Episode 6 - Ham Ahle Dil Wo Mehrma By Gulmira Rustum

All Episodes
ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

Episode 6

ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

قسط نمبر 6

فنکشن ختم ہوا اور سب مہمان چلے گئے آخر میں گھر والوں نے بھی واپسی کی راہ لی معتصم آکر وہیں تالاب کے پاس مچھلیوں کو دیکھنے لگا مہرماہ اماں اور رُباب کے ہمراہ اندر جا رہی تھی جب معتصم نے اُسے کال کی ۔

“گارڈن میں آؤ تھوڑی دیر کے لیے” کہتے ساتھ ہی اس نے کال بند کی مہرماہ نے حیرانی سے فون کو دیکھا پھر وہیں سے مڑ کر گارڈن کی طرف آگئی معتصم وہیں بینچ پر بیٹھا مچھلیوں کو دیکھ رہا تھا مہرماہ مچھلیوں کو دیکھتی بینچ پر آ بیٹھی ”تمہیں پتہ ہے المیر کی سالیوں نے کتنا تنگ کیا اسے اچھا ہوا اسکے ساتھ ”وہ ہنسنے لگی پھر معتصم کو دیکھا ۔

“کیا ہوا تمہارا منہ کیوں اترا ہوا ہے ”وہ حیرانی سے اُسے دیکھنے لگی وہ کچھ کہہ نہیں پایا۔

“معتصم؟کیا ہوا ہے کسی نے کچھ کہہ دیا ہے؟” وہ پریشان ہونے لگی ۔

“مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے ”وہ سامنے دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا ایک لمحےکوتو مہرماہ بھی چپ ہوگئی۔

“یہ تو اچھی بات ہے تم نام بتاؤ ہم کل ہی رشتہ مانگیں گے اسکا” مہرماہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“پتہ نہیں میں بھی اسے پسند ہوں یا نہیں ” اس نے خاموش نظروں سے مہرماہ کو دیکھا۔

”کوئی بیوقوف ہی ہوگی جو تمہیں ناپسند کرے گی” مہر ماہ کو اچھا خاصا برا لگا۔

وہ اٹھا اور مچھلیوں کے تالاب کے پاس کھڑا ہوا ۔

“بتاؤ ناں کون ہے سسپنس کیوں کرئیٹ کر رہے ہو ” وہ بینچ کے پیچھے جاکر کھڑا ہوا جہاں مہرماہ بیٹھی تھی اور جھک کر کہا۔

”Mehrmah Sultan will you marry me” بہت ہی مدھم مگر محبت بھری آواز میں کہا۔

مہرماہ پہلے ہنس دی “یہ کیسا مذاق ہے ؟”۔

“ہر لفظ سچ ہے میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے ” مہرماہ بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی ۔

“معتصم یہ تم کیا کہہ رہے ہو” اُسے جیسے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا اس لیے آواز میں ہلکی لرزش تھی ۔

“سچ کہہ رہا ہوں میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تمہارے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ”

 کچھ لمحے تو مہرماہ کچھ بول ہی نہ سکی۔

“تم اپنے ہوش کھو بیٹھے ہو شاید تب ہی ایسی بات اپنے منہ سے نکال رہے ہو بھول گئے ہو میں تم سےعمر میں کتنی بڑی ہوں کتنا ایج ڈیفرنس ہے میں نے گود میں کھلایا ہے تمہیں”مہرماہ غصّے سے بولی اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ معتصم یہ بات کر کیوں رہا ہے۔

”مجھے فرق نہیں پڑتا ان اسٹیریوٹائپس سے اور میں فیصلہ کر چکا ہوں کوئی مجھے ایک انچ بھی میرے فیصلے سے نہیں ہٹا سکتا ” معتصم ہٹ دھرمی سے بولا اب دل کی بازی لگا لی سو لگا لی ۔

مہرماہ بے دم ہو کر بینچ پر گر سی گئی معتصم آکر گھٹنوں کے بل اسکے قدموں کے آگے بیٹھا۔

“ایسا مت کرو معتصم ایسا مت کرو میں خود تمہاری لئے بہت ہی خوبصورت لڑکی ڈھونڈوں گی جہاں تم کہو گے میں خود وہاں تمہاری شادی کرواؤں گی ”وہ بہت منت سے بولی کہ شاید وہ مان جائے ۔

“کوئی نہیں صرف مہرماہ اور کوئی نہیں”وہ زور دےکر بولا۔

“کیا تم بھول گئے میں کیا ہوں ایک بیوہ ایک شادی شدہ عورت ایک دھتکاری ہوئی عورت کیوں بھول رہے ہو تم ”وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی“لوگ ہنسیں گے مجھ پر کہ جس بچے کو گود میں کھلایا اُس سے شادی کر رہی ہے”وہ پہلی بار اسکے سامنے روئی تھی آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گالوں پر لڑھک رہے تھے۔

“نکل آؤ اس ماضی سے جس نے تمہیں زندگی بھر ہانٹ کیا ہے چھوڑ دو ان باتوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا حق تمہیں بھی ہے اور مجھےبھی حق ہے میں جس سے چاہوں محبت کروں نہ میں لوگوں کی پرواہ کرتا ہوں نہ زمانے کی اور کتنی بڑی ہو صرف چھ سال مجھے فرق نہیں پڑتا ”معتصم کھڑا ہو کر دبے غصّے سے کہنے لگا۔

”مجھے تمھاری سمپیتھی نہیں چاہئے“غصّے سے اسکا برا حال تھا۔

“یہ سمپیتھی نہیں محبت ہے تمہیں نظر کیوں نہیں آتا؟”وہ اسکے سامنے کھڑا جیسے منّت کر کے بولا۔

“آئندہ اپنی شکل بھی مجھے مت دکھانا”مہرماہ غصّے سے کہتی مڑی۔

“معتصم شادی کرے گا تو مہرماہ سے ورنہ کبھی نہیں کریگا ” معتصم ہٹ دھرمی سے بولا۔

”enough of this nonsense“ مہرماہ غصّے سے دھاڑی۔

اور رُخ موڑ کر اندر سیدھا اپنے کمرے کی طرف بھاگی معتصم وہیں اپنے بال مٹھیوں میں جکڑ کر بیٹھ گیا اسکے اندر ویرانی اور اداسیاں گھل گئیں جسکو پول لائٹ اور مچھلیوں نے بھی محسوس کیا ۔

———————————-

ساری رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد صبح فجر پڑھ کر نیند کی آغوش میں چلی گئی آنکھ کھلی تو ۱۰ بج رہے تھے لیکن نہیں نہ وہ نیچے جائے گی نہ کسی کا سامنا کرے گی۔

“اُف معتصم یہ تم نے مجھے کس مشکل میں لا کر پھنسایا”وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے کل رات کی باتیں یاد کرکے پھر رنجیدہ ہوئی ۔

“تو اس میں کیا برائی ہے کیا تمہیں حق نہیں کوئی تمہیں پیار کرے” اندر سے اس نے خود کو ہی آواز دی ۔

“لاکھ خود پر پہرے بٹھاؤ لیکن ہر لڑکی کی طرح تمہارا بھی تو دل کرتا ہے کہ کوئی تمہیں دل سے چاہے” پھر وہی آواز۔

“لیکن مجھے ڈر لگتا ہے اگر پھر سے میرا دل ٹوٹا تو میں شاید ہی خود کو دوبارہ سمیٹ سکوں اور پھر خالہ کیا سوچے گی ہاں!خالہ مجھے خالہ سے بات کرنی چاہئے”باتھروم جا کر منہ دھو کر نکلی چپل اڑستی دوپٹہ پہنتی سیدھا خالہ کے کمرے میں گئی خالہ رات کو بارات کے لیے پہننے والے کپڑے سیٹ کر رہی تِھیں۔

“خالہ !”اندر آتے ہے پکارا انداز میں عجلت تھی ۔

“معتصم کو دیکھیں یہ کیسی باتیں کر رہا ہے”انداز شکایتی تھا۔

“کیا کہہ رہا ہے؟” خالہ حیران ہوئیں۔

“وہ کہہ رہا ہے ”کچھ لمحے رکی کہا بھی نہیں جا رہا تھا “مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے”مہرماہ یہ کہتی انکے بیڈ کے کنارے ٹک گئی۔

“ہاں وہ تو چاہتا ہے میرا بیٹا بہت محبت کرتا ہے تم سے”خالہ نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھا لیکن مہرماہ کا تو دماغ بھک سے اڑا۔

“خالہ وہ عمر میں مجھ سے چھ سال چھوٹا ہے ”اُسے خالہ کا بھی دماغ اپنے بیٹے کی طرح ہِلا ہوا محسوس ہوا۔

”ہاں تو اس سے کیا ہوتا ہے ہمارے پیارے نبی ﷺ اور بی بی خدیجہ میں ۱۵ سال کا فرق تھا کوئی ہے مثال ایسی محبت اور وفا کی جیسی انہوں نے نبھائی“مہر ماہ بالکل چپ ہو گئی ۔

“لیکن خالہ میں نہیں کر سکتی میں اسکے ساتھ ظلم نہیں کر سکتی وہ ایک اچھی لڑکی ڈیزرو کرتا ہے سمجھائیں اپنے بیٹے کو ” وہ اپنا نقطہِ نظر سمجھا نہیں پا رہی تھی۔

“وہ صرف اسے ڈیزرو کرتا ہے جسے وہ چاہتا ہے نہ مجھے حق ہے کہ میں اسے اسکی محبت سے دستبردار ہونے کے لیے کہوں نہ تمہیں یہ حق ہے کہ تم اسکی محبت پر اعتراض کرو ” خالہ سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور انہیں سوچوں میں غلطاں وہ واپس کمرے میں آئی اور لیٹ گئی اب تو کچھ بھی کرنے کا دل نہیں تھا اور شام کو المیر کی بارات تھی ۔

————————————-

وہ تیاری کے آخری مراحل میں تھی بس جویلری پہن کر جوتے پہننے تھے بارات کا فنکشن ایک مارقی میں تھا تو سب کو وقت پر وہیں پہنچنا تھاسارا دن وہ سوچوں میں غلطاں رہی شام بھی اماں نے آکر جلدی مچائی تو اس نے سستی سے تیاری شروع کر دی۔

“مہرماہ باجی ہم سب جا رہے ہیں آپ پھر جہانگیر بھائی کے ساتھ آجانا”اجالا نے جلدی میں ہانک لگائی اور واپس نکل گئی ۔

“اوہو اجالا رکو تو صحیح ” کانوں میں بندے پہن کر اس نے آخری نظر خود کو دیکھا خود کو خود ہی بہت حسین لگی کیا یہ کسی کی محبت کا روپ ہے۔

“نہیں ”اس نے خود کو خود ہی جھڑکا “میں کوئی ٹین ایجر نہیں ہوں جو ایسی باتیں سوچوں میں ایک میچور عورت ہوں اور مجھے ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا ”۔

بیج کلر کے ٹخنوں تک آتی قمیض جس کے آگے پیچھے دامن میں موتی پروئے تھے جو جھومر کی طرح لگتے تھے قمیض کا آگے سے بند کالر تھا اور پوری قمیض گولڈن کڑھائی والی تھی آرگنزا دوپٹہ بھی کام والا بال سٹریٹ کر کے سائڈ مانگ نکال کر اپنے شولڈر سے تھوڑا نیچے آتے بالوں کو ایک کان کے پیچھے اڑسہ تھا دوپٹہ اور چادر بازو میں ڈال کر گولڈن ہیلز ہاتھ میں اٹھا کر باہر بھاگی دروازہ بند کر کے مڑی تو بالوں نے بھی جھٹکا کھایا معتصم سامنے سے آتا رک گیا تھری پیس میں ملبوس جسکا کوٹ کریم کلر اور کالر کی دھاریاں کالی تھیں بلیک پینٹ ساتھ بو لگائی بال سلیقے سے جمائے اُسکی خوشبو ساری گھر کو مہکا رہی تھی دونوں ٹھٹک کر رُکے کچھ لمحے کھڑے رہے شاید دونوں میں ایک جھجک آگئی تھی ۔

“چلو مہرماہ بہت دیر ہو گئی ہے” وہ کہتا ہوا پلٹ گیا وہ بھی اسکے پیچھے آگئی خاموشی سے سیڑھیاں اتر کر اس نے جلدی سے ہیلز اپنے پیروں میں ڈالیں اور باہر روانہ ہوئی وہ آگے تھا اور مہرماہ پیچھے مین ڈور سے نکلے ہی تھے کہ ہیلز ٹھیک سے بند نہ کرنے کی وجہ سے جوتا اسکے پیر سے نکلا۔

“اُف ”وہ مین ڈور کے سامنے سیڑھی پر بیٹھی اور جُوتا بند کرنے لگی تھی کہ معتصم اسکے سامنے بیٹھا اور اسکی ہیل کی اسٹریپ بند کرنے لگا ”میں کر لونگی“اُسے خفّت ہوئی۔

“تمہیں کرنا ہوتا تو اب تک کر چکی ہوتی”اس نے اسکی طرف دیکھے بغیر کہا ہیل کا سٹریپ بند کر کے وہ اٹھا اور گاڑی کا فرنٹ ڈور اُسکےلیے کھولے کھڑا ہو گیا وہ معتصم محبت کے سامنے دست بستہ مجبور تھا کوئی اور ہوتی شاید دوسری بار دیکھتا بھی نہیں لیکن مہرماہ تو اسکے بچپن کا انتخاب تھی وہ اُٹھی اور گاڑی میں بیٹھ گئی گھر سے نکل کر کچھ دور آئے تھے کہ ٹریفک سگنل پر معتصم نے شیشہ تھوڑا نیچے کیا گاڑی کے شیشے ٹنٹڈ تھے باہر سب نظر آتا لیکن اندر کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا تب ہی ایک خواجہ سرا شیشے کے پاس آکر کھڑا ہوا ۔

“ہائے ماشاءاللہ ،اللّٰہ جوڑی سلامت رکھے صاب جی اللّٰہ تیرا آنگن پیارے پیارے بچوں سے بھردے آج تو میں اپنے صاب جی سے خالی ہاتھ نہیں لوٹونگی ہاں ”تالی بجاتا ہوئے اپنے خاص سر میں بولا مہرماہ گڑبڑا گئی جبکہ معتصم مسکرایا ۔

“آمین” کہہ کراپنے والٹ سے نوٹ نکال کر اسے دیا وہ اور بھی زیادہ بلائیں لیتا چلا گیا مہرماہ نے منہ کھڑکی کی طرف پھیرلیا گاڑی میں گانے کے بول گونج رہے تھے جو شاید اسنے کئی بار اسکی گاڑی میں بیٹھ کر سنے تھے لیکن سمجھ آج آئی ہے۔

And all my love, I‘m holding on forever
Reaching for the love that seems so far
So I say a little prayer
And hope my dreams will take me there
Where the skies are blue
To see you once again, my love
Overseas, from coast to coast
To find the place I love the most
Where the fields are green
To see you once again, my love

اتنی خاموشی شاید اُنکے بیچ کبھی نہیں ہوئی تھی کل رات کی تلخ کلامی کے بعد و ہ ایک دوسرے سے جھجک رہے تھے مہرماہ نے آنکھیں موند کر سیٹ پر سر ٹکا دیا معتصم نے چور نگاہوں سے اُسے دیکھا سارا راستہ خاموشی سے کٹا۔

شادی ہال کے سامنے پہنچے تو مہرماہ چادر درست کرتی دوپٹہ اور کلچ اٹھا کر نکلی تب تک معتصم دوسری طرف سے آکر دروازہ بھی کھول چکا تھا ۔

شادی کی تقریب اپنے عروج پر تھی لیکن مہرماہ پتہ نہیں کیوں بےچینی محسوس کر رہی تھی تبھی کھانے کے دوران ہیڈ ویٹرس سے بات کرنے معتصم آیا اور کھانےکا انتظام دیکھنے لگا مہرماہ کچھ رشتےدار خواتین کے ساتھ کھڑی تھی معتصم کو دیکھ کر عجیب سی خوشی ہوئی اور اسکا دل کیا کہ وہ آئےاور اس سے بات کرے لیکن وہ چلا گیا واپس مردانہ طرف فنکشن ختم ہوا اور المیر اپنی دلہن لے کر اپنی گاڑی میں چلا اماں اور خالہ ابّا کی گاڑی میں بیٹھے جہانگیر جہانزیب اپنے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھے اور روانہ ہوئے آخر میں مہرماہ آئی تو صرف معتصم کو اپنا منتظر پایا شادی ہال کو باہر سے خوب لائٹنگ کر کے روشن کیا گیا تھا اور وہی روشنی انکے دلوں اور آنکھوں سے پھوٹ رہی تھی وہ فرنٹ ڈور کھول کر کھڑا ہوگیا ویسے تو وہ ان گنت بار اسکی گاڑی میں بیٹھی ہے لیکن آج احساس ہو رہا تھا جیسے وہ تو ہمیشہ سے اسکا ہی تو تھا وہ گاڑی میں بیٹھی معتصم نے گاڑی آگے بڑھائی۔

پھر وہی خاموشی شاید وہ دونوں الفاظ ڈھونڈ رہے تھے مہرماہ جانتی تھی اس نے معتصم کا دل دکھایا ہے اسکے الفاظ بہت سخت تھے۔

“کل رات کے لیے ایم سوری ” مہرماہ نے کہا تو معتصم طنزیہ مسکرایا ۔

“یہ اچھا ہے دل توڑ کر سوری کر دو گی تو میں ٹھیک ہو جاؤنگا ”۔

“معتصم پلیز بھول جاؤ ” اس نے اس کی طرف التجائیہ انداز میں دیکھ کر کہا ۔

“بھول جاؤنگا تم میرا رشتہ قبول کر لو ” ونڈ سکرین سے باہر دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا مہر ماہ نے ٹھنڈی آہ بھر کر آنکھیں میچ لیں اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی اس نے تو کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک ایسے امتحان سے بھی اُسے گزرنا پڑے گا معتصم کو کبھی دکھ دینے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی لیکن اب یہ کیسا وقت آیا ہے کہ اسے خود اپنے ہاتھ اُسکا دل توڑنا پڑ رہا ہے بس اب وہ صرف امید کر سکتی تھی کہ وہ یہ سب بھول جائے ۔

شہریار کے بعد اب وہ محبت اور شادی کے نام سے بھی ڈرنے لگی تھی ایک خوف سا دل میں بیٹھ گیا تھا کہ محبت میں سوائے تکلیف کے کچھ نہیں رکھا اس لئے اس نے اپنی تمام تر توجہ اپنی اچیومنٹس اور خود کو ایک بہتر پوزیشن پر لانے میں لگا دیں لیکن اب پھر وہی سب اور وہ بھی معتصم ۔

————————————

مہرماہ لاؤنج میں بیٹھی انزِلا سے باتیں کر رہی تھی اُنزِلا شادی کی صبح بہت کھلی کھلی سی لگ رہی تھی اماں اور صالحہ خالہ بھی وہیں بیٹھی تھیں اور کچھ رشتے دار خواتین بھی آئیں تھی شادی والا گھر تھا اچھی خاصی رونق لگی تھی تب ہی سمیرا بھابھی اور عنایہ بھی آئیں مہرماہ اور اُنزِلا اٹھ کر اُن سے ملیں ۔

“اجالا چائے پانی لاؤ بھابھی کے لئے ”اماں نے اجالا کو پکارا۔

“ارے نہیں اماں ابھی تو ناشتہ کر کے آئے ہیں بس اُنزِلا کو دیکھنے آئی تھی ماشاءاللہ بڑا روپ چڑھا ہے ”سمیرا بھابھی پیار سے اُسے دیکھ کر کہنے لگیں ۔

“ہاں ماشاءاللہ المیر کی دلہن پر بڑا روپ چڑھا ہے ”صالحہ نے بھی بات میں حصہ لیا اماں اور سمیرا بھابھی کا انداز ہمیشہ لیا دیا ہی رہتا تھا اِسی لیے ابھی بھی بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔

“خالہ اب آپ بھی معتصم کی شادی کر دیں ماشاءاللہ ہر چیز تو سیٹل ہے عمر بھی شادی والی ہو گئی ہے ”سمیرا نے کہہ کر کن اکھیوں سے عنایہ کی طرف دیکھا عنایہ مسکرا دی یقیناً وہ عنایہ کی معتصم کے بارے میں پسندیدگی سے آگاہ ہو چکی تھیں اور وہ یہی چاہتی تھیں کے معتصم عنایہ سے شادی کر لے تاکہ اس گھر میں انکی کزن آسکے۔

”ہاں سمیرا انشاءاللہ بس میرا بھی یہی ارادہ ہے ”خالہ نے جواب دیتے ہوئے مسکرا کے مہرماہ کو دیکھا جو بالکل انجان بن کر بیٹھی تھی خالہ کے مسکرانے پر اسکے چہرے پر ایک رنگ آیا تھا اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اس چیز کو عنایہ نے شدت سے نوٹ کیا تھا اور اُسے مہر ماہ پر بے طرح غصہ آیا تھا ہر وقت چپکی ہوتی ہے معتصم سے اور معتصم بھی ہر بات اسکے نام سے شروع کر کے اسکے نام پر ہی ختم کرتا ہے اور ان کزن میرجز سے نفرت تھی اُسے اسکا چہرہ غصّے سے تمتما اٹھا ۔

“اُنزِلا تمہارے اور المیر بھائی میں کتنا ایج ڈیفرنس ہے؟” عنایہ نے ٹانگ پر ٹانگ رکھے ایک پیر جھلاتے ہوئے پوچھا۔

“تین سال بڑے ہیں المیر” اُنزِلانےمسکرا کر کہا۔

“یہ تو اچھا ہے کیوں کہ آج کل تو چھوٹی عمر کے لڑکے بھی آنٹیوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور لڑکیوں کو بھی کچھ شرم نہیں خود سے چھوٹے لڑکوں کو پھنسا کر بیٹھی ہیں پتہ نہیں کیا سیٹسفیکشن چاہیے انکو”عنایہ جو لندن سے پڑھ لکھ کر آئی تھی جب بولی تو اسکا برٹش لب و لہجہ انتہائی جاہلانہ اور ریسسٹ لگتا تھا سب اسکی اس بات سے بالکل چپ ہوگئے اور وہاں ایک رشتہ دار خاتون بھی اپنے محلے کا ایک واقعہ سنانے لگیں ۔

”ہاں بیٹا صحیح کہتی ہو ہمارے پڑوس میں ایک عورت تھی اچھی خاصی جاب والی اور عمر بھی اچھی خاصی ابھی کچھ دن پہلے ہی ہمارے ہی پڑوس کے دوسری گلی والے لڑکے کو پھنسا کر نکاح کر لیا اللّٰہ معاف کرے کوئی شرم ہے ہی نہیں ” وہ خاتون باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگانے لگیں خالہ کو تو بے حد غصہ آیا اور مہرماہ اسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا ۔

”بیچارے کے لیے بہت برا لگ رہا ہے مجھے“عنایہ نے نخوت سے کہا۔

”sorry anaya but I dont agree ”انزِلا نے کاندھے اچکا کر مضبوط آواز میں کہا “ایج ڈیفرنس میٹر نہیں کرتا یہ سب سوسائٹی کے سیٹ کردہ نارمز ہیں سب ہندوانہ رواج ہیں جو ہم نے خود پر مسلط کر دیے ہیں بس یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک لڑکی کی شادی چھوٹے لڑکے سے گوارا نہیں اور نام دے دو آنٹی نے بچہ پھنسایا ہم ایک مرد سے بیس سال چھوٹی بیوی تو قبول کر لیتے ہیں لیکن ایک عورت سے اسکا شوہر چھوٹا ہو یہ ہم قبول نہیں کرتے میرے نزدیک اگر کچھ میٹر کرتا ہے تو صرف وفا اور محبت باقی سب ثانوی باتیں ہیں” انزِلا نے بات ختم کر کے شانے اُچکائے عنایہ کا چہرہ مارے خفت کے لال ہو گیا پھر جب تک بیٹھی رہی منہ سے کوئی بات نہیں نکلی لیکن مہرماہ کی سوچ کیا وہ بھی بدل پائی تھی اُنزِلا کی باتوں سے ؟۔

——————————

رات کھانے پر مہرماہ اور معتصم کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی کھانے کے بعد اماں مہرماہ کو اپنے کمرے میں لے گئیں اماں کے گھٹنوں کا درد آج کل بہت زیادہ ہو گیا تھا اس وجہ سے وہ اوپر جانے سے گریز کرتی تھیں ۔

“جی اماں آپ نے بلایا” امّاں پلنگ پر بیٹھی اپنی دوائیاں لے رہے تھیں انہوں نے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ انکے سامنے بیٹھی اور انکا پیر دبانے لگی اماں نے مسکرا کر اسے دعا دی ۔

“اللّٰہ پاک دنیا جہاں کی خوشیاں تمہارے نصیب میں لکھ دے ” اس نے مسکرا کر ماں کو دیکھا۔

“بیٹا اب تمہیں بھی گھر بسا لینا چاہئے ” اماں نے بہت پیار سے اُسے کہا “بھول جاؤ وہ سب جو ہونا تھا ہو چکا اب نئی زندگی شروع کرنے کا حق تمہیں بھی ہے ” انکے لہجے میں گزرے سالوں کا دکھ پنہاں تھا یہ سال صرف مہرماہ نے نہیں بلکہ اسکے ماں باپ نے بھی ایسے ہی خالی پن میں گزارے تھے ۔

“لیکن اماں مجھے وہ پسند نہیں ” وہ بولی ۔

“کیوں نہیں پسند کماتا ہے کوئی بری لت نہیں نہ کوئی لالچ گھر کا بچہ ہے ” اماں کے کہنے پر مہرماہ نے اچنبھے سے ماں کو دیکھا ۔

“آپ کس کی بات کر رہی ہیں اماں” ۔

“اپنے معتصم کی تم کیا سمجھیں ؟”۔

“اماں کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو میں اسکے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی کیوں آپ لوگ اسکے پیچھے پڑے ہیں ” اُسے اب غصہ آنے لگا تھا ۔

“وہ خود اپنی مرضی سے ” وہ کہہ رہی تھیں لیکن مہر ماہ اُنکی بات کاٹ گئی ۔

“پلیز اماں میں اسکے ساتھ ظلم نہیں کروں گی آپ لوگ سمجھا دیں اسے اور آئندہ اس ٹاپک پر اس گھر میں کوئی بات نہیں ہوگی بات ختم ” کہہ کر وہ اماں کے کمرے سے نکلی لیکن ایک جھٹکے سے رک گئی معتصم بالکل کمرے کے سامنے کھڑا تھا ۔

“مہرو” اسکا لہجہ ٹوٹا سا تھا لیکن مہر ماہ غصے میں بھنویں بھینچ کر وہاں سے نکل گئی اور اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کرنے لگی تھی کہ معتصم نے پیچھے سے دروازہ اپنے ہاتھ سے روک لیا ۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے معتصم ” وہ غرائی ۔

“کیا تمہیں کبھی مجھ سے محبت نہیں ہوئی ” اس کی آواز میں لرزش تھی سوز تھا۔

“ہٹ جاؤ یہاں سے ” وہ غصے سے بولی۔

“بولو مہرو مجھ سے محبت نہیں تمہیں ” وہ بہ ضد تھا شاید آج کوئی جواب لے کر ہی جائے گا ۔

“کیوں تماشہ بنا رہے ہو سب گھر پر ہیں کیا سوچیں گے ”وہ اب منت پر اتر آئی کہ غصے سے کوئی کام نہیں چل رہا۔

“بہت محبت کرتا ہوں تم سے ایسا مت کرو ایک بے کار کی ضد کے لئے مجھے مت توڑو جب سے ہوش سنبھالا ہے تم سے ہی محبت کی ہے مہرو پلیز ایسے مت ٹھکراؤ میری محبت کو ”اسکی آنکھیں گیلی تھیں یا کچھ وہ سمجھ نہیں پائی اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اسکے دل پر پیر رکھ دیا ہو معتصم کی یہ آنکھیں اس سے دیکھی بھی نہیں جا رہی تھیں۔

“بے کار کی ضد تم کر رہے ہو سِمی مجھے تو تم پر حیرت ہو رہی ہے لڑکے اپنے لیے خوبصورت اور جوان لڑکیاں ڈھونڈتے ہے اور ایک تم ہو کہ ایک بیوہ کے پیچھے پڑے ہو جسے اسکے شوہر نے منہ نہیں لگایا اب جاؤ یہاں سے میرا دماغ مت کھاؤ ” کہہ کر زور سے دروازہ بند کر دیا اور لاک بھی لگا دیا وہ کتنی دیر تک وہاں کھڑا بند دروازے کو تکتا رہا اور دروازے سے پیٹھ لگا کر مہرماہ زور زور سے سانسیں لینے لگی اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑے دوپٹہ منہ میں دے کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا جانتی تھی وہ یہیں باہر کھڑا ہوگا کتنا بڑا دکھ دیا تھا اسے وہ مُعتصم جسکی ہلکی سی ناراضگی بھی وہ برداشت نہیں کر پاتی تھی آج اسکا یہ حال اسکی وجہ سے ہے لیکن وہ جانتی تھی وقت کے ساتھ وہ ٹھیک ہو جائے گا لیکن اب یہ وقت بھی تو گزرے ناں ۔

——————————

صالحہ کب سے اپنی گود میں سر رکھے اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھتی رہیں جانتی تھیں اسکا دل ٹوٹا ہے وہ خاموش تھا چھت پہ چلتے پنٹھے کو دیکھے جا رہا تھا ۔

“امی بابا کیسے تھے ؟” بہت دفعہ کا پوچھا سوال آج پھر دہرایا ۔

“بابا بہت محبت کرنے والے تھے تم سے بھی اور مجھ سے بھی ” صالحہ کی آنکھوں میں گزرے ماہ و سال کی ایک جھلک گزری تو ہونٹوں کو ایک اداس مسکراہٹ نے چھوا ۔

“تو آپ لوگوں نے چھ سات سال پہلے شادی کر لی ہوتی کم سے کم مہرماہ کا یہ بہانہ نہ ہوتا ” صالحہ مسکرا دیں اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں ۔

“جب نیت میں کوئی کھوٹ نہ ہو ناں تو منزل مل جاتی ہے تمہیں بھی مل جائے گی ۔” صالحہ نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اسے امید کی کرن دکھا دی ۔

”فِی لحال تو ضد پر اڑی ہے ” معتصم نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا دل کتنا بوجھل تھا وہ کیا بتاتا۔

“تم اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتے اُسے تھوڑا وقت دو کسی کو اگر ہمارا ہونا ہوتا ہے تو وہ ہو کر رہتا ہے التجاؤں سے کبھی کوئی کسی کا نہیں ہوا ” صالحہ اسکے بال سہلاتی اسے دلاسے دیتی جا رہی تھیں لیکن اندر سے اپنے دل میں بھی یہی خیال آرہا تھا کہ اگر وہ نہیں مانی تو معتصم کا دل بہت ٹوٹے گا اور ایک ماں کے لیے اپنے بچے کا ٹوٹا دل دیکھنا بہت اذیت ناک ہے۔

——————————

ایس پی آفس میں معمول کا شور شرابا تھا ایسے میں ابھی ابھی اپنی گاڑی سے اتر کر اپنے آفس کی طرف جا رہا تھا جب اسکی نظر اشفاق پر پڑی اشفاق پولیس کانسٹیبل تھا اور تقریباً ایک مہینے سے ہائیوے کی طرف جاسوسی کر رہا تھا شعیب اسے اپنے آفس کے اندر لایا اور آفس بند کر دیا ۔

“اشفاق کچھ کام کا ہونا چاہئے ورنہ تم سسپینڈ ہو جاؤ گے میں ابھی سے بتا رہا ہوں ” شعیب نے سیٹ پر بیٹھتے ہوئے اُسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔

“سر جی اس بار خبر پکّی ہے ”وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے بولا جبکہ شعیب گال تلے ہاتھ رکھے اسے سن رہا تھا ۔

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *