قسط نمبر 3
‘‘کیونکہ نفرت کی زمین پر محبت کے بیج بونا ناممکن ہے میں بھی نہیں کر سکی نہ وقت ملا نہ موقع میں نے کہا نہ love is not for everyone وہ قسمت والے ہوتے ہیں جنکو اس دنیا میں محبت ملتی ہے مہرماہ سلطان اُس لسٹ میں نہیں ہے ’’ اُسکے چہرے کا کرب اُسکی آنکھوں کی اداسی چھپائے نہیں چھپ رہے تھے اور معتصم کے دل کو گھونسا سا لگا کتنا بےبس تھا اسکے آنسو بھی نہیں پونچھ سکتا تھا کچھ لمحے خاموشی سے گزرے ،مہر ماہ سلطان جس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اسکی زندگی پرفیکٹ ہے لیکن یہ تو صرف اللہ جانتا ہے کہ اُسکا دل کتنا خالی تھا ۔
‘‘مہرماہ ہم سب تم سے محبت کرتے ہیں ہم تمہیں اکیلا کبھی نہیں چھوڑیں گےمیں تمہارا درد کم تو نہیں کر سکتا لیکن تمہیں کبھی تکلیف پہنچنے نہیں دونگا’’ وہ بہت جذب سے بولا مہرماہ مسکرادی اور اُسکے سر پر ہلکی سی چپت ماری ۔
‘‘ابھی بھی وہی سِمی ہو تم چلو اندر چلتے ہیں سردی ہے باہر’’ کہہ کر وہ اٹھنے لگی اُسکی تقلید میں معتصم بھی اٹھ گیا اور ساتھ چلنے لگے پیچھے چاندنی اور پول لائٹ ویسے ہی چمکتے رہے۔
———————————-
صبح کے ۱۰ بج رہے تھے جب مہرماہ جانے کے لیے بالکل تیار تھی اور اپنا کیمل کلر کا عبایہ پہن کر ہم رنگ سٹول سر پر اوڑھ کر سامنے والا پلو سینے پر پھیلایا آج اس نے چاکلیٹی کلر کے ہائی ہیلز ساتھ میچنگ ہینڈ بیگ اٹھا رکھا تھا بالکل ہلکا سا میک اپ کیے وہ صوبائی اسمبلی جانے لئے بالکل تیار جہانگیر بھائی کو دیکھنے گئی۔
وہاں پہنچی تو جہانگیر بھائی تیار اپنی گاڑی کے سامنے کھڑے تھے جِس پرایم پی اے کا پلیٹ لگا تھا پیچھے ۴ گارڈ چاق و چوبند کھڑے تھے ۔
‘‘آگئی ہماری بِٹیا ’’ جہانگیر بھائی حسب عادت اسے دیکھ کر سر پر ہاتھ رکھ بوسہ دیا۔
‘‘کیسے ہیں آپ بھائی؟’’ اُس نے پیار اور خوشدلی سے پوچھا۔
‘‘ٹھیک ہوں آؤ چلتے ہیں’’ گاڑی میں بیٹھ کر وہ اسمبلی کی طرف رواں تھے۔
‘‘آج تم نے اپنا مُدّعا پیش کرنا ہے اگر فیصل شیخ یا اسکا کوئی حامی کچھ بھی کہے پھر بھی تم نے اپنی بات جاری رکھنی ہے کسی طرح ڈسٹریکٹ نھیں ہونا’’ جہانگیر بھائی نے اُسے سمجھایا جواباً اس نے سر ہلایا کہنے کو تو اسکا بہت ہی چھوٹا سا پروجیکٹ تھا لیکن اسے منظور کروانے کے لیے اسے کتنی مشکل ہو رہی تھی کتنی بار ریجیکشن ایک عورت ہوتے ہوئے وہ ایک عورت کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے کام کرنے والی ماؤں کے لئے ایک سہولت مہیا کرنا چاہتی تھی ہر سکول کالج ہسپتال یونیورسٹی میں ایک باقاعدہ ڈے کیئر بنوانے کا بل پاس کروانا چاہتی تھی اس نے کتنے کیس اسٹڈی کیے تھے ماؤں کے جو کام پر اس وجہ سے نہیں جا سکتی کہ اسکے بچے سنبھالنے والا کوئی نہیں یا پھر بہت سے کیسز میں ماں کی غیر موجودگی میں بچوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن یہاں وہ گاڑی چاہتی تو اسے فوراََ دے دی جاتی لیکن یہ بل پاس کرنے کے لیے اسے کتنی منتیں کتنے جتن کرنے پڑے خصوصاً اپنے حلقے میں ۔
