قسط نمبر 3
سات سال پہلے
مہرالنساء کی منگنی تھی گھر میں خوب جشن کا سماء تھا مہرالنساء بہت حسین لگ رہی تھی آئس بلیو کلر کے فراک میں اسکا حسن مزید نکھر گیا تھا زارون اور مہرالنساء ساتھ بیٹھے بہت پیارے لگ رہے تھے لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی الویرا ہنستی مسکراتی گوری رنگت خوبصورت آنکھیں بالوں کو ہائیلائٹس کروائے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی بذلہ سنج اور شوخ ادا ۔
انگوٹھی پہنائی گئی دعا کی گئی اسکے بعد ذوالفقار عالم شاہ اور سرمد عباسی جو کہ آپس میں کزن بھی تھے انہوں نے وہیں بیٹھے ایک اور رشتہ بھی جوڑا ۔
“میں نے اور سرمد نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم آپس میں اب دوسری رشتہ داری بھی جوڑیں گے “ لاؤنج کے صوفے پر بیٹھے انہوں نے بغیر پوچھے اپنے بچوں کی زندگیوں کا فیصلہ کر لیا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ انکی زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں۔
“ اگلے ہفتے ان شا اللّٰہ کوہیار اور الویرا کی منگنی کریں گے “سرمد نے اعلان کیا کوہیار تو باہر لان چیئرز پر لڑکوں کے ساتھ بیٹھا مذاق مستی میں مصروف تھا لیکن وہاں بیٹھی الویرہ بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگی پھر سرخ چہرہ لیے وہاں سے باہر نکل گئی ۔
“آ بھائی تیری تو منگنی ہو گئی “ شاہویر نے آکر سب کے بیچ اعلان کیا ۔
“ہاں بچے بھی ہو گئے سکول میں داخلہ کروانا ہے “ کوہیار نے ہنس کر اسکی بات مذاق میں اڑا دی ۔
“ انکل نے انائونس کیا ہے اب تم زارون بھائی کے بہنوئی لگتے ہو “ شاہویر تو کہہ کر بیٹھ گیا لیکن کوہیار اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑا ہو گیا ۔
“کیا “ بس اتنا ہی کہہ سکا اور اندر چلا گیا امی کو اپنے روم میں بلوایا امی کمرے میں داخل ہوتے ہی بلائیں اور صدقے اتارنے لگیں ۔
“مبارک ہو میرا پیارا بیٹا “ ۔
“امی مجھ سے پوچھے بغیر ہی میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر لیا ایک بار میری مرضی تو جان لیتیں “ کوہیار اضطراب میں بولا ۔
“تجھے کوئی اور پسند ہے “ امی پریشانی سے اسکے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔
“نہیں امی میں ابھی تیار نہیں ہوں “ وہ امی کے سامنے چیئر گھسیٹ کر بیٹھا ۔
“دیکھو بیٹا رزق اسکی قسمت لے آئے گی اور تجھ پر مجھے بھروسہ ہے اور الویرو بھی بہت اچھی لڑکی ہے “ سلطانہ اسے رام کرنے کی کوشش کرنے لگیں “تمہارے بابا کوئی غلط فیصلہ نہیں کریں گے تمہارے لئے “ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں ۔
“لیکن اتنی جلدی کیا ہے “ وہ منمنایا۔
“کیوں مجھے تیری شادی جلد از دیکھنی ہے تمہارے بچے اپنی گود میں کھلانے ہیں “ سلطانہ مذاق میں بولیں کہ شوہر نے فیصلہ کر لیا اور اب انہیں بیٹے کو راضی کرنا تھا ۔
“اور اگر میں یہ زمہ داری نہ نبھا پایا تو “کوہیار اپنی عادت سے مجبور ہر چیز کو بہت گہرائی تک سوچنے ولا اور ہر لاجک سامنے رکھ دیتا اور یہ تو اسکی زندگی کا معاملہ تھا ۔
“کہا ناں تو کر لیگا مجھے بھروسہ ہے تم پر “ سلطانہ دلاسے دے رہِیں تھیں لیکن سچ تو یہ تھا کہ ذوالفقار نے ان سے کچھ پوچھنا تو دور انہیں اطلاع تک نہیں دی لیکن پھر بھی وہ اپنے شوہر کا دفاع کر رہی تھیں کہ اگر اس معاملے کو بخوبی ہینڈل نہیں کیا تو باپ بیٹے کے بیچ دیوار کھڑی ہو سکتی تھی اس لیے جیسے تیسے کر کے انہوں نے کوہیار کو راضی کر لیا ۔
——————————
شروع میں کوہیار مخمصے میں تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ الویرہ کی طرف مائل ہونے لگا اسے وہ اچھی لگنے لگی کوہیار فطرتاً ایک ریزروڈ طبع لڑکا تھا وہ جلدی کسی سے گھلتا ملتا نہیں تھا دوستوں نے بھی اس سے راہ و رسم خود سے بڑھائی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو چاہ کر بھی بات چیت میں پہل نہیں کر سکتے اور نہ ہی جلدی گھل مل سکتے ہیں اور اوورتھنکر اور سینسیٹو ہوتے ہیں یہ انکی فطرت ہوتی ہے یہ ایک قدرتی فیکٹر ہوتا ہے لیکن لوگ انہیں غلط جج کرتے ہیں انہیں مغرور اور اکھڑ سمجھتے ہیں اور کوہیار کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا منگنی والے دن الویرا اور اسکی کوئی خاص بات نہیں ہوئی بہت مشکل سے اس نے الویرا سے دو چار باتیں کیں جن کا الویرا نے بہت مختصر جواب دیا اور سارا وقت انکے بیچ خاموشی رہے اور وہ خود کو کوسنے لگا کہ اسکی وجہ سے ان میں کوئی بات نہیں ہوئی لیکن اسکی غلط فہمی تب دور ہوئی جب ایک دن وہ اسے ایک ریسٹورنٹ لے کر گیا ۔
“لگتا ہے تم بھی میری طرح بہت کم بولتی ہو “ کوہیار نے آرڈر دیا اور مسکرا کر بولا الویرہ ریسٹورنٹ کے شیشے سے باہر بنے ایک مصنوعی گارڈن کو دیکھ رہی تھی نظریں ترچھی کر کے اسے دیکھا اسکی نظروں میں اجنبیت اور سختی تھی ۔
“ایسا نہیں ہے میں بہت جلدی گھلنے ملنے والی ہوں لیکن جس سے میرا دل چاہے “ پھر دوبارہ سے باہر دیکھنے لگی کوہیار کو اسکے جواب سے سبکی کا احساس ہوا لیکن اس احساس کو جھٹک کے دوبارہ بات شروع کی ۔
“تو تمہاری کیا ہوبیز ہیں “ اس سے کوئی بات نہیں بن پا رہی تھی۔
“جو بھی ہیں لیکن اللّٰہ کا شکر ہے کسی کی زندگی میں زبردستی شامل ہونا نہیں ہے “ اب کے اس نے اسکی آنکھوں میں جھانک کر صاف لفظوں میں کہا کوہیار کے ابرو تن گئے ۔
“میں سمجھا نہیں آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں “ اسکا دل ڈوب کر ابھرا تھا اور الویرہ تھی کے اسکے دل پر پیر رکھے اسے روند رہی تھی ۔
“میں تمہیں بہت سمجھدار سمجھتی تھی لیکن تمہیں تو اتنی صاف بات سمجھ نہیں آرہی “اس نے نخوت سے کہا کوہیار کی پیشانی پر بل پڑ گئے ۔
“اگر ایسی بات ہے تو تم اپنے ماں باپ سے بات کرو انہیں بتاؤ کہ تم کیا چاہتی ہو “ کوہیار نے مٹھیاں بھینچ کر چبا چبا کر کہا لیکن الویرہ بغیر کچھ کہے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی یہ جانے بغیر کہ کوہیار کو سوچوں کے لامتناہی سمندر میں دھکیل کر چلی گئی جس میں پہلا سوال اسکا یہی تھا کہ آخر مجھ میں کیا برائی ہے کہ میرا دل ایسے توڑا گیا۔
——————
مہرالنساء کی مہندی تھی اس واقعے کے بعد آج کوہیار الویرہ کو دیکھ رہا تھا کتنی پیاری لگ رہی تھی وہ کوہیار نے کسی سے اس واقعے کا ذکر تک نہیں کیا تھا اس سارے عرصے وہ مضطرب سا ہمیشہ اس بارے میں سوچتا رہا تھا آج الویرہ کو دیکھ کر دل میں ایک حسرت جاگی کہ شاید وہ ایک وقتی غصہ ہو وہ بھی تو شروع میں اچانک منگنی کے نام سے بدک گیا تھا شاید الویرا کے ساتھ بھی وہی مسئلہ تھا ہوسکتا ہے وقت گزرتے وہ بھی اسے چاہنے لگے۔
زیب النسا ایک باسکٹ میں بہت سارے گجرے لیے پھر رہی تھیں ۔
“یہ لو لے جا کر اپنی منگیتر کو پہنا دو خوش ہو جائے گی “ زیب النسا نے اسکے ہاتھ دو گجرے تھما کر کہا گجرے تھام کر وہ جی کڑا کر کے اسکی طرف گیا الویرہ برائیڈل روم میں مہرالنساء کے پاس بیٹھی اپنا میک اپ سیٹ کر رہی تھی جب نکلی تو کوہیار سامنے کھڑا تھا اُسے دیکھ کر مسکرایا لیکن الویرا کے چہرے پر اسے واضح تغیر محسوس ہوا آنکھیں گھما کر وہ ساتھ سے نکل رہی تھی جب کوہیار نے اسے روکا ۔
“الویرہ یہ تمہارے لیے “ کوہیار نے گجرے اسکی طرف بڑھائے الویرا نے نخوت سے گجروں کو دیکھا۔
“میں پہنا دوں “ وہ ایک قدم آگے بڑھا ۔
“نو پلیز” وہ بہت تیز لہجے میں اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر بولی اور کوہیار وہیں برف کا مجسمہ بن گیا
وہ چلی گئی اور وہ پیچھے کھڑا اپنی عزتِ نفس کی دھجیاں بکھرے دیکھ رہا تھا اتنی ہتک اتنی تذلیل گجرے پھینک کر وہ مہندی کی محفل سے نکل کر سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا سمندر کنارے آگیا گاڑی سے نکل کر دروازہ دھڑام سے مار کر وہ گہری سانسیں لینے لگا اب سب کچھ اس کے سامنے تھا یہ اسکی شخصیت کی وجہ سے نہیں تھا کہ الویرہ اس سے دور بھاگتی تھی بلکہ وہ کوہیار سے نفرت کرتی تھی آج سب کلیئر تھا اب وہ خود کو اور جھوٹے دلاسے نہیں دے سکتا تھا کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی وہ ٹھیک تھی بس اسکی نہیں تھی اور نہ ہی اسے اپنے پاس برداشت کر سکتی تھی
“میں ایسا رشتہ کبھی نہیں نبھا سکتا “ وہ خود سے کہہ رہا تھا ۔
—————————-
مہرالنساء زارون کے لیے کافی بنانے لگی تو سوچا انیلا آنٹی کے لیے بھی بنا دے کافی بنا کر وہ اُنکے روم کی طرف بڑھی دروازہ کھٹکھٹانے لگی تھی کہ کوہیار کا نام سن کر رک گئی کسی کی باتیں سننا تو برا عمل تھا لیکن بھائی کا نام سن کر فطری تجسّس جاگ اٹھا الویرا بہت زور زور سے بول رہی تھی اور وہ رک کر سننے لگی ۔
“ابّا کو ساری دنیا میں صرف وہ خڑوس کوہیار ہی ملا تھا میرے پلّے باندھنے “الویرہ کی آواز میں غصہ جھلک رہا تھا ۔
“آہستہ کرو لڑکی مہرالنساء سن لیگی “ انیلا کی دبی دبی ملتجیانہ آواز ابھری ۔
“تو سن لے اور بھی اچھا ہے اور رشتہ ہی ختم کر دے جان چھوٹ جائے میری اس کوہیار سے “ الویرہ اور بھی زیادہ تیز آواز میں بولی۔ مہرالنساء نے دل تھام لیا یہ تو اسکی شادی کا پہلا ہفتہ تھا آگے کیا کیا رکھا ہے اسکے لیے ۔
“تو جا کر اپنے ابّا سے کہو مہرالنساء سے کیوں کہنا وہ تو تمہاری ہر ضد مانتے ہیں “ اب کے انیلہ غصے سے بولی تو الویرا سینے پر بازو باندھے نتھنے پھلائے بس غصے سے دیکھنے لگی ۔
“کیا کمی ہے اس میں خاندان کا سب ذہین انٹلیکچوئل ہے اس عمر میں کتنا اسٹیبلش بیزنس سنبھالا ہے اس نے اور خوبصورت کتنا اسکے جیسے پورے خاندان میں کون ہے عقل تمہاری گھٹنے میں ہے جو اتنا اچھا رشتہ ٹھکرا رہی ہو ناشکری مت بنو الویرہ “ اب انیلا سمجھانے والے انداز میں بولیں ۔
“چاہے وہ کوئی شہزادہ بھی ہو تو میں اس سے شادی نہیں کروں گی مجھے نہیں پسند وہ چاہے خوبصورت ہے ذہین ہے جو بھی ہے مجھے نہیں پسند “ اس سے زیادہ مہرالنساء میں سننے کی ہمّت نہیں رہی بڑی مشکل سے آنسو پیتی اپنے کمرے تک آئی جو انکشاف اُس پر ہوا تھا وہ جان لیوا تھا اُسکا ہیرے جیسا بھائی کتنی محبت تھی اُسے اپنے چھوٹے بھائی سے اسکے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے اس نے سوچا نہ تھا اب وہ کیا کرے کسے بتائے ۔
————————————
“لیکن اب میں اس سے جان چھڑاؤں کیسے “ الویرہ اپنے کمرے کے بیچ جلے پیر کی بلی کی طرح چکر کاٹ رہی تھی ۔
“پریشان کیوں ہوتی ہو اپنے بابا سے جا کر صاف بول دو کہ تمہیں نہیں کرنی کوہیار سے شادی “ دوسری طرف ایک مردانہ آواز ابھری ۔
“میں بابا کو یہ امپریشن نہیں دینا چاہتی کہ انکے کسی فیصلے سے مجھے اختلاف ہے کسی طرح وہ کوہیار خود منع کر دے تو بہت اچھا ہوگا “ چکر کاٹ کاٹ کر وہ بیٹھ گئی۔
“یعنی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے “ وہ ہنسنے لگا تو الویرہ تپ گی ۔
“میری جان پہ بنی ہے اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے “ الویرہ کو سچ میں اب اس پر بھی غصہ آگیا ۔
“اوہو میری جان کیوں غصہ کرتی ہو میرے پاس ایک آئیڈیا ہے “ وہ بولا تو الویرہ غور سے سن رہے تھی ۔
“اسے اتنا تنگ کرو کہ وہ خود ہمارے راستے سے ہٹ جائے کرنا یہ ہے کہ اسکی غیرت پر وار کرنا اسے ہماری محبت کے کچھ ثبوت دکھاؤ “ آگے سے شیطانی آواز میں کہا گیا ۔
“نہیں نہیں اس سے میری عزت خراب ہوگی میں ایسا نہیں کر سکتی “ وہ بُدک گئی وہ ایسا رسک نہیں لے سکتی تھی ۔
“جہاں تک میں اسے جانتا ہوں وہ تمہارا نام نہیں آنے دیگا اور تم بھول رہی ہو اسکی بہن اسکی کمزوری ہے “ وہ بڑے اطمینان سے بولا ۔
“کرنا کیا ہے “ وہ بے دلی سے راضی ہوئی تو وہ اسے اپنا پلان بتانے لگا اور وہ غور سے سننے لگی اورایک بار حرام کے چکر میں پڑ جاؤ پھر اس سے نکلنا مشکل ہے جیسے منہ کو لہو لگ جانا ۔
باہر آسمان پر کالے بادل گرج رہے تھے اس بات سے بے خبر کہ کچھ لوگوں کی زندگیاں طوفان کی زد میں آنے والی ہیں ۔
——————————-
وہ اپنے آفس میں بیٹھا اپنے شپمنٹس کی ڈیٹیل ویریفائی کر رہا تھا جب اسکے فون پر ایک کے بعد ایک کوئی دس پندرہ بار نوٹیفکیشن بیل بجی اس نے فون اٹھا کر دیکھا انسٹاگرام کے ڈی ایمز تھے کوئی سکیم اکاؤنٹ تھا ڈارک شیڈو کے نام سے وہ فون واپس رکھنے ہی لگا تھا کہ نوٹیفکیشن بار میں میسج پڑھا ۔
“تمہاری منگیتر کے کالے کرتوت “ میسج پڑھتے ہی اسکی بھنویں بھینچ گئیں اس کے سر پر جیسے آتش فشاں سا پھٹ پڑا ایک کے بعد ایک تصویر کھلتی جا رہی تھی وہ سکرین شاٹس تھے جنہیں دیکھ کر کوہیار کو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ زمین میں دھنستا جا رہا تھا پتہ نہیں کہ اسے دکھ تھا یا پھر غصہ لیکن اسکا سینہ جل رہا تھا تب ہی ایک دم سے اپنی کرسی سے اٹھا اور الویرا کے گھر کی طرف روانہ ہوا وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اسکے ساتھ یہ ظلم کیوں ؟۔
الویرہ کے گھر کی طرف جاتے ہوئے تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے وہ غصے سے اندھا ہو گیا تھا اسکا فون بج رہا تھا اس نے نظر انداز کر دیا لیکن فون تھا کہ بجے ہی جا رہا تھا ڈیشبورڈ پر پڑا فون اُٹھایا بابا کالنگ چمک رہا تھا ۔
اس نے فون کان سے لگایا بابا سے گلہ کرنے کے لیے کہ انہوں نے اس کی زندگی خراب کردی ایک ان چاہے رشتے کے بوجھ تلے دبا دیا ہے اپنے کچھ رشتے داروں کو راضی کرنے کے لیے اپنے بیٹے کو بھینٹ چڑھا دیا لیکن آگے سے جو ذوالفقار عالم شاہ نے کہا وہ اُسکی گاڑی کو ایک یو ٹرن دینے کے لیے کافی تھا سلطانہ کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور ہسپتال میں تھی اور کوہیار کو جلد از جلد وہاں پہنچنے کا کہا کوہیار جھنجھلا سا گیا اک اذیت سی اذیت تھی اسکا ذہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا ریش ڈرائیونگ کرتے کچھ لوگوں سے باتیں سنتا وہ ہسپتال پہنچا لیکن وہاں پہنچ کر ایک روح جھنجوڑ نے والی خبر اسکی منتظر ۔
“بیٹا تمہاری ماں ہمیں چھوڑ کر چلی گئی “ ذوالفقار گلوگیر ہوکر ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھے آنسو صاف کرتے ہوئے بولے کوہیار کو یقین نہیں آیا ایسے کیسے وہ چھوڑ کر جا سکتی ہیں اور اسکے بعد کئی دن تک تو اسے اپنا ہوش نہ تھا ماں جیسی ہستی کا کھو جانا انسان کو کسی بھی عمر میں بے سائبان کر دیتا ہے ۔
سلطانہ کو گزرے ایک ہفتہ ہوا تھا کوہیار بہت ہی کیژیوئل حلیئے میں وائٹ ٹی شرٹ کے ساتھ بلیو بیگی ٹراؤزر پہنے باہر لان چیئر ز میں بیٹھا بے مقصد درختوں سے گرتے خیزاں کے پتوں کو دیکھ رہا تھا جو کبھی اس درخت کی شان ہوتے تھے اب بھوسے کا ڈھیر ہیں وقت کبھی کبھی بہت بے درد ہوتا ہے ۔
“کوہیار بیٹا “ ماں جیسی آواز نظریں گھما کر دیکھا تو شہناز پُھپّو تھیں اسکے لیے چائے لائی تھیں خزاں کے دن تھے مغرب کا وقت ان دنوں کراچی میں گرمی کافی سست ہو جاتی تھی اس لیے اس وقت اسے بھی چائے کی طلب ہو رہی تھی ۔
“تھینک یو پُھپّو “ اس نے چائے کا کپ تھامتے ہوئے کہا ۔
“اس میں تھینک یو کی کیا بات مجھے پتہ ہے تمہیں اس وقت چائے چاہیے “ وہ اسکی ساتھ والی چیئر پر بیٹھتے بولیں گوری سی ادھیڑ عمر تھوڑی فربہ ،لان کا ہلکے رنگ کا سوٹ پہنے بہت ہی مہربان لگتی تھیں یا پھر کوہیار کو وہ بہت اچھی لگتی تھیں وہ فیصلہ نہ کر پایا ۔
“چائے کے لیے نہیں پُھپّو آپکے ساتھ کے لیے آپ کا ہونا ہی میرے زخموں کو مندمل کر رہا ہے “ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے بولا نظریں ابھی بھی گرتے پتوں پر تھیں ۔
“انسان بڑا بے بس ہے بیٹا ایک ہی کام کر سکتا ہے محبت یا نفرت دکھ تو بہت بڑا ہے میرے بس میں بھی اور کچھ نہیں تو بس محبت دے کر تھوڑا غم بانٹ سکوں “ وہ اپنے ازلی شفیق لہجے میں بولیں بدلے میں وہ بس سر ہلا کر رہ گیا پھر پُھپّو کچھ یاد آنے پر بولیں ۔
“بیٹا تمہارے سسرال والے آئے تھے تم ان سے ملنے کیوں نہیں آئے نہ ہی الویرہ سے ملے “ یہ سنتے ہی کوہیار کے آبرو تن گئے لیکن زبان سے کچھ بولا نہیں لیکن شہناز اسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر سمجھ گئیں کہ کوئی گڑبڑ ہے۔
“دیکھو بیٹا وہ تمہارا ہی نہیں تمہاری بہن کا بھی سسرال ہے وہ ابھی ماں بنی ہے تو ذرا سوچ سمجھ لو کہ تمہارا کوئی بھی قدم تمہاری بہن کی زندگی کا اسکی خوشیوں کا فیصلہ کرے گا “ وہ کہہ کر چلی گئیں اور کوہیار ایک نئی سمت میں سوچنے لگا کہ ہاں یہ تو اسکے ساتھ اسکی بہن کی زندگی کا بھی سوال ہے اس دن کے بعد الویرا کا قصہ ایک راز کی طرح اپنے سینے میں دفن کر دیا کسی سے کچھ کہا نہیں اور دوسری طرف مہرالنسا بھی سب جان گئی تھی شادی کا ذکر سنتے ہے دونوں طرف سے ٹال دیا جاتا تھا اس طرح کے ان چاہے رشتے اگر بروقت ختم کر دیے جائیں تو بہت سے لوگوں کی زندگیاں ناسور بننے سے بچ سکتی ہیں دو خاندانوں کا ناراض ہونا لاکھ درجے بہتر ہے دو نسلوں کے تباہ ہونے سے ۔
————————————
موجودہ دن
کوہیار کب سے بیڈ پر ترچھا لیتا آنکھوں پر بازو رکھے ماضی اور حال کو جوڑ رہا تھا جب دو سنہری آنکھوں نے سوچوں کا پردہ چاک کیا جب وہ ہاتھوں میں مہندی لگائے گیٹ کھولے کھڑی تھی ۔
“آئس کریم “ اس نے زیر لب دہرایا اور مسکرایا لیکن یہ مسکراہٹ دو لمحے بعد ہی معدوم ہو گئی گہری سانس لے کر اس نے آنکھوں سے بازو ہٹایا ۔
“اسکا مطلب ہے آپ بڑی کوشش کرتے ہیں لوگوں کی ایکسپکٹیشنز پر اترنے کی جو ایک انسان شاید کبھی نہیں کر سکتا “ اسکی کہی بات کانوں میں گونجنے لگی اب وہ اُسے کیا بتاتا کہ اسے ایک ایسی مجبوری میں باندھا گیا تھا جیسے آگے کنواں پیچھے کھائی اسکی زندگی کے اسکی جوانی کے سات سال اس بوجھ کو گھسیٹتے ہوئے گزرے ہیں اس نے اپنی سی کوشش تو کی لیکن سامنے بند گلی تھی اور کوہیار تو یہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ کسی کی زندگی میں یوں زبردستی شامل ہو اس لیے جب تک یہ کھیل چلنا تھا وہ اسکو چلائے گا ۔
———————————-
آج پہلی بار رومیسا نے کھانے کا اہتمام کیا تھا غازیہ ٹیبل سیٹ کرنے میں اسکی مدد کر رہی تھی اسرا اپنے گھر جا چکی تھی کہ اسکے بچوں کے سکول کھلے تھے عبداللہ احمد باہر بیٹھے فون پر کسی سے محوِ گفتگو تھے اور سمیع ڈائننگ چیئر پر بیٹھا گُنگُنا رہا تھا ٹیبل سیٹ ہوگئی کھانا کھاتے سب تعریف کرتے جارہے تھے ۔
“ذوالفقار نے کل رات سمیع اور رومیسا کے لیے دعوت رکھی ہے “ امین احمد نے کھانے کے دوران اعلان کیا ۔
“جی کوہیار نے بھی کال کی تھی سب کو بلایا ہے سپیشلی غازیہ کو “ یہ سن کر غازیہ جو اس ساری ڈسکشن سے لا تعلق بیٹھی تھی اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے کیوں ؟” وہ حیرانی سے بولی۔
“اسکی سسٹر کی شاید تم سے دوستی ہو گئی تھی تو وہ انسسٹ کر رہی ہیں کہ غازیہ آجائے “سمیع نے تفصیل بتائی ۔
“اوہ ہاں مہرالنساء ! لیکن مجھے واپس چائنہ جانا ہے مجھے پیکنگ کرنی ہے اور بہت سے کام ہیں میرا جانا مشکل ہے “ وہ کہہ کر سلاد کی پلیٹ سے کھیرے اٹھانے لگی۔
“اوہو بیٹا ایسے تو کسی کی دعوت کو ٹھکراتے نہیں ہیں “ظاہرہ نے ٹوکا ۔
“امی کام ہے مجھے “ غازیہ نے بہانہ گڑھنے کی کوشش کی کہ پتہ نہیں کیوں اب کوہیار کا سامنا نہیں کرنا چاہتی ۔
“غازیہ بیٹا میں دیکھ رہی ہوں اب تم رشتہ داروں کے بلاوے پر نہیں جاتی نہ ان سے زیادہ ملتی ہو یہ تو اچھی بات نہیں ہے باہر رہتی ہو اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ یہاں کے لوگوں کو بھول ہی جاؤ” ظاہرہ بولیں تو نرمی سے لیکن انکے لہجے میں ایک سختی تھی اور غازیہ کو مانتے ہی بنی اسکا موڈ آف تھا لیکن امی کے ڈر سے کچھ نہیں بولی کیا پتہ وہیں بیٹھے ایک چمچہ دے ماریں اور خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگی ۔
