہیں وہ بھی بڑا یادگار ہوتا ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں وہ ہمسفر ساتھ ہوتا ہے۔
(ختم شد)
