قسط نمبر 10
اب فکر مت کریں میں سنبھال لوں گی کوہیار کو ٹریک پر لانا میرا کام ہے ” وہ پھر سے پُر سکون ہو گئی تھی انیلہ گہری سانس بھر کر واپس کپڑے اٹھا کر نکلیں دروازہ کھولا تو اُنکو کرنٹ سا لگا ۔
”زا، زارون بیٹا ہم تو بس“ انیلہ کی سانس اٹک کر رہ گئی پتہ نہیں وہ کب سے یہاں کھڑا سن رہا تھا اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوئی تھیں الویرہ کا بھی سکون غارت ہوا وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
”زارون بیٹا “ وہ ابھی بھی لفظ ڈھونڈ رہی تھیں
”میری اپنی ماں اور بہن نے مجھے دھوکے میں رکھا “ اس نے اپنے سینے پر انگلی رکھے ان دونوں کو باری باری دیکھا وہ دونوں ہی شرم سے پانی ہوئی جا رہی تھیں۔
”اور میں آپ کی باتوں میں آ کر اپنا خاندان تباہ کرنے چلا تھا اپنی بیٹیوں کو زندگی بھر کا ٹراما دینے لگا تھا اپنی محبت سے دست بردار ہونے لگا تھا “ زارون پر غم اور غصے کی کیفیت طاری تھی جب کہ ان ماں بیٹی کو سانپ سونگھ گیا تھا اب انکے پاس وضاحت دینے کو کچھ نہیں رہا تھا ۔
”میں اب مہرالنساء کو کیا منہ دکھاؤں گا بولو جواب دو کیوں کیا تم نے ایسا؟“وہ حلق کے بل چلا رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا الویرہ کو زمین میں گاڑھ دیتا۔
”نہیں کرنی تھی تو مجھے یا بابا کوبول دیتی ایسا کیوں کیا؟“وہ اپنے بال مٹھیوں میں بھینچے پلنگ پر بیٹھ گیا الویرہ ششدر جبکہ انیلہ اسے رام کرنے کی کوشش کرنے لگیں ۔
”بس بیٹا بچی ہے غلطی ہو گئی معاف کردو“انیلہ بیٹے کو پچکارنے لگیں ۔
”وہ بچی ہے آپ تو سمجھدار تھیں آپ بھی اسکا ساتھ دیتی رہیں ؟ کتنے اعتماد سے میں نے مہر کو بولا تھا کہ کھوٹ اسکے بھائی میں ہے ”ٹھنڈے اور دھیمے مزاج والا زارون غصے سے پھٹ رہا تھا اسکی بات سن کر انیلہ شرمندگی سے پانی پانی ہونے لگیں اور وضاحتیں دینے لگیں۔
”مجھے کچھ نہیں سننا امی بہت سن چکا میں آپ کی “ کہہ کر غصے میں تن فن کرتا وہ الویرہ کے کمرے سے نکلا جبکہ پیچھے وہ دونوں ہکا بکا کھڑی رہ گئی ۔
————————————
ظاہرہ ، غازیہ کی اغوا کی خبر سن کر تین دن اپنے کمرے نہیں نکلیں انہیں لگ رہا تھا وہ بیمار ہیں ابھی بھی خانسامہ کمرے میں چائے پہنچا کر آیا طبعیت بہت مقدر تھی ابّا کتنی دیر انکے پاس بیٹھے انہیں دلاسے دیتے رہے ۔
”پریشان کیوں ہوتی ہو تمہاری شیر بیٹی ہے ایسے ہی تو ڈرنے والی نہیں “ وہ بار بار کی دہرائی بات پھر سے کہنے لگے ۔
”میں کہاں پریشان ہوں “ انداز عجیب کلفت زدہ روٹھا ہوا سا تھا کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کچھ بھی ہو جاتا ظاہرہ گھر کے کام کام والوں کے سپرد کبھی نہیں کرتی تھیں اب بھی اپنی دوائی لے کر دوبارہ لیٹ گئیں ۔
”اس طرح کرو گی تو اور بھی زیادہ بیمار ہو جاؤ گی “ ابّا نے پھر سمجھایا ۔
”اچھی طرح سمجھتی ہوں آپکو میرا آرام کرنا کھٹک رہا ہے “ وہ اب کے غصے میں بولیں تو ابّا کی جگہ عبداللہ کو آواز آئی ۔
”امی دیکھیں میں کیا لایا ہوں ”عبداللہ نے کہا پھر بھی ظاہرہ نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔
”وہیں کچن میں رکھ دو ” لیٹے لیٹے ہاتھ جھلّا کر کہا ۔
”امی “ غازیہ کی آواز تھی ظاہرہ نے مڑ دیکھا تو وہ دروازے کے سامنے کھڑی تھی ۔
”میری بچی“ ظاہرہ کے دل سے آواز نکلی غازیہ نے انہیں گلے لگایا ۔
”کتنا ڈر گئی تھی میں تمہیں نہیں پتہ غازیہ “ آنسو اُنکے آنکھوں سے جاری تھے جسے غزیہ اپنے انگلیوں کی پوروں سے صاف کئے جا رہی تھی ۔
”دیکھ لیں مجھے بالکل فٹ آپکے سامنے کھڑی ہوں “ غازیہ سر سے پیر تک اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
”اب ماں کا دل ہے کیا کروں “ وہ برا مانتے ہوئے بولیں لیکن بہت خوش اور مطمئن تھیں۔
”اب تو اس کمرے سے نکل آئیں امی “ عبداللہ نے اکتا کر کہا وہ سب ،گھر میں چلتی پھرتی ظاہرا کی کمی محسوس کر رہے تھے ۔
”اور میرے لیے ایک زبردست چائے بنوائیں الائچی والی چینی روک کے پتی ٹھوک کے “ ظاہرہ جو اتنے دن سے بستر پر پڑی تھیں اٹھ کر باورچی خانے کی طرف چل دیں اور چائے کے ساتھ اور بھی انتظامات کرنے لگیں ۔
”اچھا ہوا تم آگئیں امی کی عجیب سی حالت ہو گئی تھی “ عبداللہ وہیں صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے ۔
”جی اور جو ٹکٹ کا خرچہ ہوا ہے ناں بھائی میرا بجٹ ہی آؤٹ ہو گیا “ وہ نروٹھے پن سے بولی تو عبداللہ ہنس دیے ظاہرہ کی حالت خراب ہونے کے بعد عبداللہ نے غازیہ کو کچھ دنوں کے لیے آنے کا کہا حالانکہ ابھی اسکا آخری سیمیسٹر چل رہا تھا لیکن یونیورسٹی کی ایک سہولت یہ تھی کہ کہیں سے بھی آنلائن اینرول کر کے کلاس ایٹنڈ کر سکتی تھی اس لیے وہ بھی آگئی۔
”مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا شاہویر نے اتنی گھٹیا حرکت کی ہے“ عبداللہ سوچ رہے تھے جو بندہ انکے گھر آچکا تھا سمیع کا دوست ہونے کے باوجود اسنے ایسی حرکت کیوں کی۔
”اور پتہ نہیں ابھی کہاں چھپا بیٹھا ہے“ غازیہ نے تشویش سے کہا۔
”خیر انکوائری چل رہی ہے کچھ ہی دنوں میں پتہ چل جائے گا پھر اسکے ٹکڑے تو میں سلامت نہیں رہنے دوں گا“ عبداللہ بھائی کو نئے سرے سے غصہ آنے لگا جب کہ غازیہ شاہویر کی عبداللہ بھائی کے ہاتھوں درگت ہوتے سوچ رہی تھی۔
————————————
