Episode 7 - Ham Ahle Dil Wo Mehrma By Gulmira Rustum

All Episodes
ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

Episode 7

ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

قسط نمبر7

“کل رات تقریباً دو بجے چار ٹرک اس ہائیوے سے گزرے میں نے پیچھا کیا تو وہ اس ہی

کچے کے علاقے کی طرف نکلے میں نے بہت آگے تک پیچھا کیا لیکن وہ بہت آگے نکل گئے سر وہاں نہ کوئی آبادی ہے نہ کوئی کارخانہ پھر یہ چار ٹرک کیوں جائینگے خبر پکی ہے وہ غیر قانونی سامان ہی تھا ” کہہ کر وہ سیدھا ہوا اور شعیب بھی سوچ میں پڑ گیا ۔

“ایک دو دن اور بھی نظر رکھو میں آئی جی صاحب سے اجازت لے کر وہاں کی ڈرون انسپکشن کرواؤں گا ” اشفاق اجازت لے کر چلا گیا لیکن شعیب ایک لائحہ عمل طے کرنے لگا اسد کمال ابھی سے ہی اسے سلاخوں کے پیچھے نظر آرہا تھا ۔

———————————

فجر کی اذانیں گونجنے لگیں تو مہرماہ اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی ساری رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد نمازِ فجر پڑھی اور سورج نکلنے کا انتظار کرنے لگی صبح کے سات بجے تھے جب اس نے فون اٹھایا اور ایک گہری سانس اندر کھینچی بہت زیادہ سوچنے اور غور کرنے کے بعد ہی وہ اس فیصلے تک پہنچی تھی کال ملائی ایک بیل دوسری پھر تیسری پر فون اٹھا لیا گیا اور آگے سے ایک خمار آلود آواز آئی لیکن یقیناً وہ جانتا تھا کہ مہرماہ ہے اس لیے بے یقین بھی تھا ۔

“مجھے آپکا رشتہ قبول ہے ” مہرماہ نے کہا تو وہاں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی ۔

“پتہ ہے مہرماہ آپکی اس بات سے ایسا لگ رہا ہے میرے دل کے صحرا میں پھول کھلے ہیں ” بہت ہی خمار آلود لہجے میں کہا گیا ۔

”آپ آج ہی بات پکی کرنے آجائیں پھر ہم نکاح کی ڈیٹ فکس کریں گے مجھے کوئی شور شرابا نہیں چاہیے ” مہرماہ نے سپاٹ لہجے میں کہا شاید اتنی جلدی وہ اپنے دل میں کوئی جذبہ نہیں جگا پا رہی تھی ۔

”آپ کہیں تو ابھی آجاؤں میں تو اب آپ کے حکم کا غلام ہوں ” اسد بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے کہہ رہا تھا اسکا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا وہ خوش تھا بہت خوش لیکن مہرماہ؟۔

———————————

معتصم شام کو جب گھر آیا تو گھر کے سامنے دو گاڑیاں کھڑی تھیں اس نے کوئی خاص توجہ نہیں دی وہ گھر کے اندر جب داخل ہوا تو لاؤنج میں مٹھائیوں اور پھلوں کے ٹوکرے اور بہت سارے پھولوں کے بکے رکھے ہوئے تھے ڈرائنگ روم سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں رُباب وہاں سے اجالا کے ساتھ مل کر سارا سامان اٹھوا رہی تھی ۔

“یہ سب کیا ہے بھابھی ؟” اس نے چیزوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا رُباب اُسے دیکھ کر عجب مخمصے میں پڑ گئی کیونکہ گھر میں سب اسکی مہرماہ کی پسندیدگی کے بارے میں جان چکے تھے ۔

“مہرماہ کا رشتہ پکا ہو گیا ہے معتصم یہ سب اسکے لیے ہے ” رُباب کا دل مُعتصم کے لیے بُرا ہو رہا تھا لیکن وہ کیا کر سکتی تھی رُباب نے کہا شاید چھت تم پر گر پڑی ہے معتصم کیوں کہ اسے تو ایسا ہی لگا وہ شل سا کھڑا رُباب کی شکل دیکھنے لگا ۔

“مہرو کہاں ہے بھابھی ” اسکو اپنی ہی آواز کسی گہری کھائی سے آتی سنائی دی ۔

”باہر مچھلیوں کے تالاب کے پاس ” اور سن کے وہ رُکا نہیں ۔

“معتصم رُکو ” رُباب نے آواز لگائی لیکن وہ سن کہاں رہا تھا جب وہ باہر آیا تالاب کے پاس مہرماہ کھڑی تھی مرون رنگ کے شیفون کے ہم رنگ دھاگوں کے کام والے سوٹ میں بال جوڑے میں بندھے اور سلیقے سے دوپٹہ لیے اور اسکے ساتھ ہی اسد کمال کھڑا تھا کالے کوٹ اور آف وائٹ پینٹ میں نفاست سے بال سجائے معتصم پر پہلی نظر اسکی ہی پڑی ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی پھر مہرماہ نے مُڑ کر دیکھا لیکن وہ جیسے پتھر کی ہوگئی معتصم کی آنکھیں گِریاو زاری کر رہی تھیں اور وہ آنسو خون کے تھے مہرماہ کو لگا یہ آسان ہوگا لیکن یہ بہت مشکل تھا اور معتصم وہ خالی ہاتھ کھڑا انہیں دیکھتا رہا محبت میں سب ٹھیک لیکن سب سے تکلیف دَہ تو یہی ہے ناں جسے ہم چاہیں اُسے کسی اور کے ساتھ دیکھیں اور وہ کوئی اور بھی وہ جسے ہم سخت ناپسند کریں ۔

“ہیلو معتصم! ایم شیور یو گوٹ دی نیوز ” اسد نے کہہ کر مہرماہ کی طرف دیکھا لیکن مہرماہ کی اپنی عجیب سی حالت ہو رہی تھی کیا اس نے جلد بازی کر دی؟ اُسے وقت دینا چاہئے تھا۔

“نیکسٹ ویک ہمارا نکاح ہے ”جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ کہہ رہا تھا لیکن وہ دیکھ نہیں رہا تھا کہ مہرماہ اور معتصم کی نظروں میں اک الگ گفتگو چل رہی ہے شکوے ، گِلے ، مان ٹوٹ جانے کا درد ۔

معتصم چلتا ہوا مہرماہ تک آیا ۔

“کیوں؟ ” اس نے اسد کو یک سر نظر انداز کر دیا ۔

“معتصم میری بات سنو ” اسکی مری سے آواز آئی ۔

“اور اب یہ ظلم نہیں ہے ؟“ اسکی آواز ٹوٹ رہی تھی لیکن وہ کم سے کم اسد کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتا تھا ۔

“مسٹر نیکسٹ ویک ہمارا نکاح ہونے والا ہے تو میری ہونے والی وائف سے زرا تمیز سے بات کرو ” اسد نے غصے سے اُسے گھور کر دیکھا ۔

“آئی سویر اسد کمال نیکسٹ ویک تم کہیں اور ہوگے ” ایک تیز غصیلی نگاہ اس پر ڈالتا وہاں سے نکل گیا ۔

“اسد ایم سوری وہ بچہ ہے تھوڑا غصے میں ہے ” مہرماہ کو سمجھ نہیں آیا کہ بات کیسے سنبھالے ۔

”بچہ تو نہیں ہے ہیز اے مین وہ ایک چھ فٹ کا مرد ہے جو شاید ابھی مجھے دھمکا کر گیا ہے ”اسد نے ہلکا سا مسکرا کر کہا مہرماہ پہلو بدل کر رہ گئی مہرماہ رنجیدہ ہو گئی اور کتنی دیر تک اس راستے کو دیکھتی رہی جہاں سے معتصم گزرا تھا ۔