اسمبلی بلڈنگ سامنے پہنچ کر وہ لوگ سیدھا اندر کی طرف گئے جہاں راستے میں انہیں حبیب اللہ چانڈیو ملے جو انکے ساتھ اسمبلی کے اندر آئے ایک قطار میں ساتھ بیٹھے حبیب اللہ اُنکی پارٹی تھے اور اس وقت مہرماہ کی سپورٹ میں آکر بیٹھے تھے اجلاس شروع ہوا ۔
‘‘مہرماہ سلطان صاحبہ آپکا پراجیکٹ ہے کہ سندھ کےہر سکول کالج میں baby daycare center لازماً بنوایا جائے وضاحت کریں ’’ سپیکر صاحب نے فائل اپنے سامنے رکھ کر مہرماہ سے پوچھا۔
‘‘بسم اللہ الرحمان الرحیم میں آپکی مشکور ہوں اسپیکر صاحب جو آپ نے مجھے بولنے کا موقع دیا وجہ یہ ہے کہ آجکل زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے ایک فرد کی کمائی کافی نہیں ہوتی تو ہم روز کتنی خواتین کو دیکھتے ہیں وہ یا تو کام رہی ہوتی ہیں یا اپنے چھوٹے بچوں کی خاطر کچھ کر نہیں پاتی گھر بیٹھے غریبی کی چکّی میں پس رہی ہوتی ہیں یا پھر کئی جگہ ایسا ہوتا ہے مرد کمانے والا نہیں ہوتا تو خاتون خانہ تلاشِ معاش میں مجبوراً نکل پڑتی ہے ایسی حالت میں کئی بار پیچھے چھوڑے گئے اکیلے بچّےخُود کو کوئی نقصان پہنچاتے ہیں یا in worst cases اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیونکہ کوئی انہیں دیکھنے والا ہوتا ہے نہیں ’’۔
‘‘مہرماہ سلطان صاحبہ اسمبلی کا وقت ضائع کر رہی ہیں یہ مسائل یہاں ڈسکس کرنے کے نہیں اِس مُلک میں اتنے بڑے مسائل ہیں کہ مجھے تو یہ ایک مذاق لگ رہا ہے ’’ فیصل شیخ جو آگے کی نشستوں میں بیٹھا تھا ہانک لگا کر بولا۔
‘‘ جنابِ اسپیکر ہر مُلک میں daycares کی سہولت گورنمنٹ فراہم کرتی ہے ہمیں بھی اپنی عوام کا یہ مسئلہ حل کرنا ہے آخر کو ہم یہاں عوام کے مسائل حل کرنے بیٹھے ہیں’’ مہرماہ کی آواز تیز ہوئی وہ اسکے لئے پہلے ہی تیار ہو کر آئی تھی اس لیے کسی قیمت وہ لوگ اسکی آواز نہیں دبا سکتے تھے ساتھ بیٹھے ممبران نے ٹیبل بجانا شروع کئے۔
‘‘یہ مسئلہ خاندانی منصوبہ بندی والوں کو حل کرنا چاہئے ’’ فیصل شیخ نے پھر ہانک لگائی۔
‘‘اپنے حلقوں میں اسکولوں کو مویشی منڈی اور سٹوریج روم بنانے سے بہتر نہیں ہم اُن اداروں کو اُس مقصد کے لیے استعمال کریں جنکے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور ہر ادارے میں ایک daycare حکومت کی طرف سے بنوایا جائے تاکہ جب ایک ماں کام پر جائے تو اُسے اِس بات کا اطمینان ہو کہ اسکا بچہ بحفاظت ہے بس اتنا ہی کہنا چاہوں گی آپ سب کا مجھے سننے کا بہت شکریہ’’ اونچی آواز میں کہتی اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی جبکہ باقی سب ٹیبل بجانے لگے سوائے فیصل شیخ اور اسکے حامیوں کے ۔
————————————-
سمیرا اپنے کچن میں کھانا بنوا رہی تھی جب کام والی نے کسی کے آنے کی اطلاع دی سمیرا لاؤنج میں دوپٹہ برابر کرتے ہوئے آئی۔
‘‘عنایہ’’ وہ حیرانی سےکہتی آئی آج سورج کہاں سے نکلا ہے بھئی عنایہ اسے دیکھ کر اٹھی اور گلے ملی۔
‘‘سوچا آپ سےمل لوں کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو دیکھے ’’ عنایہ نے پیار سے کہا آف وائٹ پرنٹڈ لمبی قمیص اور کُھلے ٹراؤزر اور دوپٹہ کندھے پر ڈالے اچھی لگتی تھی اسکا انداز بے نیازی لیے تھا تھوڑی دیر یہاں وہاں کی باتیں کرتی رہی پھر سمیرا نےاسکے لیے پُر تکلف اہتمام کیا۔
‘‘آپی آپ کے اِن لاز بھی یہیں رہتے ہیں آپکی مدر اِن لا وغیرہ ’’اُس نے سمیرا سے پوچھا ۔
‘‘گھر ایک ہے لیکن پورشن الگ’’۔
‘‘اور وہ معتصم بھی ابھی تک یہیں ہیں یا کہیں اور چلے گئے ’’ بالآخر بلّی تھیلے سے نکل آئی جو بات اسے یہاں تک کھینچ لائی تھی آخر اس نے وہ کہہ ہی دی۔
‘‘ہاں وہ بھی یہیں ہیں ابّا نے کہا ہے کہ جب تک اُسکی شادی نہیں ہوتی تب تک وہ یہیں رہیں گے ’’ سمیرا نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
‘‘تو کیا اسکی شادی نہیں ہوئی ؟’’ دل میں عجیب سا خوف تھا ۔
‘‘نہیں !کہاں کتنی بار کہا ہے اُسے لیکن پتہ نہیں ابھی تک کوئی بات نہیں بنی کسی کو شاید پسند کرتا ہو کچھ کہہ نہیں سکتی’’ سمیرا نےلاعلمی ظاہر کی جہاں عنایہ کو سکون ملا وہیں ایک فکر بھی لاحق ہوئی کہ کہیں وہ کسی اور کو چاہتا تو نہیں ۔
—————————-
معتصم جب گھر آیا تو پسینے میں تر تھا کیونکہ وہ جم سے سیدھا گھر آیا لاؤنج میں داخل ہوا تو صرف مہرماہ بیٹھی ہوئی تھی گود میں لیپ ٹاپ رکھے کچھ دیکھ رہی تھی۔
‘‘سب کہاں ہیں کوئی نظر نہیں آرہا؟’’ اس نے اپنا جم بیگ نیچے رکھ کر مہر ماہ سے پوچھا۔
‘‘ابّا اپنے کمرے میں ہیں باقی سب یعنی اماں خالہ اور المیر ، المیر کے نکاح کی ڈیٹ فکس کرنے گئے ہیں ’’ مہرماہ نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اُسے دیکھا بلیک سویٹ پینٹس کے اوپر ریڈ ہڈی بکھرے بال صحیح میں لگتا تھا کہ وہ جم سے آیا ہے مہرماہ نے ایمرلڈ گرین سادہ سوٹ پہن رکھا تھا اور اسکے ساتھ ہم رنگ شال جس پر رنگین دھاگوں کی کڑھائی ہوئی تھی۔
‘‘ آؤ تمہیں کچھ دکھاتی ہوں؟’’ مہرماہ نے اپنے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کیا۔
‘‘آتا ہوں ۰۱ منٹ دیدو اور بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دیدو“ معتصم نے پیٹ پر ہاتھ ملتے بچوں کی طرح کہا۔
‘‘اچھا اچھا جلدی سے آنا میں تمہارا کھانا گرم کر کے لاتی ہوں ’’ مہرماہ اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی خالہ معتصم کا الگ کھانا بنواتی تھیں کیونکہ وہ تیل اور گھی والے کھانے نہیں کھاتا تھا تھوڑی دیر بعد جب وہ آیا تو مہرماہ ٹی وی چلا کر صوفے پر بیٹھی تھی اسکا کھانا ٹیبل پر لگا چکی تھی۔
‘‘کیا دکھانا تھا تمہیں؟’’ وہ گیلے بالوں کے ساتھ سیڑھیاں اترا اور آستین کہنیوں تک فولڈ کر کے بولا۔
‘‘پہلے تم کھانا کھاؤ پھر دکھاتی ہوں’’ مہرماہ نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا جب وہ کھانا کھا چکا تو مہرماہ اسکے سامنے سےبرتن اٹھانے لگی۔
‘‘ارے تم رہنے دو اجالا کہاں ہے ٹھہرو میں خود کر لونگا ’’ معتصم اسکے ہاتھ سے برتن لینے لگا۔
‘‘اوہو کیا ہوگیا کون سا پہلی بار کر رہی ہوں’’ مہرماہ برتن اٹھا کر کچن میں گئی ۔
‘‘ایک ایم پی اے کو کام کرواتا اچھا نہیں لگتا میں’’ وہ بھی اسکے پیچھے ہاتھ دھونے کچن تک آیا ۔
‘‘ایک ایم پی اے تم لوگوں کے کام کرنے کے لیے ہوتی ہے ’’ وہ فریج میں بچا ہوا کھانا رکھتے ہوئے بولی ۔
‘‘یہ دیکھو ’’ لیپ ٹاپ کی سکرین پر ایک پیارے سے کوٹیج کی تصویر تھی جو جنگل کے بیچوں بیچ بنا ہوا تھااور کاٹیج تک جاتے راستے میں آتے درختوں پر فیری لائٹس لگی تھیں اور ایسا لگتا تھا بادلوں نے کوٹیج کا احاطہ کیا ہوا ہے اور پاس ہی آبشار بہہ رہی ہے ۔
‘‘ڈریم پلیس ہے ناں؟ ’’ مہرماہ نے پرجوش ہو کر پوچھا۔
‘‘ہاں بہت پرسکون لگ رہا ہے کون سی جگہ ہے ’’ معتصم نے پوچھا۔
‘‘شیراکاوا جاپان’’ مہرماہ اب تصویریں سلائڈ کرنے لگی۔
‘‘ہے تو بہت پیارا لیکن مہرماہ سوئٹزرلینڈ میں اس زیادہ خوبصورت اور ڈریمی جگہیں ہیں بالکل فیری ٹیلز والی ’’ مہرماہ نے غور سے اُسے دیکھا پھر اسکی بھنویں تن گئیں۔
‘‘تم نہیں سمجھو گے ” لیپ ٹاپ لے کر وہ اٹھنے لگی معتصم اچانک اُفتاد پر حیران ہوا۔
‘‘ارے کہاں جا رہی ہو ’’معتصم نے لیپ ٹاپ پکڑ لیابیٹھو ناں۔
مہرماہ پھر سے بیٹھ گئی لیکن چہرے پر واضح بیزاری تھی۔
‘‘اچھا دکھاؤ تو تم نے کہا تھا مجھے ہنی مون پر ایک مہینے کے لیے دوگی رہنے کیا یہی جگہ ہے؟ ’’ معتصم نےپیکچرز سلائڈ پر لگا دیں
‘‘ ہاں ’’ مہرماہ نے ہاتھ سینے پر باندھ کر جواب دیا ۔
‘‘اتنی جلدی مان بھی جاتی ہو تم تھوڑا سا تو نخرہ دکھاتی’’ اس نے مذاق اڑاتے کہا وہ جانتا تھا مہر ماہ اس سے تو کبھی ناراض نہیں ہو سکتی بلکہ ایسا ہوتا تھا کہ معتصم کبھی کسی بات پر ناراض ہوتا تو مہرماہ ہی اسے مناتی ۔
‘‘میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے چپ چاپ اب دیکھو ’’ غصے سے گھور کر بولی ۔
‘‘جاپان ہی کیوں’’۔
‘‘کیونکہ بچپن میں میں جاپانی اینیمے بہت دیکھتی تھی انکی موویز میں انہوں نے اپنے سینز سیم ویسے بنائے ہیں جیسے اصل میں ہیں مجھے بچپن سےکریونگ ہوتی تھی ایسی جگہ جانے کی اور جب میں گئی تو میں جان گئی مجھے کیا چاہئے ’’ ناراضی بھول کر وہ بتانے لگی ۔
‘‘پتہ ہے جاپانیوں کا ایک مشہور قول ہے کہ جب دنیا کے جھمیلوں سے تھک جاؤ تو کسی اونچی پہاڑی پر جا کر پڑاؤ ڈالو میں بھی یہی کرونگی ’’
‘‘تو کیا تم تھک چُکی ہو’’ اس نے ایک دم ایسے پوچھا جیسے ابھی ہی وہ چھوڑ کر جا رہے ہو ۔
‘‘ارے نہیں ناں جب جاؤنگی تو تمہیں سب سے پہلے بتاؤنگی ’’ وہ دھیما سا ہنس دی ۔
‘‘اچھا تو میں بھی آؤنگا ساتھ ’’ اُسنے کندھے اچکا کر کہا تب ہی اماں اور خالہ لاؤنج کا داخلی دروازہ کھول کر داخل ہوئیں اور پیچھے المیر ۔
‘‘السلام علیکم ’’ مہرماہ نے سب کو سلام دیا۔
‘‘لگتا ہے المیر کے سسرالیوں نے خوب خاطر کی ہے جو اتنی دیر لگادی ’’ معتصم نے گویا طعنہ دیا المیر نے شان سے کالر جھٹکا ۔
‘‘آخر کس کے سسرالی ہیں ’’ اس نے سارا کریڈٹ خود لے لیا۔
‘‘شیخ چِلّی کے’’ مُعتصم کہہ کر ہنس دیا المیر نے مصنوعی غصے میں آکر اسکے کندھے پکڑ کر خوب جھٹکے لیکن مُعتصم ساتھ ساتھ اُسے چڑاتا رہا ۔
‘‘اماں نکاح کی ڈیٹ کب کی ہے ’’ مہرماہ نے اماں سےپوچھا ۔
‘‘اگلے جمعہ کو ان شااللہ’’ اماں کہتے ساتھ صوفے پر بیٹھیں پھر کتنی دیر تک وہ سب بیٹھے فنکشن کی تیاریاں ہی ڈسکس کرتے رہے۔
———————————-
وہ اپنے کمرے میں اندھیرا کر کےریکلائینر پر بیٹھا تھا اورسوچوں کا محور وہی تھی مہرماہ سلطان کتنی منفرد شخصیت تھی اُسکی کاش وہ اُسے اپنا بنا سکے اسکے ساتھ گھر بسائے اتنی دولت تھی اسکے پاس مگر اسکا اپنا کوئی نہیں تھا اسکی سنہری آنکھیں بہت شدت سے یاد آئیں ۔
‘‘مہرماہ میرا گھر تمہارے انتظار میں ہے تم آؤ اور اسے جنت بناؤ ’’
اسد کمال آنکھیں موندے اُسے اپنے گھر کی ملکہ تصور کر رہا تھا۔
—————————————
مہر ماہ اور جہانگیربھائی ایک لنچ پر مدعو تھے وہ جانے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن جہانگیر بھائی کو کسی ضروری کام سے حیدرآباد جانا پڑا تو انہوں نے تاقید کی کہ مہرماہ ضرور جائے ورنہ عشرت صاحب جو انکی پارٹی سے تھے مائنڈ کریں گے مجبوراً تیار ہوئی لائلیک کلر کا عبایا ساتھ ہم رنگ سٹول پہنے بائیں ہاتھ کی انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی اور ساتھ وہ ڈیجیٹل گھڑی جو گولڈ بریسلٹ میں جڑا تھا وائٹ ہینڈ بیگ ساتھ وائٹ ہیلز پہن کر نکلی اپنی گاڑی میں بیٹھی کہ خود ڈرائیو کرے گی تب ہی اسکا گارڈ آیا۔
‘‘میڈم صاحب نے اپنی گاڑی چھوڑی ہے اور ہمیں آپکے ساتھ ضرور جانے کا کہا’’ سیکورٹی گارڈ نے مؤدبانہ کہا۔
‘‘اچھا !چلو ٹھیک ہے’’ آج کتنے دن بعد اسکا دل کر رہا تھا اپنی گاڑی ڈرائیو کرنے کا ۔
——————————
ہوٹل کے متعلقہ ہال میں جہاں لنچ کا انتظام تھا وہاں داخل ہوئی تو عشرت صاحب سے مل کر کچھ شِناسا خواتین سے ملی اور باتوں میں مصروف تھی جب اس نے ہال میں اسد کمال کو داخل ہوتے دیکھا اُس نے خواتین سےایکسکیوز کر کے جلدی اپنی پیٹھ اسکی طرف موڑ دی اور سامنے کو چلتے ہوئے شیشے کی دیوارکے پاس کونے میں ایک ٹیبل پر بیٹھی ویٹر نےلا کر جوس کا گلاس اسے تھما گیا وہ بس جلد از جلد وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی گلاس رکھ کر پیچھے دیکھا ہر کوئی اپنی مجلس میں مصروف تھا اسد کمال کہیں نظر نہیں آرہا تھا وہ اٹھی اور بغیر کسی سے ملے ہال سے باہر نکلی اور بے اختیار ٹھنڈی سانس بھری وہ کوئی بچی نہیں تھی جو اسد کمال کی نظروں کی گرماہٹ نا سمجھ سکے لیکن قسمت بار بار اسے اسد کے سامنے کیوں لا کھڑا کر رہے تھی۔
تھوڑی دور لابی میں چلتی آئی لابی اِس طرف سے تقریباً خالی تھی اِکّا دُکّا لوگ ہی آ جارہے تھے یہاں کچھ آرٹ اینڈ کرافٹ کی دکانیں تھیں وہی دیکھنے لگی۔
اِتّفاق سے معتصم بھی اِسی ہوٹل میں کسی دوست کے ہمراہ آیا تھا وہ لابی میں داخل ہوا تو دور سے مہر ماہ کو دیکھ کر خوشگوار احساس ہوا لیکن دوست کے ساتھ تھا تو اُس طرف بڑھا نہیں لیکن مہرماہ کو دکان کے اندر جاتے دیکھا ۔
مہرماہ دکان سے باہر نکلی تو اسد کمال سامنے سے آرہا تھا اُس نے خود کو کوسا۔
‘‘مہرماہ سلطان ’’ اسد اُسے دیکھ کر بڑی دلکشی سے مسکرایا بلیک تھری پیس سوٹ میں وہ واقعی بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔
‘‘اوہ اسد کمال صاحب آپ what a coincidence ’’ مہرماہ بھی آخر سیاست دان تھی۔
‘‘یا پھر destiny’’ اُس نے قدرِ جھک کر مسکراتے ہوئے کہا‘‘آپ کہیں جا رہی تھیں ’’۔
‘‘ جی میں بس نکلنے لگی تھی’’
‘‘اپنے گھر کے مردوں کے بغیر آپ کیفے وغیرہ میں نہیں بیٹھتی تو چلیے آپکو باہر تک چھوڑ دوں’’ اُس نے مہرماہ کو پیشکش کی جسے مہرماہ نے قبول کر لیا۔
‘‘مہرماہ صاحبہ آپ سیاست میں بور نہیں ہو جاتی’’ اسد نےلابی میں چلتے ہوئے پوچھا۔
‘‘میں بور ہو چکی ہوں’’ اس نے سامنے راہداری میں دیکھتے ہوئے بتایا ۔
‘‘اچھا وہ کیوں ؟’’
‘‘کیوں کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے عوام کے لیے کام کرنا آسان تو نہیں اور آپ سیاست میں کیا کر رہے ہیں؟’’ مہرماہ کا اشارہ اس دن سی ایم ہاؤس میں ملاقات کے بارے میں تھا۔
‘‘پراجیکٹس کے لیے سیاست دانوں سے اچھے تعلقات بنانے پڑتے ہیں’’ وہ خارجی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے ۔
‘‘تو کوئی فائدہ ہوا ان تعلقات کا’’ مہرماہ نے چلتے ہوئے پوچھا۔
‘‘اگر مجھے پتہ ہوتا اس دن سی ایم ہاؤس میں کیا ملنے ولا ہے با خدا میں بہت پہلے وہاں ٹینٹ لگا کر بیٹھ جاتا ’’ اسد نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا مہر ماہ کی چھٹی حس نے اُسے الارم کیا وہ رکی اور آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھ کر اسکا کہا جملہ ڈی کوڈ کرنے لگی جب مہرماہ کو پیچھے سے کسی نے پکارا۔
‘‘مہرماہ’’ مہرماہ نے جب مڑ کر دیکھا ۔
‘‘ارے معتصم’’ معتصم کو دیکھ کر اُسے ایک طمانیت کا احساس ہوا معتصم لابی کی دوسری طرف سے چلتا آیا نیوی بلیو ڈریس شرٹ کے آستین کہنیوں تک موڑھےخاکی کلر پینٹ میں بال اچھے جمائے ہوئے وہ مہر ماہ کی طرف چلتا آرہا تھا۔
‘‘تم یہاں ؟’’ معتصم نے مہر ماہ سے پوچھتے ہوئےسوالیہ نظروں سے اسد کمال کی طرف دیکھا۔
‘‘ہاں ایک لنچ پر انوئٹڈ تھی معتصم یہ اسد کمال ہیں اور یہ معتصم سلیمان خان میرا کزن ’’ مہرماہ نے مختصر سا تعارف کروایا اسد کمال نے معتصم کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے معتصم نے تھام لیا لیکن ایک عجیب سا منفی احساس اسے ہو رہا تھا اور یہ ناگواری اسکی آنکھوں سے عیاں تھی دوسری طرف اسد کمال بھی اس اچانک دخل اندازی سے بہت ناگوار محسوس کر رہا تھا۔
‘‘نائس ٹو میٹ یو’’ اسد نے مسکرانے کی زحمت بھی نہیں کی۔
‘‘سیم ہیئر’’ معتصم کا انداز بھی لیا دیا سا تھا پھر مہرماہ کی طرف متوجہ ہوا ‘‘کہیں جا رہی ہو ’’۔
‘‘ہاں بس گھر جارہی ہوں ’’ مہرماہ نے اسکے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے کہا۔
‘‘آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں میں اسی طرف جا رہا ہوں ’’ کہتے اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا جسے دربان کھولے کھڑا تھا ۔
‘‘اوکے اسد کمال صاحب میں چلتی ہوں ’’ وہ جب اسد کی طرف مڑی تو اسد کا بس نہیں چل رہا تھا معتصم کو اپنے بیچ میں سے کہیں غائب ہی کر دے ۔
‘‘امید کرتا ہوں پھر جلد ملیں گے’’ کہتے ہوئے اس نے معتصم کو یکسر نظر انداز کر دیا مہرماہ نے بس مسکرا کر سر ہلایا۔ مہرماہ معتصم کے ساتھ نکل کر چلی گئی لیکن اسد کتنی دیر وہیں کھڑا رہا اُس نے مہرماہ کو معتصم کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے دیکھا ایسا لگا جیسے سینے میں کچھ جل رہا ہو۔
———————————
گاڑی میں بیٹھ کر کتنے لمحے خاموشی کی نذر ہوئے یہاں تک کہ ہوٹل سے نکل کر وہ میں روڈ پر آگئے اُسے کچھ برا لگ رہا تھا بہت برا ۔
‘‘معتصم’’ مہرماہ نے معتصم کو گہری سوچ میں غرق پایا۔
‘‘ہمم!’’۔
‘‘تم ہوٹل کسی کام سے آئے تھے؟’’ ۔
‘‘ہاں ایک دوست سے ملنے آیا تھا’’ بس مختصر جواب۔
‘‘تم اس اسد کمال کو کیسے جانتی ہو؟’’ دل میں ایک پھانس سی چبھ رہی تھی وہ ایک پرفیکٹ کپل لگ رہےتھےاور وہ نہیں جانتا تھا کیا کرے اسد جیسا وجیہہ مرد اگر وہ مہرماہ کو اس سے چھین کر لے گیا تو ؟۔ یہ سوچ ہی اسکے لیے سوہانِ روح تھا ۔
‘‘ہاں ایک دو بار ایسے ہی ملاقات ہوگئی ابھی بھی لنچ پر دیکھا اُسے اگنور کرکے نکلی تو لابی میں مل گیا بلکہ ان تین دنوں میں تین بار ملا ہے ۔’’ اتنا تو معتصم نے بھی دیکھا کہ مہرماہ جب دُکان سے نکلی تو اسد باہر ہی کھڑا تھا کہیں وہ مہرماہ کو سٹاک تو نہیں کر رہا اس سوچ نے اسے مزید پریشان کر دیا ۔
——————————
آج کتنے عرصے بعد اپنے ایک بے حد عزیز دوست سے ملنے اسکے آفس میں بیٹھا تھا۔
‘‘تمہیں دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں تم ہو کہ کہیں ملتے نہیں’’ معتصم ایس پی شعیب علی بخاری کے آفس میں بیٹھا تھا جو اسکے بچپن کا دوست تھا اور معتصم کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔
‘‘تم تو جیسے بڑے چکر لگاتے ہو ’’ معتصم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
‘‘میں ٹھہرا سرکار کا نوکر تو تو بادشاہ بندہ ہے اچھا بتاؤ کیا لوگے چائے کافی ؟’’ شعیب نے فون اٹھاتے پوچھا۔
‘‘کچھ بھی چلے گا’’ شعیب نےانٹرکام پر ۲ کافی کا کہہ کر ریسیور رکھا ۔
‘‘اور سناؤ آنٹی کیسی ہیں ؟’’ شعیب اس سے بچپن سےواقف تھا اس لیے گھر میں سب کو پہچانتا تھا۔
‘‘امی بالکل سیٹ ہیں کتنی بار تمہارا پوچھا ہے ’’
‘‘اچھا اب بتا کیسے یاد آیا میں تجھے ؟’’ ۔شعیب کو وہ زارا ڈسٹرب سا لگا کیونکہ جہاں تک وہ معتصم کو جانتا ہے وہ اس طرح نہیں ہوتا۔
‘‘یار اصل میں ایک فیور چاہئے ’’ معتصم نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
‘‘حکم کرو فیور کی کیا بات کرتے ہو’’ شعیب نے کھلے دل سے کہا۔
‘‘ایک بندہ ہے اسکے بارے میں تھوڑی انفارمیشن چاہئے’’۔
‘‘کون ہے وہ؟’’ شعیب اپنی چیئر پر تھوڑا آگے کو ہو کر بیٹھا۔
‘‘اسد کمال کوئی بزنس مین ہے’’ شعیب اُسے اچھنبے سے دیکھ کر آگے کو جھکا۔
‘‘تم کیسے جانتے ہو اسد کمال کو ؟’’۔
‘‘تم جانتے ہو اُسے ؟’’ معتصم نے اچنبھے سے پوچھا۔
‘‘بس یہ سمجھو اُسے جاننے کے پیچھے لگا ہوا ہوں لیکن تم کیسے جانتے ہو اسے بتاؤ تو’’ شعیب دوبارہ پوچھا۔
‘‘مجھے ایسا لگ رہا ہے وہ میرے گھروالوں کو سٹاک کر رہا ہے’’ معتصم نے اپنا اندیشہ بیان کیا اور دانستہ مہرماہ کا نام نہیں لیا۔
‘‘ دیکھو معتصم ابھی میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن اسد کمال بڑا ٹیرھا اور شاطر بندہ ہے ہمیں شک ہے وہ غیر قانونی کام کرتا ہے اور دو سال پہلے ایک عورت کی گمشدگی کے پیچھے بھی اسکا ہاتھ لگتا ہے لیکن ابھی کچھ ثابت نہیں ہوا وہ عورت آج کے دن تک مسنگ ہے اسکی لاش تک نہیں ملی’’ معتصم کی ریڑھ کی ہڈی بھی سنسنا اٹھی یہ تو اس نے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا اُسے لگا وہ عورتوں کے پیچھے لگنے والا امیر زادہ ہے لیکن شعیب کی باتیں سن کر وہ بہت پریشان ہو گیا۔
‘‘تم اپنے گھر والوں کو ہوشیار کرو اور اس بندے سےدور رہنے کےلیے کہو بہت جلد میں اسکو اسکے کرموں کا پھل چکھاؤں گا ’’ شعیب اُسے ہدایت دیتے ہوئے بولا
شعیب کے آفس سے نکل کر اُسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا۔
———————————
گھر پہنچ کر سب سے پہلے اُسے اماں لاؤنج میں بیٹھی ملیں ‘‘آگئے میری جان’’ اماں نے پیار سے کہا ۔
‘‘اماں مہرماہ کہاں ہے ؟’’ اُسنے چھوٹتے ہی پوچھا۔
‘‘ابھی یہیں تھی اپنے کمرے میں گئی ہوگی’’ اسکی متغیر رنگت دیکھ کر اماں بھی پریشان ہوئیں ‘‘آخر بات کیا ہے؟’’۔
لیکن وہ جواب دیے بغیر اوپر کو بھاگا اسے لگ رہا تھا مہرماہ کو اسد لے گیا ہے ۔
‘‘دو سال پہلے ایک عورت کی گمشدگی کے پیچھے اسکا ہاتھ ہے ’’۔
بھاگتے ہوئے اس نے مہرماہ کے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑایا جواب ندارد اس نے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا وہ کمرے میں نہیں تھی باتھروم میں بھی نہیں تھی لاؤنج ٹیریس کچن کہیں نہیں تھی وہ۔
‘‘وہ آج تک مسنگ ہے اسکی لاش تک نہیں ملی ’’ شعیب کے لفظوں کی بازگشت ہتھوڑے کی طرح اسکے احساب پر پڑرہی تھی ۔