صدیقی ایک نسبتاً کچے علاقے میں اپنی گاڑی سے اتر کر ایک پرانی بوسیدہ عمارت کی طرف جا رہا تھا بجلی نہیں تھی ہر طرف اندھیرا تھا اپنے موبائل کا ٹارچ جلائے بڑبڑاتا وہ ایک اندھیر گلی میں مڑا تو کسی چیز میں پَیر رپٹا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا اور زمین پر بڑی زور سے گرا اور وہ کراہنے لگا تبھی ایک کالا سایہ سا اس پر جھکا ۔
”شاہویر “ صدیقی نے شاہویر کو دیکھا کہ گویا تصدیق چاہی کیوں کہ اندھیرا تھا ۔
”ہاں میں“ اس نے اپنا ہاتھ صدیقی کی طرف بڑھا کر اسے اٹھنے میں مدد دی اور عمارت کے اندر لے گیا یہ تین منزلہ عمارت بالکل خالی تھی شیشوں پر کارڈ بورڈ لگی تھی اس لیے اندر لگے سولر بیٹری سے چلتی یہاں کی بجلی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ صدیقی اندر آیا اور اطراف کا جائزہ لیا اندر ہر سہولت موجود تھی ٹی وی ،فریج، ڈسپنسر اور کچن میں کھانے پینے کا ہر سامان ۔
”تم نے اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کتنی بڑی مصیبت میں پھنسایا ہے “ صدیقی نے اُسکی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہا جب کہ وہ فریج کے سامنے جھکا سوفٹ ڈرنک کا کین نکال رہا تھا ۔
”کوہیار کتنا شاطر ہے تم جانتے تھے پھر بھی “ وہ ابھی بھی شاہویر کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کاٹ کھائے گا شاہویر مدھم چال چلتا اس کی طرف آیا اور سوفٹ ڈرنک کا کین اسکی طرف بڑھایا ۔
”کوئی حل ہے اب اسکا ؟“ اسکی خاموشی سے اکتا کر صدیقی بولا تو شاہویر نے خشمگین نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
”تمہیں کیا لگتا ہے میں نہیں جانتا تم اور آفاق کیا کھچڑی پکا رہے ہو سارا مال بٹور کر مجھے پھنسا لوگے “ وہ اسے غصیلی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا جبکہ صدیقی نے تھوک نگل کر اپنے کین سے گھونٹ بھرا ۔
”میری بات کان کھول کر سنو صدیقی اگر مجھے دھوکہ دینے کا خیال بھی تمہارے دماغ میں آیا ناں تو کسی کو منہ دکھانے قابل نہیں چھوڑوں گا یاد رکھنا “ بہت ہے سرد لہجے میں کہہ کر شاہویر سیدھا ہوا جبکہ صدیقی اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کرنے لگا اپنے ڈیپارٹمنٹ میں کتنی ہی بے ایمانیاں کرنے کے باوجود ہمیشہ صفائی بچ جاتا تھا لیکن اس بار بہت غلط جگہ پھنس گیا تھا جہاں سے نکلنا بہت مشکل لگ رہا تھا اب بیٹھ کر اس دن کو کوس رہا تھا جب شاہویر سے اسکی ملاقات ہوئی ۔
————————————
الویرہ آدھے گھنٹے سے اوشین ٹاور کے بلڈنگ لاؤنج میں بیٹھی تھی کالے رنگ کے سوٹ میں جس کی چھوٹی قمیض اور کھلے پینچوں والا کُھلا ٹراؤزر تھاگولڈن ہائلائٹ بال اچھے سے بلو ڈرائی کئے نفاست سے کیا میک اپ اسے بہت دل کش بنا رہا تھا ناک میں پہنی چھوٹی سی لونگ اسکے چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا تھا اور آج وہ یہاں صرف کوہیارکے انتظار میں بیٹھی تھی کیوں کہ کوہیار کا جم اسی بلڈنگ کے اٹھارویں فلور میں تھا کافی دیر بعد لفٹ سے تر و تازہ باہر نکلا کیونکہ اسکے جم میں پرائیویٹ باتھ اور سپا وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے اس لئے وہ پسینے میں تر نہیں تھا گرے رنگ کی پولو شرٹ اور بیج جینز میں بالوں کو اچھے سے جمائے اپنی سلور ڈائل کی گھڑی میں پاکو رابین ون ملین کی خوشبو سے پورے لاؤنج کو مہکاتا الویرہ کے پاس سے گزر کر جانے لگاالویرہ کو اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ وہ اتنی حسین لگ رہی تھی لیکن کوہیار نے اسکو دیکھنا بھی گوارہ نہ کیالیکن پھر بھی جی کڑا کر کے اُسے پکارا اس نے مڑ کر دیکھا اور الویرہ کو دیکھتے ہی اسکی رنگت متغیر ہوئی اور اسکے جبڑے بھنچ گئے ۔
”کوہیار مجھے تم سے بات کرنی ہے “ ایک دلکش مسکراہٹ چہرے پر لیے وہ کوہیار کے سامنے رک کر بولی لیکن الویرہ کو لگا وہ کوہیار ہی ہے پہاڑ کی طرح مضبوط اور سخت وہاں سے کوئی گرم جوشی اور احساس نہ پا کر الویرہ کنفیوز ہونے لگی لیکن خیر اتنی جلدی وہ ہار ماننے والی نہیں تھی ۔
کوہیار نے ایک نظر اسکی طرف دیکھ کر نظریں پھیر لیں اور بلڈنگ کے مال کے ایک بڑے کیفے کا ایک داخلی راستہ اس لاؤنج میں کھلتا تھا ۔
”اس طرف چلیے “ کوہیار نے جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اس راستے کی طرف اشارہ کیا ۔
تو برف آہستہ آہستہ ہی پگھلے گی الویرہ دل میں سوچ کر مسکرائی اور اسکے پیچھے چل دی ۔
منٹ گرین اور بیج رنگ کے تھیم کے کیفے کا ماحول بہت آرام دہ تھا کوہیار ایک میز کی طرف بڑھا اور کرسی کھینچ کر الویرہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”جینٹل مین “ وہ سوچ کر مسکرا دی اور کرسی پر بیٹھ گئی کوہیار بدل گیا تھا وہ لاابالی سا لڑکا جو گجرے لے کر اسکے انتظار میں کھڑا تھا وہ تو کہیں نہیں تھا بڑھے بال رنگت قدرے صاف، چہرے پر سنجیدگی کوہیار بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور نظریں شیشے سے باہر دورتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھیں اور الویرہ کی بے چین نظریں اُسے ۔
”کوہیار ! کیسے ہو ؟“ اس نے بات شروع کی ۔
”ٹھیک ”اس نے کندھے اچکا کر نظریں اسکی طرف موڑ کر کہا اسکی نگاہوں میں ایسا صحر تھا کہ الویرہ ڈوبنے لگی تھی اور اپنے زندگی کے اتنے سال شاہویر کے پیچھے ضائع کرنے کا دل ہی دل افسوس کرنے لگی۔
”بولو کیا کہنا ہے؟“ وہ اسکی طرف بڑی اجنبیت سے دیکھ کر بولا۔
”وہ میں“ وہ جو جو سوچ کرآئی تھی سب بھول گئی اسی لمحے کوہیار نے ویٹر کو بلا کر الویرہ کے لیے فریپ منگوایا۔
