Episode 5 - Ham Ahle Dil Wo Mehrma By Gulmira Rustum

All Episodes
ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

Episode 5

ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

قسط نمبر 5

“کہاں ہے مہر ماہ کہاں ہے میری بیٹی؟” ابّا غضب سے ڈھاڑ رہے تھے تبھی اس نے بھاگتے ہوئے دروازہ کھولا۔

“ابّا” وہ چیخی وہ رو رہی تھی اسکے گلے پر گلا گھونٹے جانے کے نشان تھے شہریار پولیس کی گاڑی دیکھتے ہی بھاگنے لگا تھا کہ اُسے پکڑ لیا گیا جہانگیر بھائی جہانزیب بھائی بھی ساتھ تھے جہانزیب نے تو باقاعدہ پکڑ کر اسے گھونسوں اور لاتوں سے خوب نوازا ابّا کے سینے سے لگی وہ رو رہی تھی کتنا تحفظ تھا باپ نام کے سائے میں اس ایک ہفتے میں وہ خود کو لاوارث محسوس کر رہی تھی لیکن نہیں اس کے وارث تھے اور اُسے تحفظ دینے آئے تھے۔

“مجھے بخش دے بیٹا یہ سب میرا کیا دھرا ہے میری غلطی ہے میں نے تمہیں اس کھڈے میں گرایا” ابا بھی ساتھ رو رہے تھے پھر اسے گھر لے آئے جہاں سے ایک ہفتے پہلے بہت نازوں سے اُسے رخصت کیا تھا وہ پھر واپس آگئی لیکن اسے یہ یقین تھا کہ وہ یہاں محفوظ ہے۔

———————————————

شہریار جیل میں تھا لیکن دو ہفتے بعد اسکی ضمانت ہوگئی وہ اپنی محبوبہ کے ساتھ ملک سے فرار کےچکر میں تھا وہ دونوں گاڑی میں سوار تھےکہ انکا ایکسیڈنٹ ہوگیا گاڑی ہائیوے میں ایک بڑے ٹرالر کےنیچے آگئی وہ دونوں موقع پر ہی جانبحق ہوگئے جب مہرماہ نے سنا تو اسے کوئی جذبہ محسوس نہ ہوا نہ خوشی نہ غم شہریار کے گھر سے جب ابّا اُسے لائے تو تین دن تک اُس سے نہ کچھ کھایا گیا نہ وہ کچھ بول رہی تھی ایک ماہ تک اپنے کمرے میں بند رہی کھانا بھی کمرے میں کھاتی تھی اُن دنوں وہ شدید ڈیپریشن میں تھی زندگی اندھیرے میں نظر آتی تھی شہریار سے اسکی کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی لیکن نکاح کا پاکیزہ بندھن تو تھا ناں اسکی زندگی داؤ پر لگی تھی اور وہ ٹراما اتنا شدید تھا کہ اگلے دس سالوں تک اس نے شادی کا سوچا بھی نہیں۔ معتصم جا کر اسکےکمرے کے سامنے اسے آوازیں دیتا کہ آؤ پہلے کی طرح ہمارے ساتھ بیٹھو مجھ سے باتیں کرو اور اسکی حالت دیکھ کر روتا بھی تھا لیکن وہ نہ باہر آتی نہ کسی سے کچھ بولتی ۔

ایک ماہ بعد وہ اپنے کمرے سے نکلی اور نیچے لاؤنج میں سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھایا سب اُسے کن انکھیوں سےدیکھ رہے تھے کہ شاید وہ اب ڈیپریشن سے نکل آئے ۔

“ابّا !”اسنے کھانے کے بعد ابّا کو مخاطب کیا۔ ”میں گریجویشن کے لئے ملائشیا جانا چاہتی ہوں ” اسکی بات سن کر سب ایک دم حیران ہوئے اور اماں پریشان۔

“ہائےاللّٰہ! کیسے جائیگی اکیلی” اماں الگ ہی پریشانی میں تھیں ۔

“لیکن بیٹا آپ یہیں کسی یونورسٹی میں بھی تو داخلہ لے سکتی ہیں اتنی دور جانا میری سمجھ سے باہر ہے ” اُس نے ابّا کے ہاتھ پکڑے اور کہا ۔

“ابّا میں کچھ عرصہ یہاں سے دور رہنا چاہتی ہوں میرا بھروسہ کریں میں اپنا خیال رکھ لونگی پلیز ابّا میری مینٹل ہیلتھ کے لیے مجھے جانے دیں”ابّا کے ہاتھ پکڑے وہ بڑی لجاہت سے بولی ابّا کو مانتے ہی بنی اماں رونے لگیں اور ساتھ شہریار اور اسکے ماں باپ کو بددعا دینے لگی ۔

“آمنہ اسے جانے دو یہی بہتر ہے اور آئندہ شہریار اور اسکے گھر والوں کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں مردے کا نام نہیں لیتے” ابّا نے حتمی اور تنبیہی لہجے میں کہا۔

مہرماہ چار سال کے لیے ملائشیا چلی گئی جب واپس آئی تو اسکے لیے کتنے ہی رشتے آئے لیکن اس نے ہر رشتے سے منع کردیا اورایک بڑی ملٹی نیشنل آرکیٹیکچرل فرم میں جاب کرتی رہی جب تک ابّا نےخرابی صحت کی وجہ سے اپنی جگہ اُسے پارٹی ٹکٹ دلوا کر ایم پی اے بننے میں مدد کی۔

———————————-

(حال)

مہرماہ اسد کمال کو وہیں چھوڑ کر معتصم کو گھسیٹتی اُسے باہر لے آئی اور ایک طرف نسبتاً خالی جگہ پر لے آئی۔

“معتصم کنٹرول یورسیلف کیا ہو گیا ہے کسی نے دیکھا تو کیا کہیں گے ؟”معتصم بالوں کو مٹھی میں بھرتا آنکھیں بند کرکے گہری سانسیں لینے لگا۔

“وہ تمہارے پیچھے وہاں آیا تھا وہ تمہیں سٹاک کر رہا ہے مہرماہ اگر اس نے تمہیں نقصان پہنچایا ہوتا تو”اسکی آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی مہرماہ اُسے دیکھ کر رہ گئی۔

“میں ٹھیک ہوں سِمی اب تم جاؤ اور المیر کےساتھ بیٹھو آج اسکا دن ہے چلو شاباش ”معتصم نے خفا نظروں سے اُسے دیکھا اور مردانہ طرف چلا گیا وہ خود بھی جا کر اُنزِلا کے پاس بیٹھ گئی ذہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا وہ ویٹرس یقیناً اسد کے کہنے پر اس پر جوس گِرا کر اُسے اندر لے گئی کیوں کہ ابھی وہ غائب تھی۔

——————————

اسد کمال اُس تقریب سے نکل کر بے مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا کیا واقعی مہرماہ شادی شدہ ہے زندگی میں پہلی بار اس نے دل سے چاہا کہ اسکا گھر بسے اسکی بھی فیملی ہو گھر ہو مہرماہ اسکے گھر کی ملکہ ہو زندگی بھر پیسہ کمانے کی دھن میں اسنے سوچا ہی نہیں تھا کہ اُسے بھی کبھی ایک محبت بھرے آشیانے کی ضرورت پڑے گی فون اٹھا کر ملایا۔  

“دانش مہر ماہ کی شادی کس سے ہوئی ہے مجھےسب جاننا ہے ”وہ بہت ہی سرد لہجے میں بولا۔

“لیکن سر اُسکی شادی نہیں”بات منہ میں تھی کہ وہ دھاڑا۔

“اسنے خود بتایا مجھے ،جلد از جلد مجھےساری انفارمیشن چاہیے ”کہتے ساتھ ہی فون بند کر دیا اور ڈیشبورڈ پر پٹخ دیا۔

وہ بہت مضطرب تھا۔

—————————-

معتصم جم سے آکر فریش ہو کر نکلا تھا جب اس نے کھڑکی سےسوئمنگ پول پر کسی کو دیکھا “مہر ماہ” ایک دلنشین مُسکراہٹ اسکے لبوں پر رینگی وہ سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آیا۔

“مہرماہ یہاں کیا کر رہی ہو؟” اس نے پیچھے سے پہنچ کر پوچھا لیکن آگے سے مہرماہ کی جگہ عنایہ کو دیکھ کر اُسے وہیں بریک لگا چونکہ عنایہ نے مہرماہ کے سٹائل میں دوپٹہ لیا ہوا تھا تو اسے غلط فہمی ہوئی ۔

“اوہ !آئی ایم سوری مجھے لگا مہرماہ ہے ” وہ شرمندہ ہو کر پلٹنے لگا۔

“نو! پلیز ہیو اے سیٹ ”عنایہ نے کرسی کی جانب اشارہ کیا کہہ ایسے رہی تھی جیسے گھر معتصم کا نہیں اسکا ہے اور بڑی منت سے بولی معتصم کو بیٹھتے ہی بنی عنایہ المیر کے نکاح کے بعد سے سمیرا کے پاس ہی رک گئی تھی شاید وہ معتصم سے بات کرنے کا کوئی موقع ڈھونڈ رہی تھی۔

“آپکے کیفے کا تھیم مجھے بہت اچھا لگا اٹس اے کوزی پلیس ٹو بی” عنایہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“مہرماہ کا آئیڈیا تھا ڈیزائن بھی اس نے کیا” معتصم نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔

“اوہ نائس ” عنایہ متاثر ہوئی۔

“آپ کسی دن میرے ساتھ کافی پینے چل سکتے ہیں؟” عنایہ نے معتصم سے پوچھا معتصم کچھ لمحے چپ رہا۔

“میں بہت بزی رہتا ہوں اِن دِنوں پتہ نہیں ٹائم نکال پاؤں یا نہیں ” اس نے سہولت سے انکار کر دیا عنایہ اسکے نکھرے خوبصورت چہرے کو دیکھتی رہی کتنا پرکشش مرد تھا وہ پاکستان آنے کے بعد کتنے لڑکوں نے اُسے پیشکش کی لیکن اسکا دل معتصم کے سوا کہیں مانا ہی نہیں لڑکوں سے لندن میں رہ کر بھی ہمیشہ فاصلہ رکھا لیکن معتصم کی بات ہی اور تھی اور وہ تھا کہ اتنی دور رہتا تھا کہ اس تک وہ فاصلہ طے کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

“اس دن کیفے میں ہماری ہیلپ کرنے کے لیے تھینکس ” وہ بولی ۔

“اتنی بڑی بات نہیں تھی وہ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا۔

“مجھے لگتا تھا لندن کے علاوہ مجھے اس دنیا میں کوئی جگہ اچھی نہیں لگے گی بٹ آئی گیس آئی واز رانگ کراچی تو مجھے اور بھی زیادہ اچھا لگ رہا ہے ”وہ ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔

“لندن میں میں بھی رہ چکا ہوں بہت اچھی جگہ ہے اپنے کیلیونری آرٹس کی پریکٹس وہیں سے تو کی ہے ” معتصم پول کو دیکھ رہا تھا جب کہ عنایہ معتصم کو ۔

“ہاؤ سیڈ ہم کبھی ملے کیوں نہیں ” اسے واقعتاً افسوس ہوا معتصم نے کندھے اچکائے اور معذرت کرتا ہوا اندر چلا گیا کہ اب مزید یہاں بیٹھنا اسکے لئے محال ہوگیا تھا لڑکیوں سے زیادہ فرینک ہونے کی عادت اسے نہیں تھی۔

——————————-

ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے سب کھانا کھا رہے جب المیر نے معنی خیز نظروں سے معتصم کو اشارہ کیا مہرماہ اُنکے سامنے بیٹھی تھی تو وہ بھی دیکھ رہی تھی ۔

“کیا مسئلہ ہے کب سے دانت نکالے جا رہے ہو” معتصم نے آہستہ آواز میں پوچھا کہیں ابّا نے سن لیا تو بے عزتی کر دیں گے ۔

“بڑا چھپا رستم نکلا تو” المیر نے معنی خیزی سے بھنویں اچکائے۔

“ اچھا کیا کیا ہے میں نے ؟” اس نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔

“پول کے کنارے چاندنی رات میں لڑکیوں سے بیٹھا کیا باتیں کر رہا تھا تو ” معتصم کا چاولوں کا چمچ لے جاتا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا ۔

“اوہو آخر کار”اب کے مہرماہ بولی ۔

“ایسا کچھ نہیں ہے مہرماہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ”اس نے دبی آواز میں احتجاج کیا ۔

“میں نے بھی دیکھا” مہرماہ نے پلکیں جھپکا کر اُسے دیکھا۔

“سالے تجھے تو میں” معتصم کو المیر پر غصہ آیا۔

“میں کیوں سالا ،وہ تو عنایہ کا بھائی ہوگا تمہارا سالا ” المیر نے اُسے خوب چڑایا اور کافی دیر تک اسکی ٹانگ کھنچتا رہا معتصم نے بہت ضبط کیا لیکن آخر کار بول اٹھا۔

“بس المیر یاد ہے دو دن پہلے میرے کیفے میں تمہیں کچھ پرانی کلاس فیلوز ملی تھیں کیسے بانچھیں کھول کر ہنس رہا تھا باتیں کر رہا تھا سب انزِلا بھابھی کو بتاؤنگا اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دکھا دونگا ” المیر کی پہلے مسکراہٹ سمٹی پھر واضح گھبراہٹ طاری ہوگئی۔

“میرے بھائی ! ایسا غضب مت کرنا میرا گھر برباد ہو جائے گا” ۱۰ سیکنڈ لگے تھے اُسے انسان بننے میں پھر وہ بیٹھا معتصم کی منتیں کرتا رہا اور مہرماہ اس ساری صورتحال سے محظوظ ہوتی رہی ۔

————————————

وہ اپنے آفس چیئر پر بیٹھا لیپ ٹاپ کیبورڈ پر انگلیاں چلا رہا تھا جب دانش دستک دے کر اندر داخل ہوا ۔

”سر آپ نے صحیح کہا تھا وہ شادی شدہ تھی“دانش نے نیوزکاسٹرز کی طرح خبر سنائی اسد کمال نے مصروف سے انداز سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“تھی؟” اسد نے ایک آبرو اٹھا کر اُسے دیکھا۔

“آٹھ دس سال پہلے ہوئی تھی شادی شہریار خلجی نامی شخص سے لیکن وہ آدمی کسی ایکٹریس کا عاشق نکلا اور شادی کے ایک ماہ بعد اسی عورت کے ساتھ کہیں جا رہا تھا کہ روڈ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا” دانش نے قصہ مختصر کرکے سنا دیا۔

“ہمم! انٹرسٹنگ ”اسد کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری ۔

“خیر تم ویئر ہاؤسز میں پہنچے سامان کی لسٹ مجھے دو”اسد کا دل مطمئن ہوگیا تھا دانش اسکے آفس سے نکلا تو اس نے فون اٹھایا اور کال ملائی دوسری بیل پر ہی کال اٹھائی گئی ۔

“اسد میری جان آج میری یاد کیسے آگئی ؟”اسکی ماں نے چھوٹتے ہی شکوہ بھی کیا اور خوش بھی ہوئی۔

“یاد تو نہیں آئی لیکن ایک کام آیا ہے ” اس نے کچھ زیادہ ہی صاف گوئی سے کہا یہ سوچے بغیر کہ آگے سے اسکی ماں کا دل اس بات سے کتنا دکھا ہوگا ۔

“تمہارے کام آؤں یہ تو میری خوش بختی ہے ” لہجہ تھوڑا دکھی ہوا لیکن محبت ابھی بھی بر قرار تھی ۔

“ایک لڑکی ہے مہرماہ سلطان اسکے گھر میرا رشتہ لے کر جانا ہے اور ہاں کروا کر ہی آنی ہے ”

اس نے بات کرتے ہوئے ٹیبل کو انگلی سے بجا کر کہا۔

“کتنی خوشی کی خبر ہے میری جان تم فکر مت کرو میں اپنے بیٹے کی شادی بڑی دھوم دھام سے کرواؤں گی ” انہوں نے کہا تو اسد بس سر ہلا کر کال کاٹ گیا ۔

———————————

آج کل کراچی میں ہلکی گرمی پر رہی تھی اور کراچی کی صوبائی اسمبلی ہاؤس کے اندر اے سی کی ٹھنڈک تھی اسمبلی کا اجلاس ختم ہوتے ہی مہرماہ اور جہانگیر بھائی بیرونی خارجی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے جب اماں کی کال آئی اسے کچھ چیزیں لینے کی ہدایت کی جو مہندی پر رسموں کے لئے چاہیے تھیں۔

“جہانگیر بھائی مجھے معتصم کے کیفے اتار کر آپ گھر چلےجائیں ہمیں کچھ چیزیں لینی ہیں ” فون بند کر کے اس نے جہانگیر بھائی سے کہا ۔

“اچھا لے چلتا ہوں ”جہانگیر بھائی نے ڈرائیورکو کیفےچلنےکی ہدایت دی ۔

کیفےکے سامنے اسے اتار کر جہانگیر بھائی خود چلے گئے وہ کیفے میں داخل ہوئی نیوی بلیو عبایہ اور ہم رنگ سٹول میں سر ڈھکے جسکا ایک پلو پیچھے کی طرف اور ایک پلو سینے پر پھیلایا ہوا تھا بلیک ہینڈ بیگ اور باریک ہیلز میں ملبوس کسی شہزادی کی طرح لگتی تھی وہ چلتی ہوئی کاؤنٹر تک پہنچی جہاں معتصم بیٹھا کیبورڈپر انگلیاں چلا رہا تھا ڈارک جنگل گرین پولو شرٹ کے ساتھ خاکی پینٹ اور جوگرز پہنے وہ بڑا مصروف لگ رہا تھا۔

“مسٹر اونر چائے ملے گی اور آپکا تھوڑا وقت بھی ” کاؤنٹر پر اپنا بیگ رکھ کر وہ معصومیت سے بولی ۔

معتصم نے حیرت سے سر اٹھایا پھر مہرماہ کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں روشنی سی چمکنے لگی ۔

“ ویلکم مادام ” معتصم نے خوشدلی سے کہا“چائے کھانا سب ملے گا تمہیں کیا چاہیے ”۔

“مجھے جو تم خود سب سے اچھا بنا سکو وہ چاہئے اور اسکے بعد تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے ” مہرماہ کاؤنٹر کے سامنے کھڑی گال تلے ہاتھ رکھے بولی ۔

“آپکا حکم سر آنکھوں پر بس دو منٹ” کمپیوٹر بند کرکے وہ مہر ماہ کو لے کر کچن میں آیا اسکا اسٹاف جو کچن میں کام کر رہا تھا ان دونوں کو دیکھ کر ان میں معنی خیز نظروں کا تبادلہ ہوا ۔

“آج میں تمہارے لیے اپنا موسٹ فیمس بیف مشروم کلاؤڈ برگر بناؤنگا ”ایپرن پہنتے ہوئے اس نے شوخی سے کہا ۔

“بیف ہو ڈونکی نہ ہو”مہرماہ نے منہ بنایا۔

“خود اپنے سامنے کٹواتا ہوں خدا کی بندی اتنا تو بھروسہ رکھو ”اسنے واقعی میں برا مانتے ہوئے کہا۔

“اوہ سوری اوکے اوکے ” مہرماہ نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے۔

مہرماہ اطراف کا جائزہ لینے لگی کچن بہت اچھا مینیج کیا ہوا تھا صاف ستھرا تھا معتصم اور المیر نے کام اچھا سنبھالا تھا اُسے دیکھ کر فخر ہونے لگا ۔

“ کال کرکے بتا دیتی کہ آرہی ہو ”معتصم نے برگر پیٹی گریل کرتے ہوئے ہوئے کہا۔

“مجھے پتہ تھا تم یہیں ہو تمہاری لوکیشن مجھے مل گئی تھی ” اس نے اپنی گھڑی کی طرف اشارہ کیا پھر اسکی گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔

“ہمم جاسوسی ”اس نے شرارتی نظروں سے مہر ماہ کی طرف دیکھا ”اچھا مہندی پرسوں ہے ناں ”اس نے پیٹی پر مشروم ساس ڈالا اور چیز ڈال کر بن ساتھ گرل کرنے لگا کچن میں گرلنگ کی وجہ سے دھواں سا اٹھنے لگا تو مہر ماہ کو ہلکی کھانسی آئی ۔

“ہاں اور تم جلدی ہاتھ چلاؤ مجھے بھوک لگی ہے اور ہم نے بازار بھی جانا ہے” وہ اسکے ہاتھوں کو مہارت سے کام کرتےہوئے دیکھنے لگی ۔

کیفےکے اندر ایک ٹیبل پر وہ جا کر بیٹھ گئی جبکہ معتصم اسکے لیے برگر فرائز کولڈ ڈرنک خود لا کر سرو کررہا تھا ۔

پھر ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گیا۔

“تم بھی ساتھ کھاؤگے ” اسکو بھی زبردستی کھلایا پھر اسکے بعد وہ مارکیٹ کی طرف گئے جہاں شادیوں کا سامان ملتا تھا نسبتاً ایک کھلی جگہ پر گاڑی پارک کر کے وہ دونوں بازار میں خوب گھومے ۔

“تمہارے پیروں میں درد نہیں ہو رہا مہرماہ”معتصم سامان اٹھائے اسکے ہیلز کی طرف دیکھتا بولا۔

“اصل میں ہیل پہننے کے لئے پریکٹس ضروری ہے اور کسی اچھی کمپنی کا جوتا پیر خراب نہیں کرتا لیکن پچھلے ایک گھنٹے سے میں ہیلز میں پھر رہی ہوں تو ہاں میرے پیروں میں درد ہو رہا ہے ”

“مطلب خواتین اپنے شوق کے لیے درد بھی برداشت کر سکتی ہیں ” معتصم کو ذرا بھی مزہ نہیں آیا اس بات سے اور مہر ماہ نے مسکرا کر کاندھے اچکائے تب ہی اماں کی کال آئی اور اماں نے بہت جلدی میں مہر ماہ کو گھر آنے کو کہا کہ انکی کوئی مہمان آئی ہیں وہ اور معتصم گھر کے لیے نکل گئے ۔

————————————-

“آپکی بیٹی ابھی تک نہیں آئی ” زمرود ٹانگ پر ٹانگ رکھے صوفے پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی لائٹ گرے رنگ کے سوٹ میں دوپٹہ سر پر لیے تھوڑی سی فربہ اس عمر میں بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جوانی میں بہت حسین رہ چکی ہے ۔

“میری بیٹی اصل میں اپنے بھائی کی شادی کا سامان لینے گئی ہے ظاہر ہے شادیوں کا سامان لینے میں وقت تو لگتا ہے ” آمنہ بیگم بھی انکے ساتھ والے صوفے پر بیٹھی تھیں پتہ نہیں کیوں آمنہ کو یہ عورت بڑی مغرور سی لگی اُجالا چائے سرو کر رہی تھی جب مہر ماہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی بازار سے آکر پہلے اسنے کپڑے بدلے پھر نیچے آئی ڈسٹی روز پنک لمبی قمیض ساتھ کھلا ٹراؤزر قمیض کے چاکوں پر کپڑے کے رنگ کا کام تھا دوپٹہ سر پر اوڑھے اسکی شولڈر کٹ بال کھلے تھے ہاتھوں میں ایک سلور گھڑی اور سلور بریسلٹ زمرود سے مصافحہ کر کے وہ دوسرے صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور کہنی صوفے کے ہتھے پر رکھ کر زمرود کی طرف متوجہ ہوئی ۔

“جی بتائیے میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں ” مہر ماہ کے پاس آئے روز لوگ اپنے مسائل حل کروانے آتے تھے اس لیے اسے لگا شاید یہ بھی اپنا کوئی مسئلہ حل کروانے آئی ہیں جبکہ زمرود اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھیں اسکے پوچھنے پر مسکرائی اور اٹھ کر اسکے ساتھ والے صوفے پر آکر بیٹھی ۔

“میں اسد کمال کی ماں ہوں اور آپ سے ملنے آئی ہوں ” انہوں نے مسکرا کر اسکا ہاتھ پکڑا آمنہ وہاں نا سمجھی سے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی مہر ماہ سمجھ آگئی کہ یہ یہاں کیوں آئی ہے ۔

“اچھا تو آپ کو اسد کمال نے بھیجا ہے ” مہر ماہ نے پوچھا ۔

”ہاں تمہارے لیے بھیجا ہے ” پھر انہوں نے رُخ آمنہ بیگم کی طرف موڑا اور بڑے التجائیہ انداز میں کہا ۔

“دیکھیے آمنہ بہن میں اپنے بیٹے کے لیے آپکی بیٹی کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں ” اور پھر زمرود جب تک بیٹھی تھی اپنے بیٹے کی تعریفوں کے پُل باندھتی رہیں اور مہر ماہ چپ چاپ گال تلے ہاتھ رکھے سنتی رہی اور آمنہ کو تو وہ کوئی خاص پسند نہیں آئیں انکے جانے کے بعد آمنہ کچن میں تھیں صالحہ بھی وہیں تھیں جب معتصم وہیں آیا اور اپنے کھانے کا پوچھنے لگا ۔

“رات کو کیا کھلاؤ گی میری مادرِ محترم ” جبکہ اس نے دیکھا نہیں صالحہ کا چہرہ خاصہ بھجا سا تھا۔

“ویسے کون آیا تھا ”اسے شاید بھوک لگی تھی تب ہی فریج کھولے سامنے کھڑا تھا لیکن اسکے ڈائٹ کے حساب سے کچھ بھی نہیں پڑا تھا اس لیے واپس بند کر دیا ۔

“ایک خاتون آئی تھیں مہر ماہ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لینے ”اماں نے کہا تو معتصم ایک دم سیدھا ہو گیا ۔

“کون ہیں کس کا رشتہ ” رشتے تو اب بھی کتنے آئے تھے لیکن مہرماہ نے سب ریجیکٹ کر دیے تھے اس لیے اسے تھوڑی تسلی تھی ۔

“اسد کمال کا رشتہ ہے بیزنس مین ہے بہت سارے بیزنس ہیں اسکے جہانگیر بھی جانتا ہے اُسے ” اماں جب کہہ کر مڑی تو معتصم وہاں نہیں تھا پھر سر جھٹک کر اپنے کام میں لگ گئیں ۔

———————————-

کمرے میں ایسٹھیٹک لائٹ کا پُرفسوں ماحول تھا پنکھا ہلکا چل رہا تھا وہ نماز پڑھ کر دعا مانگ رہی تھی جب دروازے پردستک ہوئی وہ ابھی جائے نماز میں ہی بیٹھی تھی کہ دو سیکنڈ بعد پھر دستک ہوئی وہ اٹھی دوپٹہ کھول کر گلے میں ڈالا ہی تھا کہ دروازہ دھڑام سے کھلا مہرماہ کو جھٹکا سا لگا اور دروازے پہ کھڑے معتصم کو دیکھنے لگی۔

“کیا ہوا خیریت ؟”وہ گھبرا گئی تھی کہ کہیں کچھ ہو گیا ہے کیا ۔

“وہ اسد کمال! اس نے کیوں تمہارے لیے رشتہ بھیجا ہے؟ ” خوف وحشت کچھ کھو دینے کا اندیشہ سب کچھ تھا اسکی آنکھوں میں مہرماہ بھنویں بھینچے اسے غور سے دیکھنے لگی پھر ہنس دی ۔

“اب مجھے کیا پتہ کیوں بھیجا ہے یہ تو میں خود بھی نہیں جانتی اور تم اس طرح میرے کمرے کیوں آئے؟ ”مہرماہ اپنے کائوچ پر بیٹھ گئی اور اپنا لیپ ٹاپ کھولنے لگی اسکے کندھوں تک آتے اسٹریٹ بال بھی اسکے جھکنے پر اُسکے چہرے پر گرے جنہیں اس نے ہاتھ سے پیچھے ہٹایا ۔

“تم اسے ہاں کر دو گی ؟“ ابھی بھی وہی لہجہ وہی آنکھیں ۔

“ایبسولیوٹلی ناٹ ” مہرماہ نے اسکی طرف مسکرا کر دیکھا ۔

“سچ بول رہی ہو ناں ”۔

“سو فیصد ” مہر ماہ نے کہا تو اس نے گہری سانس بھری مہرماہ اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگئی اور معتصم بھی مطمئن ہو کر اسکے کمرے سے باہر نکل گیا ۔

———————————-

المیر کی مہندی کا فنکشن گھر کے پچھلی طرف انکے اپنے خالی پلاٹ میں منعقد ہوا ایونٹ آرگنائزرز نے جگہ کو بہت خوبصورتی سے سجایا تھا سٹیج کو مہندی تھیم کے حساب سے خوبصورت رنگین پھولوں اور قمقموں سے سجایا تھا دولہا دلہن کی اینٹری ہوئی المیر نے کالے شلوار قمیص کے اوپر مرون اور بلیک پرنٹڈ ویسٹ کوٹ پہنا تھا جبکہ اُنزِلا نے ایمرالڈ گرین لہنگا جس میں شوکنگ پنک اور پرپل کے امتزاج کا کام تھا دونوں ایک ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے المیر تھوڑی دیر انزِلا کے پاس بیٹھ کر مردانہ طرف چلا گیا اس بار بھی فوٹوگرافر بھی خواتین تھیں ویٹرس ،ڈی جے بھی لڑکی تھی ۔

مہرماہ نے زنک بلیو اور رائل بلیو کے امتزاج کا کام والا لہنگا پہنا تھا ساتھ میں شوکنگ پنک کام والا دوپٹہ بالوں کو ٹوِسٹ کرکے ہاف باندھے اور کانوں میں بالیاں جو اسکےلہنگے سے ملتے تھے نفاست سے کیا میک اپ چہرے پر لگا ہائی لائٹر اسکے چہرے کو چمکا رہا تھا مہندی کی تقریب اچھی خاصی رونق بھری تھی ۔

معتصم انتظامات کاجائزہ لینےکے لئے خواتین کی قناتوں کی پچھلی طرف جہاں خواتین کے لئے کھانا سیٹ کیا جا رہا تھا انتظام دیکھنے آیا تھا مہندی کے تھال بھی یہیں رکھے تھے معتصم نے بھی کالا جوڑا پہن رکھا تھا ساتھ میں سرخ سبز کالے رنگوں کا جیومیٹریکل پیٹرن والی شال ایسی پہنی رہی کے اسکا ایک پلو سینے پر اور دوسرا پلو پیچھے گرا تھا سلیقے سے بنے بال ہلکی بڑھی داڑھی اسے بہت وجیہہ اور پرکشش بنا رہی تِھیں۔

“معتصم کھانے میں کتنا ٹائم ہے ” رُباب نےپوچھا جو ابھی اسی طرف آئی تھی رُباب جہانزیب اور انکے بچے رات کو پہنچے تھے۔

“بس بھابھی ۱۰منٹ ” کہتے ساتھ ہی اس کی نظر رُباب کےپیچھے سے آتی مہرماہ پر پڑی نور کا ہالہ لگ رہی تھی نظریں پلٹنے سے انکاری ہوگئیں مہر ماہ عمر میں اکتیس سال کی تھی لیکن بہت عمر چور تھی اور اسکا سٹائل اسے سب سے منفرد بناتا تھا ۔

“ماشاءاللہ ” مہرماہ نے بےاختیاراُسے دیکھ کر کہا۔

“رباب مہندی کی رسم ہوگی پھر کھانا لگے گا اماں کہہ رہی ہیں دیر ہو رہی ہے ” مہرماہ آگے بڑھ کر مہندی کے تھال میں موم بتیاں لگانے لگی ۔

“اجالا ماچس دینا” اجالا ماچس لے آئی مہرماہ نے موم بتی جلائی قنات سے باہر ہوا چلنے کی وجہ سے وہ بجھنے لگی تھی کہ مہرماہ نے جلدی سے اپنے دونوں ہتھیلیوں کے حصار میں اُسے بچانا چاہا اور اسی وقت معتصم نے بھی ہتھیلیاں آگے کرکے بچانا چاہا اور مہرماہ کی ہتھیلیاں معتصم کی ہتھیلیوں کے حصار میں آگئیں بے اختیار دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور معتصم کی آنکھوں میں محبتوں کا ایک جہاں آباد تھا وہ ایک خود سر لمحہ تھا بس مہر ماہ کی بڑی بڑی سنہری آنکھیں جھک گئیں معتصم نے بھی شہد رنگ آنکھوں کا زاویہ بدل دیا مہرماہ رُباب اور اجالا مہندی کے تھال اٹھا کر چلی گئیں اور معتصم اس لمحے کی قید میں وہاں تب تک بیٹھا رہا جب ہیڈ ویٹرس نے آکر کھانا لگانے کا پوچھا تو معتصم نے اسکو ہدایات دیں اور اپنےبالوں میں انگلیاں چلآتے ہوئے گہری سانس بھری۔

“مجھے آج ہی مہرماہ سے بات کرنی ہوگی تاکہ اگلے ہفتے تک ہمارا نکاح ہو جائے”۔ وہ خود سے کہنے لگا ۔

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *