قسط نمبر 8
“مہرماہ صاحبہ ہم نے سکیورٹی کے ساتھ آپکے کزن کو گھر بھیجا ہے آپ بے فکر رہیں ” انہوں نے بھی اسے تسلی دی ۔
”اور وہی سکیورٹی اب مجھے میرے گھر کے سامنے چاہئے جب تک اسد کمال پکڑا نہیں جاتا” فون بند کر کے زمین پر اپنے کمرے کی بالکونی کے سامنے بیٹھ گئی اور سر گھٹنوں پر رکھ دیا۔
———————————
ایک سکیورٹی ٹیم کے ساتھ اسے گھر پہنچایا گیا وہ جب گھر میں داخِل ہوا تو سب گھر والوں کی جان میں جان آئی سب کتنے پریشان تھے اسے دیکھ کر سکون کا سانس لیا ۔
“بیٹا کم سے کم ایک بار بات تو کرتے یوں اکیلے ہی چلے گئے ” ابّا اب بھی پریشان تھے جانتے تھے اسد فرار ہے اور اپنی دشمنی نکالنے وہ گھر میں کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے جس نے اپنی بہن کو زندہ درگور کیا تھا وہ کسی اور کو کیا چھوڑے گا ۔
“تایا ابّا اکیلا کہاں تھا شعیب تھا اسکی پوری ٹیم تھی” وہ ابّا کو مطمئن کرتے ہوئے بولا۔
تھوڑی دیر اور بیٹھ کر سب سے باتیں کیں پھر سب نے مل کر کھانا کھایا اس دوران مہرماہ وہاں موجود نہیں تھی ۔
“مہر ماہ کو بُلاؤ اجالا” اماں نے اسکی کمی محسوس کی تو کہا۔
“بلایا تھا بی بی جی وہ کہہ رہی ہیں بھوک نہیں ” اجالا کہہ کر کچن کے اندر چلی گئی اور اماں رنجیدہ ہو گئیں اب ان سے بھی کہاں کھایا جانا تھا معتصم جلدی جلدی دو نوالے کھا کر اٹھا اور اسکے کمرے کی طرف آیا دروازہ کھٹکھٹایا کوئی آواز نہیں آئی دوسری بار دستک دینے پر بھی کوئی جواب نہیں معتصم نے دروازہ کھولا تو کمرے میں ہلکی سی پیلے لیمپ کی روشنی تھی اور وہ خود فرش پر بالکونی کے سامنے گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی وہ آہستہ آہستہ چلتا آکر اسکے پاس بیٹھا اور خاموشی سے اسے تکنے لگا لیکن وہاں کوئی حرکت نہیں ہوئی ۔
“مہرو ” اس نے آواز دے لیکن مہرماہ نے پھر بھی جواب نہیں دیا ۔
“ایم سوری مہرو میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اسے دنیا کے سامنے لانا بھی ضروری تھا وہ تمہارے ساتھ ساتھ باقی گھر والوں کے لیے مصیبت بن سکتا تھا ” وہ اسکے سامنے بیٹھا اسے کہہ رہا تھا لیکن اسکے وجود میں اب بھی کوئی حرکت نہیں ہوئی ۔
“کچھ تو کہو مہرماہ کوئی شکایت کوئی گلہ کچھ تو !“وہ اب پریشان ہو گیا مہرماہ نے آہستہ سے سر اٹھایا اسکی آنکھیں گِریاو زاری سے سرخ ہو چکی تھیں اسکےچہرے پر کرب تھا ۔
“اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو؟ ”آواز مشکل سے نکلی بس سرگوشی تھی ۔
“اوہو مجھے کیا ہونا ہے اور ویسے بھی کیا فرق پڑتا ہے ”وہ سر جھٹک کر بالکونی سے باہر نظر آتے پورے چاند کو دیکھ کر بولا ۔
“ میں مر جاتی میں واقعی میں مر جاتی ” اور یہ بات معتصم کی سماعت پر گِراں گزری آنکھیں خیرہ ،عقل حیران اور دھڑکن رک گئی کبھی کبھی کسی کی محبت کا اقرار ان الفاظ میں نہیں ہوتا کہ مجھے تم سے محبت ہے کچھ لفظ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں بول کر سامنے اپنا مفہوم سمجھا دیتے ہیں ۔
“کیا کہا تم نے ؟“ اس نے دوبارہ پوچھا ۔
“تم کہتے ہو کیا فرق پڑتا ہے پتہ ہے کیا فرق پڑتا ہے یہ دل بند ہو جاتا ” اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا اور آنکھوں سے آنسو مسلسل بہتے جا رہے تھے پیلی روشنی میں اُسکی آنکھیں اور بھی خمار آلود لگ رہے تھیں اور یہ تو معتصم نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ مہرماہ کی ایسی نظریں تو وہ کبھی نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں پائے گا وہ تو وہیں خاکستر ہو جائے گا۔
“اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے ؟”اس نے مسکرا کر پوچھا اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا مہرماہ ایک لمحے کو چپ ہوئی پلکیں جھپکا کر اسے دیکھا ۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”اس نے بھنویں بھینچ کر پوچھا معتصم اس سوال پر حیران ہوا اور ہنسی بھی آئی ظاہر ہے ابھی وہ اپنی بے خیالی میں کی گئی بات ماننے والی تو تھی نہیں۔
“تمہارے لیے چاکلیٹ لایا ہوں کھانا نہیں کھایا ناں تم نے ” اپنی جیب سے ایک گولڈن ریپر والا چاکلیٹ نکال کر کھولا اور اسکی طرف بڑھایا ۔
“اب جاؤ یہاں سے ” اس نے چاکلیٹ پکڑتے ہوئے کہا ۔
“جا رہا ہوں تمہارے اس تاج محل سے ” مصنوعی خفگی سے کہتا وہ اٹھا ۔
“کتنے گندے ہیں تمہارے کپڑے” جب وہ اٹھا تو مہرماہ نے اپنی چاکلیٹ سے بائٹ لیتے ہوئے صبح کے اسکے ہلکے رنگ کے کپڑوں کو دیکھ کر کہا جو اس ساری واردات میں اچھے خاصے میلے ہو گئے تھے۔
“مہرماہ بیئنگ مہرماہ ”جواباً معتصم نے اسے خفگی سے گھور کر دیکھا جبکہ وہ جو پانچ منٹ پہلی والی مہرماہ سے بدل کر اصل والی مہرماہ بن چکی تھی اور سر جھٹکتا وہاں سے نکل گیا ۔
———————————-
صبح وہ نیند سے اٹھی تو ناشتہ کر کے سب سے پہلے ابّا کی اسٹڈی میں ان سے بات کرنے گئی اسٹڈی کے دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی اسٹڈی ایک بڑے کمرے جتنی تھی اور اسکے دو حصے تھے ایک طرف اسلامی کُتب کا حصہ تھا تو دوسری طرف دور حاضر کی تمام مشہور تصنیفات موجود تھیں مہرماہ کو ابّا کی اسٹڈی سے بہت لگاؤ تھا ابّا کے بعد وہ ہی یہاں زیادہ پائی جاتی تھی اسٹڈی کی دو آمنے سامنے کی دیواروں پر چھت تک شیلو بنے تھے ایک طرف کھڑکی کے سامنے پرانے لکڑی کے بنے صندوقچے تھے اور ایک طرف جہاں دروازہ تھا دو بڑے مانیٹر لگے تھے جن سے گھر کا سی سی ٹی وی بھی کنکٹ تھا ابّا ابھی بھی کچھ کتابیں اٹھا کر وہاں رکھے صوفے کی طرف جا رہے تھے مہرماہ کو دیکھ کر مسکرائے۔
“مہر بیٹا آؤ دیکھو تمہاری وہ کتاب مل گئی ”ابّا نے وہ موٹی کتاب اٹھا کر دکھائی جس پر “دی عریبیئن نائٹس ”لکھا تھا مہرماہ نے وہ کتاب اٹھا کر دیکھی کتنے جتن کیے تھے اس نے یہ کتاب حاصل کرنے کو لیکن خیر فی لحال تو وہ ابّا سے جو بات کرنے آئی تھی وہ تو کہہ دے ۔
“ابّا مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ”
ابّا چشمہ ناک پر رکھے اسے دیکھنے لگے۔
“جی بولو کیا بات کرنی ہے ”انہوں نے اپنے ہاتھ میں اٹھائی کتاب میز پر رکھ دی ۔
“ابّا میں استعفیٰ دینا چاہتی ہوں اب میں اور نہیں کرنا چاہتی سیاست میرے بس کی بات نہیں ”وہ بھی صوفے پر انکے مقابل بیٹھ کر بولی ۔
“لیکن آپ تو بہت اچھے سے نبھا رہی ہو کتنے کام کروائے تم نے میں تو پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس سیٹ پر بیٹھ کر تم نے جہانگیر سے زیادہ کام کیا ہے پھر کیا وجہ ہے؟” وہ حیران تھے لیکن شاید اندر سے جانتے بھی تھے کہ مہرماہ جیسی لڑکیاں یہاں شاید سروائیو نہ کر سکیں یہاں صحیح کام کے لیے جتنے جتن کرنے پڑتے تھے شاید وہ بیاں کرنا مشکل ہے ۔
“ابّا میں جتنا کرنا چاہتی تھی میں اصل میں کر نہیں سکی میں بچپن سے سوچتی تھی کہ اگر مجھے یہ سیٹ مل جائے تو کیا سے کیا کر دوں گی لیکن میں نہیں کر سکی میرے ہاتھوں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں اور اپنی منزل کو جاتے راستوں پر ایک دیوار بنا دی گئی جسے عبور نہیں کرسکی پھر میرا فائدہ کیا اور یہیں سے اسد کمال جیسا بندہ ہمارے گھر تک آپہنچا آگے پتہ نہیں کون کون آئے ”وہ بولی تو شاید اسکے لہجے میں شکست تھی۔
“ایک بار پھر سوچ لو ” ابّا نے کہا تو وہ مسکرائی۔
“نہیں ابّا میں سوچ چکی ہوں آپ جہانگیر بھائی سے کہہ کر میرا استعفیٰ بھجوا دیں“ اس نے ایک لفافہ میز پر ابّا کے سامنے رکھا۔
———————————-
مہرماہ نے چونکہ استعفیٰ دے دیا تھا اس لیے وہ آرام سے ناشتے کے بعد لاؤنج کے صوفے پر بیٹھ کر اپنے آرکیٹیکچرل سٹوڈیو ڈیزائن کرنے لگی کیوں کہ اسکا اب یہی ارادہ تھا اپنا اسٹوڈیو بنا کر اس ہی میں کام کرے گی بیٹھے بیٹھے اچانک گزرے چند دنوں کے واقعات اسکے دل کو رنجیدہ کرنے لگے اسد کمال کا اسکی زندگی میں آنا اور معتصم کی اسکی ساتھ دشمنی لیکن پھر سر جھٹک کر وہ اپنےکام میں مگن ہو گئی جتنا زیادہ یاد کرے گی اتنا ہی اسکا ذہنی سکون داؤ پر لگے گا لیکن اسکے سوچوں کے جھٹکنے سے واقعی تو وہ زندگی سے چلے نہیں جاتے ناں۔
تب ہی اسکا فون بجنے لگا ذہن لیپ ٹاپ کی طرف تھا فون اٹھا کر سکرین دیکھا ۔
”anonymous calling“ اس نے کال کاٹ دی اور فون کو دیکھنے لگی کہ یہ کون ہو سکتا ہے اس نے تو اس نمبر سے کبھی کوئی نام سیو نہیں کیا تبھی میسج ٹون بجی اس نے میسج کھولا۔
” میرے رقیب کو تمہاری محبت میں دیا گیا ایک نذرانہ ”سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ پہچان گئی یہ میسج کس کا ہے وہ پریشانی میں صوفے سے اٹھ گئی اسد کمال یہیں ہے اسکے آس پاس پولیس اسے ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ مہرماہ کے آس پاس تھا بہت قریب اس نے میسج دوبارہ دیکھا ۔
صاف ظاہر تھا وہ رقیب معتصم کو ہی کہہ رہا تھا وہ اسد کمال معتصم کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے گھبراہٹ کے مارے اسکا دل ڈوبنے لگا تھا کیا کرے کچھ سمجھ نہیں آیا کسے بتائے وہ اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھی لیکن کیا دیکھتی ہے معتصم سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے آیا اور باہر کی طرف جانے لگا تھا کہ مہرماہ نے اُسے روکا۔
”معتصم کہاں جا رہے ہو ؟“ مہرماہ اسے اس میسج کے بارے میں بتانا چاہتی تھی۔
“ مہرماہ میرے کیفے پر کسی نے فائرنگ کر دی ہے وہیں جا رہا ہوں المیر جب اٹھ جائے تو اسے کہنا کہ سیدھا کیفے آئے”معتصم کہتے ہی نکل گیا لیکن مہرماہ ایک مجسمے کی طرح کتنی دیر وہیں کھڑی رہی وہ ہوش میں تب آئی جب میسیج کی ٹون بجی اس نے دیکھا تو نوٹیفکیشن بار میں anonymous کا میسیج چمک رہا تھا ۔
“امید کرتا ہوں پسند آگیا ہوگا” میسیج دیکھ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں آئی یہ سب اسد کمال کر رہا ہے اور مہرماہ کے لیے کر رہا ہے اور معتصم بھی اسد کے پیچھے مہرماہ کی وجہ سے پڑا اور اب وہ معتصم کی جان کے در پے ہے ۔
“یا اللّٰہ معتصم کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا ”وہ اب رونے لگی تھی پھر وہ المیر کے کمرے میں دستک دینے لگی تاکہ اسے معتصم کے پاس بھیجےالمیر بھی اٹھ کر فوراً سے بیشتر وہاں پہنچا صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے کیفے خالی تھا صرف ایک گارڈ دروازے پر کھڑا تھا وہ بھی خوش قسمتی سے اس وقت وہاں سے تھوڑی دور کھڑا کسی گاڑی والے سے بحث میں پڑا تھا کہ یہاں گاڑی کیوں کھڑی کی تبھی دو موٹرسائیکل سوار آئے فائر کر کے کسی گلی میں رو پوش ہو گئے پولیس کے آتے ہی معتصم بھی وہاں پہنچ گیا سامنے والی گلاس وال ساری تباہ ہو گئی تھی لیکن اندر کوئی نقصان نہیں ہوا تھا شام تک نیا گلاس وال لگوا لیا تھا اور شعیب بھی آگیا تھا اس نے اپنا شک اسد کمال پر ظاہر کیا ۔
”لیکن وہ تو فرار ہے پھر وہ کیسے حملہ کر سکتا ہے ”معتصم نے تشویش سے پوچھا۔
“یار ایسے لوگ اپنے پالتو رکھتے ہیں اِسی وجہ سےکہہ رہا ہوں اور ظاہر ہے کہ اُس نے تمہیں نیوز اور سوشل میڈیا میں پولیس کے ساتھ دیکھ لیا تھا تو اپنے بندوں کو بھیجا ہوگا” شعیب نے کیفے کا معائنہ کرتے ہوئے اس سے کہا اپنے۔
“گھر کے سامنے سے سیکورٹی مت ہٹوانا وہ دوبارہ بھی کوئی حملہ کر سکتا ہے ” شعیب نے اسے ہدایت دی لیکن اسکا دماغ کسی اور سوچ کی طرف تھا کہ وہ دوبارہ کیا کر سکتا ہے ۔
————————————
اگلے دو دن وہ کیفے کے کاموں میں اتنا الجھا کہ صبح جاتا اور رات کو واپس آتا جہانزیب اور رُباب نے بھی انہی دنوں جانا تھا اُسے پتہ ہی نہ چلا وہ کب چلے گئے آج وہ تھوڑی دیر سے اٹھا تھا ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو کوئی نہیں تھا اجالا اسکا ناشتہ لے آئی اماں اور صالحہ لاؤنج کے صوفوں پر بیٹھی کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھیں اور تپ کر کوئی تبصرا کر رہی تھیں جب معتصم نے انہیں پکارا۔
“اماں مہرماہ کہاں ہے نظر ہی نہیں آرہی؟”ناشتہ ختم کر کے وہ بھی آکر انکے ساتھ بیٹھا آمنہ بیگم اور صالحہ میں خاموش نظروں کا تبادلہ ہوا لیکن کوئی کچھ نہیں بولا خاموشی سے ڈرامہ دیکھنے لگے ۔
“امی مہرماہ کہاں ہے؟” اب کی بار اس نے صالحہ سے پوچھا۔
“میں ذرا اجالا کو دیکھ لوں ”امی نظریں چراتی اٹھ گئیں ۔
جب دونوں نے کوئی جواب نہ دیا تو معتصم کو کوئی اَن ہونی احساس ہوا۔
“اماں مہرماہ کہاں ہے ؟”اب کی بار اسکا لہجہ عجیب سی تشویش لیے ہوئے تھا اماں سے اب بھی کوئی جواب نہ بن پایا تو وہ بھاگتا ہوا اسکے کمرے تک گیا دروازہ دھڑدھڑایا۔
“مہرماہ دروازہ کھولو مجھے تم سے بات کرنی ہے ” خوف ،اندیشے ڈر کیا نہیں تھا اسکے لہجے میں دو تین دفعہ دستک دی کوئی جواب ندارد۔
“معتصم وہ چلی گئی ہے”وہ پیچھے مڑا تو اُنزِلا کھڑی تھی ۔
“کہاں چلی گئی ؟”وہ بولا تو اسکے لہجے میں زمانوں کا کرب تھا اپنی محبت اپنی چاہت کھو دینے کا کرب۔
“وہ جہانزیب بھائی کے ساتھ جاپان چلی گئی ” اور معتصم کو لگا وہ زمین پر ڈھے جائیگا اور کبھی اٹھ نہیں پائیگا اُنزِلا نےاسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھیں اسے بہت دکھ ہوا “لیکن کیوں؟”معتصم کا دل ڈوبنے لگا۔
“جس دن کیفے پر فائرنگ ہوئی تھی اُسے اسد کا میسج ملا تھا وہ تمہاری زندگی کے لیے بہت ڈر گئی تھی اس لیے تم سے دورچلی گئی”۔
معتصم واپس مڑا اور دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا بتیاں جلا کر وہ اندر آیا وڈن فلور پر چلتا ایک طرف کاؤچ رکھا تھا ایک طرف اسٹڈی ٹیبل اسکی کتابیں ،ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے دنیا جہاں کی سکن کیئر کا سامان پرفیوم کی بوتلیں اسکے ہیئر برش ڈریسنگ ٹیبل کے پاس دیوار پر ایک شیلو لگی تھی باریک اور لمبا سا اس میں کتابیں اور کچھ ڈیکوریشن کا سامان رکھا ہوا تھا چھوٹے چھوٹے ڈیکوریشن کا سامان جو وہ باہر جا کر اپنے ساتھ لاتی تھی وہ بیڈ پر بیٹھ گیا اسکا دل بہت مغموم ہوگیا تھا بالکل خالی اُسکی مہرماہ اُسے چھوڑ کر جا چکی تھی کتنی ہی دیر وہ بے مقصد مہرماہ کے کمرے میں بیٹھا اسکی چیزیں دیکھتا رہا اپنی آخری ملاقات اس سے یاد کرنے لگا ۔
“میں مر جاتی ”مہرماہ کے لفظوں کی بازگشت اسکے کانوں میں گونج رہی تھی۔
“تم کہتے ہو کیا فرق پڑتا ہے پتہ ہے کیا فرق پڑتا ہے یہ دل بند ہو جاتا ” ۔
“اوہ مہرماہ تم کیوں چلی گئیں ” اسکے دل کی ویرانی کسی طور قابو میں نہیں آرہی تھی
اداسیاں اسکے دل میں گھلتی جا رہی تھیں اور وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس سب میں اسکی غلطی کہاں تھی اور مہرماہ خود کو کیوں قصور وار سمجھ رہی تھی ۔
————————————-
ٹوکیو میں آئےاسے یہ تیسرا دن تھا وہ دو دن سے جب سے ائیرپورٹ سے جہانزیب اور رباب کے گھر آئی تھی کہیں باہر نہیں گئی تھی رُباب اور اسکی اچھی بنتی تھی لیکن وہ اس سے کچھ بھی کہنے سے قاصر تھی لیکن رُباب اس گھر میں رہتی تھی تو اتنا تو اُسے معلوم تھا کہ معتصم مہرماہ کو کتنا پسند کرتا ہے وہ صبح جہانزیب اور بچوں کے جانے کے بعد آکر مہرماہ کے پاس بیٹھی ایک کپ چائے اسے بھی بنا کر دی ایک خود بھی لے آئی ۔
“مہرماہ تم دو دن سے گھر پر ہو چلو کہیں باہر چلتے ہیں” رُباب اُسے وہ فیوچرسٹک شہر دکھانا چاہتی تھی جسکی ساری دنیا میں دھوم ہے لیکن مہرماہ اتنی بجھی ہوئی تھی کہ اُسے اس فیوچرسٹک شہر سے کوئی غرض نہ تھی نہ کوئی دلچسپی اب تو وہ اور بھی زیادہ خود میں سمٹ گئی تھی۔
“نہیں رُباب دل نہیں چاہ رہا ”رُباب نے خاموشی سے اُسے دیکھا پھر اُسکا ہاتھ پکڑا ۔
“تم اس دل کا علاج کر لو مہرماہ آگے زندگی مشکل ہو جائے گی معتصم بہت اچھا لڑکا ہے بہت مہربان ہے اور سب سے بڑی بات تم سے محبت کرتا ہے تم اُسے کوئی پوزیٹو جواب دے دو ” رباب نے اسکا ہاتھ پکڑے اسے بہت پیار سے سمجھانا چاہا۔
“رُباب وہ عمر میں چھوٹا ہے ایک دو سال نہیں پورے چھ سال ”وہ بس منمنائی کیونکہ ابھی تک کسی نے بھی جو عقل رکھتا ہے اس عذر کو قبول نہیں کیا تھا۔
“تو اس سے کیا ہوتا ہے” رباب نے لاپرواہی سے کہا۔
“اور وہ اسد کمال جو میری وجہ سے اسکا دشمن بن گیا ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں حسد میں اُسے کچھ کر نہ دے میں اُسکی زندگی کے لیے ڈرتی ہوں اپنی بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا ہے ”اسکے لہجے میں فکریں بے تحاشا تھیں۔
“مہرماہ اسد کمال کِسی کو زندگی موت دینے والا کون ہے وہ تو صرف اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کا اختیار ہے اور رہا اسد کمال اسکو اللّٰہ اسکے کرنی کی سزا دے کر رہے گا تم بس اس سے معتصم کے لیے دعائیں مانگو وہ دعائیں ضرور سنتا ہے اور قبول کرتا ہے بس یقین شرط ہے ” رُباب اُسکی ذہن سازی کر رہی تھی ۔
“میں بہت کنفیوز ہوں رُباب اگر میں اس سے شادی کر لوں اور شادی کے کچھ سال بعد پھر جب میری جوانی ڈھلے گی تو وہ تو اپنے فیصلے پر پچھتائے گا ناں ”مہرماہ کی آنکھوں سے اب آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے تھے ۔
“کیا تم اپنے ایج ڈیفرنس کی وجہ سے انسیکیور ہو ؟ ”جو بات مہرماہ کھل کر نہیں کہہ پا رہی تھی رُباب نے اس سے پوچھی ۔
“ہاں ہوں ان سیکیور ” ۔
“یہ اسد کمال تو ایج میں تم سے بڑا تھا دیکھ لی اُسکی حرکتیں؟تم اپنی سوچ کے مطابق اُسے جج نہیں کر سکتی باقی رہی ایج کی بات کچھ عورتیں ایج میں کم ہونے کے باوجود یہ چیزیں فیس کرتی ہیں پوسٹ پارٹم پیریڈ کے دوران انکے شوہر انہیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں یہ تو مرد کے دل اور محبت پر ڈیپینڈ کرتا ہے اسکی ایج پر نہیں اور چھ سال کوئی اتنا بڑا فگر نہیں مہرماہ تم بھی ملینیئل ہو وہ بھی ملینیئل ہے ”رُباب کہہ کر چپ ہوئی اس نے سوچنے کو آنکھیں بند کیں۔
“تم ایک میچور لڑکی ہو آئی بیلیو تم اسے سنبھال لو گی ”رُباب کی ذہن سازی کا اس پر اَثر تو ہوا لیکن مہرماہ ابھی بھی پوری طرح اپنی ذہن کو گریہیں نہیں کھول پائی تو اس نے رُباب سے کہا۔
“رُباب مجھے کہیں جانا ہے میری ایک دوست وہاں رہتی ہے میں کچھ دن وہاں رہنا چاہتی ہوں شاید میرا ذہن کلیئر ہو جائے ”مہرماہ نے رُباب کو اطلاع دی ۔
“جہانزیب کو آنے دو پھر چلتے ہیں ”
“ نہیں رُباب مجھے ابھی تھوڑی دیر میں نکلنا ہے مجھےیقین ہے تم جہانزیب بھائی کو سمجھا لو گی ” رُباب نے ذرا اسکے جانے پر احتجاج کیا لیکن پھر مہرماہ کے آگے مجبوراً چپ کر گئی اور بس سر ہلا کر رہ گئی پھرمہرماہ تیار ہونے اٹھ کھڑی ہوئی اسے کِیوٹو کی فلائٹ پکڑنی تھی۔
——————————————
کیوٹو ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی سامان لے کر ائیرپورٹ سے باہر نکلی پہلے ایک حلال ریسٹورنٹ گئی جو اسنے اپنے پچھلے ٹرپ پر ڈھونڈا تھا وہاں اس نے کھانا کھایا اور راستے کے لیے پیک بھی کروایا کہ راستے میں اُسے حلال فوڈ شاید ملے نہ ملے۔
شام ۵ بجے ٹرین کیوٹو سے شیراکاوگو روانہ ہونی تھی اس لیے اسے ٹرین اسٹیشن پہنچنا تھا اسکے پاس ٹرین پاس نہیں تھا اس لیے وہ پہلے پاس بنوانے گئی اس نے لمبی سی کالی سکرٹ کے اوپر سفید پورے بازوؤں والی شرٹ پہنی تھی اور سر پر سٹول بیگ پیک کندھوں پر لٹکائے اپنا ٹرالی بیگ گھسیٹتے وہ ویٹنگ ایریا میں آکر بیٹھی کیوٹو بھی بہت خوبصورت اور صاف ستھرا تھا ٹرین اسٹیشن اتنا جدید اور صاف ستھرا تھا کہ کسی سائنس فکشن فلم کے سیٹ کا گمان گزرتا تھا اور سرسبز بھی جاپانی لوگ اپنے کام سے کام رکھنے والے بہت ہی خاموش لوگ تھے اتنے بڑے ٹرین اسٹیشن میں بھی سب خاموشی سے بیٹھے تھے اپنی موبائلوں اور لیپ ٹاپ کے ساتھ مگن تھے جو واحد لوگ شور کر رہے تھے و کچھ گورے سیاح تھے اسے شدید ناگوار گزرے پتہ نہیں کس چیز کا گھمنڈ ہے خیرپانچ بج گئے ٹرین آگئی وہ ٹرین میں سوار ہوئی اور ٹرین اپنی منزل کو رواں دواں تھی کتنے ہی خوبصورت نظروں کو خیرا کرنے والے منظر آنکھوں کے سامنے سے گزرے۔
“اگر وہ ساتھ ہوتا تو ۔۔۔۔” بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس اُسکے ہونٹوں سے خارج ہوئی خود تو اس سے دور چلی آئی تھی اسکی یادوں کو خود سے کیسی دور کرتی کبھی کبھی عورت زندگی میں بس ایک مہربان کندھا چاہتی ہے جس پر سر رکھ کے اپنی تھکن اتار سکے لیکن شاید یہ مہرماہ کے نصیب میں نہیں تھا ۔
۳ گھنٹے بعد ہی وہ شیراکاوہ پہنچ گئی تھی ٹرین سے اتری تو مریم میی اسکے انتظار میں تھی مریم میی ملائشیا میں اسکے ساتھ پڑھتی تھی وہ ایک مسلم جاپانی لڑکی تھی ان دونوں کی اچھی خاصی دوستی تھی وہ ایک پستہ قد جاپانی نقوش والی ایک پیاری اور سادہ سی لڑکی تھی مریم میی کا جاپان نامہ بالخصوص شیرکواگو نامہ نہ ختم ہوتا نہ تھمتا اسلام جاپان میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور شیراکاوا میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی کمیونٹی تھی مریم کا تعلق اِسی کمیونٹی سے تھا ۔
جب وہ ٹرین سے اتری تو اسٹیشن کے نام پر ایک سفید چھوٹی عمارت تھی جسکی لکڑی کی مخروطی چھت تھی اور آس پاس ہلکے گلابی اور ہلکے فیروزی پھولوں سے سڑک کے کنارے لدے پڑے تھے اسٹیشن سے نکل کر آئے تو مریم اپنی چھوٹی سی کار لائی تھی جو پیلے رنگ کی تھی اور اس میں صرف دو لوگ بیٹھ سکتے تھے اسکا بیگ سیٹ کے پیچھے رکھ کر وہ دونوں گھر کی طرف روانہ ہوئے شیراکاوگو بہت خوبصورت ہے ہر طرف ہریالی سڑک کے دونوں اطراف رنگین خوبصورت پھول پہاڑی علاقہ تھا اونچی نیچی پہاڑیوں کے بیچ میں کھیت اور سر سبز پہاڑ اور سڑک کے ساتھ بہتا پانی گھر لکڑی کے بنے تھے جن کی مخروطی چھتیں گھاس سے بنائے جاتی لیکن ہوتی بہت مضبوط تھیں آبادی کم تھی یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا مریم گاڑی چلاتی نسبتاً پہاڑ کے ایک طرف بنے ایک دو منزلہ خوبصورت سے گھر کے سامنے آکر رکی جسکی بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں اور وہ ایک تکون جیسے بنا گھر تھا رات ہو چکی تھی اس نے اور مریم نے مل کر سامان نکالا ساتھ اندر استقبال میں مریم کی ماں ماریہ میی کھڑی تھیں مہرماہ سے بہت تپاک سے ملیں سکرٹ کےاوپر کالر والی شرٹ اور سر کو سکارف سے ڈھکے وہ ایک بہت نرم مزاج خاتون تھیں بہت ہی دوستانہ ماحول میں کھانا کھایا گیا اس نے رُباب کو کال کر کے اپنے پہنچنے کی اطلاع دی وہ بہت تھکی ہوئی تھی اس لیے اسے اسکا کمرہ دکھایا گیا اور کمرے میں آکر سو گئی آنکھ ایسے لگی کہ صبح ہی جا کر آنکھ کھلی۔
———————————-
صبح ہوئی تو اس نے مل کر مریم اور اسکی ماں کے ساتھ ناشتہ بنایا ناشتے میں اسٹیم کیے ہوئے چاول اسٹیم کی ہوئی مچھلی اسکے ساتھ ہرے سبزیوں کا سوپ اور چاول کے اوپر فرائی کیے ہوئے انڈے رکھے تھے اور ساتھ مکس ھرب ٹی جس میں سبز چائے کے پتّوں کے ساتھ جڑی بوٹیاں ڈال کر ابالی تھیں جو تھکن دور کرنے کے لیے جاپانی لوگ لازماً لیتے تھے ناشتہ کر کے مریم اور مہرماہ تیار ہو کر پاس ہی ایک ندی بہتی تھی وہاں چلے گئے کتنی ہی دیر وہ دونوں پیر پانی میں ڈالے بیٹھی یونیورسٹی کی باتیں کرتی رہیں مہرماہ اپنی سکیچ بک لائی تھی کہ ان خوبصورت مناظر کے سکیچ بنائے وہ ایک بہت اچھی سکیچ آرٹسٹ تھی مریم اسکی بنائی ہوئی سکیچ دیکھ رہی تھی جب ایک سکیچ کھول کے دیکھا ۔