”میں چاہتی ہوں شادی سے پہلے ہم اپنے درمیان سب کلیٔر کر دیں “ آہستہ آہستہ اسکی ہمت بحال ہونے لگی کوہیار خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
”تاکہ شادی کے بعد ہم ان الجھنوں میں نہ پڑیں “ وہ بڑے اعتماد سے کہنیاں میز پر رکھ کر بولی لیکن ٓاگے پھر وہی خاموشی ۔
”میں جانتی ہوں تم یہی سوچ رہے ہوگے کہ میں نے اتنے عرصے بات کیوں نہیں کی شاید میں اپنی پڑھائی میں اتنی مصروف تھی کہ مجھے لگا میں ابھی اس رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں“ وہ اسکی طرف بنا پلکیں جھپکے بولی جبکہ وہ کرسی کے ہتھے پر کہنی رکھے نظریں جھکائے اسے خاموشی سے سن رہا تھا۔
کتنے ہی لمحے خاموشی کی نظر ہوئے کہ اب الویرہ کو اس خاموشی سے الجھن ہونے لگی۔
”کچھ تو بولو کوہیار ”وہ بے چینی سے بولی۔
”میں کچھ سمجھا نہیں الویرہ آپ کی آج کی کہی بات آج سے سات سال پہلے کہی بات سے بالکل مختلف ہے ویسے بہت اچھا ہوا آپ خود ہی بات کرنے ٓاگئیں“اسکا ٓاواز مدھم لیکن بیت مضبوط تھی الویرہ کی ہتھیلیاں پسینے سے تر ہوگئیں۔
”سات سال پہلے کی کہی بات کسے یاد رہتی ہے اور تم مجھ سے اتنا فارملی کیوں بات کر رہے ہو ہماری شادی ہونے والی ہے“ وہ بار بار اس ایک بات کو دہرا کر یا تو اسے یا تو خود کو باور کروا رہی تھی کہ انکے بیچ کوئی رشتہ ہے۔
”جہاں تک مجھے یاد ہے آپ کے نزدیک اس رشتے کی کوئی حیثیت نہیں تھی مجھے نہیں معلوم اوور نائٹ کیا ہو گیا “ کوہیار نے اب اسکی ٓانکھوں میں دیکھ کر کہا اور الویرہ کی رنگت اس بات کو سن کر متغیر ہو گئی ۔
”میں نے کہا ناں اپنی پڑھائی کی وجہ سے میں ریڈی نہیں تھی “ لیکن اعتماد اب بھی بحال تھا۔
”میں کوئی بچہ تو نہیں الویرہ مجھے تمہاری کہی ہر بات یاد ہے شاید تم بھول گئی ہو“ کوہیار نے اسکی طرف دیکھ کر سپاٹ لہجے میں کہا ۔
”اب جو گزر گیا وہ وقت میں واپس نہیں لا سکتی لیکن ہم نئے سرے سے شروع کر سکتے ہیں ”اور اسکی یہ بات سن کر کوہیار طنزیہ مسکرا دیا۔
”اب میرے دل میں اسکی گنجائش نہیں رہی“ اس نے واضع الفاظ میں انکار کر دیا جبکہ الویرہ یہ سن کے پتھر کے صنم کی طرح اسے دیکھنے لگی اسکا یقین کہ کوہیار مان جائیگا چھناکے سے ٹوٹ گیا وہ بولنے کے لیے الفاظ تولنے لگی جب ویٹر نے فریپ لا کر الویرہ کے سامنے رکھا تب ہی کسی نے الویرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”الویرہ یہ تم ہو ناں اوہ! کتنے عرصے بعد تمہیں دیکھ رہی ہوں “ ادینہ الویرہ کی طرف بڑھی الویرہ کو یہ مداخلت بہت ناگوار گزری لیکن اپنے چہرے پربشاشت لاتے ہوئے کھڑی ہوئی اور اس سے ملنے لگی۔
”لانگ ٹائم ادینہ“ الویرہ اس سے گلے ملتے ہوئے بولی۔
”ان سے ملو میرے فیانسی کوہیار “ اس بات پر کوہیار نے بھنویں بھینچ کر اسکی طرف دیکھا کچھ کہنے سے پہلے ہی ادینہ نے اسے غور سے دیکھا۔
“ اس سے ملو میری بیسٹ فرینڈ غازیہ“ کوہیار کی طرف دیکھتے ہوئے غازیہ کا تعارف کروایا غازیہ جو فون پر کسی سے بات کر رہی تھی ادینہ کے پیچھے سے نکل کر آئی کریم کلر کے سادہ سے قمیض اور ٹرائوزر کے ساتھ افریکن بلیک ٓارٹ کا نیلے رنگ کی ایمبرائڈری والا دوپٹہ پہنے اور بالوں کی فرنچ چوتی گندھی ہوئی تھی ، گلے میں وہی ایمرالڈ گرین سی شیل والا لاکٹ پہنا تھا فون بیگ میں رکھا اور دیکھا تو سامنے کوہیار بیٹھا تھا جسے وہ لڑکی اپنا منگیتر بتا رہی تھی اور لاتعلق بیٹھے کوہیار نے غازیہ کا نام سنتے ہی جھٹکے سے سر اٹھایا اور
وہ نظریں بس دیکھتی تو نہیں تھیں
وہ ایک خاموش نظم گنگناتی تھیں
وہ بس ایک نظر کہہ گئی
کہ یہ وقت گزرا تو بس صبر کر کر کے
کوہیار غازیہ کو دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا لیکن غازیہ کی نظروں میں بلا کی اجنبیت اور سرد پن تھا جسے کوہیار نے بہت شدت سے محسوس کیا وہ سرد نگاہیں جو کہہ رہی تھیں تم میرے نہیں ہو اور وہ آخری تلخ ملاقات ۔
الویرہ نے حیرانی سے کوہیار کو دیکھا کیونکہ غازیہ کو دیکھ کر اسکے چہرے پر جو رنگ بکھرے تھے وہ الفاظ کے محتاج نہیں تھے پھر غازیہ سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا جسے غازیہ نے تھام لیا۔
”نائس ٹو میٹ یو، ایکسکیوزمی“کہتے ہی وہ کیفے سے بہت تیزی سے باہر نکلی ادینہ بھی اسکے پیچھے لپکی۔
”کیا ہوا غازیہ ؟“ ادینہ نے غازیہ کی عجیب ہوتی رنگت دیکھ کر پوچھا۔
”کچھ نہیں “ اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور مال کے راستے باہر اپنی گاڑی کی طرف آئی۔
”کیا ہوا اتنی جلدی کیا ہے تم نے تو کہا دیر تک بیٹھ کر باتیں کریں گے“ ادینہ اسکی عجلت دیکھ کر حیران ہوئی اور اسکے ساتھ تیز تیز چلتی پارکنگ تک ٓائی۔
”بس میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں “ اپنی گاڑی میں بیٹھی اور ادینہ سے الوداعی کلماات ادا کر کے نکل گئی جبکہ ادینہ اسکے اس رویہ پر حیران رہ گئی۔
کیفے میں کوہیار اپنی جگہ منجمد سا کھڑا رہا الویرہ کچھ کہہ رہی تھی لیکن وہ سن نہیں رہا تھا وہ کوہیار جو اپنے خلاف ہر محاز پر دشمن کو چاروں شانے چت کر دیتا ہے ٓاج وہ ایسے موڑ پر آکر کھڑا ہے کہ نہ اسکے پاس اپنا دفاع کرنے کو کچھ تھا اور نہ سامنے کسی کو دفاع چاہیئے تھا وہ بہت غلط جگہ تھا اسے یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا اور ہر گزرتے لمحے وہ اسے اپنی دسترس سے دور لگنے لگی تھی۔
مہرالنساء ابھی ابھی نماز سے فارغ ہو کر کھڑی ہوئی دونوں بچیاں کمرے میں لیگوز کا ڈھیر لگائے کچھ بنا رہی تھیں وہ خود بھی ٓاکر انکے ساتھ بیٹھ گئی۔
”ٓاج کیا بنا رہی ہو ایشل ”مہرالنساء نے چوکڑی لگا کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
”ماما ہم کاسل بنا رہے ہیں “ جواب یشل نے دیا ۔
”ہم سے تو نہیں بن رہا ماما ،ڈیڈا ہوتے تو بنا لیتے “ چھوٹی والی ایشل نے جواب دیا تو مہرالنساء کو لگا کسی نے اسکے دل پر پیر رکھ دیا ہو مائیکا چاہے جتنا بھی اچھا ہو عورت کی اصل جگہ اسکے شوہر کا گھر ہی ہوتا ہے یہ بات اسکے دل کے ٹکڑے کر رہی تھی اگر زندگی میں کسی لڑکی کو شادی کے بعد اپنے لیے سٹینڈ لینا پڑا تو پھر اس پر قائم رہنا جگر چیر دیتا ہے تب جا کر اپنا حق ملتا ہے یا پھر زندگی بھر کی تنہائی ۔
”ہم کب جائیں گے ڈیڈا کے پاس“ یشل نے پوچھامہرالنساء کا دل ٹکڑوں میں ٹوٹنے لگا لیکن چہرے پر ایک جبری مسکراہٹ لائی۔
”بہت جلد میری جان“وہ اسکے بال، سہلا کر بولی تو اسے شاید یہ خبر نہ تھی کہ اسکی دعا اتنی جلدی قبول ہوگی کیونکہ تھوڑی دیر ہی گزری تھی زمان اسکے کمرے میں دستک دے کر داخل ہوا۔
”مہر نیچے چلو زارون آیا ہے“ وہ کہہ کر چلے گئے لیکن مہرالنساء کتنی دیر وہیں بیٹھی رہ گئی ۔
کافی دیر بعد وہ نیچے گئ تو ایشل اور یشل پہلے ہی وہاں زارون کے پہلو میں بیٹھے تھے اور زارون انہیں پیار بھی کر رہا تھا اور انکی باتیں بھی سن رہا تھا ذولفقار عالم شاہ بھی وہیں بیٹھے تھے ۔
”انکل میرا گھر اور بچے ڈسٹرب ہیں ٓاپ پلیز مہرالنساء کو سمجھائیں وہ واپس ٓاجائے “ وہ کہہ کر چپ ہوا مہرالنساء کو اسکی اواز ٹوٹی سی لگی وہ کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔
”دیکھو بیٹا یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے یہ صرف مہرالنساء ہی نہیں بلکہ کوہیار کی زندگی کا بھی سوال ہے اور غلطی ہماری ہی ہے اس وقت اگر اپنے بچوں کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے ہم ان کی رائے یا منظوری لے لیتے تو شاید ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا“ ذولفقار کی بات سے زارون خود بھی متفق تھااور شرمندہ بھی اسکے پاس الفاظ بھی نھیں تھے ان گزرے ماہ و سال کی تلافی کا جو کوہیار اور مہرالنساء کے دلوں پر گزری۔
”میں ٓاپ سے سو فیصد متفق ہوں انکل لیکن ٓاپ بتائیں اس میں مہرالنساء اور میرا یا پھر ہماری بیٹیوں کا کیا قصور ہے اس سارے سیناریو میں سب سے زیادہ ہم سفر کر رہے ہیں“ زارون کے لہجے میں دکھ تھا ۔
”ٓاپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن اس سب کا احساس ٓاپ کو پہلے کیوں نہیں ہوا اب جب مہرالنساء نے سٹینڈ لیا تو ٓاپ کو احساس ہوا کہ ٓاپ کا گھر ٓاپ کے بچے متاثر ہو رہے ہیں ٓاپ کچھ دن بھی اس بوجھ کو بردشت نہ کر پائے جبکہ میری بیٹی پانچ سال سے یہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہے “ ذولفقار کا لہجہ ہر لفظ کے ساتھ سخت ہوتا جا رہا تھا۔
”لیکن انکل مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا “ اسکی ٓاواز خود اسے ہی کمزور محسوس ہوئی۔
”تمہیں معلوم اس لیے نہیں تھا کیونکہ تم نے میری بیٹی کو سب سے ٓاخر میں رکھا تھا وہ تمہاری پرائیورٹی تھی ہی نہیں تم نے کبھی سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ وہ تم سے کیا کہ نا چاہتی ہے اور اب تم مجھے لیکچر دے رہے ہو تمہارا گھر تمہاری بیٹیاں میری بیٹی کا کیا زارون؟“ ذولفقار بہت سخت لہجے میں اسکے چودہ طبق روشن کر گئے زارون بالکل خاموش سر جھکائے صوفے پر بیٹھا لب کاٹ رہا تھا باہر کھڑی مہرالنساء سن سی کھڑی رہ گئی ذولفقار کا یہ رویہ اسے بھی حیران کر رہا تھا یہ سچ ہے اگر بیٹی کے ساتھ اسکا باپ کھڑا ہو تو کسی میں جرات نہیں اسے دکھ پہنچا سکے ۔
”اگر عورت کا گھر میں ایک حصہ ہوتا ہے تو مرد کو دو حصے ڈالنے چاہیئے کیونکہ مرد دو عورتوں کی جگہ گواہی دیتا ہے جائیداد میں مرد کو دو عورتوں کا حصہ دیا جاتا ہے کیونکہ مرد کو عورت پر ایک درجہ فوقییت ملی ہے تو درگزر بھی مرد کو زیادہ کرنا چاہیئے نہ کہ بات بات پر اسے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی جائےاور آئندہ اگر تمہاری وجہ سے میری بیٹی کے ٓانکھوں میں آنسو ٓائے تو یاد رکھنا اسکا باپ زندہ ہے “ انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ ۔
”میں وعدہ کرتا ہوں انکل میری وجہ سے مہرالنساء کو کوئی دکھ نہیں پہنچے گا کوہیار اور الویرہ کے رشتے کی ٓانچ بھی اس پر نہیں پڑنے دونگا بس ٓاپ اسے میرے ساتھ چلنے کی اجازت دے دیں “ زارون منت بھرے لہجے میں بولا کیونکہ اپنی بہن کی حرکتوں کی حقیقت جان چکا تھا اب کم از کم وہ اتنی بڑی بے وقوفی نہیں کر سکتا۔
”ابھی نہیں زارون جب تک کوہیار کا مسئلہ بھی حل نہیں ہو جاتا تب تک مہرالنساء کہیں نہیں جائے گی “ ذولفقار کے ساتھ بیٹھے زمان نے کہا تو زارون نے ایک سرد ٓاہ بھری کہ اب یہ مسئلہ اس نے ہی حل کرنا تھا۔
———————————
غازیہ لاؤنج میں صوفے پر پیر پسارے ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ظاہرہ ٓاکر اسکے پاس بیٹھی ۔
”امی کھانے میں کیا ہے ؟“ ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر اس نے پوچھا ۔
“ ریشمی ہانڈی ، پلاؤ اور ساتھ میں تمہارے لیے ٓائس کریم منگوائی ہے ”انہوں نے بہت پیار سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”واہ ! ٓاج کوئی مہمان ٓارہا ہے کیا؟“اس نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر پوچھا ۔
”نہیں تو بس ٓاج میں بہت خوش ہوں“وہ صوفے پر ٹیک لگا کر گال تلے ہاتھ رکھے اسے بہت پیار سے دیکھنے لگیں ۔
“ اچھا لیٹ می گیس ! ٓاپ کو بابا کے چھپائے پیسے ملے ہیں “ اس بات پر انہوں نے مایوسی سے نہ میں سر ہلایا ۔
”ٓاپ دادی بننے والی ہیں “ اب بھی نہ میں سر ہلایا۔
”ٓاپ کی لاٹری لگی ہے“ غازیہ نے چٹکی بجا کر کہا۔
”ارے نہیں ! تمہاری خالہ کا فون ٓایا تھا ٓاج صبح انہوں نے عبید کے لیے تمہارا ہاتھ مانگا ہے“ ٓاخر بلی تھیلے سے باہر ٓاہی گئی اور غازیہ نے اپنا سر پکڑ لیا ۔
”لندن میں بیرسٹر ہے اپنا گھر اپنی گاڑی اور بڑا نیک شریف بچہ ہے میں تو ٓاج ہی تمہارے بابا سے بات کرکے ہاں کر دوں گی“ ظاہرہ بڑے مزے سے کہہ کر چپ ہوئی اور بہت خوش بھی تھیں۔
”امی سب کو پتہ ہے عبید کتنا نیک اور شریف ہے لندن میں رہتا ہے اسکا یہ مطلب نہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے میں کبھی اس سے شادی نہیں کروں گی بول دیں خالہ کو“ غازیہ نے دو ٹوک انکار کر دیا تو ظاہرہ کا پارہ چڑھنے لگا ۔
”تو کیا کرو گی تمہاری عمر کی ساری لڑکیاں اپنے گھروں کی ہو گئی ہیں اور اس مہارانی کے لیے جو رشتہ ٓاتا ہے ٹھکرا دیتی ہے “ ظاہرہ کو اب واقعی میں اس پر بہت غصہ چڑھ رہا تھا ۔
”مجھے بہت سارے پیسے کمانے ہیں امی میرا ابھی کوئی ارادہ نہیں“ غازیہ کندھے اچکا کر بولی۔
”کیا کرو گی پیسے کا باپ بھائی ہیں تمہارے پیسے کمانے “ ظاہرہ کا بس نہیں چل رہا تھا چپل اتار کر مارے اسے۔
”امی یاد ہے جب اسراء کا سسرال میں جھگڑا ہوا تھا اور عمار بھائی نے اسے گھر چھوڑ کر جانے ک لیے کہا تھا تب ان باپ بھائیوں نے اسے گھر کیوں لے کر نہیں دیا تھا میرے پاس اتنی طاقت تو ہونی چاہئے کہ میں اپنا ایک گھر تو لے سکوں اور ویسے بھی اس گھر کو چلانے کی ذمہ داری میری بھی ہے تو فی الحال مجھے وہ کرنے دیں“ کہہ کر صوفے سے اٹھی اور چپل پہن کر باہر جانے لگی ۔
”اس بار تمہاری نہیں چلے گی غازیہ میں بتا رہی ہوں“ ظاہرہ نے پیچھے سے پکارہ لیکن وہ گھر سے باہر نکل کر پارک کی طرف ٓاگئی شام کا وقت تھا بہت سے لوگ چہل قدمی اور جاگنگ کرنے آئے تھے وہ ٓاکر ایک تنہا بینچ پر بیٹھ گئی بالوں کا ڈھیلا جوڑا باندھا تھا ہوا چلنے سے لٹیں اسکے چہرے پر گر رہی تھیں اس نے ٓانکھیں موند لیں اور گہری سانسیں بھرنے لگی دل کی حالت بیاں سے باہرتھی جس رشتے کے لیے اسکی ماں زور دے رہی تھی اسکی حقیقت وہ اچھے سے جانتی تھی عبید ان مردوں میں سے تھا جو بیوی کو صرف گھر کی ملازمہ کے طور پر ہی بیاہ کر لاتے ہیں اور اپنا ہر شغل باہر جا کر پورا کرتے ہیں تو پھر ایسے احساس سے ٓاری رشتے کا کیا فائدہ جو کل کو گلے کا ہار بن جائے رشتہ تو ایسا ہو کہ۔۔۔
”مجھے پتہ ہے تم نے بھی ناشتہ نہیں کیا ”
”کیونکہ کوہیار کو کبھی کسی نے غازیہ کے ساتھ نہیں دیکھا“
”تم ٹھیک تو ہو غازیہ“ اپنا زخمی چہرہ بھلائے وہ پوچھ رہا تھا ۔
بنگالیوں کے کیفے سے بھاگتے وہ دونوں۔
اس میٹرو کے بند ہوتے دروازے پار کھڑا وہ۔
اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی۔
”مائنڈ یوئر بزنس“
”ان سے ملو میرے فیانسی کوہیار“ اور یہ جملہ اسے خواب سے جگانے کے لیے کافی تھا ۔
“ میں کیوں اپنے رستے سے بھٹک رہی ہوں کیوں وہ میری سوچوں پر ہاوی ہو رہا ہے جب ہمارا کوئی فیوچر ہی نہیں، ابھی تو بڑے دھڑلے سے ماں کے سامنے کہہ ٓائی کہ مجھے پیسے کمانے ہیں ایک دم سے کیوں بھول گئی “ بینچ سے ٹیک لگائے خود کو خود درست کر رہی تھی اور اپنے ساتھ بڑی گہری گفتگو میں تھی جب سے کوہیار کو الویرہ کے ساتھ دیکھا تھا دل میں عجیب سی جلن تھی جی ہاں جلن ، جسے کبھی کوئی مانتا تو نہیں لیکن ہوتی سب کو ہے وہ کم تو نہیں ہوئی تھی لیکن خود پر قابو پا گئی تھی۔
اب وہ قدرے بہتر محسوس کر رہی تھی جب سامنے سے زیمل ٓاتی دکھائی دی اور اسے دیکھ کر غازیہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا زیمل عبداللہ بھائی کی سالی تھی جو کچھ دنوں سے حمنا بھابھی کے پاس رہنے آئی تھی اسکی منفی خصلت کا پورے خاندان کو علم تھا ۔
”دو دن ہو گئے ہیں مجھے یہاں ٓائے لیکن غازیہ میڈم کہیں نظر نہیں ٓاتی “ غازیہ نے اٹھ کر اس سے مصافحہ کیا اور وہ دھپ سے وہیں بینچ پر غازیہ کے پاس بیٹھ گئی ۔
“ اصل میں میری آنلائن کلاسز بھی چل رہی ہوتی ہیں ناں “ غازیہ نے مسکرا کر کہا ۔
”شکر ہے میں ان جھنجھٹوں میں نہیں پڑی ہزار مردوں کے بیچ میں کہاں خوار ہوتی سلام ہے تمہاری ہمت کو “ وہ ہاتھ جھلا کر بولی چنگاری ایسے جلاتی تھی ٓاگے والے کو اپنے دفاع کا کوئی راستہ نہیں دیتی تھی ،غازیہ بس تاؤ کھا کر رہ گئی۔
”چائنہ میں بزنس اچھا چل رہا ہے ناں ؟“ سوال پر سوال، غازیہ بس سر ہلا کر رہ گئی اسے اب کوفت ہونے لگی اسکا دماغ پہلے ہی پلپلا تھا اب یہ زیمل پتہ نہیں کہاں سے ٹپک پڑی۔
”ہاں اچھا چل رہا ہے “ اس نے بس مختصر جواب دیا۔
”ظاہر ہے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ بزنس کرتی ہو اچھا تو ہوگا ہی“ وہ ذومعنی لہجے میں بولی اور غازیہ کے کان کھڑے ہو گئے اور وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“ کوہیار عالم شاہ کے ساتھ بھی تو بزنس کرتی ہو ناں ٓاپی نے عبداللہ بھائی کے فون میں تمہاری وڈیو دیکھی تھی اسکے ساتھ “ اب زیمل بڑی کٹیلی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
غازیہ کی رنگت فق ہوئی تو زیمل کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری ، اور اگر ٓاج غازیہ چپ رہی تو یہ لوگ اسکا جینا حرام کر دیں گے اور لحاظ بھی ان لوگوں کا کیا جاتا ہے جو ٓاگے سے آپ کی عزت کی قدر کریں۔
”تم کس وڈیو کی بات کر رہی ہو زیمل ”۔
”ارے یار کیوں نادان بنتی ہو دوست ہوں تمہاری شیئر کر سکتی ہو“اس نے ایک آنکھ دبا کر کہا اسکی بات پر غازیہ کے لبوں پرایک طنزیہ مسکراہٹ رینگی ۔
”آف کورس یار دوست کس دن کے لیے ہوتے ہیں لیکن عبداللہ بھائی کے پاس میری بہت سی وڈیوز ہیں تم کس والی کی بات کر رہی ہو “ پھر غازیہ نے اپنا فون اٹھایا اور اس میں سے کچھ تصویریں زیمل کو دکھانے لگی جس میں ہر کمپنی کے ساتھ کیے معائدے کے بعد انکی تصویریں تھیں اور جن میں دو میں کوہیار بھی ساتھ موجود تھا غازیہ کا رد عمل زیمل کو مایوس کر رہا تھا ایک بلیک میلر تب تک کامیاب نہیں ہوتا جب تک ہم اس سے ڈرتے نہیں وہ کہتے ہیں ناں جو ڈر گیا وہ مر گیا۔
“ اوہ ! سب سے اچھی والی تو میں دکھانا ہی بھول گئی “ پھر موبائل پر کچھ سرچ کر کے موبائل اسکے ٓاگے کیا، اور موبائل کی سکرین دیکھ کر زیمل کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
سکرین پر وڈیو چل رہی تھی زیمل ریسٹورنٹ میں ایک آدمی کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بیٹھی تھی وڈیو دیکھ کر زیمل کا رنگ فق ہو گیا اور چہرہ لال ۔
”ارے یہ حسیب ہے ناں تمہارے فیانسی کا کزن ،کم ٓان یار شیئر کر سکتی ہو ٓاخر دوست جو کہا ہے “ غازیہ نے ٹھوڑی تلے مٹھی رکھ کر ٓابرو اچکا کرکہا زیمل کو تو سانپ سونگھ گیا تھا اسکا بس چلتا تو ابھی ہیری پوٹر کی چھڑی سے خود کو کہیں غائب کر دیتی غازیہ نے فاتحانہ نظروں سے اسے دیکھا۔
”جن کے اپنے گھر شیشے کے ہوتے ہیں ناں میری جان وہ ہاتھ میں پتھر لے کر نہیں گھومتے“ زیمل کا چہرہ دھواں دھواں تھا وہ کچھ کہے بغیر ہی تیزی سے اٹھ کر وہاں سے جانے لگی جب غازیہ نے پکارہ۔
”ایک اور بات جس کمپنی میں تمہارے بھائی کام کرتے ہیں ناں وہ صرف عبداللہ بھائی کی نہیں میری بھی ہے میں تمہاری دوست نہیں تمہارے بھائیوں کی باس ہوں ٓائندہ بہت تمیز سے مجھ سے بات کرنا “ زیمل نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ ٹانگ پر ٹانگ دھرے کسی ملکہ کی طرح بیٹھی بہت سرد لہجے میں بولی جبکہ زیمل وہاں سے اتنی تیزی سے چلی گئی جیسے وہ غازیہ نہیں کوئی بھوت ہے اور غازیہ پیچھے مدھم سی ہنسی ہنس دی۔
کوہیار سمیع کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا اور انکے سامنے ایک لیپ ٹاپ کھلا رکھا تھا جس پر وہ دونوں جھکے کوئی کام کر رہے تھے ۔
”ہم اگر اس راستے سے جائیں تو تھوڑا لمبا ہوگا لیکن ہمارا کام ہو جائے گا“کوہیار نے انگلی سے لیپ ٹاپ کی سکرین کی طرف اشارہ کیا ۔
”نہیں کوہیار یہاں تو دو چیک پوسٹیں ہیں وہ پکڑی جائیں گی اورآفاق کسی طرح سے انکو نکال لے گا“ کوہیار کو جتنا ٓاسان لگ رہا تھا یہ کام اتنا ہی مشکل تھا انہیں روٹ نہیں مل رہا تھا زمیں کے ساتھ ساتھ سمندر بھی کنگھال ڈالا لیکن زاویار حمدانی کے فارم ہاؤس سے انہیں کوئی رستہ نہیں مل رہا تھا کوہیار صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور انگلیوں سے ٓانکھیں مسلنے لگا۔
”کوئی ایسا ہو جسے روٹ میپنگ آتی ہو ”وہ بولا تو سمیع ایک دم سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔
دس منٹ بعد وہ دوبارہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو اسکے پیچھے غازیہ بھی داخل ہوئی اور غازیہ کو دیکھ کر کوہیار اٹھ کھڑا ہوا ایک لمحے کو نظریں ملی پھر جھک گئیں غازیہ نےنگاہیں پھیر لیں غازیہ کے ہاتھ میں کافی کا مگ تھا یقیناً مزے سے بیٹھ کر کافی پی رہی تھی تب ہی سمیع اسے کھینچ لایا وہ صوفے پر بیٹھ گئی اپنا مگ لیپ ٹاپ کے پاس رکھ دیا۔
”غازیہ تم اس پوائنٹ سے لے کر یہاں تک ایک روٹ بنا کر دو ، اسے روٹ میپنگ ٓاتی ہے“ غازیہ سے کہہ کر اس نے کوہیار کی طرف دیکھا ۔
”ایم ناٹ سرپرائزڈ “ کوہیار نے کہا تو غازیہ نے ٓانکھیں گھما کر سر جھٹکا سمیع اسے میپ کھول کر جگہیں سمجھانے لگا وہ غور سے لیپ ٹاپ کی سکرین دیکھنے لگی۔
”کس چیز کی سمگلنگ کر رہے ہیں ٓاپ لوگ؟“ سکرین سے نظریں ہٹائے بغیر بولی۔
دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگانے لگے ۔
”استغفراللہ ایسا سمجھتی ہو ہمیں ”سمیع اچھا خاصہ برا مان گیا جبکہ غازیہ نے کندھے اچکا دیے ۔
”اس روٹ پر کچھ سمگل ہو بھی نہیں سکتا “ کوہیار نے جواب دیا۔
”یعنی ٓاپ نے کوشش کی ہے “ غازیہ نے تپانے والے انداز میں کہا تو اس نے ایک ٓابرو اٹھاکر اسے دیکھا۔
”میں کوئی مافیہ ڈان تو نہیں ہوں“ غازیہ نے ترچھی نظروں سے اسکی طرف دیکھا واپس اپنے کام کی طرف مشغول ہو گئی سمیع اپنے فون میں لگا تھا۔
”لگتے تو ہیں“ اس نے لاپرواہی سے کہا جبکہ کوہیار صوفے پر ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے لیپ ٹاپ پر چلتی اسکی نرم و نازک مخروتی انگلیاں دیکھ رہا تھاتھوڑے بڑھے ناخن انگلی میں ایک باریک سی رنگ، غازیہ کی یہ بات سن کر اس نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا۔
”ویسے میں زندوں کو مردہ تصور کرتا ہوں اور انکی چیزیں توڑ کے بہت تیز بھاگتا ہوں“ یہ سن کر غازیہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی پھر مسکرا ہٹ دبا کر لیپ ٹاپ کی سکرین کی طرف دیکھا اور کام کرتے ہوئے اس نے اپنے کافی کے مگ کے لیے ہاتھ ٹٹولا مگ نہیں تھا اس نے لیپ ٹاپ کے ٓاس پاس دیکھا مگ نہیں تھا ایک بار نظر پڑی مگ پکڑے کوہیار بڑے مزے سے کافی کے گھونٹ بھر رہا تھا غازیہ کا منہ حیرت کے مارے کھلا رہ گیا ۔
