Episode 2 - Ham Ahle Dil Wo Mehrma By Gulmira Rustum

All Episodes
ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

Episode 2

ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

قسط نمبر 2

‘‘ ہاں لیکن بہت ایڈوانس ٹیکنالوجی ہے دیکھو اس میں ایک یہ فیچر بھی ہے تمہارا واچ میرے واچ سے سِنک ہو سکتا ہے میں کہیں بھی جاؤں یا تم کہیں بھی چلے جاؤ یہ ایک دوسرے کی لوکیشن ٹریس کر سکتے ہیں ’’ مہرماہ نے ڈیوائس سنک کر کے دکھایا۔
‘‘واؤ امپریسیو’’اُسنے مٹھی بند کرکے کلائی اسے دکھائی‘‘ امی کی جاسوسی بھی ہو جائے گی’’ مہرماہ ہنس دی۔
‘‘جاسوسی کیسی انسان اپنوں کی فکر کرتا ہے تبھی پریشان رہتا ہے کہ کہیں انہیں کچھ ہو نہ جائے کہیں وہ ہم سے دور نہ چلے جائیں’’مہرماہنے کندھے اُچکّا کر کہا۔
‘‘مہر ماہ کیا تم نے کبھی کسی کا انتظار کیا ہے’’کہنیاں ٹیبل پر رکھے ہاتھ باہم ملائے اُس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
‘‘ہاں شاید ’’ مہرماہ نے بہت ہی دھیمی آواز میں سمندر کی لہروں کو دیکھتے ہوئے کہا جہاں کسی بھی وقت بادل برسنے کو تیار تھے دور کہیں بجلی بھی چمکی۔
‘‘کس کا’’ اُس نے پوچھا۔
اُسنے اپنی نظروں کا رخ معتصم کی طرف موڑا وہ کچھ کہنے لگی تھی جب معتصم کے فون کی بیل بجی اسنے کال کاٹ دی اور مہرماہ کی طرف متوجہ ہوا لیکن کال دوبارہ آنے لگی
‘‘بات کرلو’’ مہرماہ نے آنکھوں سے فون کی طرف اشارہ کیا۔
مجبوراً اُسنے فون اٹھاکر کان سے لگایا لیکن دوسری طرف کی آواز سن کر اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔
‘‘دانش صاحب میں آپکو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ مجھے نہیں بیچنی وہ زمین اس کے بعد امید کرتا ہوں آپکی کال نہیں آئیگی’’ کھٹ سے کال بند کر دی۔

‘‘کون تھا؟’’ مہرماہ نے اُسے حیرت دیکھتے ہوئے پوچھا ہے۔ ایک موٹے دماغ کا آدمی کہتا ہے اپنی ہائیوے والی زمین بیچُو اتنی بار منع کیا ہے پھر بھی پیچھے ہی پڑھ گیا ہے‘‘ویٹر کھانا سرو کرنے لگا ہی تھا ہلکی بارش شروع ہوگئی بارش میں بیٹھے وہ دونوں شیشے کی دیوار کے پار سے دکھتے ہلکی ہلکی باتیں کرتے جارہے تھے۔
———————————
وہ اپنے آفس میں کھڑا سگار کے کش لے کر دھوئیں کے مرغولے ہوا میں چھوڑتا جارہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی اور کوئی آکر اسکے پیچھے ہاتھ بندھے کھڑا ہوا۔

‘‘سر میں نے بات کی معتصم سلیمان خان سے بات سننے سے بھی منع کر دیا اُس نے وہ ادب سے اپنی سنا کر چپ ہو گیا۔’’
‘‘وہ زمین ہمارے لئے بہت ضروری ہے دانش ہمارے سارے ویئر ہاؤسز کاراستہ وہیں سے گزرتا ہے اگر کسی نیشنل سیکورٹی کے اداروں کوکچھ پتہ چلا تو سب چوپٹ ہو سکتا ہے’’ اسنے دبے غصے سے دانش کو جھڑکا۔
‘‘سر ایک راستہ ہے جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیرھی کرنی پڑتی ہے’’دانش نے سفاکی سے کہا۔
‘‘نہیں نہیں سیاسی فیملی کے ساتھ ایکسپوژر کا رسک بہت زیادہ ہے’’ اُسنے سگار ولا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔
‘‘نہیں سر وہ سب میں جانتا ہوں سلطان خان کی ایک بیٹی ہے غیر شادی شدہ ایم پی اے ہے آپ اگر اُسے قابو کریں تو کام آسان ہو سکتا ہے’’ دانش نے گرم جوشی سے مسئلے کا حل بتایا اور اپنا لیپ ٹاپ کھول کر دکھایا۔
‘‘یہ دیکھیں سر اُسکی تصویر’’ دانش نے ماؤس پیڈ پر ٹیپ کر کے ایک تصویر کھولی سِگار کا کش لیتا ہاتھ رکا دھواں چھوٹا تو وہ چہرہ نظر آیا جس پر سے نظریں ہٹانا مشکل ہو گیا۔ تصویر میں مہرماہ سلطان خان سینٹ ہاؤس میں بیٹھی مائک میں کچھ بول رہی تھی کچھ دیر خاموشی سے وہ اسکی تصویر دیکھتا رہا۔
‘‘انتظام کر لو پھر ملاقات کا’’ اُس نے آنکھیں موند کر چیئر پر سر ٹکا کر کہا ۔
‘‘اوکے سر ہوجائیگا’’ دانش تابعداری سے کہتا نکل گیا۔

———————————

رات وہ اپنے کمرے میں بیڈ پربیٹھی لیپ ٹاپ میں اپنے جاپان وزٹ کی تفصیلات کاریکارڈ بنا رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھتے ‘‘آجاؤ’’ کہا۔
‘‘کیسی ہو بہنا’’ المیر شوخی سے کہتا اندر داخل ہوا۔
‘‘ٹھیک تم کیسے ہو’’ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر بولی جانتی تھی المیر صرف اسے ستانے کمرے میں آیا ہے یا پھر اپنی منگیتر کا کوئی دُکھڑا سنانے آیا ہے۔
‘‘جہانگیر بھائی نے کہا کہ صبح تیار ہوجاناسی ایم آفس جانا ہے’’ صوفے پر گرنے کےانداز میں بیٹھتے ہوئے اس نے اطلاع دی۔
‘‘اوکے کتنے بجے تک’’ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اس نے پوچھا۔
‘‘دس بجے تک’’
‘‘اُنزِلا کیسی ہے’’
‘‘ناراض ہے مجھ سے کہتی ہے مجھے اُسکی فکر نہیں ’’ المیر غمگین ہوا۔
‘‘غلطی بھی تمہاری ہوگی’’ مہرماہ نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
‘‘ اے شباشے ہمیں دشمنوں کی کیا ضرورت جب آپ جیسے دوست ہوں’’ سر جھٹک کر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔
‘‘اچھا بتاؤ ہوا کیا ؟’’ لیپ ٹاپ بند کرکے مکمل اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔

‘‘ہونا کیا ہے دوپہر بارش ہو رہی تھی اسنے کال کی کہ میرا دل بارش دیکھنے کو کر رہاہے میں نے کہا ٹھیک ہے باہر جاکر دیکھ لو بارش تب سے ہی موڈ آف ہے نہ کال اٹھا رہی ہے نہ میسج کا ریپلائی دےرہی ہے ’’ المیر نے اپنا دکھڑا سنایا۔
‘‘یہی حرکتیں ہوتی ہیں مردوں کی پھر کہتے ہو عُورتیں ہر وقت ناراض رہتی ہیں’’ اُس نے اٹھ کر لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ملامتی نظروں سے اُسے دیکھا المیر نے خفگی سے سر جھٹکا۔ ‘‘اگر اسکا دل کر رہا تھا بارش دیکھنے کا تو وہ تمہارے ساتھ دیکھنا چاہتی تھی تمہیں جانا چاہئے تھا’’ مہرماہ نے اُسے لتاڑا ۔
‘‘ خدا کو مانو مہرماہ اگر میں چلا بھی جاتا تو کراچی کی بارش میں ٹریفک میں پھنس جاتا اور اوپر سے اسکے جلّاد دادا ہر وقت باہر کرسی لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں ان سے کون نبٹے؟’’
المیر روہانسا ہوگیا۔
‘‘اوکے کل اگر میں سی ایم آفس سے جلدی فارغ ہوئی تو جا کر شاپنگ کے بہانے اُسے منانے چلے جائینگے ’’ مہرماہ نے مشورہ دیا۔
‘‘اوہہ! بہنا تُسّی گریٹ ہو’’ المیر صوفہ سے اچھل کر کھڑا ہوا اور جھک کر اداب کرنے کے بعد اسکے کمرے سے نکلتے وقت ساری بتیاں بُھجا کر سردی میں پنکھا آن کر کے دروازہ بند کر کے بھاگ گیا۔
‘‘اُف اللہ یہ بدتمیز کب سُدھریگا’’ جھنجلاتے اُس نے جا کر پنکھا بند کر کے ساری لائٹس آن کی اور صبح کے لیے کپڑے اور عبایا سیٹ کرنے لگی۔

———————————
صبح تیار ہو کر اپنا کالا کافتان عبایہ اور سر پر کالا اسٹول لیے اپنے کل والےکالے بلاک ہیلز پہنے وہ جہانگیر بھائی کی طرف گئی جہاں وہ پہلے ہی گاڑی کے سامنے کھڑے اسکا انتظار کر رہے تھے اور سمیرا بھابھی بھی ساتھ ہی کھڑی نظر آئیں اُسے دیکھتے ہی جہانگیر بھائی اُسکی طرف بڑھے اور سر پر ہاتھ رکھ کر بوسہ دیا
‘‘آگئی ہماری بِٹیا’’ بہت پیار سے جہانگیر بھائی نے کہا اور ساتھ کھڑی سمیرا بھابھی سے وہ گلے ملی۔
‘‘کیسی ہیں بھابھی آپ’’ مہرماہ نےپیار سے پوچھا ۔

‘‘ٹھیک ہوں میری جان تم کیسی ہو دو دن ہو گئے تمہیں آئے ہوئے لیکن میں آ ہی نہ سکی تمہارے بھائی کی طبیعت خراب اور میری بھی سوچا آج مل لوں’’ سمیرا بھابھی نے نہ آنے کا جواز پیش کیا کیونکہ انکے پورشن علیحدہ تھے اس لیے روز سامنا نہیں ہوتا تھا خان ہاؤس ۴ کنال زمین پر بنا کے بہت ہی خوبصورت گھر تھا وکٹورین طرز پر بنا انگریزی حرف ایل کی طرح بنایا گیا تھا جس ایک حصہ جو نسبتاً چھوٹا تھا جہانگیر بھائی کا پورشن تھا اور ایک طرف ابًا کا اور صالحہ خالہ اور معتصم بھی انکے ساتھ تھے گھر کے دونوں حصوں کے بیچ سوئمنگ پول تھا جسے دونوں پورشن والے استعمال کرتے تھے گھر کے دو گیٹ تھے ایک طرف ابّا اور جہانگیر بھائی کی گاڑیاں کھڑی تھیں تو ایک طرف مہرماہ المیر اور معتصم کی جس طرف ابّا کا پورشن تھا وہاں خالی جگہ کو ایسٹھیٹک گارڈن بنایا گیا تھا چھوٹا قدرتی دکھنے والا مصنوعی تالاب جس میں مچھلیاں تھی ساتھ دو بینچ لگے تھے اور پول لائٹس دیکھنے سے وہ لندن کا کوئی باغ لگتا تھا سی ایم سیکرٹریٹ جب بھی جانا ہوتا وہ جہانگیر بھائی کے ساتھ جاتی تھی اب بھی وہ سمیرا بھابھی سے حال احوال کر کے جہانگیر بھائی کے ساتھ روانہ ہو گئی جہانگیر بھائی کی ایم پی اے والی نمبر پلیٹ سے اسے بہت کوفت ہوتی تھی اس لیے اس نے اپنا نمبر پلیٹ ہٹوا دیا تھا۔

‘‘اپنے پراجیکٹ کی فائل اُٹھا لائی ہو ناں’’ جہانگیر بھائی نے اسکے خالی ہاتھوں کو دیکھا۔
‘‘بھائی وہ میں نے ای میل کر دی ہے آفس سائٹ پر’’ جہانگیر بھائی کو اطمینان ہوا سی ایم سیکرٹریٹ پہنچ کر گاڑی روش پر چلتی ہوئی مین بلڈنگ تک آئی انہیں بلڈنگ کے مین ڈور پر اتارا وہ دونوں آفس کی کُھلّی راہداریوں میں چلتے آئے خوش قسمتی سے سی ایم صاحب کے پاس ایک دو لوگ تھے تو مہرماہ نےاپنا پراجیکٹ انکے سامنے پیش کیا کچھ تبدیلیوں کے بعد اُسے ایکسپٹنس کمیٹی کو فارورڈ کیا گیا اس طرح انکا کام ہو گیا اور وہ آفس سے نکلنے لگے تھے کہ جہانگیر بھائی کے ایک پرانے شِناسا عبدلقادر ان سےٹکرائے جہانگیر بھائی اُن سےمحو گفتگو تھے اور وہ سائڈ پر کھڑی ہو کر اپنا فون دیکھنے لگی جب پیچھے سے ایک نسوانی آواز نے پکارا ‘‘مہرماہ سلطان’’ وہ چونک کر پیچھے مڑی۔
‘‘اوہ شاہدہ صاحبہ کیسی ہیں آپ؟’’ اُس نے انہیں جھٹ پہچانا اور مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
‘‘ٹھیک تم سناؤ یہاں کیوں کھڑی ہو چلو لابی میں چلتے ہیں’’ شاہدہ صاحبہ ایم پی اے تھیں کئی بار دیکھا تھا لیکن ملی نہیں تھیں آج اچانک سے ملی اور بڑی خوش اخلاقی کامظاہرہ کر رہی تھیں۔

‘‘نہیں بہت شکریہ ہم نکلنے والے ہیں ’’ اس نے خوش دلی سے معذرت کی۔
‘‘جہانگیر صاحب کیا ہم تھوڑی دیر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں ’’ عبدالقادر جہانگیر سے مخاطب تھے۔
‘‘جی ضرور ،مہرماہ بیٹا آپ تھوڑی دیر لابی میں ویٹ کریں میں بس آیا’’ جہانگیر صاحب نے مہرماہ کو لابی کی طرف اشارہ کر کے کہا
‘‘اوکے بھائی’’ مہرماہ نے سر ہلا کر اشارہ کیا
‘‘اب تو چلو“شاہدہ صاحبہ نے اسکا ہاتھ ہی پکڑ لیا کہ کہیں وہ بھاگ نہ جائے ۔
‘‘جی چلئے’’ مہرماہ نے مسکرا کر لابی کی طرف اشارہ کیا یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے کسی ہوٹل کی لابی دور دور دو یا تین صوفے آمنے سامنے رکھے ہوئے انکے سامنے ایک کافی ٹیبل جدید فرنیچر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا وہ دونوں جا کر ایک کونے میں آمنے سامنے بیٹھ گئیں ۔
‘‘تو آجکل مہرماہ سلطان کی کیا مصروفیات ہیں’’ وہ ایک ادھیڑ عمر خاتون تھیں بالوں کو بلوڈرائی کروائے نفاست سے میک اپ کئے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی۔
‘‘بس اپنے ایک پراجیکٹ کے پیچھے لگی ہوئی ہوں’’ وہ بھی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھی گال تلے ہاتھ رکھے انہیں دیکھنے لگی دو چار باتیں کر کے کسی کو ہاتھ لہرا کر بلایا مہرماہ نےگردن موڑھ کے دیکھا تو پیچھے سے ایک لمبا چوڑا آدمی چلتا ہوا آیا گرے کوٹ پینٹ پہنے وہ چلتا ہوا شاہدہ کے پاس آکر رکا شاہدہ اسکے آنے سے بہت خوشی سے کھڑی ہوئیں۔
‘‘اوہ! ہیلو ہینڈسم کیا حال ہیں’’ وہ چہکتے ہوئے نومولود سے بات کرنے لگیں جبکہ مہرماہ حسب عادت اپنا فون نکال کر دیکھنے لگی۔
‘‘مہرماہ ان سے ملو اسد کمال اور اسد یہ ہیں مہرماہ سلطان ’’ شاہدہ نےتعارف کروایا ۔
‘‘السلام علیکم’’ مہرماہ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور سلام دیا۔
‘‘وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ’’ اسد نے مہرماہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
‘‘الحمدللہ خیریت ’’ مہرماہ نے جواب دیا۔
‘‘ارے اسد کھڑے کیوں ہو بیٹھ جاؤ’’ شاہدہ نے تیسرے صوفے کے جانب اشارہ کیا مہرماہ بھی محتاط سی بیٹھ گئی کیونکہ کبھی ایسا موقع نہیں آیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں ایک غیر مرد کے ساتھ بیٹھی ہو اسد بے نیازی سے بیٹھ گیا۔

‘‘اور اسد کام کیسا جا رہا ہے’’ شاہدہ نےاسد کمال سے پوچھا۔
‘‘بہت اچھا جا رہا ہے بلکہ یہ کہوں تو بجا ہوگا اتنا اچھا کبھی نہیں ہوا’’ اسد نے شانے اچکا کر کہابلاشبہ وہ ایک وجیہہ مرد تھا لمبا قد گندمی رنگت خوبصورت کالی آنکھیں چہرے پر ہلکی داڑھی جو ہلکی سفید ہوگئی تھی لیکن اُسکی شخصیت کو اور بھی نکھارتی تھی
‘‘مہرماہ یو نو اسد نے بہت چھوٹی عمر میں ہی اپنا بزنس ایمپائر کھڑا کیا he is a genius’’ شاہدہ نے اب کی بار مہرماہ کو مخاطب کیا
‘‘اوہ ! ماشااللہ’’ مہرماہ نے بس اتنا کہا اور گھڑی کی طرف دیکھا اُسے شدید کوفت ہو رہی تھی جہانگیر بھائی نے دیر لگا دی۔
‘‘آپ کیا کرتی ہیں مس مہرماہ’’ اب کی بار اسد اُس سے مخاطب تھا اُسکی نظریں مہرماہ کے چہرے کا احاطہ کیے ہوئی تھیں و چاہ کر بھی اُس سے نظریں نہیں ہٹا پایا کالے سٹول کے ہالے میں اسکا دمکتا چہرا بڑی بڑی شہد رنگ آنکھیں گلابی ہونٹ اٹھی ہوئی ستواں ناک اوپر سے اسکا سٹائل کسی ملکہ کی طرح کالے عبایا کو صوفے پر پھیلا کر بیٹھی ایک وقار تھا اسکے انداز میں۔
‘‘میں اپنے والد کی جگہ ایم پی اے منتخب ہوئی ہوں’’ اس نے رسان سے بتایا حقیقت تو یہی تھی جیسے کوئی موروثی حکومت ہو یہاں بھی یہی دستور بنا دیا ہے لوگوں نے باپ کے بعد اسکی اولاد ہی اسکی کرسی سنبھالے۔
‘‘اوہ انٹرسٹنگ تو آپ سیاست دان ہیں ’’
اُسنے جواب میں بس سر ہلایا ۔
‘‘سیاست دان خواتین بہت سٹرانگ ہوتی ہیں میرا مطلب ہے قوتِ ارادی میں اسٹرونگ ہوتی ہیں ’’ اسد نے کہا تو مہر ماہ نے کندھے اچکائے اور سوچنے لگی ۔
‘‘مجھے نہیں لگتا میرے خیال میں ہر وہ عورت جو ایک ذمہ داری سنبھال رہی ہے وہ سٹرانگ ہے چاہے وہ سیاست دان ہے ڈاکٹر ہے ٹیچر ہے یا پھر موسٹ آف آل ایک ہاوس وائف ہے’’ اسد اسکے جواب پر مسکرایا۔
‘‘ارے کم آن مہر گھر بیٹھی عورت کیا جانے باہر کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں ہم لوگ ،یہ سیٹیں ایسے ہی تو نہیں ملتی ناں’’ اب کے شاہدہ ہاتھ جھلّا کر بولی ۔
‘‘نہیں شاہدہ صاحبہ مہر ماہ ٹھیک کہہ رہی ہیں ایک عورت کے لیے اسکا گھر ایک ایمپائر ہوتا ہے اسکو چلانا آسان نہیں ایسے ملک میں جہاں آپ جیسے حکمران ہیں’’ اسد نے شاہدہ کی ہیرے کی انگوٹھیوں کی طرف اشارہ کیا جب کہ مہرماہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی تب ہی اسکا فون بجا جہانگیر بھائی نے اسے باہر آنے کے لئے کہا ۔
‘‘اوکے شاہدہ صاحبہ مجھے اب جانا ہے ’’الوداعی کلمات کہتے ہوئے وہ وہاں سے نکل گئی اور اسد کمال کی نظریں تب تک اُسکو دیکھتی رہیں جب تک وہ نظر سے اوجھل نہیں ہوئی ۔

———————————
مہر ماہ نماز کے لیےسر پہ دوپٹہ اچھے سے اوڑھے جائے نماز پر بیٹھی تھی کہ المیر اسکے سر پر آ دھمکا۔
‘‘تم نےکل وعدہ کیا تھا کہ اپنی بھابھی کو منانے میرے ساتھ چلو گی ’’ اُس نے دروازہ کھول کر بس اتنا بتایا اور دروازے کے پیچھے سے غائب ہوگیا ۔
مہرماہ جائے نماز اٹھاتے اُسے القابات سےنوازتی نیچے آئی ٹیبل پر اماں نے کھانا لگوایا کھانے کے بعد اُنکا پلان تھا اُنزِلا کو منانے کا کھانے کی ٹیبل پر سب آئے بیٹھے تھے ابّا اماں خالہ المیر معتصم اور مہرماہ کے آنے سے سب مکمل سا ہوگیا المیر اور معتصم ساتھ بیٹھے تھے سامنے مہرماہ المیر بےچینی سے پہلو بدلتا کبھی کچھ پلان کرتا کبھی کچھ۔
‘‘المیر کی بے چینی میں مہرماہ سے سرگوشیاں نوٹ کر کے پوچھا جبکہ مہرماہ نہایت اطمینان سے کھانا کھاتے ہوئے بس سر ہلائے جا رہے تھی ۔
‘‘المیر نے اُنزِلا کو منانا ہے سو اسی کا پلان ہے میں بس اسکی مددکر رہی ہوں’’ مہرماہ نے پلیٹ میں چاول ڈالتے ہوئے کہا۔
‘‘تم آنا چاہتے ہو تو آجاؤ’’ المیر نے کھلے دل سے پیشکش کی۔
‘‘اچھا تمہاری شادی کے چکر میں کیفے بند کروا دوں روز ہی تمہارے یہ مسئلے ہیں کبھی بھابھی کو آئس کریم کھانی ہے کبھی پھول چاہئے کبھی گجرے چاہئے’’ معتصم جب شروع ہوا تو المیر نے زور سےاسکے پیر پہ پیر مارا معتصم تِلملا کر رہ گیا۔
‘‘ کھانے کے وقت کے کچھ آداب اور ایٹیکیٹس ہوتے ہیں باپ بننے کی عمر میں بچوں جیسی حرکتیں ہیں تم لوگوں کی’’ ابّا نے آہستہ مگر تنبیہی آواز میں گھرکا تو دونوں کے سر پلیٹوں پر جھک گئے مہرماہ نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کی ویسے اِن دونوں کی بے عزتی دیکھنے کا بھی الگ ہی مزہ ہے وہ بھی ابّا کے ہاتھوں ۔

———————————

گھر سے نکل کے وہ دونوں اُنزِلا کو لینے گئے مہرماہ خود لینے آئی تھی اس لیے انزِلا کو آسانی سےاجازت مل گئی اُنزِلا ایک خوبصورت لڑکی تھی پڑھی لکھی اور خوش اخلاق ہر وقت مسکراتی رہتی ڈولمین مال سےاُنزِلا کا گھر بالکل نزدیک تھا تو وہ جلدی پہنچ گئے کل کی بارش کا اثر تھا سڑکیں اب تک گیلی تھیں آسمان صاف موسم خوشگوار گاڑی پارکنگ میں پارک کر کےوہ لوگ مال کے اندر داخل ہوئے ایسکیلیٹرز پر چڑھ کر مہرماہ دکانوں کی طرف بڑھی جبکہ وہ دونوں ایسپریسو میں جاکر بیٹھ گئے مہرماہ دکانوں کے سامنے سے گزرتی ڈسپلے پر لگے ڈمی دیکھ رہی تھی ایک سویٹر پر نظر پڑی تو ابّا کےلئے پسند آیا سویٹر لینے دکان کے اندر داخل ہوئی ڈسپلے پر لگے سارے سویٹر دیکھ رہی تھی۔

‘‘مہرماہ سلطان صاحبہ’’ وہ چونک کر پیچھے مڑی ۔
‘‘کیا میں اسے ایک اتفاق سمجھوں ’’ اسد کمال دھیمی مسکان لیے جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
‘‘آپ’’ مہرماہ حیران ہوئی پھر شانے اچکائے ‘‘یہ دنیا بہت چھوٹی ہے اتفاقات ہوتے رہتے ہیں’’ بولتے ساتھ اُس نے سیلزمین کو سویٹر پیک کرنے کو دیا۔
‘‘اور میں ایسے خوبصورت اتفاقات روز چاہوں گا ’’ مہرماہ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
‘‘دیکھتے ہیں اسد صاحب ’’ اس نے بل کاؤنٹر کی طرف جاتے ہوئے کہا ۔
‘‘پلیز انکا بل میں پے کرونگا’’ اسد کمال نے سیلزمین سے کہا۔
‘‘نہیں اسد صاحب اسکی کوئی ضرورت نہیں’’ اسنے خفّت سے اسد کو ٹوکا۔
‘‘تو پھر یہاں ایسپریسو میں بہت اچھی کافی ملتی ہے اگر آپ ایک کپ میرے ساتھ پئیں گی مجھے بہت اچھا لگے گا’’ اسد نے بہت خوش دلی سے کہا۔
‘‘ اسد صاحب سوری لیکن میں کبھی اپنے گھر کے مردوں کے بغیر کسی کے ساتھ کسی کیفے میں نہیں بیٹھی ہوں’’ مہرماہ نےسچائی بیان کی کام کے لیے بھی تو وہ اپنے بھائی کے ساتھ ہی جاتی تھی اور ایسا کبھی اتفاق سے بھی نہیں ہوا کہ وہ بلاوجہ کسی کے ساتھ کافی شاپس میں بیٹھی ہو اسکی بات سن کر اسد نے ٹھنڈی آہ بھری اور مسکرایا ۔
‘‘آپ پر ادھار رہے گی میری کافی ’’ اسد کمال مسکراتے ہوئے دل فریب لہجے میں کہا ۔
‘‘جی ضرور’’ مہرماہ نے مسکراتے ہوئے اپنا شاپنگ بیگ پکڑا اور دکان سے نکل گئی اسد اُسے دور تک جاتے ہوئے دیکھتا رہا اسد کو مشکل پراجیکٹ ویسے بھی بہت اٹریکٹ کرتے تھے اور مہر ماہ بھی اسکے لیے ایک چیلنجنگ پراجیکٹ تھی لیکن اس پراجیکٹ میں اب دل بھی لگ چکا تھا ۔

———————————

یہ ایک تھی مڈ کیفے تھا the lost coffee کے نام سے جس کے ایک حصے میں ڈیجیٹل لائبریری تھی اور جسے آرٹسٹ اپنی پینٹنگز کے ایگزیبیشن کے لیے استعمال کرتے تھے یہ کیفے المیر اور معتصم نےمل کر کھولا تھا پہلی برانچ کلفٹن جبکہ دوسری برانچ بدر کمرشل میں کھولی اسکی شہرت اتنی زیادہ ہوئی کہ بطور فرنچائز لاہور،حیدرآباد اور سکھر میں بھی the lost coffee کا افتتاح ہوا کام زیادہ ہوا تو المیر نے بدر والی برانچ سنبھالی اور معتصم نے کلفٹن برانچ سنبھالی ابھی بھی وہ نکلنے لگا تھا ایک ٹیبل پر بیٹھی دو تین لڑکیاں ویٹر سے بحث کرنے لگی اور جھگڑنے لگ گئی معتصم معاملہ دیکھنے گیا ویٹر سے پوچھا۔
‘‘کیا ہوا صفدر’’ ویٹر نے معتصم کو دیکھا ۔
‘‘سر انہوں نے تین کافی آرڈر کئے ساتھ پاستا اور ۲سینڈوچ ابھی کہہ رہی ہیں کہ انہوں ایک ہی سینڈوچ آرڈر کیا تھا ’’ ویٹر پریشان سا صورتحال سے آگاہ کرنے لگا۔
‘‘دیکھیے مسٹر’’بات منہ میں ہی رہ گئی اور وہ لڑکی معتصم کی شکل دیکھنے لگی۔
‘‘معتصم سلیمان خان؟’’ اور اپنی انگلی اٹھا کر گویا تصدیق کرنا چاہتی تھی ۔
‘‘جی میں معتصم سلیمان اور آپ؟’’ معتصم نے دماغ پر بہت زور دیا یاد کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ یاد نہ آیا۔
‘‘میں عنایہ سمیرا آپی کی کزن ’’ لڑکی نے اپنا تعارف کروایا۔
‘‘اوہ ! اچھا اچھا نائس ٹو میٹ یو’’ اس نے مسکرا کر کہا‘‘میڈم سے بل نہیں لینا’’ اُس نے ویٹر کو ہدایت دی ویٹر جی بھر کر بدمزہ ہوا لیکن ‘‘یس سر کہہ’’کر چلا گیا ۔
بیس سالہ عنایہ کا لب و لہجہ برٹش تھا وائٹ ڈریس شرٹ کے ساتھ بلیک کُھلّا ٹراؤزر بال نفاست سے کرل کرکے آگے کی طرف ڈالے تھے آنکھوں میں فیک لیشز لگائے تھے معتصم نے پہچانا تو نہیں لیکن ویٹر سے کہہ کر بل لینے سے منع کر دیا ۔
‘‘اوکے پلیز انجوائے’’ معتصم ان سے کہہ کر نکلنے ہی لگا تھا کہ۔
‘‘ معتصم پلیز کم جوائن اس’’ عنایہ نے منت بھرے لہجے میں کہا۔
‘‘نو تھینک یو پلیز کیری آن مجھے گھر جلدی پہنچنا ہے’’ معتصم ایکسکیوز کرکے نکل گیا ۔
‘‘یہ تمہارا رشتہ دار ہے واؤ یار he is so handsome ’’ عنایہ کے ساتھ بیٹھی ایک لڑکی بولی ۔
‘‘کتنا ٹال ہے مسلز دیکھو ’’ دوسری نے بھی تبصرہ کیا جبکہ عنایہ ابھی تک اسکی شخصیت کے زیر اَثر تھی۔

———————————

کیفے سے جم گیا پھر جم سے گھر بہت تھکا ہوا تھا سیدھا شاور لے کر بیڈ پر جانے کا ارادہ تھا کے کھڑکی سے نیچے کسی کاسایہ نظر آیا کھڑکی کے پاس آکر دیکھا تو مچھلیوں کے تالاب کے پاس بینچ پر مہرماہ بیٹھی تھی اور تھوڑی دیر میں وہ بھی نیچے تھا مہرماہ کسی سوچ میں گُم تھی وہ دبے پاؤں آیا۔
‘‘کس سوچ میں گم ہو؟’’ اس نے دھیمے اور گھمبیر آواز میں پوچھا ۔
‘‘دیکھو ان مچھلیوں کو اللّٰہ تعالیٰ نے ہر چیز کتنی خوبصورت بنائی ہے ناں ’’ وہ رنگ برنگی مچھلیوں کو دیکھ کر بولی۔
‘‘ ہاں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز بہت خوبصورت بنائی ہے کیونکہ وہ کریئٹرہے ہر ذرے کے پیچھے ایک دنیا چھپی ہے یونیورس ، ملٹی ورس اوربہت کچھ انسان کی سوچ کے پرے’’وہ بھی بینچ پر بیٹھ کر مچھلیاں دیکھنے لگا بلیک ٹراؤزر اور گرے فل سلیو شرٹ بکھرے بال وہ بالکل کیژیوئل حلیئے میں تھا مہرماہ نے بلیک سوٹ کے اوپر مرون پشمینہ کشمیری کڑھائی والی شال لی تھی مہرماہ کے بال کندھوں سے تھوڑے نیچے آتے تھے اور ایش براؤن ڈائی کروائے بہت پیارے لگتے تھے۔آسمان پر چاند آب و تاب سے چمک رہا تھا اور پول لائٹ کی زرد روشنی ان پر پڑتی انکو سونے کی طرح چمکا رہی تھی۔
‘‘اب بتاؤ اتنی گہری سوچ میں کیوں تھی ؟’’ اس نے دوبارہ مدعے پر آتے ہوئے پوچھا ۔
‘‘انسان کے ہاتھ میں خیر اور شر چننے کا اختیار دیا ہے اللّٰہ نے تو مجھے ڈر لگتا ہے اگر میں نے صحیح چھوڑ کر غلط چنا تو؟’’ اسکی آواز میں مستقبل کا خوف تھا۔
‘‘اِسی لئے تو خواہشات میٹر کرتی ہیں کوئی پیسہ کوئی طاقت تو کوئی محبت چاہتا ہے’’ اُس نے چاند کو دیکھتے کہا۔
‘‘یہ محبت تو رہنے دو پیسہ اور طاقت تو سمجھ آتی ہے’’ مہرماہ ہنس دی۔
‘‘تمہارے نزدیک محبت کیا ہے مہرماہ’’ معتصم نے مہرماہ کی طرف دیکھا ایک لمحے کے لیے نظریں ملیں کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ بولی۔
‘‘ میرے نزدیک محبت ایک بے لوث جذبہ ہے جس میں آگے پیچھے کا نقصان یا فائدہ نہیں دیکھا جاتا love is a luxury its not for everyone ’’ مہرماہ کی آواز بہت دھیمی تھی اس میں ایک آنچ تھی جیسے کچھ کھو گیا ہو اور اب کہیں نہیں ملنا۔
‘‘کیا’’ تمہیں اُس سے محبت تھی؟ ‘‘مہرماہ کو دیکھتے ہوئے اُس نے وہ سوال پوچھا جو آج تک مہرماہ سے کسی نے نہیں پوچھا تھا جو شاید مہرماہ نے خود سے بھی نہیں پوچھا تھا مہرماہ نے معتصم کی طرف دیکھا اسکی آنکھوں میں پرانے زخموں کی کرچیاں تھیں اس نے پھر سے سر جھکا دیا۔
‘‘نہیں’’ بہت آہستگی سے جواب دیا کہ خود بھی مشکل سے سنائی دیامعتصم اسکے زخم بانٹنا چاہتا تھا اسکا خول توڑنا چاہتا تھا وہ اس سے محبت کرتا تھا اُسکے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا تھا تو بہتر ہے اُسے ماضی کے trauma سے نکال لائے۔
‘‘کیوں مہرماہ’’ وہ شاید آج سب کچھ جان لینا چاہتا تھا۔

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *