قسط نمبر 4
وہ باہر کو لپکا باہر پورچ کی طرف گیا ہی تھا گارڈن میں مچھلیوں کے تالاب کے پاس بینچ پر بیٹھی ملی ۔
“اف!یا اللّٰہ” اسے دیکھتے ہی اپنے شل ہوتے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک کر بولا جیسے اسکی جان میں جان آئی جیسے جلتے انگارے پر کسی نے ٹھنڈا پانی ڈالا ہو تھوڑی دیر پورچ میں کھڑے رہنے کے بعد اپنی اتھل پتھل سانسیں ہموار کر کے وہ آہستہ آہستہ اسکی جانب چلتا ہوا آیا ۔
“مہرو”بہت دھیمی آواز میں اسنے کہا۔
“مجھے پتہ تھا تم ابھی آجاؤ گےگاڑی آواز سن لی تھی میں نے ” اسکے پاس بینچ پر دو مگ کافی کے رکھے تھے ایک اُسکی طرف بڑھایا جسے اسنے خاموشی سے تھاما اور ساتھ ہی بینچ پر بیٹھا اور ایک ٹھنڈی سانس خارج کی اور مہرماہ کی طرف دیکھا جس نے مسٹرڈ کلر کا سادہ سوٹ پہنا تھا ساتھ ہم رنگ دوپٹِہ۔
“تمہیں کیا ہوا ہے؟” مہرماہ کو معتصم کا چہرہ ستا ہوا لگا ۔
“مجھے آج ایسا لگا میرا بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے میں بہت ڈر گیا تھا مہرو” اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔
“معتصم کاروبار میں فائدہ نقصان تو ہوتا رہتا خُود کو اتنا پریشان مت کرو رزق دینے والا اللّٰہ ہے اس پر بھروسہ رکھو ” مہرماہ نے اُسے وہی سمجھایا جو اسے سمجھ میں آیا ۔
معتصم نے بس گردن ہاں میں ہلائی رات کا اندھیرا ہر چیز پرحاوی تھا آج چاند کی روشنی بھی مدھم تھی پول لائٹ کی زرد روشنی ان پر پڑ رہی تھی۔
“تمہیں یاد ہے جب میں ملائشیا میں تھی تم اکیلےآئے تھے ملائشیا دیکھنےتم تو تب نہیں ڈرے جب سولہ سال کے تھے تو اب بھی نہیں ڈرنا” معتصم اس سارے وقت میں پہلی بار مسکرایا اور مگ ہونٹوں لگایا۔
————————————
(نو سال قبل )
مہر ماہ ان دنوں ملائشیا میں اپنے گریجویشن ڈگری کی غرض سے گئی تھی وہ ایشیا پیسیفک یونیورسٹی میں ۳ سالہ آرکیٹیکچر کی ڈگری لینے گئی تھی ۔
جب ایک دن وہ اپنے کیمپس سے لائبریری کی طرف جا رہی تھی ابّا کی کال آئی رسمی حال احوال کے بعد ابّا نے اسے بتایا کے معتصم بہت ضد کر کے اکیلا کوالالمپور کے لیے نکلا ہے۔
“لیکن ابّا آپ لوگوں نے اُسے اکیلے آنے کیسے دیا روک لیتے” مہرماہ پریشان ہوگئی ۔
“بیٹا ہم کیا کرتے اس نےضد باندھ لی اپنا ویزا بھی خود لگوایا کسی ایجنٹ کے ذریعے تمہاری خالہ بہت پریشان ہیں ” ابّا خود پریشان تھے جِس بچے کو کبھی اکیلے ساتھ والے شہر نہیں جانے دیا وہ دوسرے ملک جا رہا تھا وہ بھی اکیلا ۔
“ابھی کہاں ہے ؟”۔
“بیٹا وہ ائیرپورٹ کے اندر ہے ایک گھنٹے بعد فلائٹ ہے ۶بجے تک پہنچ جائیگا کوالا لمپور ائیرپورٹ تم وہاں جا کر سنبھال لینا ” ابّا سے خداحافظ کرکے اس نے معتصم کوکال ملائی جیسے ہی ہیلو کی آواز آئی مہرماہ برس پڑی۔
“یہ کیا حرکت کی ہے تم نے سِمی تمہیں پتہ ہے سب کتنا پریشان ہیں میں اتنی بڑی ہو کر بھی ایک پورے گروپ کے ساتھ آئی تھی تم بچےہُو کر اکیلے آرہے ہو ”مہرماہ سرزنش کرتے ہوئے بولی۔
“بچہ نہیں ہوں میں تمہیں اچھا نہیں لگتا تو نہیں آؤنگا تمہارے پاس ”وہ رُوہانسا ہو گیا مہرماہ کو اپنے لہجے کا احساس ہوا۔
“اچھا اب رو نہیں جیسا میں کہتی ہوں ویسا کرنا ”ساتھ میں مہرماہ نے اُسے کچھ ہدایات دی کہ ان پر لازمی عمل کرنا ہے ۔
۷ بجے پاکستان میں اور ۱۰ بجے ملائشیاوہ ائیرپورٹ سےنکلتا دکھائی دیا مہرماہ نے خوشدلی سے اسے خوش آمدید کہا اور اس ہوٹل میں گئے جہاں مہرماہ نےاسکےلیے روم بک کروایا تھا مہرماہ کا ہاسٹل بالکل نزدیک تھا اسکے لیے کھانا وغیرہ آرڈر کیا پھر اُس کے ساتھ مل کر کھانا کھایا معتصم بہت خوش تھا کہ مہرماہ اسکے ساتھ تھی تھوڑی بہت گپیں مار کر وہ اپنے ہاسٹل چلی گئی اور تھکن سے چُور مُعتصم لیٹتے ہی سو گیا۔
—————————-
معتصم ایک ہفتہ وہاں رہا اس ہفتے میں مہرماہ نے اُسے خوب سیر کروائی تھیم پارکس واٹر پارکس اونچی بلڈنگز کے ٹاپ فلورز حتیٰ کہ جینٹنگ ہائلینڈز بھی لے گئی جو وہاں سے ۲ ڈھائی گھنٹے کا راستہ تھا ۔
ہفتہ کیسے گزرا کچھ پتہ نہیں چلا معتصم بہت خوش تھا مہرماہ نےبھی انجوائے کیا شاید اس سے پہلے مہرماہ نے بھی کوالالمپور اتنا انجوائے نہیں کیا تھا جتنا اپنے کزن ساتھ کیا صبح معتصم کی فلائٹ تھی تو رات میں اُسے ہوٹل چھوڑتے راستے میں مہرماہ نے معتصم کو مخاطب کیا۔
“سِمی دیکھو اس بار تم آگئے بہت مزے کئے انجوائے کیا لیکن تمہارا طریقہ غلط تھا ابھی تم اڈلٹ نہیں ہو جب تم تھوڑے اور بڑے ہوگے تو بیشک اکیلے آنا دیکھو اگر میں یہاں نہ ہوتی تمہیں کتنی مشکل ہوتی ” مہرماہ سمجھاتے ہوئے بولی ۔
“سمجھ گیا مہرو ”اُسکا سر جھکا تھا اب کیا بتاتا کہ وہ صرف اسکے لیے آیا تھا کتنا رویا تھا ماں کے سامنے وہ کیسے بتاتا کہ وہ گھر مہرماہ کے بغیر کاٹنے کو دوڑتا ہے مہرماہ نہیں تو کچھ اچھا نہیں لگتا وہ اتنا کم عمر تھا کہ اپنے احساسات خود بھی نہیں سمجھ پاتا تھا۔
وہ ۷ سال کی عمر میں کیے اس وعدے کا پابند تھا اور وہ اسکے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔
————————————————
وہ اپنے آفس کے پاور چیئر پر بیٹھا کہنی کرسی کےہتھے پر رکھے سگار انگلیوں میں دبائے دانش کو سن رہا تھا ۔
“سر جی یہ معتصم مسئلہ کر رہا ہے وہ زمین سرکار کوبیچ رہا ہے وہاں سے ایک سروس روڈ گورمنٹ نکال رہی ہے ہمارے وئیر ہاوسز سب کی نظروں میں آجائیں گے” دانش نے مسئلہ بتایا وہ خود بھی پریشان تھا کیونکہ اگر اسد پکڑا جاتا تو وہ بھی پکڑا جاتا ساتھ اسکا دانہ پانی بھی بند ہوجاتا اور کتنی مشکلوں سے اس نے وہ ویئر ہاؤسز بنوائے تھے یہ تو وہ جانتا ہے۔
“مجھے یہ معتصم اچھا نہیں لگا میرے سامنے میری من چاہی چیز لے گیا مہرماہ کا کزن مجھے اچھا نہیں لگا” سگار کے کش لیتا وہ بڑی نفرت سے بولا۔
“دانش معلومات کرواؤ کیا رشتہ ہے انکے بیچ”اس نےدانش کو حکم دیا۔
“سرجی جہاں تک میں نے معلوم کروایا ہے تو لڑکا عمر میں مہر ماہ سلطان سے کافی چھوٹا ہے اور کوئی منگنی وغیرہ بھی نہیں ”۔
“میری ماں کو کل لے آؤ تاکہ جاکر رشتہ کے لیے بات کرے اور جہانگیر سلطان سےمیری ملاقات کرواؤ ”۔
“جی بہتر”۔
دانش کہتے ہی آفس سےنکل گیا اسد کمال نے سامنے پڑے لیپ ٹاپ کو آن کیا کچھ کلکس کے بعد اسکی تصویر کو کھول کر دیکھا۔
“مہر ماہ تمہارا یہ گریز مجھے اور بھی اپنی طرف مائل کر رہا ہے”اسد نے آنکھیں موند کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر کہا۔
—————————————-
جمعہ کا دن المیر کے نکاح کا دن آ پہنچا شام ۴ بجے تک انہیں اُنزِلا کے گھر پہنچنا تھا نکاح کی تقریب میں گھر والوں کے علاوہ کچھ قریبی رشتےدار اور دوست شامل تھے نہ نہ کرتے بھی بہت سارے لوگ ہو گئے انتظام اُنزِلا کے گھرکے لان میں کیا گیا مردوں اور عورتوں کے لیے علیحدہ انتظام کروایا گیا ایونٹ ڈیکوریٹرز سے جگہ کو بہت خوبصورت سجایا گیا خواتین میں فیمیل فوٹوگرافر فیمیل ڈی جے اور ویٹرسز کا انتظام تھا کوئی غیر متعلقہ مرد اندر نہیں آسکتا تھا ۔
لاؤنج میں سب آہستہ آہستہ تیار ہو کر آتے جا رہے تھے کے انہیں ۴ بجے تک نکلنا تھا اماں ابّا خالہ سب آگئے تھے اجالا بھی زرق برق کپڑے پہنے یہاں سے وہاں بھاگی پھر رہی تھی۔
معتصم بھی تیار ہو کر آیا آف وائٹ شلوار قمیض میں اسکا قد کاٹھ اور بھی جاذبِ نظر لگ رہے تھے ۔
سمیرا بھابھی جہانگیر بھائی اور انکے دو بیٹے بھی آگئے تھے اور سمیرا بھابھی اپنے ساتھ عنایہ کو بھی لائی تھی ۔
عنایہ نے میرون لمبی قمیض اور ٹراؤزر پہنا تھا جسکی تنگ آستینوں میں دھاگے اور موتیوں کا کہنیوں تک کام تھا بال بلو ڈرائی کیےنفاست سےمیک اپ کیےعنایہ سب سے ملی آخر میں معتصم کو سلام دیا تو معتصم نے سر کی جنبش سے مسکرا کر جواب دیا۔
“معتصم بیٹا جا کر دیکھ آؤ اُن دونوں کو مجال ہے جو یہ لوگ کبھی وقت پر تیار ہوں”اماں جُھنجُلائی ہوئی تھیں کہیں دیر نہ ہوجائے اُنکے نزدیک جو انسان وقت کا پابند نہیں اُس سے زیادہ وعدہ خلاف کوئی نہیں ۔
معتصم تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر آیا مہرماہ بھی المیر کے کمرے میں تھی المیر سفید کپڑوں کے اوپر کریم کلر کی ویسٹ کوٹ پہنے بالوں کو خوبصورتی سے جمائے کھڑا تھا اور مہرماہ مسکراتے ہوئے اُسے پرفیوم لگا رہے تھی جبکہ وہ خود آف وائٹ امبریلا فراک میں ملبوس تھی جسکے گلے اور آستینوں پر سفید دھاگے اور موتیوں کا کام تھا جبکہ سینے سے نیچے گرتا امبریلا نیلے پھولوں اور کیریوں سے بھرا پرنٹڈ سلک تھا ساتھ آرگنزا دوپٹہ اور بالوں کو بیچ تک مانگ نکلی کس کے جوڑا بنایا ساتھ سفید ہیلز کانوں میں ڈائمنڈز پہنے وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی معتصم پر نظر پڑی۔
“اوہو ماشااللہ ہینڈسم لگ رہے ہو ،آج میں اعتراف کرتی ہوں تم دونوں بہت اچھے لگ رہے ہو” معتصم کو دیکھتی وہ بولی جبکہ وہ خود اُسے دیکھ کر اسکے سحر میں کھو سا گیا تھا۔
“ہم روز ہی اچھے لگتے ہیں تمہیں آج پتہ چل رہا ہے ”المیر نے بالوں پر برش پھیرتے ہوئے کہا ۔
معتصم اور مہرماہ نے ہم رنگ لباس پہنے ہوئے تھے جیسے ایک دوسرے کے لیے بنے ہوں لیکن وہ چاہ کر بھی کہہ نہ سکا کہ آج وہ ایک مومی مجسمہ لگ رہی ہےالمیر کا لحاظ تھا یا کچھ اور وہ بس نظریں جھکا کر مسکرا کر رہ گیا۔
“نیچے چلو ورنہ اماں آکر تم لوگوں کو پیٹیں گی”معتصم نےوارننگ دیتے ہوئے کہا المیر آگے روانہ ہوا۔
“اینویں! آج میں بادشاہ ہوں بادشاہ” المیر نے کالر جھاڑے۔
“ہاں قربانی کا بادشاہ ” معتصم نےمہرماہ سے سرگوشی میں کہا مہرماہ بےاختیار ہنس دی اور یہ منظر اُن لوگوں کو نیچے آتے ہوئے لاؤنج میں بیٹھی عنایہ نے دیکھ لیا وہ نیچے آئے اماں نے المیر کی بلائیں لیں اور صدقہ اتارا اور پھر ساتھ میں کھڑے معتصم کا صدقہ اتارا ۔
“میری جان میرا بچہ” اسکے گال پکڑ کر اماں نے پیار کیا معتصم نے اماں کو پیچھے سے بازوؤں کے حصار میں لیا اور دورکھڑی مہرماہ کو دیکھتے ہوئے اماں کے کان میں کہا۔
“مجھے اپنا داماد بنا لو ناں گھرجمائی بن کررہونگا”اماں بےاختیار مسکرا دیں۔
“تم میری بیٹی کو راضی کر لو تم سے زیادہ مجھے کون عزیز ہوگا” اماں کے چہرے پر طمانیت کا احساس اُبھر آیا آخر کار انکی بیٹی کا گھر بھی بسنے جا رہا تھا-
———————————
معتصم نے نکاح کے لیےاپنے دوست ایس پی شعیب علی بخاری کو بھی بلایا تھا نکاح شروع ہونےلگا تھا کہ اندر آتے شخص کو دیکھ کر غصے سے معتصم کی رگیں تن گئیں اور شعیب کے بھی منہ کے زاویے بگڑ گئے ۔
“اسدکمال یہاں کیا کر رہا ہے ؟” شعیب نے معتصم سے پوچھا۔
“مجھے نہیں معلوم”معتصم نے جب اسد کو جہانگیر بھائی سے گلے ملتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ اسد یہاں کیا کر رہا ہے اور کیوں ہے یکدم ہی ہر چیز سے دل بیزار ہوگیا۔
“میں اسے چھوڑونگا نہیں” معتصم غصّے میں کہتا آگے بڑھا شعیب نے اسکا ہاتھ پکڑا اور صوفے پر بٹھایا ۔
“کوئی تماشہ مت کرنا تمہارے گھر کی بدنامی ہوگی ابھی ریلیکس ہو کر بیٹھو المیر کا دن خراب مت کرو ویسے بھی ہمارے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ابھی چپ کرنے میں مصلحت ہے” شعیب کی بات صحیح تھی اس لیے وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔
—————————-
اُنزِلا سفید غرارے میں بہت پیاری لگ رہی تھی نکاح ہوگیا تھا سب کھانے میں مصروف تھے کھانے میں لائیو بار بی کیو اورڈیزرٹ میں آئس کریم اور گلاب جامن اور جلیبیاں تھیں ساتھ میں چائے کافی بھی سرو کی جا رہی تھی مہرماہ کچھ رشتےداروں کے ساتھ بیٹھی محو گفتگو تھی جب ایک ویٹرس آئی اُسکے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں جوس کے گلاس تھے مہر ماہ کےسامنے آتے ہی اسکا پیر رپٹا اورغیر متوازن ہو کر گری اور تھوڑا جوس مہر ماہ کے کپڑوں پر گرا ۔
“اوہ میڈیم معاف کیجئے گا پتہ نہیں کیسے میں گری”وہ ویٹرس بوکھلائی لگتی تھی۔
“نہیں کوئی بات نہیں آپ ٹھیک ہیں ؟” مہر ماہ نے ویٹرس کو پوچھا پھر ٹشو باکس سے ٹشو اُٹھائےاور اپنا فراک صاف کرنے لگی۔
“پلیز میڈیم آجائیں اس طرف ریسٹروم ہے میں صاف کروا دونگی” وہ ویٹرس کی تقلید میں گھر کے اندر آگئی گھر کےسارے کمرے بند تھے ماسوائے گیسٹ بیڈروم کے جسے مہمانوں کے لیے کھلا رکھا تھا۔
”لائیں میڈم میں کرتی ہوں ”ویٹرس نے کہا
“نہیں کوئی بات نہیں میں کرلونگی”وہ اپنا دوپٹہ بیڈ پر رکھ کر ریسٹ روم کےاندر گئی اور بیسن کےسامنے کھڑی اپنی قمیض صاف کرنے لگی ۔
کالی شلوار قمیض پہنے ہوئے وہ کمرے میں آیا اور اندر آکر بیڈ پر مہرماہ کا دوپٹہ دیکھ کر اٹھایا اور اُسے چہرے تک لے گیا بہت ہی ہلکی سی خوشبو شاید پھولوں کی اسکے نتھنوں سے ٹکرائی سامنے ڈریسنگ کے ایک بڑا شیشہ لگا تھا جس میں مہرماہ بیسن کے سامنے کھڑی اپنی شرٹ صاف کر رہی تھی اُسکے بال اسد نے پہلی بار دیکھے تھے اتنے خوبصورت وہ خود کتنی حسین لگ رہی تھی اسکے ہوش اڑانے کو کافی تھا اسد نے دوپٹہ بیڈ پر واپس رکھ دیا جب مہرماہ نکلی تو اسد کو دیکھ کر ٹھٹک گئی بھاگ کر اپنا دوپٹہ اُٹھایا اور سر پر اوڑھ کر باہر کی طرف نکلنے لگی تھی۔
“مہرماہ”مہرماہ دروازے تک جا کر رکی مڑ کر نہیں دیکھا اِسی دوران معتصم بھی باہر اسد کو اچانک غیر حاضر پاکر کسی انہونی کے احساس سے اندر کی طرف آیا اور اسنے بھی سنا۔
“مجھ سے نکاح کر لو مہرماہ” وہ وہیں منجمد کھڑا محبت پاش نظروں سےاُسے دیکھتا ہوا بولا اس سے پہلے کہ معتصم جا کر اسکا منہ توڑتا مہرماہ بولی۔
“میری شادی ہو چکی ہے اسد کمال صاحب اور دوسری شادی کا میرا کوئی ارادہ نہیں ”مہرماہ بنا مڑے بولی اور تیزی سے باہر نکلنے لگی تھی جب معتصم سے ٹکرائی۔
“تمہاری اتنی ہمت ” معتصم آگے بڑھا کہ اسد کا گریبان پکڑے مہرماہ نے اُسے ہاتھ پکڑ کر روکا
“پلیز معتصم چلو یہاں سے ” وہ گھسیٹتی ہوئی اُسے لے گئی پیچھے اسد کمال سن کھڑا انہیں جاتے دیکھتا رہا مہرماہ کےلفظوں کی بازگشت اسکے کانوں میں گونجنے لگی ۔
“میری شادی ہو چکی ہے” کیا واقعی ؟
(آج سے دس سال پہلے)
سلطان خان نے مہرماہ کا رشتہ اپنے ایک دیرینہ دوست نورالحق خلجی کے بیٹےشہریار خلجی سے طے کر دی تھی کچھ دن بعد شادی تھی شادی کی ڈیٹ ایمرجنسی میں طے کی گئی کہ شہریار کو جلدی تھی بقول مہناز خلجی کے شہریار کو مہرماہ بہت پسند آئی ہے آناًفاناً شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی اور تیاریاں شروع ہوگئیں ۔
شہریار امریکا سے لاء پڑھ کر آیا تھا اور اب اسکی ماں لڑکی کی تلاش میں تھی جب جہانزیب کی شادی میں انہوں نے مہر ماہ کو دیکھا تو وہ انہیں بہت پسند آئی اور بڑے چاؤ سے مہرماہ کا رشتہ مانگا حالانکہ اس وقت مہرماہ کے لیے بہت سارے رشتے آئے ہوئے تھے لیکن سلطان خان نے اپنی دوستی کا بھرم رکھ کر نورالحق خلجی کےبیٹے شہریار کو ہاں کر دی۔
“مہرماہ یہ دیکھو ” جہانزیب کی بیوی رُباب نے موبائل مہرماہ کے سامنے لہرایا ۔
“کیا ہے دکھاؤ”مہرماہ نے اشتیاق سے دیکھا۔
“تمہارا ہونے والا وہ کیا کہتے ہیں” رُباب اب اسے چڑا رہی تھی۔
“دیکھو کتنا ڈیشنگ ہے” رُباب نے آخرکار تصویر دکھا دی۔
مہرماہ دیکھ کر تھوڑا شرمائی اور اسکے چہرے پر خوشی کے کتنے رنگ بکھر گئے ۔
“لنگور لگتا ہے مجھے تو ”معتصم پتہ نہیں کہاں سے آدھمکا۔
“پتہ نہیں کیا دیکھ کر مہرماہ کی شادی ایک گدھے سے کر رہے ہیں تایا ابّا” صوفے پر بیٹھتے ہوئے اُس نے کمنٹ پاس کیا جس سے مہرماہ اور رُباب دونوں کے منہ کھلے رہ گئے صالحہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے سن لیا اور شرمندگی کےساتھ غصہ بھی آیا۔
“شرم نہیں آتی ہر وقت فضول گوئی کرتے ہوئے جاؤ اپنے کمرے میں کتابیں بھی کھول کر دیکھ لو کبھی”معتصم کچھ کہے بغیر پیر پٹختا ہوا نکل گیا مہرماہ نے تاَسّف سے اُسے جاتے دیکھا پتہ نہیں کیوں کچھ دنوں سے وہ بہت چِڑچڑاہوگیا تھا۔
“اوہو خالہ آپ نے ناراض کردیا نا اسے ” مہرماہ اسکے پیچھے چل دی جب مہر ماہ اسکے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا رو رہا تھا۔
“سِمی دیکھو تمہارے لیے کیا لائی ہوں ” مہر ماہ نے اُسکی پسندیدہ چاکلیٹ دکھائی لیکن اس نےمنہ دوسری طرف کر لیا۔
“جب دو دن بعد میں چلی گئی نہ تمہیں بہت برا لگے گا کہ تم مجھ سے یوں ناراض رہے اور میری دی ہوئی چاکلیٹ بھی نہیں لی ” نا چار وہ اٹھ بیٹھا ۱۵ سالہ معتصم کا اچھا خاصا وزن تھا گال گول سیب کی طرح سرخ۔
“اب وعدہ کرو خالہ کو نہیں ستاؤ گے ورنہ خالہ مجھے فون کرینگی اور میں تمہارے کان کھینچوں گی” مہرماہ نے اسکا کان کھینچا۔
“میں تو وعدہ نبھائونگا تمہاری طرح بُھولوں گا نہیں” مہرماہ نے اُسے حیرت سے دیکھا پھر اسکو منا کر اپنے کمرے میں آگئی کہ یقیناً بچہ ہے اور اس سے مانوس ہے اسکی شادی اور جدائی کی وجہ سے تھوڑا دکھی ہوگا ۔
—————————-
سرخ عروسی لہنگے میں بھاری جویلری اور ماتھا پٹی میں وہ بہت دلکش اور خوبصورت لگ رہی تھی رخصتی ہوئی اور مہرماہ رخصت ہو کر شہریار کے گھر آگئی شہریار کا گھر بھی بہت عالیشان اور نئے طرز پر بنا تھا۔
مہر ماہ کو لا کر ہجلا ِ عروسی میں بٹھایا گیا۔
“سونا مت مہرماہ شہریار آتا ہی ہوگا” شہریار کی کوئی رشتےدار خاتون چہک کر بولی۔
وہ بہت تھکی ہوئی تھی لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ شہریار کے انتظار میں بیٹھی تھی وقت پل پل سرکتا گزر گیا آدھی رات ہو گئی بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئی انتظار کی اذیت ہر پل کے ساتھ اسکے احساب پر بھاری پڑرہی تھی کہتے ہیں نیند سولی پر بھی آجاتی ہے اور اُسے بھی آج انتظار کی سولی پر نیند آگئی۔
———————————
“ کہا تھا میں نے تمہیں مت کرو زبردستی اسکے ساتھ اب دیکھو کسی اور کی بیٹی کی زندگی برباد ہوگئی ناں” نورالحق یہاں سے وہاں ٹہلتے اور باربار گھڑی دیکھتے جاتے۔
“میں نے سوچا مہرماہ جیسی خوبصورت اور معصوم لڑکی کو دیکھ کر وہ پگھل جائے گا وہ اسکی زندگی سنوار دیگی لیکن وہ تو ابھی بھی اس ڈائن کے زلفوں کا اسیر ہے بیچاری معصوم مہرماہ کو نظر بھر کر دیکھا تک نہیں ” مہناز بیگم ہاتھ ملتے ہوئے پچھتاوے سے بولیں۔
“پتہ نہیں کون سے گناہ کیے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ اولاد کے ذریعے آزما رہا ہے” مہناز ابھی تک رو رہی تھیں۔
“ہمیں تو عادت ہے اس ذلت کی مجھے تو رہ رہ کر اُس بچی کا خیال آرہا ہے سلطان کوپتہ چلا ہمیں ایسے نہیں چھوڑے گا ” نورالحق انجانے خوف اور اندیشوں میں تھے۔
————————————————
صبح اسکی آنکھ کھلی تو کوئی سامنے نظر آیا نیندکا خمار ذرا چُھٹا تو دیکھا شہریار الماریوں سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا پھر مطلوبہ شرٹ اور پینٹ نکال کر باتھروم میں نہانے چلا گیا باتھروم سے نکل کر تیار ہو کر باہر نکل گیا ایک نگاہِ غلط بھی اس لڑکی پر نہیں ڈالی جو اسکے نکاح میں تھی جس نے اسکے ساتھ زندگی بتانے کے لیے اپنا گھر ماں باپ سب چھوڑ دیا تھا اذیت کی ایک لہر اُسکے دِل و دماغ سے گزری
مہرماہ بیڈ پر بیٹھی رہ گئی اُسے کچھ سجھائی نہیں دیا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا یہ کون تھا ایک اجنبی یا اسکا شریک حیات کچھ لگتا بھی تھا اسکا یا نہیں کیا یہی تھا وہ انسان جسکے ساتھ عمر بھر اسے گزارنی تھی جس نے نظر بھر کر اسے دیکھا تک نہیں انہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ مہناز کمرے کے اندر داخل ہوئیں۔
“بیٹا اٹھ گئی چلو اٹھ کر تیار ہوجاؤ ابھی آمنہ بھابھی والے آجائیں گے چلو آکر ناشتہ کرو” وہ پیار سے بولیں لیکن اس سے نظر بھی نہیں ملا پا رہی تھیں۔
“جی” وہ کچھ بول نہیں سکی نہ کوئی وضاحت مانگی اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا عجیب ویرانی سی دل پر چھا گئی اماں والے جب آئے تو انہوں نے مہرماہ کی آنکھوں کی ویرانی دیکھی۔
“آپکا بیٹا گھر نہیں آیا رات بھر میری بیٹی اکیلی اسکا انتظار کرتی رہی”اماں نے دکھ بھرے غصیلے لہجے میں کہا۔
“اصل میں آمنہ بھابھی رات کو ہماری فیکٹری میں آگ لگی تھی تو شہریار بہت پریشان تھا۔ ”کسی طرح جھوٹ بول کر مہناز نے مہرماہ کے گھر والوں کا منہ بند کر دیا لیکن آمنہ بیگم بہت مایوس ہوئیں اور مہرماہ کو دیکھ دیکھ کر انکو حول اٹھ رہے تھے پتہ نہیں انہوں نے اپنی اکلوتی بچی کو انکے حوالے کیوں کِیا۔
“دیکھو بیٹا اگر تم سے کوئی کسی بھی طرح سے برا برتاؤ کرتا ہے تو تم فوراً ہمیں اطلاع کرنا ”اماں پریشان تھیں تو جاتے وقت مہر ماہ کو ہدایت دی لیکن مہناز نے انہیں تسلی دے کر بھجوا دیاشہریار کو کتنے فون کئے اسکے ماں باپ نے لیکن اُسے نہ آنا تھا نہ آیا مہناز بیگم نے مہرماہ کے آگے ہاتھ جوڑے کہ اُنکا بھرم رکھ لے اماں پھر آئیں لیکن مہناز بیگم کی ہزار منتوں پر اس نے جھوٹ بولا کہ شہریار گھر پر تھا کام پر گیا ہے لیکن اماں اپنی بیٹی کی ویرانی بھانپ گئیں اور جا کر سلطان خان کو بتا دیا ابّا نے شہریار اور نورالحق کو فون کرکے خوب بے عزت کیا نورالحق تو دب گئے معافی مانگنے لگے لیکن شہریار آگے سے گالیاں بکنے لگا انکی بیٹی پر طرح طرح کے الزامات لگائے جبکہ خود ایک ٹی و ی ایکٹریس کے زلفوں کا اسیر تھا باپ کے عاق کرنے کی دھمکی پر اس نے اس شرط پر شادی کی کہ شادی ہوتے ہی جائیداد اسکے نام ہوگی تو اس نے انکی مرضی سے شادی کی اور مہرماہ کو بلی کا بکرا بنایا شادی کا ساتواں دن تھا جب وہ لاؤنج میں بیٹھی دیواروں کو تک رہی تھی اُسے لگتا تھا وہ کسی قید خانے میں ہے جب شہریار غیض و غضب سے بھرا لاؤنج میں داخل ہوا اور آکر اسکے سامنے کھڑا ہوا۔
“تمہیں میں نے کہا تھا مجھ سے شادی کرو تمہارا باپ مجھے فون کرکے دھمکیاں دیتا ہے” شہریار اس پر چِلّا رہا تھا اور ساتھ میں گالیاں بک رہا تھا مہناز دوڑتی ہوئیں باہر آئی۔
“اس مصیبت کو آج میں خود ہی ختم کر دیتا ہوں ”ساتھ ہی آگے بڑھا اور مہرماہ کا گلا دبوچ لیا اور اُسے صوفے پر گرا دیا مہناز نے اُسے چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ کمزور تھیں شہریار نے انہیں دھکّا دے کر گرا دیا مہرماہ کو موت سامنے نظر آرہی تھی اس نے ہاتھ مارا صوفے کے سائڈ ٹیبل پر گلدان پڑا تھا گلدان پکڑ کر شہریار کے سر پر دے مارا شہریار لڑکھڑایا مہرماہ اسے دھکا دے کر پاس کے بیڈروم میں جا گُھسی دروازہ لاک کرکے دروازے کے سامنے بیٹھ کر گہری سانسیں لینے لگی بےاخیار اُسے اپنا فون یاد آیا جو وہیں ٹیبل پر رہ گیا جہاں گلدان اٹھا کر شہریار کو مارا تھا۔
“پلیز اللّٰہ پاک میری مدد کردے پلیز میری مدد کردے ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی مصیبت کے وقت اللّٰہ ہی یاد آتا ہے تو اس نے بھی اللّٰہ سے مدد مانگی شہریار دروازہ دھڑدھڑانے لگا اور گالیاں بکنے لگنے لگا وہ ادھر ادھر کوئی چیز ڈھونڈنے لگی جس سے شہریار پر حملہ کرسکے ساتھ ساتھ روئے جا رہی تھی ۔
“تمہارا باپ خود کو بہت بڑی چیز سمجھتا ہے آج میں بتایا ہوں کہ اسکی کیا حیثیت ہے ” شہریار چِلّا رہا تھا اور ساتھ دروازے کے لاک پر کسی بھاری چیز سے مار بھی رہا تھا تاکہ ٹوٹ جائے لاک ٹوٹنے لگا تھا مہرماہ سینے پر ہاتھ رکھ کر چیخنے لگی جب اُسے گاڑیوں کی آوازیں دروازے کھلنے بند ہونے کی پولیس کے سائرن کی آواز بہت سارے لوگوں کی آوازیں آئیں لیکن جس آواز نے اس میں جان ڈالی وہ ابّا کی آواز تھی ابّا سے جب شہریار نے تلخ کلامی کی تبھی ابّا اپنے بیٹوں سمیت گھر سے نکلے اور پولیس کو بلایا کہ نورالحق اور شہریار نے انکے ساتھ دھوکہ کیا ہے لیکن یہاں آکر مہرماہ کی حالت دیکھ کر انہیں بہت رنج ہوا اور غصّہ اِتنا کہ شریار کا گلا دبا دیتے ۔