”بہت اچھی کافی بنائی ہے آپ نے “ کافی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے تپانے والے انداز میں کہا تو غازیہ کا پارہ چڑھنے لگا ۔
”یہ جھوٹی کافی تھی “ اس نے چبا کر کہا، کوہیار نے کندھے اچکائے جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑا تو اسے اور بھی زیادہ تپ چڑھی اسے اچھی خاصی سنا دیتی لیکن سمیع کی موجودگی کی وجہ سے چپ کر گئی اور دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئی تھوڑی دیر بعد لیپ ٹاپ انکی طرف کھسکایا ۔
”یہاں ایک سروس روٹ بھی ہے جو تھوڑا تنگ ہے مین سرور میں نظر نہیں آتا یہاں سے ٓاپکا اسمگل کیا سامان گزر سکتا ہے “ کہہ کر چلی گئی اور کوہیار اور سمیع جو پچھلے تین گھنٹوں سے سر کھپا رہے تھے اب مطو گئے اور ٓاگے کا لائحہ عمل بنانے لگے۔
کوہیار کافی دیر سمیع کے ساتھ سر کھپانے کے بعد انکے گھر سے نکلا انکے گیٹ کے سامنے کے موڑ سے مڑا ہی تھا کہ اسے غازیہ گھر کے سامنے والی سڑک پار بنے پارک میں بیٹھی نظر آئی کوہیار نے فوراً ہی گاڑی روک دی گاڑی سے اتر کر پارک میں داخل ہوا غازیہ پارک کے لان میں گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی مرون رنگ کے سوٹ میں جسکا دوپٹہ شیفون کا تھا اسکے کندھوں پر پھیلا ہوا تھا اسکے ہاتھ میں ایک چڑیا تھی جسکے پر زخمی تھے غازیہ اسکے پر سہلا رہی تھی اسکے لمبے کھلے بال اسکے جھکنے کی وجہ سے اسکے چہرے پر گرے تھے کوہیار چلتا ہوا اس تک ٓایا اور پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا غازیہ نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ بھی اسکی طرف دیکھ رہا تھا اسکی مقناطیسی صحر انگیز ٓانکھیں اس سے بہت کچھ کہہ رہی تھیں اس نے نظریں جھکا دیں غازیہ اور چڑیا کا پر سہلانے لگی کوہیار اٹھ کر گاڑی تک گیا اور ایک فرسٹ ایڈ باکس نکال لایا۔
”پر پکڑو اسکا “ اسنے باکس سے دوا کی ٹیوب نکال کر کہا تو غازیہ نے اسکا پر سیدھا کیا چڑیااسکے قبضے میں پھڑپھڑانے لگی کوہیار نے اسکے پرَ پر دوائی لگائی اور ایک پٹی سے اسکا پر باندھا غازیہ کبھی اسے دیکھتی تو کبھی چڑیا کو ہوا اچھی خاصی چل رہی تھی اور غازیہ کے کھلے بال اڑ رہے تھے جب چڑیا کے پر کی پٹی ہو گئی تو غازیہ نے ایسے ہی اسے اٹھائے ہوئے درخت کی ٹہنی پر بٹھایااور ہوا سے اسکا دوپٹہ اڑ کر کوہیار کے چہرے پر لگنے لگا کوہیار نے اپنی آنکھیں موند لیں۔
”تم ہر کسی کا ایسے ہی خیال رکھتی ہیو ؟“ غازیہ پلٹ کر جانے لگی تو اس نے پوچھا۔
”پتہ نہیں شاید ”اسنے بغیر مڑے جواب دیا۔
”تمہیں میری اس دن کی بات بری لگی“ وہ شینجن میں اس رات ہوئی تلخ کلامی کے حوالے سے پوچھ رہا تھا ۔
”مجھے ایسا کچھ یاد نہیں ”اب وہ اسکی طرف مڑ کر بولی ۔
”تم کہہ کیوں نہیں دیتی “ وہ دو قدم ٓاگے بڑھا بالکل اسکے مقابل وہ قد میں اونچا تھا اس لیے سر جھکا کر بات کر رہا تھا۔
”مجھے کچھ بھی کہنے کا کوئی حق نہیں“ اسکی بھوری دلکش ٓانکھوں میں ایک اداسی تھی ۔
”تم میرے بارے میں کچھ نہیں جانتی نہ ہی تم مجھے سمجھتی ہو تو پھر حق کسے ہے کسے نہیں تم کیسے جانتی ہو“ اسکے لیجے میں ایک ملال سا تھا ۔
”ہم حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے ”پارک میں لگے مدھم پول لائٹوں کی ہلکی روشنی انکے چہروں پڑ رہی تھی۔
”مجھے لگا تم ٓانکھیں پڑھ سکتی ہو“
”مجھے ٹیلی پیتھی نہیں ٓاتی ”۔ہوا سے اسکے بال اور دوپٹہ اڑ رہے تھے۔
”لیکن میں پڑھ سکتا ہوں“وہ ایک جزب سے بولا۔
”وہم ہے تمہارا“ اور کہہ کر وہ گھر کی طرف مڑنے لگی ۔
”اور اس وہم کو میں حقیقت بنا دوں گا“ وہ بڑے اٹل لہجے میں کہہ کر مڑا اور غازیہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی اور یہی سوچتی رہی کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا یا پھر اسکے دل میں یہ جگہ ایسے ہی خالی رہے گی۔
صدیقی صبح سے دس بار تو ولید کو کال کر چکا تھا لیکن جواب ندارد اسے اب عجیب سے اندیشے ہونے لگے تھے آج کل ویسے بھی ہر کسی پر شک سا ہونے لگا تھا اس نے شاہویر کو کال ملائی شاہویر وانٹڈ تھا اس لیے رو پوش تھا اس نے چین میں رہ کر جرم کیا تھا اس لے وہاں کی سرکار نے اسے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے اور اسکا صرف ایک ہی حل ہے کہ غازیہ اور کوہیار گواہی دیں کہ ان پر حملہ کرنے والا شاہویر نہیں تھا اور ظاہر ہے ایسا ہونے سے تو رہااب وہ ایک ایسے علاقے میں رہتا تھا کہ جہاں سے گزرنا بھی اپنی توہین سمجھتا تھا جب صدیقی کی کال آئی تو وہ لیپ ٹاپ پر ایف بی ٓارکی سائٹ کھولے بیٹھا اس میں کچھ فائلیں اپلوڈ کر رہا تھا یقیناً جس میں کوہیار کے لیے ہی تیار کردہ مواد تھا بیل بجنے پر فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
”بولو“ انداز سراسر بیزاری لیے ہوئے تھا جانتا تھا اب یہ کوئی نیا دکھڑا رونا شروع کر دے گا ۔
”شاہویر کنٹینرز کہاں ہیں؟ ”۔
”جہاں انہیں ہونا چاہیے لوگوں کی نظروں سے دور“شاہویر مزے سے بولا صدیقی کو تنگ کرنے میں اسے بڑا مزہ آتا تھا۔
”اگر تم نے مجھے کسی بھی طرح سے دھوکا دینے کے بارے میں سوچا بھی تو یاد رکھنا میں بھی تمہیں چھوڑوں گا نہیں“ صدیقی کو اب شاہویر پر ایک ٹکے کا بھی بھروسہ نہیں تھا جو انسان اپنے دوست کے ساتھ دغا بازی کر سکتا ہے وہ کسی اور کے ساتھ کیا وفا نبھائے گا اور ہر بار کی طرح صدیقی کا یہ جملہ سن کر وہ ہنس دیا۔
”ریلیکس صدیقی ! میں جانتا ہوں تم بڑے ڈرپوک ہو لیکن اب یہاں تک آگئے تو اب زرا صبر کرو تمہارے ہاتھ بہت سارا مال ٓانے والا ہے کہ پھر تمہیں زندگی بھر آرام ہی کرنا پڑے گا“ اسے خوب سبز باغ دکھا کر اس نے کال بند کر دی اور دوبارہ سے ایک کال ملا کر فون کان سے لگایا۔
”زاویار صاحب بس یہ جاننے کے لیے کال کی ہے کہ سب ٹھیک تو چل رہا ہے ناں؟“ شاہویر نے بڑے ادب سے پوچھا جو بدتمیزی والا لہجہ لیے تھوڑی دیر پہلے صدیقی سے بول رہا تھا وہ اب مفقود تھا ظاہر ہے صدیقی سے اسکا مطلب نکل چکا تھا اور زاویار حمدانی سے ابھی اسکا کام باقی تھا ۔
”سب ٹھیک چل رہا ہے جو تم چاہتے تھے وہی ہو رہا ہے “ زاویار شاہویر کو کسی خاطر میں نہیں لاتا تھا اس لیے بڑے لیے دیے انداز میں بولا۔
”میں بس جاننا چاہتا تھا کہ ہمارا سامان سیف ہے یا نہیں “ وہ بولا تو زاویار مدھم سی ہنسی ہنس دیا اور اپنے آفس چیئر پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
”بڑی چھوٹی سوچ ہے تمہاری شاہویر مرزا ایسا سامان میرے گوداموں میں بھرا پڑا ہے اب میں سارا دن بیٹھ کر انکی چوکیداری کرتا رہوں“ بڑے سرد انداز میں کہہ کر کال ہی کاٹ دی اور شاہویر کتنی دیر تک تاؤ کھاتا اسے گالیاں دیتا رہا اور اسے نئے سرے سے کوہیار پر غصہ آنے لگا۔
الویرہ اب یونیورسٹی سے فارغ تھی اس لیے آئے دن سہیلیوں کے جمگھٹے میں گھومتی تھی ابھی بھی ایک آئس کریم پارلر میں بیٹھی قہقہے لگا رہی تھی محفل کی رونق اور توجہ کا مرکز وہی ہوتی تھی کیونکہ وہ ایک مقناطیسی شخصیت کی حامل تھی وہ بولتی تو ساری سہیلیاں اسے سنتی تھیں ابھی بھی وہی بول رہی تھی اور سب اسے سن رہیں تھیں۔
”تمہیں پتہ ہے کوہیار بڑا ڈیسنٹ ہے جب بھی ہم ملتے ہیں میں بولتی ہوں وہ سنتا ہے “ وہ چہک کر کہہ رہی تھی ، اور اسکے ساتھ بیٹھی دو سہیلیوں میں خاموش نظروں کا تبادلہ ہواظاہر ہے سہیلیوں کو سب پتہ ہوتا ہے۔
”تمہیں ہماری کلاس کی وہ زیمل یاد ہے “ عائشہ نے زرا طنزیہ انداز میں اسے مخاطب کیا ۔
“ ہاں جو ڈراپ ٓاؤٹ ہو گئی تھی“ اپنی ٓائس کریم کا چمچ منہ تک لے جاتے ہوئے کہا۔
”مجھ سے ان ٹچ ہے وہ ایک دن تمہارا پوچھ رہی تھی“ عائشہ نے کہنی ٹیبل پر رکھ اسکی طرف ایسے دیکھ کر کہا کہ وہ پوری اسکی طرف متوجہ ہو گئی۔
”پہلے اس نے تمہاری منگنی کا پوچھا جو ظاہر ہے ہم سب اسکی حقیقت جانتے ہیں پھر اس نے پتہ ہے کیا کہا کوہیار عالم شاہ کی ایک وڈیو دیکھی ہے اس نے ایک لڑکی کے ساتھ“ کہہ کر اس نے مزے سےآئس کریم کا چمچ منہ ڈالا جیسے اب اسے الویرہ کی حالت دیکھ کر بہت مزہ آرہا تھا اور واقعی یہ سن کر الویرہ کا چہرہ دھواں دھواں ہونے لگا نہ وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں تھی نہ کسی دفاع کی صورت بن رہی تھی پھر جتنی دیر وہ بیٹھی رہی خاموش بیٹھی رہی ایک گہری سوچ مین غلطاں کہ یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ کوہیار بھی تو مووآن کر سکتا تھا ۔
رات کا اندھیرا تھا ہر طرف ہو کا عالم تھا اور سمندر کے پانی کا پتھر سے ٹکرانے کا شور تھا زاویار حمدانی کے گوداموں کے باہر چار گارڈ مصلحہ اور چوکنہ کھڑے تھے کشتی کافی دور کھڑی کر کے وہ تینوں تیراکی والا لباس پہن کر تیرتے ہوئے کنارے تک پہنچے اب سب سے پہلے انہیں گارڈز سے نبٹنا تھا چونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہاں انہیں مصلح گارڈ ملیں گے اس لیے وہ بھی ساتھ ہتھیار لائے تھے ۔
”ٹرینکولائزر نکالو “ کوہیار نے سرگوشی سے سمیع کو کہا جو اس نے پہلے ہی تیار کر رکھی تھی ۔
تینوں نے تاک کر ان گارڈز پر نشانے لگائے جب تین کو ڈارٹ لگے وہ لوگ محتاط ہو گئے پھر کوہیار نے چوتھے پر بھی نشانہ لگایا ٹرینک کا اثر ہونے میں دو سے تین منٹ لگنے تھے اس لیے اب وہ لوگ چٹانوں کے پیچھے چھپ گئے گارڈز نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور چٹانون کی طرف بڑھنے لگے کوہیار گھڑی دیکھ رہا تھا ان تک ٓاتے ٓاتے وہ چاروں ڈھیر ہو چکے تھے وہ تینوں بھی چٹانوں کے پیچھے سے نکل ٓائے اور گودام کی طرف بڑھنے لگے گودام کا ایک بڑا سا الیکٹرک گیٹ تھا جو فنگر پرنٹ سے کھلتا تھا فرحان اور سمیع ایک گارد کو گھسیٹتے لائے اور اسکا فنگر پرنٹ پنچ کیا بیپ کی ٓاواز کے ساتھ ہی دروازہ کھلنے لگا اور وہ تینوں اندر داخل ہوئے وہ اندر داخل ہوئے ہی تھے انہیں غرانے کی ٓاواز ٓائی تینوں آس پاس دیکھنے لگے ۔
”یار یہ اچھا سائن نہیں ہے ”سمیع نے آواز کا تعین کرتے ہوئے قدم ٓاگے بڑھائے ۔
”گارڈ ڈاگز“ کوہیار کہتے ہوئے ٓاگے بڑھ گیا۔
“ ٹرینک تیار رکھو“ فرحان بھی کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا اور تب ہی کنٹینروں کے ُپیچھے سے کتے بھونکتے ہوئے انکی طرف ٓانے لگے بہت ہی بڑے سائز کے کین کورسو گارڈ ڈاگ انکی طرف بہت تیزی سے بھاگتے ہوئے آرہے تھے ان تینوں کے اوسان ان خون خوار کتوں کو دیکھ کر خطا ہونے لگے۔
”کنٹینرز کے اوپر چڑھو “ کوہیار انہیں جنجھوڑ کر ایک جست لگا کر کنٹینر کی سیڑھی پھلانگنے لگا فرحان اور سمیع بھی اسکی تقلید میں تھے جب سمیع کا پیر رپٹا اور وہ زمین پر گر گیا کتے سیدھا سمیع کی طرف بڑھنے لگے سمیع کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی کتے بھونکتے سیدھا سمیع کی طرف بڑھے۔
(جاری ہے)