———————————-

کراچی گیریزن ریس کلب میں صبح کے وقت گھوڑے بہت جوش میں دوڑ رہے تھے ہر گھوڑا دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی جستجو میں لگا تھا ریس کورس میں دوڑتے گھوڑوں میں ایک پر معتصم سوار تھا وہ اپنا سارا غصہ اور ولولا گھوڑے کو دوڑانے میں لگا رہا تھا فنِش لائن پر سب سے پہلے پہنچنے کے بعد اس نے گھوڑا روکا تو اسکی نظر تماشائیوں کے لیے لگی کرسیوں پر پڑی جہاں شعیب بھی بیٹھا تھا اور اسکے متوجہ ہونے پر اسکی طرف ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا وہ گھوڑے سے اتر کر چینجنگ روم میں جا کر چینج کر کے واپس آیا شعیب دھوپ کا چشمہ لگائے ابھی گھوڑوں کے پاس ہی کھڑا تھا معتصم سفید ٹی شرٹ کے ساتھ سفید پینٹ اور ٹی شرٹ کے اوپر سکائی بلیو کلر کی بٹنوں والی شرٹ جس کے بٹن کھلے تھے ساتھ اسنیکرز بال ایک طرف جمائے دھوپ کا چشمہ لگائے وہ شعیب کی طرف آیا ۔

“شعیب مجھے ایسا لگ رہا ہے تم کوئی اچھی خبر لائے ہو ”شعیب سے گلے ملتے ہوئے بولا تو اپنے دوست سے مل کر جلتے دل کو تھوڑا سکون ملا ۔

“یار وہ تو بعد میں بتاؤنگا لیکن یہ بتاؤ تم نے مہرماہ سلطان کی منگنی کیسے ہونے دی اس مجرم سے تمہیں تو پتہ تھا ناں ” شعیب کی بات نے اسے اور بھی رنجیدہ کر دیا اور ایک پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔

“مجھے پتہ ہے اسی لیے میں اسے دنیا کے سامنے لانا چاہتا ہوں اور اب مجھے بتاؤ کیا خبر ہے میں اپنی جان کی بازی لگا دونگا لیکن اسے ختم کر دوں گا ” معتصم اب غصے سے چبا چبا کر بولا پھر وہ دونوں وہیں ریس کورس کے اندر بنے آؤٹ ڈور کیفے میں بیٹھے اور وہیں شعیب بولا ۔

“لیکن تم نے یہ رشتہ ہونے کیسے دیا ؟”شعیب کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی تھی ۔

“کیا کرتا میں ؟گھر میں سب کو پتہ ہے مہرماہ سے محبت کرتا ہوں سب سے پہلے تو مہرماہ یہی سوچے گی ناں کہ مجھے جلن ہو رہی ہے تبھی یہ سب کر رہا ہوں ” وہ جیسے پھٹ پڑا ۔

“تو کیا تمہیں جلن نہیں ہو رہی ؟” شعیب نے جانچتی نظروں سے اُسے دیکھا جبکہ کرسی پر ٹیک لگائے معتصم نے غصےسے اسکی طرف دیکھا۔

“جلن کہنا ہے کہہ دو جو میرا ہے وہ میں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا ” وہ میز پر مٹھی مار کر بولا تو آس پاس ایک دو لوگوں نے مڑ کر دیکھا ۔

“اوکے اوکے ریلیکس ” شعیب ہاتھ اُٹھا کر بولا ۔

“ریلیکس تب کروں گا جب تم مجھے کوئی اچھی خبر سناؤ گے”وہ سر جھٹک کر بولا اسے آجکل ویسے ہے چھوٹی سی بات پر بھی غصہ چڑھ رہا تھا ۔

“خبر یہ ہے کہ ہمیں ایک ٹپ ملی ہے کہ اسد کمال کا ایک ویئر ہاؤس ہے جہاں اسکے تمام غیر قانونی دھندے ہوتے ہیں لیکن یہ شخص اتنا شاطر ہے اس پر اتنی نظر رکھنے کے باوجود بھی ہمیں وہ ویئر ہاؤس نہیں ملا ”شعیب نے تفصیلاً بتایا وہ خود بھی مایوس لگتا تھا۔معتصم نے خاموشی سے کرسی کی پشت سے سر ٹکایا وہ مضطرب تھا ۔

شعیب نے نظر رکھے جانے کے دوران اسد کی تصویریں جو خفیہ طور پر لی گئی تھی میز پر رکھیں معتصم جو کرسی کی پشت سے سر ٹکائے بیٹھا تھا تصویروں کو سر ترچھا کر کے دیکھنے لگا یک دم سیدھا ہو کر بیٹھا اور ایک تصویر اٹھا کر دیکھی ۔

“یہ تو دانش ہے ”معتصم نے شعیب کو تصویر دکھاتے ہوئے کہا ۔

“ہاں دانش بٹ اسد کمال کا ہر کارہ تم جانتے ہو اسے ”شعیب نے اچنبے سے پوچھا ۔

“ہاں یہ ایک بار آیا تھا میرے پاس میری ہائیوے والی زمین خریدنے انفیکٹ یہ تو میرے پیچھے پڑ گیا دوگنی قیمت تک دینے کو تیار تھا ” معتصم تیزی سے بول رہا تھا جیسے کڑیاں ملا رہا ہو۔

“ایسا کیا تھا اس زمین میں کہ وہ اتنا اُتاولا تھا ضرور وہاں کوئی کالا دھندہ ہوگا انکا” شعیب بھی کچھ کچھ سمجھ رہا تھا ۔

“اور جب دانش سے پیچھا چھوٹا تبھی سے یہ اسد کمال مہرماہ کے پیچھے پڑا” معتصم کسی نتیجے پر پہنچ کر بولا ۔

“اسکا مطلب سارا چکر زمین کا ہے اسکے پاس اپنی دنیا جہاں کی جائیداد ہے وہ تمہاری زمین کے پیچھے پڑا ہے تو اسکے کسی کام کی تو ہوگی ”شعیب نے سوچتے ہوئے کہا۔

“شعیب میں کہہ رہا ہوں میرے ساتھ چلو اس طرف کچھ نہ کچھ تو ضرور ملے گا ہمیں”معتصم بےچینی سے بولا۔

“نہیں یار یہ پولیس کا کام ہے تم ہم پر چھوڑ دو ” شعیب نے اسے منع کیا ۔

“نہیں شعیب میں ہر حال میں خود جاؤنگا اور اُسکا ہر کالا دھندا دنیا کو دکھاؤں گا ”

“ٹھیک ہے پہلے ہم چلتے ہیں کچھ ملا تو بیک اپ بلوائیں گے”شعیب نے نکلتے ہوئے اے ایس پی حمدان آغا کو کال کر کے کچھ ہدایات دیں اور معتصم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر ہائیوے کی طرف بڑھے۔

——————————

اسد کمال اپنے گھر سے نکل کر پورچ میں گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا اور ساتھ فون پر بھی کسی سے بات کرتا جا رہا تھا دانش بھی گاڑی کے پاس ہی کھڑا تھا فون بند کرکے اس نے دانش کی طرف دیکھا ۔

“ہاں دانش مال پہنچا ؟”دانش سے پوچھتے ہوئے وہ موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا ۔

“جی سر کل رات ہی پہنچ گیا تھا پولیس کا خبری اپنا ہی بندہ ہے اس لیے کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا” دانش نے اُسےمطلع کیا۔

“بہت اچھے دانش”

“سر وہ زمین تو ہمیں نہیں مل رہی ہمیں اس پر قبضہ کر لینا چاہئے تھوڑا ڈاکیومنٹس کا ہیر پھیر کرینگے ” دانش نے مشورہ دیا۔

”بات اب زمین کی نہیں اب میں اس گھر کا داماد بن چکا ہوں تو اسکی کوئی خاص ضرورت نہیں اور اس معتصم کو تو مسل کے رکھ دوں گا بہت زبان چلتی ہے اسکی ”اسد کمال متنفر لہجے میں بولا ۔

اسد کمال کو رہ رہ کر مہرماہ اور معتصم کے اس دن کی گفتگو اور مہر ماہ کا اداس چہرہ یاد آرہا تھا اسد کمال گاڑی میں بیٹھا بھی تو یہی سوچ اسکے حواس پر طاری رہی جب ہم کسی کو اپنے حواس پر طاری کرتے ہیں تو چین و سکون تو مہمان سمجھو آنکھیں بند کیں تو مہرماہ کا سراپا اُسکی آنکھوں کے سامنے چھن سے سامنے آیا سفید لباس میں بالوں کا جوڑا باندھے بغیر دوپٹے کے اُسکے سامنے کھڑی تھی۔

”اسد میں تمہارے ہی انتظار میں تھی ”وہ ہاتھ بڑھا کر اُسے پکارتی ہے وہ آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑنا چاہتا ہے لیکن اسے چھو نہیں پاتا۔

”مہرماہ اب یہ دن کیسے کٹیں گے ”اسد کی آنکھیں کھلیں اور مہرماہ اسکی نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔

——————————-

شعیب اور معتصم ہائیوے والی زمین کی طرف پہنچ گئے ہائیوے سے کچے میں گاڑی اتاری دور دور تک کچھ بھی نہیں تھا بس بنجر زمین تھی اور چھوٹے پہاڑ نما ٹیلے تھے گاڑی سے اتر کر شعیب نے ڈرون کیمرا نکالا اور کافی دیر تک ڈرون چلتا رہا لیکن سب پہاڑ اور ریت کے ٹیلے کتنی دیر تلاش کی لیکن کوئی ویئر ہاؤس نہیں ملا وہ دونوں مایوس ہونے لگے تھے کہ معتصم نے سکرین کو زوم کیا ۔

“یہ کیا ہے دیکھو ” تھوڑا ڈرون کو قریب لے گئے تو وہ گاڑی کا کوئی پارٹ تھا شاید گرا تھا اور زوم کرنے پر انہیں گاڑیوں کے ٹائروں کے نشان بھی ملے پھر وہ دونوں اسی طرف گئے جہاں کچی سڑک تھی پراڈو گاڑی تھی اس لیے کچے میں چل رہی تھی کار ہوتی تو شاید کہیں رک جاتی جب اس چیز کی طرف پہنچے تو وہ کسی گاڑی کے ٹوٹے ہوئے بمپر کا کوئی حصہ لگتا تھا اور جہاں وہ پڑا تھا وہ ایک کچّی سڑک تھی اور سڑک کا سرا پہاڑی ٹیلوں کے پیچھے جاتا تھا۔

“چلو اس طرف یقیناً کچھ ملے گا” معتصم نے کہا اور شعیب نے گاڑی اس طرف ٹرن کی ریت کے ٹیلوں کے پیچھے پہنچ کر اُنہوں نے دیکھا دو بڑے بڑے وئیر ہاوس بنے تھے جیسےچار بڑی بڑی دیواروں کے اوپر ایک مخروطی چھت ہو اور سامنے والی دیوار پر بڑا سا گیٹ تھا جس سے ایک ٹرک تو اندر داخل ہو سکتا تھا باہر دو ٹرک کھڑے تھے انکےآگے دو بندے کرسی لگائے بیٹھے تھےایک بندہ موبائل پر لگا تھا دوسرا اونگھ رہا تھا تھا شاید انہیں یقین تھا کے یہاں کوئی آنے والا نہیں۔

“میں بیک اپ بلواتا ہوں جب تک وہ آئیں ہم اس ٹیلے کے پیچھے انتظار کرتے ہیں”پھر وہ ریت کے ٹیلے کے پیچھے جا کر چھپ گئے۔دوپہر کی کڑی دھوپ اُنکے چہروں کو دہکا رہی تھی معتصم ٹیلے کے اوپر چڑھا اور اس نے کچھ ویڈیوز بنائیں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد پولیس اور رینجرز کی گاڑیاں دور سے ہی نمایاں ہوئیں معتصم اور شعیب کو طمانیت کا احساس ہوا وئیر ہاوس کےسامنے قطار در قطار پولیس اور رینجرز کی گاڑیاں آکر کھڑی ہوئیں جس میں معتصم اور شعیب کی گاڑی بھی تھی شعیب نے معتصم کو بھی ایک بلٹ پروف جیکٹ پہنا دی اور ایک خود پہنا لاؤڈ اسپیکر پر ایک سپاہی اعلان کرنے لگا۔

“اس جگہ کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا ہے اس لیے اب سرینڈر کر دو ”تب ہی گولی چلنے کی آواز آئی گولی ویئر ہاؤس سے پہلے چلی اسکے بعد گولیاں برسنا شروع ہوئیں کہ پھر رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں پولیس نے آنسو گیس پھینکے پھر گولیوں کی سمت کا تعیّن کرکے ڈائریکٹ وہاں فائر کر دیا اندر شاید لوگ اتنے زیادہ نہیں تھے تب ہی فائرنگ رک گئی رینجرز اور پولیس دوڑتے ہوئے اندر گئے سب سے پہلے باہر کھڑے ٹرکوں کی تلاشی لی گئی جس سے کچھ برآمد نہیں ہوا شاید انہیں ابھی بھرا نہیں گیا تھا پھر دونوں ویئر ہاؤسز کے گیٹ توڑ کر وہ اندر داخل ہوئے اندر جا کر انہیں غیر قانونی اشیاء کی بھرمار ملی منشیات سے لے کر اسلحہ نقلی پاسپورٹس بنانے کا سامان بارودی مواد ہزاروں کلو کے حساب سے وہاں موجود تھا شعیب اور معتصم بھی وہاں آئے شعیب ویڈیوز بنانے لگا جبکہ اے ایس پی ہمدان وہاں پر پہلے سے موجود کام کرنے والوں کو دیکھ رہا تھا کہ اگر کوئی زخمی ہے یا بچا ہے ان سے کچھ اگلوا سکے تب ہی معتصم کی نظر ایک چھوٹے سے دروازے پر پڑی اس پر تالا لگا تھا اس نے ادھر ادھر نظریں گھمائیں کہ اس تالے کو توڑنے کے لیے کچھ ڈھونڈے ایک سریا ملا اس سے تالا توڑ کر جو اس نے دروازہ کھولا تو آگے کا منظر دیکھ کر اُسکے اوسان خطا ہو گئے۔

—————————————

اسد کمال اپنی گاڑی میں بیٹھا کہیں جا رہا تھا کہ دانش کی کال آئی اسنے کال ریسیو کی۔

“ہاں بولو دانش”۔

“سر غضب ہو گیا ”اسد کمال ایک دم الرٹ ہو کے بیٹھا۔

“کیا ہوا؟” اسد نے پریشانی سے پوچھا ۔

“سر پولیس نے ہمارے وئیر ہاوسز پر چھاپہ مارا ہے ہمارے آدمی مار گرائے ہیں اور سارا مال اپنے قبضے میں لیا ہے سر آپکو جلد از جلد ملک سے باہر جانا ہوگا پولیس کسی بھی وقت آپکے پیچھے آسکتی ہے ”دانش جلدی میں بول رہا تھا اور کافی گھبرایا ہوا تھا۔

“ٹھیک ہے انتظامات کروا دو ہمیں نکلنا ہوگا”اسد نے فون بند کرکے آنکھیں بند کر دیں “یہ کیا ہوگیا میری برسوں کی محنت ملیامیٹ ہو گئی” انگزائٹی کا ایک سخت دورہ اسکو پڑنے لگا تھا لیکن ابھی اُسے یہاں سے نکلنا تھا اور وہ بھی جلد از جلد بُرے کرموں کا پھل اُسے اِسی دنیا میں چکھنا تھا چاہے وہ کہیں بھی چھپ جاتا جو کاروبار اس نے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر اور ملک سے غداری کر کے کمائی تھی اب وہی اسکو لے ڈوبے گی لیکن کیا اسد کمال کا ڈوبنا اتنا آسان تھا ۔

———————————-

معتصم نے دروازہ کھولا تو نیچے سیڑھیاں تھیں اور دو بلب چھت سے لٹک رہے تھے اسکے نتھنو سے بدبو ٹکرائی اسنے بے اختیار ناک پر ہاتھ دیا اور ایک ایک سیڑھی اترتا نیچے آیا جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا اسکے اوسان خطا ہوتے جا رہے تھے سیڑھی ختم ہوتے ہی ایک راہ داری تھی جسکے اس طرف بھی جیل جیسے کمرے بنے تھے اس طرف بھی تقریباً آٹھ کمرے تھے جن میں سے دو خالی تھے اور باقی ہر کمرے میں ایک عورت تھی جو اسکو دیکھ کر چیخنے لگیں ہذیانی چیخیں موت کو آواز دیتی چیخیں اس نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا خوفناک منظر نہیں دیکھا تھا جب آخری سیل تک آیا وہاں ایک عورت بالکل خاموش بیٹھی زمین کو گھور رہی تھی۔

“بات سنو کون ہو تم؟”معتصم نے دوسروں سے بات نہیں کی کیونکہ وہ چیخ رہیں تھی وہ پنجوں کے بل بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا عورت کے لیے لہجہ بھی نرم تھا اور آواز بھی نئی تھی اس لیے گردن موڑ کر دیکھا پھر واپس فرش کو گھورنے لگی ۔

“میں ایک قیدی” معتصم یہاں وہاں چابیوں کے لئے دیکھنے لگا تاکہ یہ جیل کھول سکے پھر دوڑ کر شعیب اور باقی سب کو بھی واپس یہیں لے کر آیا ظلم کی انتہا دیکھ کر ہر کوئی حول اٹھا تھا ان چھ عورتوں میں ایک وہ بھی تھی جسکے بارے میں شعیب نے معتصم کو بتایا تھا ان سب کی ذہنی حالت بہت خراب تھی اور جسم ایسےتھےجیسے بس سانس لینے کے لئے زندہ رکھا گیا ہو۔

——————————-

ان چھ عورتوں کو نکال کر پولیس سیدھا ہسپتال لے گئی ساری دنیا میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی ہر چینل پر سوشیل میڈیا کے ہر پیج پر اسد کمال فرار ہو چکا تھا کہاں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا معتصم اور شعیب کی ویڈیوز جگہ جگہ وائرل ہو گئیں کہ انہوں نے اس سب لا قانونیت کا پردہ پاش کیا ہے ۔

ان چھ عورتوں میں ایک اسد کمال کی بہن تھی دوسری ایک وکیل تھی جو اس سب کی تحقیق کرتے اسکے ہتھے چڑھ گئی باقی چار کو اس نے پسند آنے پر اغوا کیا اور حبسِ بے جا میں رکھا شاید اسد کو جو عورت اچھی لگتی اسکے ساتھ یہی کرتا تھا ۔

اسد کمال کی بہن صبا کمال بیالیس سالہ عورت تھی وہ اصل میں اسد کی سوتیلی بہن تھی صبا کمال کے والد رکن الدین کمال جب اسد کی ماں زمرود کو بیاہ لائے تو اسد اس وقت ۵سال کا تھا اور صبا ۱۰ سال کی تھی صبا اُسے بہت پیار کرتی تھی کیونکہ اسد سے پہلے وہ ہر وقت اکیلی رہتی تھی اور اسد کے آجانے سے اُسے ساتھی مل گیا تھا اسد بھی اس سے گھل مل گیا تھا لیکن اسد کی ماں کو یہ گوارا نہیں تھا آہستہ آہستہ اسکی ذہن سازی کرتی رہی اسے اس حد تک صبا سے متنفر کر دیا کہ وہ صبا کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنے لگا اور اُسے ایک منفی انسان بنایا کہ پھر وہ خود بھی ساری زندگی ہاتھ ملتی اوپچھتاتی رہی رُکن الدین کمال کی وفات کے بعد ساری جائیداد صبا کے نام ہو گئی صبا نے بہت کوشش کی کہ ماں اور بھائی آکر اس کےساتھ رہیں لیکن اسد نے نفرت اور حسد میں اسے اپنے جال میں پھنسا کر گھر سے پکڑ کر زنداں میں ڈال دیا جس میں وہ پچھلے بارہ سال سے قید تھی معتصم صبا کی باتیں سن کر بہت خوفزدہ ہو گیا کہ شکر ہے صحیح وقت پر اس نے مہرماہ کو بچا لیا ورنہ آگے کا سوچ کر بھی اسکا دل بند ہونے لگتا۔

———————————

لاؤنج میں جتنے نفوس بیٹھے تھے ان سب کے منہ پر تالے لگے تھے اور آنکھوں میں وحشت تھی ہر کسی کی زبان خاموش مگر دل و دماغ میں شور تھا سوالات کی بوچھاڑ کوئی کسی سے کچھ بول نہیں پا رہا تھا بس نیوز کاسٹر کی آواز تھی جو سارے گھر میں گونج رہی تھی ۔

“مشہور بزنس مین اسد کمال کے ویئر ہاوسز پَر چھاپا مارا گیا جس میں دس سے زیادہ افراد غیر قانونی اسلحہ اور منشیات سمگل کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں یہ کاروائی ایس پی شعیب علی بخاری اور انکی ٹیم نے سر انجام دی ہے جس میں سندھ اسیمبلی کے ایم این اے جہانگیر سلطان اور مہرماہ سلطان کے چچا زاد معتصم سلیمان خان بھی شامل ہیں ” نیوز کاسٹر تمام تر تفصیلات سے آگاہ کر رہی تھی لیکن اس گھر کے تمام لوگوں کو سانپ سونگھ گیا تھا کل ہی تو اسی انسان کے ساتھ مہرماہ کا رشتہ طے کیا تھا ابّا نے صوفے کی پشت سے سر ٹکایا ۔

“پتہ نہیں کیوں مہر ماہ کے معاملے میں میں جلد بازی کر دیتا ہوں ” انکی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اماں اپنے آنسو پونچھنے لگیں جبکہ رُباب انہیں کندھے سے لگائے دلاسے دے رہے تھین صالِحہ الگ پریشان تھیں جہانگیر بھائی مُعتصم کو کال ملا رہے تھے لیکن اسکا فون نہیں لگ رہا تھا ۔

“اس خبیث کو گھر میں گھسانے سے پہلے دیکھ تو لیتے کہ یہ ہے کون ” جہانزیب صوفے پر بیٹھے ہاتھ مل رہے تھے اگر اسد سامنے ہوتا تو یقینا اسکا گالا دبوچ لیتا ۔

“شکل سے تو بڑا مہذب لگتا تھا ”جہانگیر بھائی نے کمزور سی آواز میں کہا ۔

“شکل تو اس شہریار کی بھی اچھی تھی امریکہ سے پڑھ کر آیا تھا ” جہانزیب نے طنزیہ کہا ۔

“اب بس کر دو تم لوگ معتصم کو کال لگاؤ کہاں ہے وہ ”ابّا پریشان تھے سب وہاں موجود تھے سوائے مہرماہ کے وہ اپنے کمرے میں تھی کمرے میں ایک پیلی لائٹ کی روشنی تھی آج اسکے دل میں اندھیرا تھا تو اسے فرق نہیں پڑتا کہ کمرے میں روشنی ہو یا اندھیرا لیکن ہر چیز بھلائے وہ جلے پیر کی بلی کی طرح کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی اور جھنجھلا کر فون میں کوئی نمبر ملا کر کان سے لگایا ۔

“میں پچھلے ایک گھنٹے میں آپکو تیسری مرتبہ کال کر رہی ہوں مجھے آئی جی صاحب سے بات کرنی ہے ابھی اسی وقت ” اسکی جھنجھلاہٹ غصے میں بدلنے لگی ۔

“میم میں سچ کہہ رہا ہوں آئی جی صاحب وہیں موقعِ واردات پر گئے ہیں اور وہاں نیٹورک کوریج نہ ہونے کے برابر ہے میں نے سیٹلائٹ فون میں ایک اہلکار سے بات کی ہے آپکے کزن بالکل خیر و عافیت سے ہیں ” آگے سے جو بھی بول رہا تھا وہ اسے مطمئن کرنے کی اپنی سی پوری کوشش میں تھا موبائل بیڈ پر پھینک کر وہ بیڈ پر ڈھے سی گئی ۔

“اف معتصم تم نے خود کو کس آگ میں جھونک دیا ” اس کے آنسو پلکوں کی باڑھ توڑ کر گرنے لگے اسے اسد کا ایک بار بھی خیال نہیں آیا فکر تھی تو صرف مُعتصم کی اور تب ہی اُسکا فون بجنے لگا اٹھا کر کان سے لگایا تو آئی جی صاحب تھے ۔

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *