قسط نمبر 1
پرانا زنگ آلود دروازہ جب کھلا تو اسکی آواز کانوں کو چیرتی تہہ خانے میں گونجی دروازے کے آگے ہی سیڑھیاں تھیں سوئچ بورڈ پرہاتھ مارا ایک مردہ روشنی والا بلب روشن ہوا پہلی سیڑھی سے قدم نیچے رکھتے ہی ایک ناگوار بدبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی جس سے مزید وہ غضب ناک ہوا ۔
اپنے بھاری بھرکم جسم سمیت سیڑھیاں اترتا نیچے جا رہا تھا وہ ایک زیرِ زمین لمبی راہداری تھی قطار میں بنے کمرے نظر آرہے تھے جِن کے دروازے ایسے تھے جیسے جیل کی سلاخیں چلتے چلتے وہ چوتھے کمرے کے سامنے رُکا اور نفرت بھری نظروں سے اندر بیٹھی واحد زندہ شے کو دیکھا۔
“تمہیں لگتا ہے بھوکی رہ کر ہمیں بلیک میل کروگی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا ہمارا تو کام آسان ہو جائیگا خس کم جہاں پاک” سامنے بیٹھی ایک عورت تھی چالیس یا پینتالیس سال کی ڈھانچے جیسا جسم گدلے میلے کپڑے پھٹا ہوا دوپٹہ مٹی سے اٹے بال بس فرش کو گھور رہی تھی شاید سن نہیں رہی تھی یا پھر سن سن کر عادی ہو گئی تھی ۔
“غلطی تمہاری ہے تم ہی مرشد کی دولت ہتھیانے پیدا ہوئی یہ تو شکر کرو تجھےزندہ رکھا ہے انہوں نےمیں ہوتا کب کا مار چکا ہوتا” بہت ہی سفاکی سے کہتا وہ مڑنے لگا جب عورت نےسر اٹھا کر دیکھا ۔
“جس کو میں نے گود میں کھلایا وہ میرا نہ ہوا تجھے لگتا ہے وہ تیرا ہوگا” سر ترچھا کر کے وہ خالی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔
“بکواس بند کر اپنی” زور سے دھاڑتا سلاخوں کو لات مارتا وہ غیض و غضب سے بھرا نکل گیا اور جب نکلنے لگا تو اس نے ایک نہیں بلکہ کئی نسوانی چیخیں اور فریادیں سنیں لیکن نظر انداز کر گیا انسان جب شیطان بن جائے تو انسانیت کو جتنی اذیت پہنچائے اتنی ہی تسکین حاصل کرتا ہے ۔
—————————-
جناح انٹرنیشل ائیرپورٹ پر معمول کی گہماگہمی تھی بھانت بھانت کے لوگ قسم قسم کی بولیاں کوئی اپنے پیاروں کے انتظار میں تھا تو کوئی بچھڑنے پر غمگین تھا رات کے دس بج رہے تھے اور تھائی ائیر کی فلائٹ کو لینڈ ہوئے ابھی ۲۰ منٹ ہی گزرے تھے جب وہ بےچینی سے اِدھر اُدھر انتظار میں ٹہل رہا تھا سچ ہے کہ انتظار بہت تکلیف دَہ ہوتی ہے ایسے میں کئی نظریں اُس وجیہہ نوجوان کی طرف اٹھتی تھیں بلاشبہ اُسکی مقناطیسی شخصیت کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی جنوری کے آخری دن چل رہے تھے اور کراچی میں ان دنوں ٹھنڈ ہوتی تھی جینز اور کالی ٹی شرٹ کے اوپر کالے رنگ کا جیکٹ پہنے وہ انتظار میں کھڑا تھا۔
۱۰ منٹ اور گزرے اور و ہ اُسے انٹرنیشنل لاؤنج سے اپنا سامان ٹرالی میں دھکیلتے ہوئے نظر آئی کالے رنگ کے پیروں کو چھوتے میکسی جسکی آستین بھی پوری کلائیوں تک آتی تھیں اُسکے ساتھ بیج اور بلیک پرنٹڈ سکارف سر پر لئے وہ باہر آرہی تھی اُسے دیکھتے ہی اُس نے ہاتھ اُوپر ہلایا جواباً اُس نے بھی ہاتھ ہوا میں لہرایا۔
“مہرماہ سلطان مجھے لگا آج رات یہیں پڑاؤ ڈالنا پڑے گا تم تو نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی” گھڑی دیکھتے ہوئے اس نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
“ نہ حال نہ احوال یہ اچھی بات ہے لگ گئے شکایت کرنے “ مہرماہ نے بھی مصنوعی خفگی سے گلہ کیا۔
“اوہو شکایت نہیں تمہیں پتہ ہے ناں مجھے انتظار سے کتنی اُلجھن ہوتی ہے تمہارے علاوہ نہ آج تک کسی کا انتظار کیا ہے نہ کروں گا “ اس نے سر جھٹک کر اسکے سامان کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب چلو مں بہت تھکی ہوئی ہوں نیند آرہی ہے دو دن سے سوئی نہیں ویسے بھی امیگریشن میں ایک انکل نے بہت ٹائم لگایا چلو گھر چلو “ مہرماہ واقعی تھکی ہوئی تھی اور گھر جا کر سونا چاہتی تھی۔
“ایسے کیسے تم سو جاؤ گی میں نے تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں ہم پہلےکہیں جاکر کچھ کھائیں گے “ اس نے سامان کی ٹرالی اسکے ہاتھ سے لیکر دھکیلتے ہوئے کہا۔
“ اوکے مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے وہاں تو مجھ سےکچھ کھایا بھی نہیں جاتا تھا کہ کہیں حلال ہے بھی کہ نھیں” مہرماہ تھکی تو بہت تھی لیکن بھوک بھی لگی تھی اس لیے حامی بھرنے میں دیر نہیں لگائی اور چل دی وہ دونوں باتیں کرتے آگے بڑھتے گئے اور پیچھے ائیرپورٹ کا شور ایسے ہی جاری رہا۔
——————————-
دو دریا میں ایک اوپن ائیر ریسٹورنٹ میں وہ دونوں ایک میز پر آمنے سامنےبیٹھے تھے جب معتصم نے آرڈر دیا اور میز پر کُہنیاں رکھ کر مہرماہ کی طرف دیکھا وہ سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی سکارف سے بالوں کی ایک لٹ نکل کر چہرے پر گری تھی بلاشُبہ مہر ماہ حسین عورت تھی بڑی بڑی سنہری آنکھیں مڑی ہوئی پلکیں بھرے ہوئے ہونٹ گول چہرہ اوراجلی رنگت۔
“میرے کوئی سینگ نکل آئے ہیں جو تم ایسے دیکھ رہےہو “آنکھیں کھولے بغیر وہ بولی۔
معتصم ایک لمحے کو تو گڑبڑا گیا لیکن اپنے نام کا ایک تھا وہ بھی “ نہیں وہ اصل میں جاپان میں رہ کر تم بھی چھوٹی آنکھوں والی جاپانی لگ رہی ہو یا پھر پلاسٹک سرجری کروا کر آئی ہو وہی دیکھ رہا تھا “ اُس نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔
مہرماہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں “کہاں؟ “اپنے چہرے کو چُھوا“جھوٹے” کہہ کر سیدھی ہوئی۔
“اچھی طرح جانتا ہوں تم سیاسی خواتین سب سرجری کرواتی ہو “اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
“تم جانتے ہو ناں صرف تمہاری ہی ایسی باتیں برداشت کرتی ہوں میں “ اس نے بھی میز پر کہنی رکھ اُسکی طرف تھوڑا ناراضگی سے دیکھ کر کہا جبکہ معتصم ہلکا سا ہنس دیا ۔
“تم اپنے گروپ کے ساتھ کیوں نہیں آئی وہ لوگ تو آئی گیس لاسٹ ویک آگئے تھے“ معتصم اسکے ڈپلومیٹ گروپ کا پوچھ رہا تھا جو سی ایم کے ساتھ آفیشل وزٹ پر جاپان گئے تھے۔
“میں جاپان کے کسی اور شہر چلی گئی تھی وہاں میری ایک دوست بھی رہتی ہے اس کا بھی اسرار تھا اور میرا اپنا بھی ارادہ تھا اس لیے وہاں چلی گئی اور اپنے ڈریم پلیس کی تلاش بھی تھی اور گیس واٹ؟ اسنے بھنویں اچکا کر بڑے خفیہ انداز میں پوچھا۔
“واٹ؟” معتصم نے بھی بڑے پراسرار انداز میں پوچھا۔
“میرا ڈریم پلیس مجھے مل گیا “۔
“ریئلی” وہ بےیقین تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مہرماہ بہت عرصے سے اسکی تلاش میں تھی “واؤ”۔
“فکر مت کرو جب تم اپنے ہنی مون پر جاؤ گے تمہیں پورے مہینے کے لیے رہنے دونگی وہ بھی مفت” اس نے کھلے دل سےمسکرا کر کہا۔ معتصم کا تو سارا منہ ہی کڑوا ہو گیا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ویٹر انکا کھانا سرو کرنے لگا معتصم نے تھوڑی خفگی سے اُسکی طرف دیکھا پھر اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگا جبکہ مہر ماہ اتنے دنوں بعد دیسی کھانا دیکھ کر پوری طرح کھانے کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
——————————-
گھر پہنچنے پر سب اُنکے انتظار میں بیٹھے تھے سب سے مل کر وہ تھوڑی دیر بیٹھی اماں سے کتنی ہی دیر گلے لگی رہی ۔
“شکر اللّٰہ پاک کا میری بیٹی خیریت سے گھر واپس آگئی”اماں نے اُسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔ معتصم وہیں المیر کے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگا المیر معتصم سے صرف دو سال بڑا تھا اِس لئے اُنکی خوب بنتی تھی ۔
“اماں میں بہت تھک گئی ہوں سونا چاہتی ہوں “ مہرماہ نے تھکن سے چور لہجے میں کہا۔
“ہاں بیٹا جاؤ جا کر آرام کر لُو پتہ نہیں کتنا خوار ہوئی ہے سات سمندر پار سے آکر “ اماں نے پیار بھرے انداز میں کہا۔
“اماں ہمیشہ اپنی بیٹی کو ہی آرام کرواؤ ہمیں تو ہڈ حرام کا خطاب دے دیتی ہیں آپ اگر ہم کہیں کہ ہم تھک گئے ہیں ” المیر نے شکوہ کیا۔
“ تو کیا غلط کہتی ہوں یہ تو کام کر کے تھکتی ہے تم فون پکڑنے سے تھکتے ہو “ اماں نے المیر کو ڈپٹا جواباً وہ ڈھیٹوں کی طرح دانت نکالنے لگا ۔
مہرماہ نے جتاتی نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا اور اپنے روم میں آکر چینج کر کے سیدھے بیڈ پر ڈھے گئی۔
————————————-
سلطان خان اور سلیمان خان دونوں بھائی تھے حیدرآباد اور کراچی میں اُنکی زمینیں تھیں سلطان خان کو سیاست کا شوق تھااس لیے پچھلے ۳۰ سالوں سے اپنے علاقے سے ایم این اے منتخب ہوتے تھے اور اِسی سلسلے میں حیدرآباد سے کراچی شفٹ ہو گئے۔
سلیمان خان کو زمینداری کا شوق تھا اِس لیے انہوں نے اپنی زمینوں کو ترجیح دی سلیمان عمر میں سلطان سے ۱۲ سال چھوٹے تھے اس لیے سلطان انکو اپنے بھائی سے زیادہ بیٹے کی طرح پیار کرتے تھے سلیمان نے سلطان کی بیوی کی بہن صالحہ کو پسند کیا اور انکی شادی ہوگئی شادی کے سال بعد انکے ہاں معتصم پیدا ہوا ابھی معتصم ایک سال کا ہوا تھا کہ سلیمان خان ایک دن حیدرآباد سے کراچی جا رہے تھے کہ راستے میں اُنکا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور اِس دُنیا سے چل بسے اورصالحہ نے جوانی میں ہی بیوگی کی چادر اوڑھ لی۔
سارے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا آمنہ بیگم اپنی جوان بہن کو سنبھالتی تھک جاتی اور دل خون کے آنسو روتا ایسے میں ننھے معتصم کو مہرماہ سنبھالتی اپنے ننھے چچازاد کے لیے دل خون کے آنسو روتا مہرماہ معتصم کو بہلاتی اُسے کھلاتی پلاتی ہر وقت اسے اپنے پاس رکھتی ننھا معتصم اُس سے بہت مانوس ہو گیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معتصم اور مہرماہ کی دوستی اور زیادہ پکی ہوتی گئی چاہے سکول ہو یا گھر مہرماہ ہمیشہ اُسکی ڈھال بن کر کھڑی رہتی۔
ایک دفعہ سکول میں کچھ بچوں نے مل کر معتصم کو مارا تھا مہر ماہ نے انکی وہ درگت بنائی آئندہ معتصم کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں حتیٰ کہ المیر کو بھی معتصم کو کچھ بھی کہنے کی اجازت نہیں تھی۔
ایک دفعہ یونہی مہر ماہ اپنا ہومورک کر رہی تھی ساتھ بیٹھا معتصم ڈرائنگ بُک پر کُچھ بنا رہا تھا تب معتصم آٹھ سال اور مہرماہ چودہ سال کی تھی جب کلر کرتے ہوئے معتصم نے مہرماہ کی طرف دیکھا کہا ۔
“ مہرو تمہیں پتہ ہے الٰہی بخش کی شادی ہو گئی؟” معتصم نے ڈرائیور کا ذکر کیا جس کی پچھلے دنوں شادی ہوئی تھی۔
“ہاں!پتہ ہے “ وہ مصروف سے انداز میں بولی
“ اُس نےاپنی کزن سے شادی کی ہے! جیسے تم میری کزن ہو” اسنے مسکراتے ہوئے کہا شہد رنگ آنکھوں میں زمانے بھر کی معصومیت لیے
“ہہممم یہ بھی پتہ ہے ” ۔
“ تو اِسکا مطلب ہے بڑے ہوکر میں بھی تم سےشادی کرونگا” وہ بڑے مان اور چاہ سے بولا
مہر ماہ کا کام کرتا ہاتھ رکا اسنے اچھنبے سے معتصم کو دیکھا اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑی “اوکے ٹھیک ہے وعدہ میں اپنے پیارے سِمی سے ہی شادی کرونگی “
“پنکی پرومس” اسنے اپنی چھوٹی انگلی اُس کی طرف بڑھائی جسے مہرماہ نے اپنی چھوٹی انگلی سے پکڑ کر “پنکی پرامس” کہا۔
وقت پر لگا کر گزر گیا ، سلطان خان نیشنل اسمبلی کے ممبر تھے لیکن خرابیِ صحت کی وجہ اُنکا ٹکٹ اُنکی پارٹی نے اُنکی بیٹی مہرماہ سلطان خان کو دیا جو بطور ایم پی اے تین سال کے لیے سینیٹ میں ایلیکٹ ہوئی تھی جہانگیر سلطان مہر ماہ سلطان دونوں سیاست میں جبکہ جہانزیب سلطان ۵ سال پہلے ٹوکیو اپنے بیوی بچے سمیت شفٹ ہوگیا وہیں اپنا کاروبار جمایا تھا رہے المیر اور معتصم وہ دونوں اپنا کیفے چلا رہے تھے جس کی اب تک انہوں نے پاکستان میں کوئی ۵ فرانچائز تو کھول دی تھی المیر کی شادی کی تو تیاریاں چل رہی تھیں البتّہ معتصم سے مہرماہ بارہا کہہ چکی تھی کہ وہ بھی اپنے لئے کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ لے لیکن ہر بارکی طرح اس بار بھی ٹال گیا۔
————————————
صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو ۱۱ بج رہے تھے وہ نہا کر فریش ہوکر نیچے آئی تو مرد حضرات سب اپنے کام پرجا چکے تھے سوائے ابّا کے جو باہر فارغ وقت میں اپنے باغبانی کا شوق پورا کر رہے تھے لاؤنج میں امّاں اور خالہ بیٹھی تھیں لاؤنج کافی جدید طرز سےسیٹ کیا گیا تھا ساتھ ہی کچن تھا اور اندر کی طرف ایک ڈرٹی کچن جو خانسامہ کے استعمال کے لیے تھا وہ آکر اماں اورخالہ کے پاس ہی بیٹھ گئی ویسے تو کراچی میں سردی نام کی ہی پڑتی تھی لیکن نہانے کے بعد اُسے سردی لگی تو اس نے اپنا نیوی بلیو کرنڈی کا سوٹ نکال پہنا کہ کراچی میں تو پھر یہ سوٹ بیکار ہی ہے کندھوں تک آتے بال کھول رکھے تھے تاکہ سُوکھ جائیں۔
“اجالا ارے اوہ اجالا کہاں گئی آکر مہرماہ باجی کے لئے ناشتہ بناؤ “ اماں آوازیں دینے لگی ۔
“یہاں ہوں بی بی جی “ صوفہ کے پیچھے سے وہ اچھل کر نکلی اور اتنا زور سے بولی کہ اماں نےدہل کر اپنا دل تھام لیا۔
“ارے نیک بختِ ہزار بار منع کیا ہے یوں چھپ کے نہ بیٹھا کر مگر مجال ہے جو سنے یہ لڑکی کسی دن دِل کا دورہ پڑ جائیگا مجھے “ اماں ابھی تک سینے پَر ہاتھ رکھے بیٹھی تھیں۔
“دل کا دورہ پڑے آپکے دشمن کو بی بی جی میں تو صوفے کے پیچھے پوچا لگا رہی تھی “ وہ بڑی معصومیت سے دوپٹے کا کونہ مروڑتے ہوئے بولی۔
“اُجالا ناشتہ “ اب کی بار مہر ماہ نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں کہا تو “اچھا مہر ماہ باجی “کہتی وہاں سےنکل گئی ۔
“صرف مہر ماہ کے سامنے ہی اسکی زبان بند ہوتی ہے باقی ہر کِسی کے سامنے تو بے لگام بولتی چلی جاتی ہے” مہرماہ مسکراتے ہوئے اماں کاتبصرہ سن رہی تھی ساتھ موبائل پرکچھ دیکھتی بھی جا رہی تھی ۔
“ویسے مہرماہ کے سامنے سب کی بولتی بند ہوتی ہے “ صالحہ ہنس دیں جبکہ مہرماہ موبائل میں مصروف صرف مسکرا کر ہلکا سا سر جھٹک کر رہ گئی ۔
“اماں المیر کی ڈیٹ فکس کی یا نہیں ؟” مہرماہ نے پوچھا ۔
“ہاں کر لی ہے فکس ۲۵ فروری کو بارات ہے انشاءاللہ”اماں نے جواب دیا۔
“خالہ معتصم کہاں ہے مجھے شادی کے لیےکپڑے لینے ہیں اسکے ساتھ چلی جاتی”۔
“تمہارا ڈرائیور اور گارڈ آگئے ہیں صبح ہی صبح “اماں نے اسے اسکے سکواڈ کا بتایا جو اسیمبلی کے ہر ممبر کے ساتھ تعینات ہوتے ہیں ۔
“نہیں اماں مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا کہ کام کے علاوہ میں انہیں اپنے ذاتی کاموں کے لیے بھگاؤں “ مہر ماہ اس معاملے میں واقعی کوئی کمپرومائز نہیں کرتی تھی اپنے ذاتی کاموں کے لیے ہمیشہ وہ خود ہی جاتی تھی اپنے پیچھے پولیس والوں کی فوج اور پروٹوکول کی گاڑیاں لے کر ٹریفک عام عوام کے لیے بند کر کے گھومنے سے اسے انتہا درجے کی نفرت تھی اور بار ہا اسمبلی میں اس کے خلاف آواز بھی اٹھا چکی تھی ۔
“میری جان معتصم کیفے گیا ہے فون کر کے بُلا لُو پھر چلے جانا “خالہ نے اپنے قمیص کی لیس ادیھڑتے ہوئے کہا خالہ کا تو یہ پرانا مسئلہ تھا کسی سوٹ پر لیس لگواتی پھر پسند نہیں آتا تو بیٹھ کر ادھڑنے لگتیں۔
“اچھا میں ناشتہ کر کے کال کرتی ہوں” کہتے وہ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پرجا بیٹھی۔
ناشتے سے فارغ ہونے کے بعداسنے معتصمکو کال ملائی ۔
“کیسے یاد کیا ہمیں آج “ دوسری بیل پر ہی فون اٹھایا گیا۔
“روز یاد کرتی ہوں تمہیں، یہ بتاؤ فارغ ہو کہ نہیں” ۔
“ ہوں تو نہیں لیکن تمہارے لیے ہو جاؤنگا کیوں خیریت؟”اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
“ اچھا ایسا کرو آدھے گھنٹے تک آجاؤ مجھے المیر کی شادی لئے کچھ شاپنگ کرنی ہے” مہرماہ ناشتے کی ٹیبل سے اٹھ کر اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولی اور معتصم وہ تو دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو مہر ماہ کی ایک کال پر پہنچ جاتا تھا اور مہرماہ بھی جانتی تھی کوئی آئے نہ آئے معتصم ضرور آئےگا ۔
“اوکے تم تیار ہوجاؤ میں آدھے گھنٹے تک پہنچتا ہوں”اسنے گھڑی دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
———————————
مہرماہ اپنا عبایا پہن رہی تھی جب میسج ٹون بجی “باہر انتظار کر رہاہوں”۔
“کمنگ” لکھ کر اپنے کالے بلاک ہیلز اور آف وائٹ عبایا جس کی آستینوں پر بلیک دھاگے اور موتیوں کا باریک سا کام تھا سنبھالتی باہر گاڑی کی طرف آئی تو اسکا عبایا ایک ملکہ کےشاہی لباس کی طرح لگ رہا تھا معتصم گاڑی کے پاس پتھریلی روش پر گاڑی سے ٹیک لگائے بیج پینٹ اور آف وائیٹ ڈریس شرٹ پہنے کف کہنیوں تک موڑھے آنکھوں پر سن گلاسز لگائے کھڑا تھا ۔
“مادام! ایٹ یور سروس” دروازہ کھول کر وہ سائڈ پر کھڑا ہوا۔
“اوہ! یو آر این اینجل” اسنے پلکیں جھپکاتے ڈرامائی انداز میں کہا گاڑی میں بیٹھ کر وہ گھر سے نکلے تھے کہ معتصم نے پوچھا۔
“ کہاں جانا ہے اورکیا کرنا ہے؟”۔
“سب سے پہلے مال چلو پہلے ڈریس چوس کرونگی پھر اسی حساب سےشوز” اسنے اپنا پروگرام بتایا” تم نے تیاری کر لی شادی کی؟” اس نے معتصم سے پوچھا۔
“کس کی شادی؟” اُسکو جیسےحیرت ہوئی۔
“المیر کی شادی کے لئےاور کیا “ مہر ماہ نےاسکی عقل پر جیسے ماتم کیا ۔
“اوہ اچھا! نہیں ابھی تک تو کچھ نہیں لیا میں نے کر لونگا بہت ٹائم پڑا ہے ابھی تو “ وہ شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی آسمان پر بادل چھائے تھے موسم بڑا سہانا ہو رہا تھا نہ سردی نہ گرمی ۔
“یاد ہے ایک بار عید موقعے پر تم نے یہی کہا کہ ابھی بہت ٹائم پڑا ہے کرلونگا پھر کتنا خوار ہوئے تھے ہم“ مہر ماہ نے شیشے سے نظریں ہٹا کراُسے دیکھا۔
“بڑی تیز یاداشت ہے تمہاری مہرماہ“ معتصم نے جھینپتے ہوئے کہا اور گلاسز اتار دئیے کیونکہ بادل چھا گئے تھے سورج بادلوں کے پیچھے چھپ گیا معتصم نے گاڑی کا میوزک آن کیا ہلکی آواز میں گانا چلنے لگا۔
کن اکھیوں سےمعتصم نےمہر ماہ کی طرف دیکھا ۔
“اچھا ہے کہ مہر ماہ ہے ورنہ میرے لئے شاپنگ کون کرتا ” اس نے لاپرواہی سے کہا ۔
“ہاں اچھا ہے لیکن اب تم بھی اپنے لیے لڑکی دیکھ لو میں اور خالہ کب تک اتنا بڑا بچہ سنبھالیں گے “ کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔
“ تم کیوں ایسا ظاہر کرتی ہو کہ میں بچہ ہوں اور تم مجھ سے پچاس سال بڑی کوئی بزرگ عورت ہو” اسے ہمیشہ مہرماہ کی یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی ۔
“ظاہر ہے سِمی میں تم سے بڑی ہوں اور المیر کی طرح اب تمہارے سر پر سہرا دیکھنے کا مجھے بھی ارمان ہے ” اُسنے کندھے اچکا کر جواب دیا۔
“ بڑی بورنگ ہو تم مہرماہ”معتصم نے خفگی سے کہا مہرماہ ہنس دی جب کہ معتصم کا موڈ واضع طور پر خراب ہو چکا تھا ۔
————————————————
آمنہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہیں تھیں جب صالحہ نے چائے کا کپ ٹرے سےاٹھا کرانکے ہاتھ میں تھمایا دوسرا خود اٹھا کر صوفہ پر بیٹھیں۔
“ کیا بات ہے آپا کچھ پریشان لگ رہی ہیں”صالحہ نے اُنکی طرف تشویش سے دیکھا ۔
“ صالحہ بیٹی کی ماں ہوں مہرماہ کی فکر کھائے جاتی ہے مجھے”اُنکے چہرے پَر زمانوں کا ملال سمٹ آیا۔
” کبھی کبھی ماں باپ سے بھی کتنے غلط فیصلے ہو جاتے ہیں بیٹوں کی شادیاں کردیں اب مہرماہ کا اکیلا پن مجھ سے دیکھا نہیں جاتا”آمنہ بیگم کی پلکوں سے آنسو ٹوٹ کر اُنکے دوپٹے میں جذب ہونے لگے صالحہ کی آنکھیں بھی بھر آئیں کتنا پیار کرتے تھے سب اس سے۔
“آپا ویسے معتصم نےکہنے سے تو منع کیا تھا وہ خود بات کرنا چاہتا ہے نکاح کرنا چاہتا ہے مہر ماہ سے ” صالحہ نے رازداری سے بتایا۔
“اونہو! میں بہت پہلے یہ بات کر چکی ہوں بہت سختی سے منع کر دیا کہ وہ بچہ ہے اُسکے ساتھ یہ ظلم ہے اگر معتصم خود بات کرنا چاہتا ہے تو کر لے لیکن تم جانتی تو ہو مہرماہ کو”آمنہ بیگم نے مایوسی سےکہا۔
“اوہو آپا مایوس کیوں ہوتی ہو معتصم منا لیگا اُسے دیکھا تو ہے اُسکی کوئی بات نہیں ٹالتی مہر ماہ ” صالحہ نے بڑے مان سے کہا۔
“اللّٰہ کرے ایسا ہی ہو” آمنہ بیگم تھوڑی پُر امید ہوئیں۔
———————————————
دو گھنٹے مال میں پھرنے کے بعد صرف کپڑے ہی لیے تھے اپنے بھی اور معتصم کے بھی ۔
جوتوں کی دُکان میں اسنے اپنے بھی پسند کئے اور اسکو بھی لےکر دیے کیونکہ وہ جانتی تھی کے اُس نے کام کا بہانہ بنا کر لیٹ کر دینا ہے اور عین موقع پر صحیح چیز بھی نہیں ملتی بچپن سے صالحہ سے زیادہ مہرماہ اُسکی شاپنگ کرتی جب بھی اماں کے ساتھ بازار جاتی تو سِمی کےلئے یہ لے لیں وہ لے لیں ابھی بھی اپنے ساتھ ساتھ اسکی شاپنگ بھی نبٹا آئی۔ جوتوں کی دُکان سے نکلتے ہوئے مہرماہ آگے نکل گئی جبکہ وہ اپنے فون پر کسی کو میسج بھیج رہا تھا جب سیلزمین نے اُسے پیچھے سےپکارا “سر آپکی وائف اپنا سامان بھول گئیں” معتصم نےمسکراتے ہوئے شاپنگ بیگ پکڑا۔
“تھینکس برو “تصحیح اسنے نہیں کی اُسے بہت اچھا لگا تھا ۔
تین گھنٹے مال میں پھرنے کے بعد جب وہ تھک گئے تو مال سے نکل کر سی ویو کے سامنے ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں جا کر بیٹھ گئے معتصم نے کھانا آرڈر کیا ریسٹورنٹ اوپن ائیر تھا لیکن جہاں وہ بیٹھے تھے وہاں دو طرف سے شیشے کی دیواریں اور ایک لکڑی کی بنی چھت جو لکڑی سے بنے پلرز پر کھڑی تھی وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے مہر ماہ باہر سمندر کی لہروں کو دیکھتے کسی گہری سوچ میں گُم تھی معتصم بھی سمندر کی لہروں کو دیکھ رہا تھا لیکن اسکی سوچوں کا محور مہرماہ تھی مہرماہ بچپن سے زیادہ شوخ اور چُلبُلی نہیں تھی لیکن ہر وقت ہنستی مسکراتی رہتی معتصم اور المیر سےگھنٹوں باتیں کرتی کچھ اُنکی سنتی کچھ اپنی کہتی تھی سکول میں بھی زیادہ نہیں دو تین لڑکیوں سے دوستی تھی اسکی لیکن پھر سب بدل گیا وہ سب سے بہت دور چلی گئی چار سال ملائشیا میں گریجویشن کرنے چلی گئی بس تب سے اُسے چپ لگ گئی اپنی ذات میں رہنے والی وہ چاہتا تھا مہرماہ اُس سے اپنے دل کی بات کرے وہ خول توڑدے جو انکے بیچ ہے آخر ہمارے دوست ہمارے پیارے اِسی لئے تو ہوتے ہیں تاکہ ہم اُن سےاپنا درد بانٹ سکیں ہم اکیلےنہ رہیں اللّٰہ تعالیٰ نے نزدیکی رشتے اِسی لئے تو بنائے ہیں۔
“مہرو ” بالآخر اسنے اُسے پکارا وہ بچپن میں اسے مہرو کہتا تھا اور وہ اُسے سِمی لیکن اماں نے آدھے ادھورے نام پکارنے سے سختی سےمنع کیا کیونکہ انہیں لگتا تھا اس سے انسان کی شخصیت پر اَثر پڑتا ہے لیکن ابھی اماں تو نہیں تھی ناں۔
“تم اب کچھ بولتی کیوں نہیں ہو؟ ”۔
“اتنا تو بولتی ہوں ” اس نے سمندر سے نظریں ہٹاتے معتصم کو دیکھا۔
“تم صرف کام کی بات کرتی ہو مہرو اپنے دل کی نہیں جیسے پہلے کرتی تھی” مُعتصم اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا شاید ان گزرے سالوں میں وہ مہرماہ کھو چکی تھی جو پہلے ہوتی تھی وہ سب کے لیے ہوتی تھی سب کے مسئلے حل کرتی لیکن اسکے دل میں کیا چل رہا ہے یا وہ کیا چاہتی ہے یہ اسکے بہت قریبی لوگ بھی نہیں جان پاتے تھے اور اس بار تو معتصم طے کر چکا تھا کہ اسکا خول توڑ کر ہی رہے گا ۔
“ کیا سننا چاہیتے ہو تم “ اسنے کندھے اچکا کر کہا۔
“سب کچھ ” معتصم نے گمبھیر لہجے میں کہا تو مہرماہ نے اسے حیرت سے دیکھا ۔
“مجھے لگتا ہے میرے شوز میرے ڈریس کے ساتھ میچ نہیں ہیں” اُس نے سوچتے ہوئے کہا جب کہ معتصم کو بہت مایوسی ہوئی یہ سن کر بد مزہ ہو کر شیشے سے باہر سمندر کی لہروں کو دیکھنے لگا اچانک کچھ یاد آنے پر مہرماہ نے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈا اور مطلوبہ شے ملنے پر نکال کر اسکی طرف بڑھایا یہ میں تمہارے لیے لائی ہوں کل سےبیگ میں پڑا ہے بھول جاتی ہوں وہ پیک ڈبہ تھا پتہ چل رہا تھا اوپر سے ہی کہ اندر گھڑی ہے معتصم نے جب ڈبہ کھولا تو اندر ایک ڈیجیٹل سمارٹ گھڑی تھی جسکی وائٹ سٹرائپس تھیں اسکے ایپل واچ کی طرح لیکن اِسکا ڈائل گول تھا ۔
“تمہارے آئی فون سے کنیکٹ ہو جائیگا دیکھو میں نے بھی لیا ہے “ مہر ماہنے اپنا ہاتھ دکھایا اسکا سمارٹ واچ اسٹرائپس میں نہیں بلکہ بریسلٹ میں جڑا تھا جو گولڈ کی موٹی زنجیر کی بنی ہوئی تھی اسکی گوری کلائی میں اور بھی پیاری لگ رہی تھی۔
“ بہت اچھا ہے آئی لائک اٹ” اُسنے مسکراتے ہوئے کہا”یہ کوئی چائنیز برانڈ ہے؟”اُسنے گھڑی پہنتے ہوئے پوچھا۔
