Episode 5 - Teri Qadar Ka Muntazir By Gulmira

All Episodes
تیری قدر کا منتظر – گُل مرہ رُستم

Episode 5

تیری قدر کا منتظر – گُل مرہ رُستم

قسط نمبر 5

کوہیار،شاہ ویر کا بازو پکڑے گھسیٹتے ہوئے پارکنگ تک لایا کتنے لوگوں نے مُڑمُڑ کر اُنکی طرف دیکھا شاہویر دُہائیاں دیتا رہا کہ اسے کیوں گھسیٹ رہا ہے پارکنگ تک آتے ہی اسے جھٹکے سے چھوڑا تو شاہویر گرتے گرتے بچا ۔

“کیا کر رہے ہو یار تم یہ کوئی طریقہ ہے “ اپنا بازو سہلاتے ہوئے شاہویر نے کہا ۔

کوہیار نے گہری سانس لی اور انگلیاں اپنے بالوں میں پھرنے لگا پھر ایک دم سے اُسکی طرف گھوما اسکی آنکھوں میں خون اترا تھا ۔

“غازیہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں تمہاری آنکھیں نکال دونگا اسکا نام بھی اپنی زبان پر لائے تو تمہاری زبان کھینچ لونگا شاہویر غازیہ سے دور “انگلی اٹھائے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا شاہویر ششدر سا اُسے پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہا اس نے اتنے سالوں میں کبھی کوہیار کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا کوہیار ایک تیز نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا اور شاہویر اب سمجھا یہ جو کوہیار کا اکھڑا رویہ تھا اور وہ دور تک اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔

————————————

ائیرپورٹ میں معمول کا رش تھا ڈینم کلر کا پیروں تک آتا ڈریس پہنے گلے میں گلابی پرنٹڈ سلک کا سکارف باندھے آنکھوں میں دھوپ کا چشمہ لگایا ہوا تھا غازیہ سمیع اور امین احمد کو گلے مل کر رُخصت کر رہی تھی امین احمد کی آنکھیں نم تھیں بیٹی کی جدائی رلا رہی تھی کیوں کہ وہ عمر کے اس حصے میں آگئے تھے کہ بچوں کی جدائی دل برداشت نہیں کر سکتا تھا ڈرائیور گاڑی سے سامان اتار رہا تھا ان سے گلے مل کر وہ بیرون ملک روانگی کے لاؤنج میں اندر جانے سے پہلے پیچھے مُڑ کر دیکھنے لگی جیسے کچھ چھوٹ گیا ہو یا پھر کسی کا انتظار ہو گہری سانس بھر کر وہ اندر چلی گئی کہ دو گھنٹے بعد اسکی بنکاک کی فلائٹ تھی اور چار گھنٹے بنکاک میں رک کر آگے شنگھائی کی فلائٹ تھی بنکاک کا موسم سردیوں میں سیاحوں کے لیے آئیڈیل ہوتا اور یہ تمام دنیا کا ایک کنیکٹنگ حب بھی ہے اس لیے یہ ائیرپورٹ سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے ۔

چونکہ تھائی لینڈ میں حلال کھانا ملنا آسان نہیں خاص طور پر ائیرپورٹ پر تو اور بھی زیادہ مشکل ہے اس لئے غازیہ نے کچھ سنیکس اپنے بیگ میں رکھے تھے وہی کھا کر پیٹ بھر رہی تھی جب ایک ادھیڑ عمر سیاہ فام عورت جو حلیے سے مسلمان لگ رہی تھی اسکے پاس آکر بیٹھ گئی غازیہ سے سلام دعا کی غازیہ نے اسے چپس آفر کی تو سارا پیکٹ اس سے لے کر کھانے لگی غازیہ تھوڑی دیر منہ کھولے اسے دیکھتی رہی پھر مجبوراً بیگ سے دوسرا پیکٹ نکالا۔

“نام کیا ہے تمہارا ؟”آنٹی نے پوچھا ۔

“غازیہ “۔

“اچھا ہے میرا نام بشائر ہے بشائر رجد ،تم بھی چائنہ جا رہی ہو ؟” رغبت سے چپس کھاتے ہوئے پوچھا ۔

“جی شنگھائی جا رہی ہوں “ ۔

“کیوں جا رہی ہو ؟”اتنے سوال تو میری خالہ نے نہیں پوچھے وہ دل میں سوچ کر رہ گئی ۔

“ایم بی اے کر رہی ہوں “بزنس والی بات گول کر گئی ۔

“میرا تو بیٹا وہاں رہتا ہے یحییٰ نام ہے اسکا “ پھر جو آنٹی شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہ لیا اپنے اور اپنے بیٹے کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی غازیہ بھی اکیلے پن سے اکتا گئی تھی مجبوراً آنٹی کی کتھا سننے لگی سچ بات ہے دیارِ غیر میں اکیلی لڑکی وہ بڑی عمر کی تھیں انکے ساتھ اُسے بہت اطمینان محسوس ہوا فلائٹ میں بشائر آنٹی کافی دور بیٹھیں تھیں اور غازیہ بھی آنکھیں بند کر کے سو گئی کیونکہ دو دن سے لگاتار پیکنگ پھر اتنا لمبا سفر اُسے بہت تھکن اور نیند محسوس ہونے لگی تھی۔

شنگھائی ائیرپورٹ دنیا کا سب سے شاندار ائیرپورٹ دنیا کا ہائی ٹیک فیوچرسٹک ائیرپورٹ ۔ امیگریشن پراسس سے فارغ ہو کر نکلنے لگی تھی کہ بشائر آنٹی نے اسے پکڑا ۔

“میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں بیٹا چلو سامان لیتے ہیں پھر چلتے ہیں یحییٰ ہمارا انتظار کر رہا ہے “ آنٹی اپنا سکرٹ سنبھالتی اور اپنا بیگ مزید کندھے میں دباتی ایسے بولیں جیسے وہ اسکی نانی ہے غازیہ کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔

“نہیں آنٹی میری سہیلی فینگ مجھے لینے آئی ہے “ اور پھر غازیہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ اسے اپنے ساتھ باہر لے آئیں لیکن صد شکر کہ فینگ پہلے سے باہر کھڑی تھی وہ بھی فینگ تھی اس سے سامان لے کر سیدھا اپنی گاڑی کی طرف روانہ ہو گئی بشائر ہیں ہیں کرتی رہ گئیں ۔

“آج تو تم نے بچا لیا “ غازیہ اس سے گلے ملتے ہوئے بولی ۔

“فینگ غازیہ کے لیے ہمیشہ حاضر ہے “فینگ اسکے سامنے جھکتے ہوئے بولی غازیہ نے مسکرا کر اسے اپنے ساتھ لگا کر گاڑی تک آئی گاڑی میں بیٹھ کر غازیہ نے اپنا بیگ چیک کیا ساری چیزیں ٹھیک تھیں لیکن والٹ سے کچھ پیسے غائب تھے گن کر دیکھے تو چار سو ڈالر کم تھے غازیہ کی چیخ نکل گئی وہ اور فینگ بشائر کی طرف بھاگیں لیکن وہاں کوئی بشائر نہیں تھی مجبوراً رپورٹ فائل کر کے وہ دونوں اپنے اپارٹمنٹ کی طرف لوٹیں ۔

“شکر کرو وہ تو تمہیں ہی کھینچ کر لے جا رہی تھی “ اور یہ سوچ کر تو غازیہ کے بھی گردن کے بال کھڑے ہوگئے اور دل ہی دل اللّٰہ پاک کا شکر ادا کیا ۔

—————————

غازیہ کو شنگھائی میں رہتے یہ دوسرا سال تھا ایک سال دالیان میں رہی اور وہیں اسکی ملاقات فینگ سے ہوئی اور فینگ کے مشورے پر اس نے اپنا مائیگریشن شنگھائی کروا لیا اور یہیں سے دونوں نے اپنا ایکسپورٹ کا بزنس شروع کیا دن کو یونیورسٹی اور شام کو اپنا آفس فینگ چائنیز تھی کندھوں تک آتے بال چھوٹی آنکھیں اور چپٹا سفید چہرہ جسے میک اپ سے بہت خوبصورت بنا دیتی تھی ۔

غازیہ اور فینگ کا اپارٹمنٹ منہانگ کے علاقے میں تھا جہاں متوسط طبقے کے لوگ بستے تھے یہاں چار سے چھ منزلہ فلیٹ ہوتے تھے سڑکیں کشادہ اطراف میں درخت لگے ہوتے یہ بہت صاف ستھرا علاقہ تھا یہاں ہر طرح کے ریسٹورنٹ مارکیٹ بھی واقع ہیں جیسے کہ روبوٹک ریسٹورنٹس حلال ریسٹورنٹ اِسی وجہ سے غازیہ کو یہ علاقہ پسند تھا شروع میں غازیہ کو یہاں کھانے پینے میں بہت مشکل ہوتی تھی لیکن اب ان دو سالوں میں اسے حلال جگہوں کا بہت اچھے سے پتہ چل چُکا تھا اور اپنے اپارٹمنٹ کی پچھلی گلی میں ایک چھوٹا سا آفس بھی کرائے پر لیا تھا جسکے ایک کمرے کو بطورِ وئیر ہاؤس استعمال کرتے تھے اور دوسرے کمرے کو بطورِ آفس انکے آفس میں چار لوگ کام کرتے تھے غازیہ ، فینگ ، ثریا اور عاصم ۔

غازیہ کمپنی کی فاؤنڈر اور انویسٹر تھی تمام ڈیزائنز اور آئٹمز وہ سیلیکٹ کرتی تھی اور تمام فیصلے بھی اسکے ہوتے ۔

فینگ تمام ڈیلنگز کرتی آن لائن آرڈرز وصول کرتی اکاؤنٹس سنبھالتی ۔

عاصم اور ثریا آرڈرز پیک اور ڈسپیچ کرتے پارٹ ٹائم ڈرائیور پارٹ ٹائم باورچی بھی وہی ہوتے اس طرح غازیہ کی چھوٹی سی کمپنی غازیہ انٹرپرائزز پروان چڑھنے لگی ۔

صبح یونیورسٹی شام آفس غازیہ کو سر کھجانے کا وقت بھی نہیں ملتا تھا ۔

———————————-

الویرا اپنے کمرے میں بیٹھی چوتھی بار اسکا نمبر ملا رہی تھی لیکن آگے سے کاٹ دیا جاتا تھا ٹھنڈی آہ بھر کر فون بند کر دیا الویرہ پریشان سی ہو گئی دل بیٹھ سا گیا کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا کتنے دن ہو گئے تھے کوئی حال احوال نہ تھا کہاں کہ وہ ہر دس منٹ بعد کال کرنے والا ۔

“تمہاری آواز سنے بغیر میرا دن نہیں گزرتا نہ ہی میری صبح ہوتی ہے “ بہت بیتابی سے کہا گیا وہ جملہ اسکےکانوں میں گونجنے لگا دل ملال سے بھر گیا ۔

“مجھے کیوں اگنور کر رہے ہو تم “ بیڈ پر ڈھے گئی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے ۔

—————————

کوہیار اپنی ایس یو وی میں فنانس آفس کی جانب رواں تھا جب اسے الطاف کی کال آئی اس نے کان میں لگی بلیو ٹوتھ ڈیوائس سے کال ریسیو کی اور سن گلاسز کے پار دوڑتی گاڑیوں اور سڑک کو دیکھ رہا تھا ہلکی داڑھی بال فلو سٹائل میں ایک سائڈ پر جمائے تھے بادام شیپ کی خوبصورت کالی آنکھیں ہلکی گندمی رنگت اور کالے ڈریس شرٹ اور آف وائٹ پینٹ میں ملبوس اپنے آج کے ٹینڈر کے لیے پُر امید تھا ۔

“بولو الطاف “ گمبھیر آواز میں کہا ۔

“سر میں نے فائلز اوپن کردی ہیں جن لوگوں نے آپکے نام پر ڈیل کی ہے انکے نام آپکو بھیج رہا ہوں آپ دیکھ لیں “ آگے سے الطاف کسی شاباشی کا منتظر تھا لیکن کوہیار اوکے کہہ کر کال کاٹ گیا۔

فی الحال اُسے صرف یہ ٹینڈر حاصل کرنا تھا ایک کال ملائی ۔

“نعمان جب سب شور کریں گے تو انکے منہ کیسے بند ہونگے مجھے شاید تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں “ ۔

“اوہ صاحب جی آپ تو فکر ہی نہ کرو سب کے منہ ایسے بند کروں گا کہ کھانے کے لئے بھی نہ کھل سکیں “ پھر نعمان کا جنوں کی مانند قہقہہ بلند ہوا کوہیار سر جھٹک کر شیشے سے باہر دیکھنے لگا ۔

فائنانس آفس پہنچا تو وہاں پہلے سے بڑا رش تھا وہ اندر داخل ہوا تو تمام لوگ جو ٹینڈر کے امیدوار تھے کوہیار کو دیکھنے لگے آدھے لوگ تو اسے دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ ٹینڈر انہیں ملنے والا نہیں اس لیے اسکے بیٹھنے سے پہلے ہی دو چار لوگ باہر نکل گئے کیونکہ کوہیار ان سے دو قدم آگے ہوتا ہے اور محنت سے جی نہیں چراتا کسی صحرا میں بھی بھیجا جائے تو خود اپنے کام کی نگرانی کرتا ہے کوہیار عالم شاہ کو سب یہاں جانتے بھی ہیں مانتے بھی ہیں لیکن وہاں بیٹھا ایک شخص کوہیار کی نظروں میں چبھا زاویار ہمدانی ایک صوفہ پر براجمان گرے تھری پیس میں بالوں کو ایگزیکٹو کٹ کیے بڑی بڑی آنکھوں والا ٹانگ پر ٹانگ رکھے ایک مکروہ مسکراہٹ چہرے پر لیے کوہیار کی طرف دیکھ رہا تھا زاویار وہ آخری بندہ تھا جسے کوہیار یہاں دیکھنا چاہتا تھا کوہیار کے جبڑے بھینچ گئے وہ دھیمی چال چلتا اسکے مقابل صوفے پر بیٹھا زاویار نے سر کے اشارے سے سلام کیا ۔

“کوہیار “ ۔

“زاویار” کوہیار نے بھی سر کے اشارے سے کہا ۔

“میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا “ زاویار نے مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔

“میں جانتا ہوں زاویار تم ہمیشہ میرا ہی انتظار کرتے ہو “ کوہیار نے آنکھیں چھوٹی کر کے کہا تو اسکا مدھم سا قہقہہ بلند ہوا زاویار اور کوہیار دونوں کانٹریکٹر اور ایکسپورٹر تھے ایک ٹکر کے تھے سرکاری ٹینڈرز ہوں یا ملٹینیشنل دونوں ہی وہاں موجود ہوتے ہیں زیادہ تر ٹینڈر کوہیار کو ملتے ہیں کیوں کہ کوہیار ہمیشہ اپنے کام خود سپروائز کرتا ہے جب کہ زاویار وہی کام اپنے بندوں کے سپرد کر دیتا ہے یا پھر آگے بیچ دیتا ہے اس لیے شیئر ہولڈرز کوہیار کو زاویار پر فوقیت دیتے ہیں تھوڑی دیر میں ہی ٹینڈر کی بڈنگ شروع ہوئی بڈنگ انڈسٹریز کے لیے مشینری لانے کا تھا نعمان نے وہاں بیٹھے بیٹھے سب کے پرپوزل ریجیکٹ کر دیے کسی میں کوئی خامی نکلی کسی میں کچھ کرتے کرتے آخر میں زاویار اور کوہیار رہ گئے دونوں بہت پُر سکون اور مطمئن تھے دونوں ہی نعمان کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے نعمان نے ٹیبل پر اپنے سامنے دونوں کے فائلز کھول رکھے تھے ۔

“بہت معذرت کے ساتھ کوہیار صاحب لیکن زاویار صاحب کا پرپوزل زیادہ اٹریکٹیو ہے “ نعمان نے کوہیار سے آنکھیں چراتے ہوئے اسکی فائل بند کر کے کھسکا دی کوہیار کی بھنویں بھنچ گئیں جب کہ زاویار کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری ۔

“ زاویار صاحب چلیے ڈیڈز پر سائن کرتے ہیں “ نعمان کُرسی دھکیل کر اٹھا اور اندر والے آفس کی جانب بڑھنے لگا زاویار بھی اسکی تقلید میں چلا تھا کوہیار نے ایک گہری سانس بھری اور کھڑا ہوگیا ۔

“نعمان تمہیں پتہ ہے میں نے تم پر کبھی بھروسہ نہیں کیا “ سرد لہجہ نعمان سر جھٹک کر اندر جانے لگا ۔

“کبھی نہیں کا مطلب آج بھی “ کوہیار کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری نعمان اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگا زاویار بھی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

تب ہی ایک شور سا اٹھا اور ایک کھچڑی بالو والا کلین شیو بندہ ڈریس شرٹ اور پینٹ پہنے اندر داخل ہوا اسکے پیچھے چار لوگ اور بھی تیزی سے اندر آئے انہیں دیکھتے ہی نعمان سیدھا کھڑا ہوا اسکی رنگت غیر ہوئی اور پسینے چھوٹ گئے زاویار نے غصے سے کوہیار کو دیکھا جبکہ کوہیار پُر سکون سا مسکرا رہا تھا ۔

“نعمان آپ نے تمام پیپر ورک چیک کیا ؟” اعتزاز بیگ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے فائل اٹھا کر چیک کی اور دونوں فائلز اپنے ماتحت کو دے کر چیک کرنے کو کہا ۔

“جج ، جی سر “ نعمان نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا اعتزاز فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا ایک ممبر تھا جبکہ نعمان پراجیکٹ ڈائریکٹر تھا اور اپنے ہر عمل کا اعتزاز بیگ کو جواب دہ تھا ۔

“سر زاویار صاحب کے چیمبر آف کامرس کے ڈاکومنٹس نا مکمل ہیں اور چائنہ سے سامان لانے کے رولز بہت اسٹرکٹ ہیں “ اعتزاز کے ماتحت نے زاویار کا فائل انکے سامنے کھول کر رکھا “کوہیار صاحب کے تمام ڈاکیومنٹس مکمل ہیں اور انکی چائنہ سے ایکسپورٹ کی ہسٹری بھی ہے “ماتحت افسر نے اعتزاز کے سامنے کوہیار کی فائل رکھی ۔

“کوہیار صاحب سے ڈیڈز پر سائن کروا لو اور نعمان آپ کل اپنے عمل کی ایکسپلینیشن دیں گے “ اعتزاز کہہ کر اٹھا نعمان سر سر کہتا رہ گیا نعمان نے کوہیار کی طرف دیکھا تو اس نے ماتحت افسر کو مسکرا کر سر کا اشارہ کیا جواب میں اس نے بھی مسکرا کر سر کا اشارہ کیا نعمان سمجھ گیا یہاں ڈبل گیم اس نے نہیں بلکہ کوہیار نے کیھلا ہے ۔

کوہیار کو یہ ٹینڈر ہر حال میں حاصل کرنا تھا اس لئے اس نے نعمان کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی کہ اعتزاز بیگ کے ماتحت کے ساتھ اسکی دوستی ہے اب بس اسے چین جانے کی تیاری کرنی تھی ظاہر ہے وہ ایسے بھی جا سکتا تھا لیکن اب وہ کام کے بہانے جا رہا تھا ۔

——————————

شنگھائی یونیورسٹی آف فائنانس اینڈ اکنامکس )SUFE)۔

یہ ایک الگ ہی دنیا تھی شنگھائی کے رونقوں سے دور واقع یہ یونیورسٹی دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے کشادہ سڑکوں کے اطراف بنی سرخ چھتوں والی عمارتیں ہر ڈیپارٹمنٹ کا کیمپس الگ تھا اور ہر دو سے تین ڈیپارٹمنٹس کے بیچ ایک ماڈرن کافی شاپ اور اسکے ساتھ ہی لائبریری بنی ہے طلبہ کی آسانی کے لیے جگہ جگہ وینڈنگ مشینیں رکھی ہوئی ہیں ۔

باسکٹ بال کورٹ میں کھیلتے لڑکے ۔

ٹینس کورٹ میں کھیلتی لڑکیاں ۔

لان میں جگہ جگہ بیٹھی طلبہ کتابوں پر سر جھکائے باتوں میں مگن ۔

کیمپس میں گاڑیاں لانا منع تھا اس لیے سٹوڈنٹس الیکٹرک سکوٹی یا بائیسیکل چلاتے تھے غازیہ ڈسٹی روز سویٹر اور کھلا سا کریم کلر کا ٹراؤزر پہنے اور گلے میں آئس بلیو کلر کا سکارف لپٹے بالوں کی پونی بنائے اپنی بائیسیکل میں لائبریری کی طرف جا رہی تھی ہوا سے اسکی پونی یہاں وہاں جھولتی جا رہی تھی تب ہی عبداللہ بھائی کی کال آنے لگی عبداللہ بھائی کا نام دیکھتے ہی دل خوشی سے بھر گیا کان میں لگی بلیو ٹوتھ ڈیوائس سے کال ریسیو کی رسمی حال احوال کے بعد کام کی بات شروع کی ۔

“ہمیں ایک نیا کانٹریکٹ ملا ہے سامان لینے اور بھیجنے میں تم نے اُنکی مدد کرنی ہے اور بدلے میں ہماری کمپنی کو وہ اپنا ففٹی پرسنٹ پروفٹ دِیں گے” عبداللہ بول رہے تھے ۔

“ارے واہ یہ تو بہت آسان ہے فکر ناٹ بھائی یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے “ غازیہ اسکوٹی پر کھڑی ہینڈل پر ہاتھ رکھے تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی اور بہت خوش ہو کر بولی تو عبداللہ اسکی خوشی پر ہنس دیے ۔

“لیکن یہ ہیں کون اور کب تک آئیں گے “لاپرواہ انداز ۔

“دو دن تک آ جائے گا کوہیار عالم شاہ ،ملی تو تھی تم اس سے “ یہ سننا تھا کہ غازیہ نے اسکوٹی ایک جھٹکے سے روکی خود بھی گرتے گرتے بچی اور پیچھے آتا لڑکا بھی اس سے بمشکل ٹکراتے بچا ۔

“نی زائی گین شِن ما؟( تم کر کیا رہی ہو )” وہ غصے سے بولا ۔

“دوئی بو چی(مجھے معاف کر دو )” غازیہ خجالت سے کہنے لگی وہ چلا گیا اور وہ دوبارہ فون کی طرف متوجہ ہوئی ۔

“بھائی آپ کسی اور کو بھیج دیں کوہیار کیوں آرہا ہے “ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا بھائی کو کیسے منع کرے اپنی سکوٹی لے کر سائڈ پر کھڑی کر دی ۔

“بیٹا وہ اپنے تمام کانٹریکٹس خود ڈیل کرتا ہے میں اسے کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ کسی اور کو بھیجے “ عبداللہ اسکی حالت سے بے خبر اس تک پر حیران ہوتے بولے ۔

“اور دوسری بات ایک بہت ہی معمولی کام کے لیے وہ ہمیں ففٹی پرسنٹ دے رہا ہے کون کرتا ہے آج کل ایسا ہمارے فائنینشل حالات آج کل ذرا ٹائٹ ہیں سمیع کی شادی پر کتنا بڑا خرچہ آیا تم جانتی ہو “ انکا بس یہ کہنا تھا اور غازیہ کا دل مٹھی میں بھینچ گیا ۔

“اوکے بھائی کوئی مسئلہ نہیں آپ ڈیل ڈن کر دیں “ وہ بظاہر بشاشت سے بولی فون بند کر کے کتنی دیر وہ وہیں ایک درخت کے نیچے بینچ پر بیٹھی رہی وہ عبداللہ بھائی کے معاملے میں بہت حساس تھی کیوں کہ عبداللہ بھائی خود بہت حساس شخصیت تھے گھر کا بڑا بیٹا ہونا آسان تو نہیں اس گھر کے گرتے مالی حالات ابّا کی بیماری اور انکا تمام ذمہ داریاں عبداللہ کے کاندھوں پر ڈالنا ایک وقت آیا جب اپنے حالات کا بھرم رکھنا بہت مشکل ہو گیا تھا لیکن عبداللہ بہت مضبوط اعصاب کے مالک تھے انہوں نے سخت وقت میں کاروبار سنبھالا اور گھر کے تمام اخراجات سنبھالے ایک گھاٹے میں جاتے کاروبار کو دوبارہ اٹھایا سمیع اور غازیہ کی پڑھائی انکے اپنے بیوی بچے اور ان حالات میں کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا خاموشی سے ہر مسئلے کو سلجھاتے تھے اور یہ سب غازیہ کی زیرک آنکھیں نوٹ کرتی تھیں اور تب ہی اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بھائی کا سہارا بنے گی اور اسکے بعد وہ اسکالرشپ پر چائنہ آگئی اور اپنی تمام جمع پونجی کاروبار پر لگا دی اس طرح عبداللہ کو بھی کاروبار کے نئے مواقع ملے اور دونوں بہن بھائی خوب ترقی کرنے لگے۔

————————————

اوائل نومبر کے دن تھے سردی اچھی خاصی شروع ہوگئی تھی وہ بستر میں دُبکی پڑی تھی رات دیر تک کام کرنے کی وجہ سے صبح فجر پڑھ کر دوبارہ سو گئی کیونکہ آج اسکی کوئی کلاس نہیں تھی آرام سے گرم گرم بستر پر سو رہی تھی جب تیسری بار الارم بجا گھڑی دیکھی تو صبح کے ساڑھے دس بج رہے تھے اچانک ذہن میں جھماکا سا ہوا اسے تو کوہیار کو لینے ائیرپورٹ جانا تھا ۔

“اُف اللّٰہ میں لیٹ ہوگئی “ بستر سے جست لگا کر باتھروم کی طرف بھاگی بھاگتے دوڑتے تیار ہوئی گیارہ بجے کوہیار کی فلائٹ لینڈ ہوگی اور ائیرپورٹ تک پہنچنے میں اسے چالیس منٹ لگیں گے کالے رنگ کا پیروں تک آتا جرسی کا ڈریس جس کی ٹرٹل نیک کے اوپر اس نے لاکٹ پہنا تھا گولڈن چین میں ایک سی شیل نتھی تھا جو ایمرالڈ گرین پتھر سے بنا تھا اور کالے ہی رنگ کا اوور کوٹ ساتھ بلاک ہیلز والے لانگ شوز اور گلے میں ڈارک گرین سکارف لپیٹ کر وہ گاڑی میں بیٹھی اور تیزی سے ائیرپورٹ کی جانب روانہ ہو گئی جھنجھلاتے ہوئے ائیرپورٹ پہنچی غازیہ اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی جو اپنے دوست سمیت اُسکا راستہ روکے کھڑا تھا  اُسے سخت چڑ تھی ایسے لڑکوں سے جو اپنی دولت کا غرور کسی لڑکی کو ہراساں کر کے پوری کرتے ہیں لیکن عبداللہ بھائی کی خاطر اُسے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا تمام راستے وہ کوہیار کو خوب القابات سے نوازتی ائیرپورٹ پہنچی تو ساڑھے گیارہ ہو چکے تھے مسافروں کے خارجی راستے کی طرف آئی تو کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد بھی وہ اسے نظر نہیں آیا اسکے پاس اسکا کوئی کانٹیکٹ بھی نہیں تھا آج خوش قسمتی سے اتنا رش نہیں تھا اس لیے جا کر ایک بینچ پر بیٹھ گئی ٹانگ پر ٹانگ رکھے دل ہی دل اسے کوس رہی تھی کہ کم از کم بندہ ائیرپورٹ سے نکل کر انتظار ہی کر لیتا ہے۔

“کیا کہوں گی میں عبداللہ بھائی کو “ وہ ہاتھوں میں سر گرا کر بولی سردی سے اُسکی ناک سرخ پڑ رہی تھی ۔

“بول دینا رائیڈر سمجھ کر بھگا دیا اسکو “ بالکل پاس سے آواز آئی اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا بینچ کے دوسری طرف کالے سویٹ شرٹ اور پینٹ کے ساتھ ڈارک گرین سویڈ جیکٹ پہنے وہ اس ہی کی طرف دیکھ رہا تھا اسکا جیکٹ بالکل غازیہ کے سکارف سے ملتا تھا دو لوگ ایک تھیم کیا یہ اتفاق تھا یا قدرت کی طرف سے ایک گرین فلیگ ۔

غازیہ اپنی نظریں ہٹا نہیں پائی کیا شکوہ کیا ناراضگی کچھ یاد نہ رہا فقط اُن پہاڑوں کے یار کی سلگتی نگاہیں جو اسے پگھلانے کو تیار بیٹھی تھیں ۔

ایک دو تین اور کوہیار نے اپنی نظریں پھیر لیں اس سے زیادہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا تھا ایک خوف تھا کہ کہیں وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے ایسا ہی تو تھا کہ وہ کبھی دو سیکنڈ سے زیادہ اسکی طرف دیکھ نہیں سکتا تھا ۔

“میں آپکا کافی دیر سے انتظار کر رہی ہوں “ گلا کھنکار کے بولی ۔

“اور میں بھی آپکا ہی منتظر تھا “ وہ بولا تو اُسنے چہرے پر گرتی لٹ کان کے پیچھے اڑسی۔

“اس طرف چلئے “ وہ اسے گاڑی تک لے آئی۔ کوہیار نے اپنا بیگ گاڑی کی ڈکی میں رکھا گاڑی میں مکمل خاموشی تھی کوہیار بھاگتے مناظر دیکھ رہا تھا ۔

“آج آپ ریسٹ کر لیں کل ہم انڈسٹریل ایریا جائینگے میں نے دو کمپنیز سے اپوائنٹمنٹ لی ہے ہم انکا وزٹ کریں گے “ نظریں ونڈ سکرین کے پار دیکھ تھیں ۔

“مجھے بھوک لگی ہے “ وہ ابھی بھی شیشے سے باہر دیکھ رہا تھا غازیہ نے حیرت سے اسے دیکھا ۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں آپ نے بھی تو ناشتہ نہیں کیا ہوا “ وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا غازیہ نے مسکراہٹ ہونٹوں تلے دبائی ۔

“اوکے لیکن حلال فوڈ سٹریٹ پہنچنے تک تھوڑا وقت لگے گا “۔

“مجھے کوئی اعتراض نہیں “ ۔

“ہاں کیوں ہوگا پیٹرول تو میرا جا رہا ہے “ وہ بس سوچ کر رہ گئی۔

”یہ گاڑی الیکٹرک ہے ناں اچھا ہے ائیرپورٹ پر مفت میں چارج ہو گئی “ کوہیار مسکرایا جیسے اس نے غازیہ کی سوچ پڑھ لی ہو غازیہ تھوڑی شرمندہ ہوئی جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو آخر کو وہ انکا کلائنٹ تھا اور وہ اسے نہ نہیں کر سکتی تھی اور گاڑی فوڈ سٹریٹ کی طرف موڑ دی شنگھائی میں سڑکوں کا جو جال تھا اس میں ایک غلط ٹرن اور سمجھو ایک دو گھنٹے کی خواری اس لیے غازیہ بڑی احتیاط سے گاڑی چلاتی تھی ۔

———————————

دوپہر کھانے کی ٹیبل پر مشتاق مرزا بیٹھے تھے ابھی کراچی میں اتنی سردی نہیں تھی اور کراچی کی سردی تو ویسے بھی چار دن کی مہمان ہوتی ہے نومبر میں بھی پنکھا چل رہا تھا رضوانہ کھانے کی میز پر مشتاق سے محوِ گفتگو تھی تب ہی شاہویر الجھے بالوں اور نائٹ سوٹ میں آنکھیں مسلتا آکر رضوانہ کے پہلو میں بیٹھا ۔

“امی میری کافی تو بنوا دیں “ ٹیبل پر کہنیاں رکھ کر سر ہتھیلیوں میں گرایا رضوانہ نے کام والی کو آواز دے کر کافی بنانے کا کہا جبکہ مشتاق نے بڑی ناگواری سے اسے دیکھا ۔

“یہ کونسا وقت ہے اٹھنے کا سارا دن جانوروں کی طرح سوتے ہو اور رات بھر جاگتے ہو “ وہ اپنی ناگواری چھپا نہیں پائے۔

“اوہو ڈیڈ پلیز ابھی تو نیند سے اٹھا ہوں “ ہتھیلیوں سے سر اٹھا کر بولا ۔

“ارے جانے دیں نہ کیوں بچے کو اٹھتے ہی پکڑ لیتے ہیں “ رضوانہ نے سیز فائر کروانے کی کوشش کی ۔

« Previous Episode Next Episode »
Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *