Episode 7 - Teri Qadar Ka Muntazir By Gulmira

All Episodes
تیری قدر کا منتظر – گُل مرہ رُستم

Episode 7

تیری قدر کا منتظر – گُل مرہ رُستم

Gulmira Rustum 35 min read

قسط نمبر 7

میٹرو ٹرین تیز رفتاری سے اپنی مطلوبہ منزل کی جانب رواں تھی اور غازیہ باہر دوڑتے مناظر دیکھ رہی تھی اس بوگی کی کچھ نشستیں خالی تھیں اس نے یوں ہی پیچھے مڑ کر دیکھا شاید کسی کی نظروں کا ارتکاز تھا وہی ہیٹ ولا چینی بیٹھا تھا جسے صبح آتے وقت اس نے تصویر کھینچنے پر ٹوکا تھا وہ آدمی بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا غازیہ جلدی سے سیدھی ہوگئی بہت عجیب سا احساس ہوا کیا یہ ایک اتفاق تھا یا پھر وہ آدمی اس کے پیچھے لگا تھا وہ ڈرپوک نہیں تھی لیکن تھی تو ایک لڑکی خاندان سے دور پردیس میں کیا پتہ یہ آدمی اسکے پیچھے پڑا ہو خوف کی ایک لہر اسکے رگ و پے سے ہو کر گزری اور سارے راستے اس نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔

ٹرین اپنی منزل پر پہنچ گئی وہ اتری پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ آدمی کہیں نہیں تھا وہ ٹرین سے نکلی اپنا فون جیکٹ کی جیب سے باہر نکالا کوہیار کو کال ملائی اسکا نمبر بزی تھا اس نے فون جیب میں ڈالا سارے مسافر آگے نکل گئے جہاں انکی میٹرو کھڑی تھی اسکے ساتھ ہی دوسری پٹری پر ایک دوسری میٹرو بھی چلنے لگی تھی وہ غیر ارادی طور پر کھڑی میٹرو کو دیکھ رہی تھی میٹرو جب نکل گئی تو وہاں کوئی کھڑا تھا کالی ہڈی کالی پینٹ کالے جوتے اور ہڈی سر پہ گرائی تھی وہ اسے دیکھ رہی تھی اور اس شخص کی نظریں بھی غازیہ پر تھیں غازیہ کو ایک سیکنڈ لگا تھا اسے پہچاننے میں۔

“غازیہ ” اسے دوسری طرف سے آواز آئی اس نے میٹرو کے داخلی راستے کی طرف دیکھا تو اوپر سے کوہیار سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آرہا تھا ۔

“غازیہ تم ٹھیک تو ہو ؟” وہ گہرے اضطراب میں پوچھ رہا تھا اسکی آنکھیں غازیہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں اس نے مُڑ کر دوبارہ ہڈی والے شخص کی طرف دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا وہ جا چکا تھا یا پھر کیا یہ اسکا وہم تھا ؟ پھر سے کوہیار کی طرف دیکھا ۔

“ہاں میں ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے ” گردن تان کر بولی ”لیکن تمہارے پیچھے پولیس لگی ہے کیا ؟” اس نے اسے ہانپتے دیکھا تو پوچھا تو اس نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی اور بالوں میں انگلیاں چلانے لگا اور خود کو کمپوز کرنے لگا ۔

“چلو”کہہ کر وہ خارجی رستے کی طرف چلنے لگا وہ بھی اسکے پیچھے چلنے لگی اور بالکل غیر محسوس طریقے سے اس نے غازیہ کو آگے چلنے کا راستہ دیا اور خود اسکے پیچھے چلنے لگا۔

“تمہاری چھتری کہاں گئی ” وہ یقیناً بھیگا ہوا تھا تو اس نے پوچھا ۔

“میرے پاس رین کوٹ ہے ” اپنے بیک پیک سے رین کوٹ نکال کر پہنا ہوٹل میٹرو سٹیشن سے بالکل نزدیک تھا اسٹیشن سے نکل کر وہ دونوں روڈ کراس کر رہے تھے جب یاد آنے پر غازیہ نے کہا ۔

“تمہیں یاد ہے جو صبح میٹرو میں ایک بندے کو میں نے ڈانٹا تھا مجھے لگا تھا وہ میری تصویر کھینچ رہا ہے ” زیبرا کراسنگ پر کالی دھاریوں سے بچتی سفید دھاریوں پر قدم رکھتے ہوئے بولی کوہیار اسکی یہ حرکت بھی نوٹ کر رہا تھا اور اسکی بات بھی سن رہا تھا ۔

“ہاں یاد ہے ” ۔

“وہ ابھی بھی میٹرو میں بیٹھا مجھے ہی دیکھ رہا تھا پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ ہیں اس دنیا میں ” کہہ کر وہ روڈ کراس کر گئی اور کوہیار وہیں کھڑا رہ گیا ایک گہری سوچ میں ڈوبا ہوا نقطے ملاتا ہوا اسکی ریڑھ کی ہڈی بھی سنسنا اٹھی گاڑی کے تیز ہارن سے اسے ہوش آیا ۔

“کوہیار ”غازیہ بھی فٹ پاتھ پر کھڑی اسے آواز دے رہے تھی وہ لمبے ڈگ بھرتا فٹپاتھ تک آیا اسے جلد از جلد غازیہ کو ہوٹل پہنچانا تھا اسے بہت دیر ہو گئی تھی اس نے اپنے دشمن کو انڈر ایسٹیمیٹ کیا تھا ہوٹل پہنچ کر غازیہ جب تک اپنے روم میں نہیں چلی گئی وہ وہیں کھڑا رہا غازیہ کو کوہیار کا رویہ عجیب سا لگا لیکن اس نے پوچھا نہیں اسے بھوک بھی شدید لگی تھی اور تھکن بھی بہت زیادہ تھی وہ بس اپنے کمرے میں آرام کرنا چاہتی تھی ۔

—————————————

ہوٹل سے نکل کر وہ سیدھا ایک سائبر کیفے پہنچا کمپیوٹر پر کچھ تفصیلات دیکھنے کے بعد اس نے فون اٹھایا اور کال ملائی ۔

“کب کی فلائٹ تھی اسکی ” وہاں سے کوئی جواب آیا تو وہ سکرین پر ٹائپ کرنے لگا اور کچھ ہی کلکس کے بعد اسکے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری اور سائبر کیفے سے تیزی سے اٹھ کر باہر چلا گیا اب اور دیر نہیں کرنی ۔

———————————-

رات کے اس وقت بالکل سناٹا تھا دور دور سٹریٹ لائٹس سے ہلکی روشنی پڑتی تھی کیونکہ اس وقت یہ جگہ بالکل بند ہو جاتی تھی اس وجہ سے بہت کم لائٹنگ ہوتی ہے لیکن اس اندھیرے میں بھی وہ بہت ہی مدھم چال چلتا ہوا سمندر کنارے لگے بینچوں تک پہنچا سمندر کے اس کنارے سے آخری کنارے تک نظر دوڑائی دور ایک شیڈ تلے بینچ پر بیٹھا ایک کالی ہڈی میں شخص سمندر کی لہروں سے محظوظ ہو رہا تھا اور ساتھ اپنی سگریٹ بھی پھونک رہا تھا وہ بہت ہی دھیمی چال چلتا اس بینچ کے پیچھے کھڑا ہوا وہ سگریٹ بھجا کر پھینک چکا تھا بہت ہی سرد ہوا بدن کو چیرتی ہوئی اندر داخل ہو رہی تھی بارش سے ٹھنڈ میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو گیا تھا اب وہ دوسرا سگریٹ پھونکنے لگا تھا ۔

“میں نے تمہیں کہا تھا ناں غازیہ سے دور ” کوہیار کے رین کوٹ سے پانی ٹپک رہا تھا اُسکی آواز سن کر کرنٹ کھا کر اٹھا وہ کوہیار کو یہاں دیکھ کر ششدر رہ گیا شیڈ تلے آہستہ آہستہ چلتا کوہیار اُسکے بالکل سامنے آکر ٹھہرا۔

“شاہویر تم نے آج تک مجھے جہاں جہاں نقصان پہنچانے کی کوشش کی وہ شاید میرے لیے اتنا اہم نہیں تھا ” وہ شاہویر کے سامنے تھوڑا جُھک کر کہہ رہا تھا اور شاہویر بھنویں بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔

“اگر تم نے غازیہ کو کوئی بھی تکلیف پہنچانے کی کوشش ناں تو میں تمہیں تہس نہس کر دوں گا ” شاہویر بہت ہی تنفر سے اُسے دیکھ رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کوہیار کو یہیں زمین پر دفن کر دے اور اس بات پر حیران بھی کہ کوہیار کو اسکے بارے میں پتہ کیسے چلا وہ بس نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ کہہ کر جانے کے لیے واپس پلٹا اور شاہویر برستی بارش اور ٹھنڈ میں وہیں کھڑا رہ گیا پھر یکا یک وہ چلایا۔

“یہ زندگی بھر کے زخم ایسے ہی نہیں بھریں گے تمہیں انکی قیمت چکانی پڑے گی ” وہ بہت ہی زہریلے انداز میں پھنکارا ۔

“جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے کبھی تمہیں نقصان نہیں پہنچایا ” اس کے جاتے قدم رُکے وہ بنا پیچھے مڑے بولا ۔

“نقصان بہت چھوٹا لفظ ہے کوہیار عالم شاہ میرے ان زخموں کو ڈیفائن کرنے کے لیے ”شاہویر زہر خند لہجے میں بولا۔

“یہ زخم تم نے خود کو خود دیے ہیں شاہویر اپنی ناکامیوں کا سہرا میرے سر سجا کر تم مجھ سے بدلہ لے بھی لو تمہیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا ”

“آئی وانا سی یور فال ” شاہویر نے کہا تو اندھیری رات میں بجلی زور سے کڑکی۔

“لیٹس سی شاہویر ہاتھ تو میرے بھی بندھے نہیں ہے تم ایک وار کرو گے میں دَس بار جواب دونگا ” کہہ کر وہ واپس مڑ کر چلا گیا اور شاہویر اس برستی بارش اور سردی میں اسے جاتے دیکھتا رہ گیا ہاں وہی شاہویر جو خود کو کوہیار کا بہترین دوست کہتا تھا جو ہر وقت سائے کی طرح اسکے ساتھ رہتا تھا وہی شاہویر مرزا کوہیار عالم شاہ کا سب بڑا دشمن کم آستین کا سانپ نکلا کوہیار کے جانے کے بعد بھی وہ اپنے گزرے ماہ و سال کے خسارے کا حساب لگانے لگا ۔

——————————-

(ماضی کے اوراق میں بہت سال پہلے )

مشتاق مرزا ذوالفقار عالم شاہ کے پھوپی زاد بھائی تھے گھر ایک ہی محلے میں ہونے کی وجہ سے بھائیوں جیسا پیار تھا شادیاں ہونے کے باوجود دُوری نہ ہونے کے برابر تھی دونوں کے گھروں میں ابھی بھی آنا جانا اور میل ملاپ اچھا خاصا تھا ایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے بچوں کو بھی ایک ہی سکول میں ڈلوایا اور مدرسے کے مسجد کے امام سے سپارہ پڑھنے جاتے شاہویر اور کوہیار ہم عمر تھے دوست بھی تھے شاہویر نٹ کھٹ اور شرارتی سا تھا اس میں بلا کا اعتماد تھا اس لیے ہر دل عزیز تھا لیکن کوہیار اسکی نسبت بہت کم گو اور شرمیلا تھا کوئی محفل ہو یا کوئی سکول کا پروگرام شاہویر آگے آگے رہتا جب کہ کوہیار بہت کم ہی کسی چیز میں حصہ لیتا اور اِسی بلاوجہ کی تعریف اور حد سے زیادہ خود اعتمادی نے اسے بہت خود سر اور منہ پھٹ بنا دیا تھا انسان کی پرکھ اسکی زبان سے نہیں اسکی ذہنی قابلیت سے ہوتی ہے کچھ لوگ بولتے کم اور کام زیادہ کرتے ہیں کوہیار بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو کام کر دیتے ہیں اور کسی کو پتہ تک نہیں چلنے دیتے خاموشی سے ہر چیز کا جائزا لیتے ہیں ہر چیز کا ڈھندوڑا نہیں پیٹتے وقت کے ساتھ ہی انکی قابلیت خاموشی سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے ۔

مدرسے کے اس کمرے میں بلا کی خاموشی تھی استاد نے آج صدقے کی اسلام میں اہمیت اُجاگر کرنے کو کہا تھا آج انکا ٹیسٹ تھا اور استاد ہر بچے کو الگ اٹھا کر پوچھ رہے تھے ہر بچہ کوئی نہ کوئی حدیث سنا دیتا یا پھر کوئی آیت جو رٹی ہوئی تھی سنا دیتے شاہویر کی باری آئی تو ۔

“ہمارے نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ خود کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ چاہے اسکے کے لیے ایک کھجور کا دانہ بھی صدقہ کرو ” شاہویر کہہ کر بیٹھا لیکن استاد نے اسے کوئی داد نہیں دی اگلی باری کوہیار کی تھی استاد نام سے پکارتے نہیں تھے بلکہ آنکھوں سے ہی اشارہ کر دیتے کوہیار اٹھا اور سوچنے لگا ۔

“برخوردار آپ نے کچھ یاد نہیں کیا ” استاد نے داڑھی ہاتھ سے سہلاتے ہوئے کہا ۔

“وقت نہیں ملا ” کوہیار نے کہا ۔

“کونسے پہاڑ توڑ رہے تھے ” درشت لہجے میں پوچھا ۔

“پہاڑ نہیں میں ایک مشاہدہ کر رہا تھا اس حدیث کو میں نے ریئل لائف میں اپلائے کر کے دیکھا ” اس نے ذرا سوچتے ہوئے کہا استاد آنکھیں چھوٹی کئے اسے سن رہا تھا ۔

“کیسا مشاہدہ ” تھوڑا مُتجسس ہوکر پوچھا ۔

“ہمم! وہ حدیث ہے ناں کہ دولت خدا کی مخلوق میں بانٹنے سے کم نہیں ہوتی میں اسی کا مشاہدہ کر رہا تھا میں نے اپنی جیب خرچ سے اپنے مالی بابا کو کچھ پیسے دیے اور اگلے دِن میرے نانا اچانک کوئٹہ سے آئے ویسے وہ سال کے ان دنوں کراچی نہیں آتے انہوں نے مجھے پیسے دیے مجھے وہ پیسے دگنے واپس مل گئے اور میں بہت خوش ہوں صدقہ مجھے مصیبت سے بھی بچائے گی اور میرے پیسے کم بھی نہیں ہونگے ” کہہ کر وہ خاموش ہوا استاد اس تک چل کر آئے شاہویر نے دل میں سوچا آج تو یہ گیا کام سے سبق بھی یاد نہیں کیا اور اتنا بڑا لیکچر دیا ۔

“آج تم نے وہ کہا جو میں ہمیشہ اپنے شاگردوں سے امید لگاتا ہوں تم نے عملاً وہ کیا جس کا ہمیں حکم ہے مجھے تم پر فخر ہے کوہیار”استاد نے اسکی پیٹھ تھپتھپائی اور شاہویر جو دو دن سے اپنا سبق یاد کر رہا تھا اسے بہت ہی غصہ آنے لگا اور چھوٹی عمر میں وہ اس غصے کو کوئی نام نہیں دے سکا وہ پہلی بار تھا جب شاہویر کی جگہ کوہیار کی تعریف کی گئی اور یہ آخری بار بھی نہیں تھا ۔

میٹرک کا رزلٹ آیا تو شاہویر نے کوہیار کو پیچھے چھوڑ دیا پورے بیس نمبر زیادہ لے گیا اس بات پر اس نے مشتاق اور رضوانہ سے ضد کر کے پارٹی رکھوالی لیکن پارٹی والے دن بجائے اپنی کامیابی کا جشن منانے کے اس کے گھر کوہیار کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا کیونکہ صرف بیس نمبر کم لینے کے بعد بھی اس نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ٹائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ تیراکی میں مہارت اور ساتھ ساتھ تیر اندازی بھی سیکھی تھی اور ذوالفقار بڑے فخر سے اپنے بیٹے کے گُن گا رہے تھے شاہویر کے غصے کی حد نہ رہی بہت ہی مشکل سے خود پر قابو پایا یہ فنکشن اسکا تھا اُسکی داد دہی ہونی چاہئے تھی حق اُسکا تھا اسکی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے تھی لیکن اسے سب سے زیادہ تکلیف تب ہوئی۔

“ارے بھائی میں اللّٰہ کا شکر ادا کرتا ہوں کوہیار بہت ذمہ دار ہے اللّٰہ اسے آگے بھی اِسی طرح سنوارے رکھے ” ذوالفقار کی آنکھوں میں بیٹے کے لیے فخر کے جگنو تھے۔

“اور ایک یہ شاہویر ہے اتنا سست ہے کہ پانی بھی رضوانہ اسکے ہاتھ لاکر دیتی ہے ” مشتاق یہاں سر ہلا کر مایوسی سے بولے-

“وقت کے ساتھ سنبھل جائے گا ” ذوالفقار نے جواب دیا اور اِسی پل شاہویر کے اندر کچھ ٹوٹا اور بہت کچھ ابھرنے بھی لگا اور اب یہ روز کا معاملہ تھا اسے کوہیار کی مثالیں دیں جاتیں۔

“کوہیار کو دیکھو پڑھائی میں کتنا اچھا ہے ”۔

“کوہیار سے کچھ سیکھو بڑوں سے بات کیسے کرتے ہیں ”۔

“کبھی دیکھا ہے کوہیار کو کیسے سمجھداری والی باتیں کرتا ہے اور ایک یہ ہے بلاوجہ گلا پھاڑ کر ہنستا رہتا ہے ”

کم عمر میں وہ سمجھ نہیں پایا لیکن یہ کچھ جملے آئندہ کے لیے اسکی زندگی کا ناسور بن گئے اور یہاں اس نے یہ نہیں دیکھا کہ اس سب میں کوہیار کی کوئی غلطی نہیں تھی لیکن وہ اپنا قصور وار کوہیار کو سمجھنے لگا اور تب سے ہی اس کے خلاف بغض پالے اندر ہی اندر گھٹتا رہا ۔

والدین یہیں آکر غلطی کرتے ہیں اپنے بچوں کا دوسروں کے بچوں سے موازنہ کرتے ہیں کیا ہوجاتا اگر مشتاق کہہ دیتے کہ مجھے بھی اپنے بیٹے پر فخر ہے اس نے بھی بہت سے اچھے کام کئے ہونگے بلکہ بھری محفل میں اسے ڈی گریڈ کر کے اسکے کچے ذہن کو زندگی بھر کے روگ میں ڈال دیا نفرت ایک روگ ہے اک ذہنی بیماری ہے جسے ہمیں اپنے بچوں سے ہر حال میں دور رکھنا چاہئے تاکہ کچھ حد تک ہم انہیں نقصان سے بچا سکیں اور انکے ہاتھوں کسی اور کو بھی اور جب جب کوہیار کو کوئی کامیابی حاصل ہوئی شاہویر کو اُسے اپنے ناکامی سمجھنے لگا اور نفرت اسکے دل میں ایسے گھر کر گئی کہ کوہیار کو ہر طرف سے نقصان پہنچانا اُسکی ضد بن گئی چاہے اس میں اسکا کتنا ہی نقصان ہو جاتا اسے پرواہ نہیں تھی ۔

————-———————

مہرالنساء کی منگنی میں بات طے ہونے کے دو دن بعد الویرہ اپنے کمرے میں بیٹھی اپنے کالج کے نوٹس بنا رہے تھی جب اسکا فون بجا اَنجانے نمبر وہ نہیں اٹھاتی تھی لیکن آج اسکا ایک پارسل آنے والا تھا شاید رائڈر کی کال تھی فون کان سے لگا کر ہیلو کیا تو آگے سے ایک مردانہ خوبصورت آواز ابھری ۔

“الویرہ ” اتنی نرمی سے پوچھا گیا یا بتایا گیا ۔

“جی آپ کون؟”۔

“میں آپ کا ایک ویل وشر ” وہی انداز پتہ نہیں کیوں الویرہ کے دل میں یہ بات آئی شاید کوہیار ہو بات طے ہونے کے بعد وہ بات کرنا چاہ رہا ہو اس لیے فون بند کرنے کے بجائے وہ سننے لگی ۔

“اچھا تو کیا وش کرنا چاہتے ہیں آپ ” وہ بھی نرمی سے بولی ۔

“میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ جیسی اتنی خوبصورت اور انوسینٹ لڑکی کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے اور میرا دل آپ کو تکلیف میں دیکھ ہی نہیں سکتا ” اب کے آواز میں افسوس کا عنصر شامل تھا ۔

”کہنا کیا چاہتے ہو ؟“ اب کے الویرہ کو عجیب سا محسوس ہونے لگا دماغ میں گھنٹی سی بجنے لگی ۔

“بس اتنا کہ جس انسان کے پلے آپکو باندھا جا رہا ہے وہ آپکے لائق نہیں کہاں آپ جیسی گوری اور خوبصورت لڑکی اور کہاں وہ اور اسکے تو ہر دوسری لڑکی سے افیئر ہیں آپ کیسے رہیں گی اسکے ساتھ ” انداز سراسر اپنائیت بھرا ۔

الویرہ نے فون آگے سے کاٹ دیا لیکن وہ حد سے زیادہ پریشان ہو گئی ویسے بھی جب سے انکی بات پکی ہوئی تھی وہ مخمصے میں تھی ابھی تک تو کوہیار کے لیے دل میں کوئی جذبہ جاگا بھی نہیں تھا اوپر سے یہ کال پھول کھلنے سے پہلے ہی اس پر تیزاب ڈال دیا گیا اب کے روز اس انجانے شخص کی کال آنے لگی وہ بولنے میں تو بچپن سے اچھا تھا اب الویرہ کو اپنی طرف آہستہ آہستہ مائل کرنا اسکے لیے آسان ہوگیا تھا پہلے اجنبی بن کر اسے بہلاتا رہا۔

“ویسے تم اتنی گوری ہو خوبصورت ہو تمہارے ساتھ کوئی گورا چٹّا اور خوبصورت مرد ہی جچے گا ” اس نے کوہیار کے گندمی رنگ پر چوٹ کی اور الویرہ تو سدا کی رنگ پرست نین نقش ہوں نہ ہوں رنگت گوری ہو خود گوری ہونے کے باوجود مہینے میں ایک رنگ گورا کرنے کا ڈرپ ضرور لگواتی تھی اب اسے اپنا آپ آسمان پر اور کوہیار زمین پر لگنے لگا تھا منگنی میں جب کوہیار کو اسکے ساتھ لا کر بٹھایا گیا تو اسے لگا کہ اسکی گوری رنگت کے سامنے کوہیار بالکل پھیکا ہے اس لیے اسکا بالکل دل نہیں کیا کوہیار سے بات کرنے کا اور اب ہر بار ایسا ہونے لگا مہرالنساء کی شادی کے دوران مہندی پر جب الویرہ تیار ہو کر آئی تو شاہویر اسکے سامنے آیا۔

“ہیلو پرنسز ” الویرہ نے جب اسکی آواز سنی تو جھٹ پہچان گئی ۔

“اچھا تو آپ ہیں ” الویرہ نے آبرو اچکا کر کان کے پیچھے زلف اڑس کر کہا ۔

“جی میں ہوں اور میرا معصوم دل ہے امید ہے آپکو پسند آجاؤں گا ” سینے پر ہاتھ رکھ کر سر خم کر کے کہا شاہویر کی رنگت گوری تھی آنکھیں ہیزل تھیں اور باتوں میں ہی تو سب سے آگے تھا اور یہی بات تو الویرہ کو پسند تھی۔

“آپ میری ہیں کیسے یقین کروں دل جلتا ہے آپکا نام کسی اور کے ساتھ سن کر ” مصنوعی اداکاری سے بولا اور الویرہ نے اسے ایسے یقین دلایا کہ کوہیار کے محبت میں دیے گجرے ٹھکرا دیے اور یہ دیکھ کر شاہویر کو جو خوشی ہوئی وہ بیاں سے باہر ہے حسد بھی کتنی بری بلا ہے ناں انسان کو شیطان بنانے میں ایک ذرا کی دیر ہے ۔

اور اِسی طرح الویرہ اسکے جال میں پھنس گئی وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی جب کہ وہ اسے کوہیار کو تکلیف دینے کے لیے استعمال کرنے لگا اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوا ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ کوہیار سے جڑے کسی انسان سے اسے محبت ہو ۔

————————————-

“تم اسے ہینڈل کر سکتے ہو ناں تمہارا کزن ہے” صدیقی اپنے دفتر میں کمپیوٹر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا اور اپنے ساتھ کھڑے شاہویر سے پوچھ رہا تھا اسکی چٹھی حس اسے الارم کر رہی تھی لیکن شاہویر کا پرپوزل اتنا اچھا تھا وہ منع کر ہی نہ سکا جبکہ کمپیوٹر کے سامنے ایک انیس بیس برس کا لڑکا بیٹھا ڈیٹا اپلوڈ کر رہا تھا ۔

”ہاں آپ اسکی فکر نہ کریں اُسے تو میں نے ویسے ہی کسی کو منہ دکھانے قابل چھوڑا ہی نہیں ”کمپیوٹر سے نظریں ہٹا کر شاہویر بولا ۔

”سر ٹینڈر بڈنگ اور ڈیٹیلز کیا انٹر کرنی ہیں ” لڑکے نے صدیقی سے پوچھا ۔

”ہاں ولید بیٹا لکھو سولر پینل سیٹ پندرہ دفاتر کے لیے بیس سکولوں کے لیے اور اٹھارہ ہسپتالوں کے لئے ”وہ ایک کاغذ سے دیکھتا ہوا بولا اور وہ لڑکا ٹائپ کرتا گیا ۔

“ٹوٹل اماؤنٹ پچاس کروڑ اور کنٹریکٹر کوہیار عالم شاہ ” کہتے ہوئے اس نے پھر سکرین کی طرف دیکھا لڑکے نے ٹائپ کیا کچھ ہی دیر میں پرنٹر کی آواز آئی اور کاغذات باہر نکل آئے شاہویر اٹھا کر دیکھنے لگا پھر صدیقی کے حوالے کر دیے ۔

“یہ کاغذات کوہیار کی بربادی ہیں سامان ہم منگوائیں گے جب وہ سامان کہیں پہنچے گا نہیں تو وہ پکڑا جائے گا اور پھر جب وہ جیل میں چکّی پیسے گا تو ہم وہ سامان نکال کر بیچیں گے اِسے کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار ” شاہویر زہر خند ہو کر بولا صدیقی سر جھٹک کر کاغذات دیکھنے لگا اسکے ہاتھ بہت بڑا مال لگنے والا تھا اور یہ اسکی لئے بہت خوشی کی بات تھی باقی شاہویر اور اسکی دشمنیوں سے اسے کوئی غرض نہیں ۔

—————————————

کوہیار اپنی ماں سلطانہ کی موت کے بعد بھول ہی گیا تھا کہ الویرہ بھی اُسکی کچھ لگتی تھی یا اسکا دل ٹوٹا تھا لیکن ایک دن جب الویرہ اور اسکے گھر والے ان سے ملنے آئے تو اس نے ملنے سے صاف انکار کردیا اسے وہ میسیجز یاد آنے لگی اس نے اپنے ایک دوست کو فون کیا جس کا بھائی ہیکر تھا اور یہ اکاؤنٹ ہیک کرنے کو کہا ۔

“یار یہ اکاؤنٹ جسکا بھی ہے بہت چالاک ہے نا اسکا سرور ٹریک ہو رہا ہے نا ایگزیکٹ لوکشن بس اتنا پتہ ہے یہیں کراچی کا ہے ” اس نے بے دلی سے فون بند کر دیا اور وہ میسجز دوبارہ کھول کر دیکھنے لگا اسکی عادت تھی ہر چیز کا گہرائی سے مشاہدہ کرتا تھا اسکا دل بھی ٹوٹا ہوا تھا انا پر کاری وار ہوا تھا محبت سے اعتبار بھی اٹھ گیا تھا اور مستقبل کے خوابوں کا کچھ پتہ نہیں تھا وہ بس جاننا چاہتا تھا اسکے ساتھ کون کھیل کھیل رہا ہے ۔

بیڈ پر ترچھا لیتا وہ میسجز دیکھ رہا تھا ایک بار کچھ ذہن میں کلک ہوا اس نے دیکھا جو بندہ الویرہ سے بات کر رہا ہے اسکے میسجز کا ایک پیٹرن تھا بات آدھی چھوڑ کر اُسکے سامنے چار ڈاٹ لگائے تھے اس نے تمام سکرین شاٹس میں اس چیز کا مشاہدہ کیا سب میں یہ بات بات یکساں تھی اچانک اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا اسنے اپنے دوستوں کا گروپ چیٹ کھولا اور ذرا ڈھونڈنے پر اسے وہ مل گیا اسکا دوست اسکا کزن خود کو کوہیار کا بیسٹ بڈی کہنے والا شاہویر مرزا الویرہ کا دیا زخم کیا کم تھا کہ اب شاہویر کا دیا زخم بھی اس دل نے سہنا تھا کیوں اسکے دوست نے اسکے ہی گھر نقب لگائی اسے ہی کیوں دھوکہ دیا اسے غیرت نہیں آئی۔ کوہیار کو لگا آسمان اس پر ٹوٹ پڑا ہو اور اس دن کوہیار جیسے مضبوط انسان کے آنکھوں سے آنسو آتش فشاں کی طرح نکلنے لگے کتنے دنوں تک وہ کسی سے کچھ بول ہی نہیں پاتا تھا نہ کوئی بات کرتا نہ کھانا کھاتا بس ہر وقت ایک ہی کانٹا دل میں چبھا رہتا کے اسکو ایموشنلی ڈیمیج کیا گیا اور یہ جاننا باقی تھا کہ اسے صرف ایموشنلی ڈیمیج نہیں کیا گیا تھا ۔

————————————

کوہیار کی زندگی رک سی گئی تھی زخم بھی تو ایسا تھا اس جیسے خوبصورت اور کامیاب مرد کو ٹھکرایا گیا تھا نہ صرف ٹھکرایا گیا تھا بلکہ اسکی پیٹھ پر چُھرا گھونپا گیا تھا جب ہم میں کوئی کمی ہوتی ہے یا ہم کسی منصب پر نہیں ہوتے جہاں ہونا چاہیے تو ٹھکرائے جانے کا درد تو ہوتا ہے لیکن ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ہماری کمی کی وجہ سے وہ انسان یا چیز ہمیں نہیں ملی اور ہم خود کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر ہم اچھی جگہ پر بھی ہوں اور دنیا کی توقعات پر بھی پورا اتریں تو سوال کرنا بنتا ہے خود سے بھی اور ٹھکرانے والوں سے بھی اور یہ تو ایک صاف حقیقت ہے کہ محبت نہ شکل دیکھتی ہے نہ رتبہ کیسے کیسے ہیرے محبت کے دل فریب جال کے پیچھے رل جاتے ہیں ۔

کوہیار کی ماں کی وفات کے ایک ہفتے بعد جب کوہیار الویرہ اور اسکے گھر والوں سے ملنے نہیں گیا تو اسکی پُھپّو نے اُسے احساس دلایا کہ یہ صرف اسکا نہیں بلکہ اسکی بہن کا بھی سسرال ہے اس دن وہ ایک دوسری نہج پر سوچنے لگا اگر اس نے غصے میں کوئی بھی قدم اٹھایا تو اسکی بہن کا گھر خراب ہو سکتا ہے سب سے پہلے اس نے خود کو پُر سکون کیا اور اپنی روزمرہ زندگی کی طرف واپس لوٹ گیا اور کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی کہ اسکے ساتھ کیا ہوا ہے اب اس نے شاہویر پر گہری نظر رکھی اور اس پر جو انکشافات ہوئے اسے حیرت کے سمندر میں ڈُبونے کے لیے کافی تھے۔

—————————————

شاہویر لاؤنج سے سیٹی بجاتا گزرا کتنے دنوں سے الویرہ نے اسکا دماغ کھایا ہوا تھاکہ باہر کہیں ملے اس سے ملنے جا رہا تھا ویسے بھی وہ اب اس ڈرامے سے بور ہو چکا تھا اسے کسی طرح اب الویرہ سے جان چھڑانی تھی وہ دماغ میں کوئی ترکیب سوچ رہا تھا جب مشتاق مرزا نے اسے ٹوکا ۔

“شاہویر بیٹا تمہارا انٹرویو کیسا تھا ؟” انہوں نے ٹی وی پر چلتی نیوز سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا وہ جاتے جاتے رکا اور زبان دانتوں تلے دبائی وہ اس انٹرویو کے بارے میں بالکل بھول گیا تھا مشتاق کتنے دنوں سے آتے جاتے اُسے یاد کرواتے تھے کہ انٹرویو کے لیے جانا ہے ۔

“جی بابا گیا تھا بہت اچھا ہوا ” وہ بنا پلٹے بولا وہ بس جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ پتہ چلنے پر مشتاق مرزا اسکا بھی کچومر بنا دیں گے ۔

“لیکن افضل نے تو کال کر کے کہا آپکا بیٹا پہنچا ہی نہیں ” اب کے وہ کھڑے ہو کر اس تک آئے اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چبا چبا کر بولے شاہویر کا حلق سوکھ گیا اس نے تھوک نگلا اور کوئی بہانہ سوچنے لگا ۔

“کوئی ایکسپلینیشن کوئی جھوٹ کوئی بہانہ گڑھ لو میں نے تمہارے پیپرز جمع کروائے تمہارے سارے کام کروائے کتنے لوگوں کی منتیں کیں تمہیں بس سیٹ پر بیٹھ کر انٹرویو دینا تھا ”انکی آواز اب قدرے تیز ہوگئی ۔

“بابا میں بھول ۔۔۔” وہ کہہ ہی رہا تھا کہ مشتاق صاحب کا ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے گال پر پڑا اور شاہویر سکتے میں رہ گیا جوان اولاد کو اس طرح تھپڑ مارنا کسی ماں باپ کو گوارا نہیں لیکن جب اولاد اس طرح سے جگر کا درد بن جائے تو ہاتھ بھی اٹھتا ہے اور آواز بھی اونچی ہوتی ہے اور کاندھے اور سر جھک جاتے ہیں اور آج مشتاق مرزا شاہویر سے مایوس ہو گئے تھے شاہویر گال پر ہاتھ رکھے پھٹی آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا رضوانہ بھی شور سن کر کمرے سے باہر نکلیں ۔

“آخر ہوا کیا ہے ؟” وہ کبھی شوہر کو دیکھتیں کبھی بیٹے کو ۔

“مجھ سے کیا پوچھتی ہو اس سے پوچھو کتنی مشکلوں سے اسکے لئے میں نے اس کمپنی میں جاب کی بات چلائی اتنی اچھی سیلری گاڑی سب مل رہا تھا سارا پیپر ورک اِسکا میں نے پورا کیا تھا اس نے بس وہاں انٹرویو دینا تھا لیکن یہ سارا دن سویا پڑا رہتا ہے کسی کام کا نہیں رہا بس ہر وقت آوارہ گردی کیا بنے گا تمہارا اپنے دوست سے کچھ سیکھو ذوالفقار ہر محفل میں بیٹھ کر اپنے بیٹوں کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیتا ہے اور میں پاگلوں کی طرح اسکا منہ تکتا رہتا ہوں ” بول بول کر انکا حلق بھی خشک ہو گیا اب آواز کانپنے لگی تھی کہاں مشتاق مرزا اتنی عمر میں بھی اتنے فٹ اور سمارٹ شاہویر کے باپ سے زیادہ اسکے بھائی لگتے تھے لیکن آج وہ مایوسی سے بہت بوڑھے نظر آنے لگے۔

“جس دوست کی مثالیں آپ مجھے دے رہے ہیں میں یاد رکھوں گا آپ بھی یاد رکھیے گا یہ وقت یہ جگہ میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا کہ کسی کی زندگی جہنم بنانا کیا ہوتا ہے ” شاہویر بھی پھٹ پڑا اور انگلی اٹھا کر ماں باپ کو دیکھ کر کہنے لگا اور اسکی بات سن کر تو مشتاق کا خون نچڑ گیا وہ پھٹی آنکھوں سے شاہویر کو دیکھنے لگے رضوانہ کبھی اِسے روکتی تو کبھی اُسے انکے آنسو مسلسل گرے جا رہے تھے شاہویر غیض و غضب میں گھر سے نکلا گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے ایف بی آر کی کمپلین ویبسائٹ پر کوہیار کے خلاف ایک تحریری شکایت نامہ اِرسال کیا جس میں اس کے تمام ڈیٹیلز شامل تھیں پھر خود کو پُر سکون کر کے الویرہ سے ملنے چلا گیا آخر تباہی تو ہر طرف مچانی تھی ناں۔

————————————

(موجودہ دور )

غازیہ صبح ہوتے ہی چائنیز نیوایئر کے لئے کچھ خریداری کرنے مرکزی مال آئی تھی مال سرخ رنگ کی سجاوٹ سے سجا ہوا تھا جس سے پرانے چینی ثقافت کی جھلک دکھتی تھی مال میں گھومتی اپنے لیے ایک پیروں تک آتی میکسی خرید کر اب تھوڑی دیر سکن کیئر کی دکان پر رکی غازیہ کو تو سکن کیئر کا کریز تھا اتنا سارا سامان ہونے کے باوجود اب بھی مختلف سیرم کے سیکشن کی طرف چلی آئی اور انکے ٹیسٹرز اپنی کلائی پر لگا لگا کر دیکھ رہی تھی کورین ڈراموں کی طرح کورین سکن کیئر نے بھی دنیا سر پر اٹھا لی تھی جب ایک مانوس آواز سنی ۔

”غازیہ امین لاشاری دل توڑ کر حال بھی نہیں پوچھتی ”شاہویر اسکے پیچے کھڑا بولا غازیہ نے مڑ کر دیکھا تو اسکے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔

”تم یہاں ”غازیہ اسے دیکھ کر حیران تھی اور ذہن پر زور دینے لگی کہ کل رات بھی اسے اسٹیشن پر دیکھا تھا ۔

”جی میں بھی شاپنگ کرنے آیا تھا آپ کو دیکھا تو رک گیا ” صاف جھوٹ بول کر ڈِھٹائی سے مسکرایا حالانکہ صبح سے غازیہ کے ہوٹل کے سامنے والے کیفے میں بیٹھا تھا غازیہ کو اکیلے دیکھ کر تب سے اسکے پیچھے پیچھے آرہا تھا غازیہ بغیر کچھ بولے اس دکان سے نکل گئی اسے حد زیادہ اُلجھن ہونے لگی وہ بس جلد از اس مال نکل جانا چاہتی تھی شاہویر سے اول روز ہی اسے سخت نیگیٹو وائبز محسوس ہوئیں اسکی بات کے لیے تو اسکا منہ توڑ دیتی لیکن بس مصلحتاً وہاں باہر نکل گئی لیکن وہ بھی اسکی پیچھے چلا آیا ۔

“مجھے تو آپ پر حیرت ہو رہی ہے ؟”شاہویر اسکے پیچھے چلتا ہوا بولا وہ رکی اور غصے سے مڑ کر دیکھا ۔

”دیکھو مسٹر تم یہاں اگر میرے ساتھ کوئی سین کریئیٹ کرنے کی کوشش کرو گے تو میں تمہیں اندر کروا دونگی ”چبا چبا کر بولی ۔

”ناراض کیوں ہوتی ہیں یاد ہے مجھے آپکا پچھلا رویہ بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کوہیار سے دور رہیں وہ آپکو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے کسی اور کا منگیتر ہوتے ہوئے بھی آپکو دھوکا دے رہا ہے ”شاہویر نے جیبوں میں ہاتھ رکھے کندھے اچکا کر کہا۔

“تمہیں لگتا ہے میں کوئی نا سمجھ بچی ہوں تم جو بھی آکر کہو گی میں آنکھ بند کر کے مان لوں گی اور یہ جو ویلن جیسا حلیہ بنایا ہے اس سے میں خوف زدہ ہو جاؤنگی تم ابھی جانتے نہیں ہو غازیہ امین کون ہے ” اسکے کالے کپڑوں کی طرف اشارہ کر کے بولی ۔

“لیکن کوہیار کے لیے تو آپکے رولز کچھ اور ہیں ”وہ بھنویں بھینچ کر غصے میں بولا ۔

“مجھے لگا تھا تم جتنے گھٹیا دکھتے ہو اتنے ہو گے نہیں لیکن تم نے آج ثابت کر دیا تم ایک نمبر کے گھٹیا اور چیپ آدمی ہو کوہیار یہاں ایک بزنس ڈیل کے لیے آیا ہے آئندہ اگر تم میرے آس پاس نظر بھی آئے ناں میں پولیس بلا لونگی کیپ دیٹ ان مائنڈ ” کہہ کر وہ تیزی سے مڑی اور وہاں سے نکل گئی اور شاہویر دھواں دھواں چہرہ لیے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا جب سے غازیہ کو دیکھا تھا اسے وہ بہت پسند آگئی تھی اور اسے پانا اتنا ہی مشکل آج تک کوئی ایسی لڑکی نہیں ملی تھی جس پر شاہویر کی آنکھوں کا جادو نہ چلا ہو اور آج غازیہ نے وہ غرور مٹی میں ملا دیا الویرہ کی طرح یہ اسکے کہے میں کیوں نہیں آئی اگر غازیہ کوہیار کو مل گئی تو جیت تو پھر بھی کوہیار کی ہوگی اور اس بات نے اسے لرزہ دیا۔

“نہیں مجھے ہر حالت میں کوہیار کو ہرانا ہے اور غازیہ کو تو اسکا کبھی نہیں ہونے دوں گا” اسکی انا کو کاری ضرب لگی تھی اور بلاوجہ کی نفرت جو لوگ پالتے ہیں انکی زندگی دوسروں کی تباہی کی طرف ڈیڈیکیٹ ہوتی ہے اور شاہویر کی زندگی کا مقصد اپنی کامیابی کے لئے نہیں بلکہ کوہیار کی ناکامی کے لیے تھا ۔

————————————-

ٹیکسی ہوٹل کے سامنے رکوا کر اپنے شاپنگ بیگس اتار رہی تھی جب پارکنگ میں کھڑے کوہیار پر نظر پڑی جو اس ہی کی طرف بڑھنے لگا آکر ٹیکسی کی ادائیگی کی اور اسکے بیگ اسکے ہاتھ سے پکڑ کر آگے بڑھنے لگا رات کی بارش کے بعد سردی بڑھ گئی تھی ہوا سے غازیہ کے بال اڑ رہے تھے اور کوہیار کے بال بھی ماتھے پر گرے تھے کالی شرٹ اور کالی پنٹ کے ساتھ بھورے رنگ کا سوئیڈ بومبر جیکٹ پہنے اسکی آنکھیں سرخ تھیں جیسے رات آنکھوں میں کٹی ہو چہرے پر عجیب سا ملال بھی تھا غازیہ چہرے پڑھنا تو نہیں جانتی تھی لیکن اتنا سمجھ گئی کہ کوہیار بہت ڈسٹرب لگ رہا ہے ۔

“اسکی کیا ضرورت ہے ؟”غازیہ نے اسے ڈرائیور کو ادائیگی کرنے پر ٹوکا لیکن وہ ادائیگی کر کے اسکی طرف مڑا ۔

“جیسے ڈیلکس روم کی ادائیگی میری زمہ داری ہے ویسی ہی تمہاری ٹیکسی کافی لنچ ڈنر میٹرو یہ سب بھی میری زمہ داری ہے ” کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا لیکن اُسکی بات پر غازیہ پیچ و تاب کھا کر رہ گئی دو منٹ پہلے اسکے لیے فکر لاحق ہوئی وہ غصے میں بدل گئی ۔

“ہاں تو مفت کی ٹور گائیڈ تو نہیں ہوں میں ”وہ بھی کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہو گئی ۔

“اچھا تو تم ٹور گائیڈ ہو ؟” کوہیار نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے سوچتے ہوئی کہا اور آگے بڑھ گیا غازیہ ضبط کر کے اُسے خوب القابات نوازتی اسکے پیچھے چل دی جب چلتے چلتے وہ دونوں سوئمنگ پول کے قریب پہنچے تب تک غازیہ کا غصہ کافی حد تک کم ہو چکا تھا تب ہی یاد آنے پر کہا ۔

“تمہیں پتہ ہے آج مجھے مال میں کون ملا ؟” کوہیار نے سنا وہ رک گیا شاید چلتی ہوا بھی رکی تھی تب ہی اسکی سانس بھی تھمتی محسوس ہوئی ۔

“ شاہویر مرزا اور لگتا ہے اسے کوئی تمیز تہذیب تو چھو کر گزری ہی نہیں ” وہ کہہ رہی تھی لیکن وہ رک گیا اور آسمان کی طرف دیکھا آسمان پر گھنے بادل چھائے تھے شاید پھر سے بارش ہونے لگے ۔

“عجیب چِھچوری باتیں کرنے لگا مجھ سے میں بھی اسے پولیس وارننگ دے کر آگئی ”کوہیار سوئمنگ پول کے پاس لگی سن چیئرز بیٹھ گیا ۔

“کل رات ملا تھا میں اس سے ” کوہیار کی آواز پست تھی لیکن غازیہ نے سنا اور بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی ۔

“تم سے ملنے آیا ہے ”غازیہ نے پوچھا ۔

“شاہویر میرے بابا کے کزن کا بیٹا ہے ہم ساتھ ہی بڑے ہوئے اور میں نے اسے ہمیشہ ایک دوست سمجھا لیکن مجھے پتہ ہی نہ چلا کب وہ میرا دشمن بن گیا اب وہ میرا دوست نہیں ہے غازیہ ” اسکے لہجے میں ایک اداسی تھی وہ دو ایسے لوگو کا ڈسا ہوا تھا جن کا اُسکی مینٹل اور ایموشنل احساسات میں بہت عمل دخل تھا کوہیار جیسے مضبوط اعصاب کے انسان کو توڑنے کی آخری حد تک لا کھڑا کیا تھا کچھ عورتوں کی کم عقلی کی وجہ سے اچھے خاصے مرد رُل جاتے ہیں لیکن کوہیار کے کیس میں تو مرد کا بھی عمل دخل تھا عورت کا بھی ۔

“لیکن وہ تمہارے پیچھے کیوں پڑا ہے ؟”غازیہ بھی ساتھ پڑی دوسری سن چیئر پر بیٹھ گئی حالانکہ غازیہ کی عادت نہیں تھی کسی کی پرائیویٹ زندگی ڈسکس کرنے کا خصوصاً اپنے کلائنٹ کا لیکن اب اس کا فطری تجسّس جاگ اٹھا ۔

“نہیں جانتا ”کوہیار نے دانستہ چھپایا کہ وہ بہت تلخ داستان تھی ۔

“میں جانتی ہوں وہی جو ہابیل کو کابیل سے ہوا وہی جو برادرانِ یوسف کو یوسف (ع-س) سے ہوا وہی جو ابلیس کو آدم (ع-س) سے ہوا ” کوہیار نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔

“حسد اور موازنہ ” غازیہ نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے ایک آبرو اٹھا کر کہا ۔

“وہ کوہیار بننا چاہتا ہے نہیں بن سکتا اس لئے دشمنی پر اتر آیا ہے ” غازیہ کندھے اچکا کر بولی اور آسمان کی طرف دیکھا بادل گرجنے لگے تھے ہلکی بوندا بندی شروع ہوئی تو وہ کھڑی ہوگئی لیکن وہ بیٹھا رہا ۔

“کوہیار میں ایسا کیا ہے جو وہ کوہیار بننا چاہتا ہے ” وہ اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا وہ کچھ سننا چاہتا تھا شاید وہ جو اسکا دل مچل رہا تھا سننے کو ۔

“سب کچھ ، کوہیار میں سب کچھ ہے جو ایک کامیاب انسان میں ہونا چاہئے” کہہ کر وہ اندر چلی گئی اور وہ باہر اُسے دیکھتا رہ گیا اسے ایسا لگا اسکا خون سیروں بڑھ گیا ہو ۔

“ہیلو مسٹر بارش میں بیٹھ کر بعد میں نہا لینا میرا یہ جو سامان تمہارے ہاتھ میں ہے اگر خراب ہوا تو پوری پیمنٹ وصول کروں گی تم سے”شیشے کے دروازے سے سر نکال کر بولی تو کوہیار کا قہقہہ ہوا میں بلند ہوا اور غازیہ ہونہہ کر کے چلی گئی کوہیار غازیہ کے شاپر اٹھا کر کھڑا ہوا اور آسمان کی طرف دیکھا بارش کی بوندیں اسکے چہرے پرگرنے لگی وہ مسکرا رہا تھا ۔

————————————

کمرے میں پیلے بلب کی روشنی تھی اوائل دسمبر کے دن تھے اس لئے کراچی میں ہلکی سردی تھی کراچی کی یہ ہلکی سردی بھی بیمار کرنے کو کافی ہوتی ہے مہرالنساء بچوں کے ساتھ پلنگ پر لحاف میں دبکی ہوئی انکو کوئی پریوں کی کہانی سنا رہی تھی جب دونوں ہی سو گئیں انکے سونے کے بعد وہ آ کر اپنے ریکلائینر پر بیٹھ گئی تب ہی اسکے فون پر نوٹیفکیشن آیا فون دیکھا تو زارون کا میسج آیا تھا کھول کر دیکھا تو کوئی ویڈیو تھی بھنویں بھینچے وہ ویڈیو دیکھتی گئی ۔

”تمہیں میوزک سننے کا شوق ہے ” کوہیار غازیہ سے کہتا ہے اور وہ اسکی طرف ایک ایئر پوڈ بڑھاتی ہے ویڈیو ختم ہونے کے بعد مہرالنساء کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل جاتی ہے ۔

”زبردست ” تقریباً دس دفعہ ہی وہ ویڈیو دیکھ کر گنگناتی اپنی وینیٹی کے سامنے اپنے بال سنوارنے لگتی ہے اور شیشے میں دیکھتے ہی دیکھتے گزرے سالوں کی ایک جھلک رونما ہوتی ہے ۔

کوہیار اور زیب النساء اس کے گھر آئے ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ الویرہ کی آنے والی عید کے لئے تحفے لائے ہیں کوہیار کی خاموشی دونوں بہنوں سے ڈھکی نہیں ہے جتنی دیر وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوتے ہیں کوہیار ایک دفعہ بھی سر اٹھا کر کچھ نہیں بولتا اور الویرہ بھی ان سے ملنے نہیں آتی کافی دیر بعد انیلہ آئی ۔

”الویرہ کے سر میں درد ہے دوائی لے کر سو گئی ہے“ انکا رویہ بھی کافی لیا دیا سا ہوتا ہے زیب النساء نے اس چیز کو بہت شدت سے نوٹ کیا مہرالنساء کو کتنا دکھ کتنی اذیت ہوئی وہ بیاں سے باہر ہے اپنے گھر والوں کی اتنی بے عزتی اس نے کب سوچا تھا کہ اسکے گھر ہی ہوگی ۔

اُنکے جانے کے بعد وہ کتنی دیر تک روئی زارون سے شکایت کی تو الٹا اسے ہی ڈانٹ کر خاموش کر دیا زارون بہت محبت کرتا تھا اس سے لیکن اس معاملے میں اسکی کبھی نہیں سنی پھر غصے میں وہ کمرے سے باہر نکلی لان میں آکر وہاں رکھی کرسیوں پر بیٹھی ۔

”آجاتے ہیں اپنے فضول تحفے لے کر جیسے مجھے کپڑوں اور جوتوں کی کمی ہے کچرے میں پھینک دیا اس خڑوس کا سارا سامان” ٹیریس پر کھڑی الویرہ فون پر کسی سے بول رہی تھی ۔

”ارے کیسی باتیں کر رہے ہو تمہارے ہاتھ کا لایا زہر بھی پی لوں گی ” بول کر ہنس دی اور مہرالنساء وہ شاید سانس لینا بھول گئی سکتے کی حالت میں کتنی دیر وہیں بیٹھی رہی پھر ہمت کر کے گھر کی پچھلی طرف کچن کے پچھلے دروازے کے پاس پڑے کچرے کے ڈبے میں دیکھا تو واقعی میں وہ سارا سامان جو کوہیار اور زیب النساء لئے تھے کوڑے دان میں پڑا تھا کتنا درد اسکے دل سے ہو کر گزرا غصے کی حالت میں انیلا کے پاس گئی اور سب کچھ کہہ سنایا کہ یہ حرکت کی ہے اسکی بیٹی نے ۔

”مہرالنساء یہ بات تم جا کر زارون سے کہو پھر وہ تمہیں اچھے سے جواب دے دیگا ” انیلا بہت اطمینان سے کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور مہرالنساء باہر کھڑی دیکھتی رہ گئی جانتی تھی وہ اگر الویرہ کے بارے میں ایک بات بھی کرے گی اسکا اثر اسکے گھر پر پڑے گا ۔

شیشے سے وہ منظر تحلیل ہوا ۔

“اب امتحان تمہاری محبت کا ہے زارون میرا صبر بس اتنا ہی تھا” ہیئر برش وینیٹی پر رکھ کر طنزاً مسکرا دی کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کا مزا ہم کبھی نہیں بھول سکتے ۔

—————————-

عبداللہ کب سے اپنے آفس میں اندھیرا کئے بیٹھے تھے ان سے کوئی کام نہیں بن پا رہا تھا اس لئے سب چھوڑ چھاڑ کر ایک گہری سوچ میں گم تھے اپنے آفس چیئر پر ٹیک لگائے خلاء میں گھور رہے تھے ۔

“نہیں شاید کوئی اے آئی سے بنائی تصویریں ہوں ” وہ سوچ کر سیدھے ہوئے اور موبائل دوبارہ اٹھایا اور وہ چیٹ کھول کر دیکھی۔

“بڑے غیرت مند بنتے ہو ؟” ویڈیو پر کیپشن لکھا ہوا تھا عبداللہ نے ویڈیو پلے کی غازیہ اور کوہیار ٹرین میں بیٹھے تھے ۔

“تمہیں میوزک سُننے کا شوق ہے ؟” کوہیار غازیہ سے پوچھتا ہے اور غازیہ اپنا ایئر بڈ نِکال کر اسکی طرف بڑھاتی ہے جسے وہ پکڑ لیتا ہے ۔

غصے کی ایک شدید لہر اُنکے رگ و پے میں دوڑ گئی ۔

“کوہیار عالم شاہ میں تمہیں بڑا شریف النفس سمجھتا تھا ” طیش کے مارے انکا برا حال تھا ۔

(جاری ہے )

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *