قسط نمبر 10
معتصم نے اُسکی کال اٹھائی تو اُسے فون گرنے اور گاڑی کی آواز آئی وہ بھاگتا اسکے کمرے تک آیا وہ وہاں نہیں تھی وہ اُسے بار بار کال ملا رہا تھا لیکن وہ اٹھا نہیں رہی تھی سارے گھر میں ڈھونڈا لیکن وہ کہیں نہیں تھی عجیب سا خوف اور اندیشے اسکے دل کو گھیرے ہوئے تھے کہیں کچھ غلط تھا گارڈن کی طرف آیا کال ملائی لیکن وہ نہیں تھی ۔
“کہاں چلی گئی تم مہرماہ”اندھیرے میں ٹہلتا یہاں سے وہاں وہ کہہ رہا تھا کہ اُسے فون بجنے کی آواز سنائی دی آواز گیٹ کے باہر سے آرہی تھی آواز کا تعاقب کرتے وہ گیٹ کے باہر آیا سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اُسے اپنے خدشے درست ہونے کا انکشاف ہوا مہرماہ کا فون گیٹ سے تھوڑے فاصلے پر باہر گرا تھا گارڈ کہیں نظر نہیں آرہے تھے گیٹ ڈیوٹی پر دو گارڈز تعینات تھے ایک تو جہانگیر بھائی والے پورشن کی طرف دوسرا انکے پورشن کی طرف گارڈ غائب تھا اور جہانگیر بھائی کے پورشن والا گارڈ اپنے کیبن کے اندر بیٹھا چائے پی رہا تھا معتصم اسکے کیبن گیا وہ آرام سے بیٹھا تھا۔
“الطاف وہ ہماری طرف والا گارڈ کہاں ہے اور سیکورٹی گارڈز کدھر ہیں ” معتصم غم و غصّے میں بھرا ہوا تھا اس پر گرج کر بولا ۔
“سر جی وہ ابھی تو وہیں بیٹھا تھا اسکا کوئی دوست آیا تھا اس سے بات کر رہا تھا اور سیکورٹی گارڈز تو جب آپ بیرون ملک گئے وہ اپنی ڈیوٹی پر واپس چلے گئے” گارڈ بیچارہ گھبرا کر اپنی سیٹ سے اٹھا اور معتصم پر ایک نیا انکشاف تھا کہ گارڈ بھی یقیناً ملا ہوا تھا وہ بھاگتا ہوا اندر گیا اسٹڈی میں سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کر کے اس کے بدترین خدشے نے سچ ہو کر دکھایا مہرماہ کو کوئی لے گیا تھا وہ گھر میں کسی کو نہیں بتا سکا کیا کرے ذہنی صلاحیت جیسے مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اگر بات نکلی تو مہرماہ کی بدنامی ہوگی وہ پھربھاگتا ہوا باہر کو آیا جب انزلا اُسے ملی ۔
“ارے آپ گئے نہیں مہرماہ تو کب کی باہر نکل گئی”اُنزِلا نے اُسے حیرت سے دیکھا ۔
“ہاں بس نکل رہا ہوں کیا کہا مہرماہ نے”وہ اپنی گھبراہٹ اور تیز ہوتی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے بولا فکر اور پریشانی اسکے وجود کو دیمک کی طرح کھائے جا رہی تھی ۔
“وہ کہہ رہی تھی کہ معتصم کی کال آئی ہے کہ باہر آجاؤ ”۔
“دیکھو انزِلا ہمیں دیر ہو سکتی ہے تو تم سنبھال لینا ”انزِلا کے جواب دینے سے پہلے ہی وہ باہر کی طرف بھاگا۔
اس نے شعیب کو کال کر کے سب سچ بتایا شعیب نے اُسے پولیس اسٹیشن بلایا تاکہ وہ انکے ایریا کی cctv فوٹیج نکلوا کر دیکھیں اسکے جسم سے جان نکلی جا رہی تھی اسکی مہرماہ کو کوئی کیسے اٹھا کر لے گیا ۔
“شعیب یہ اسد کمال کی حرکت ہے میں آج اسے زندہ زمین میں گاڑھ دونگا اسکی ہمت کہ اس نے میری عزت میری بیوی کو اٹھایا ہے میں اسکی زندگی جہنم بنا دونگا”وہ شعیب کے آفس میں یہاں سے وہاں ٹہلتا غصّے میں بھرا بول رہا تھا ۔
“تم بیٹھو تو صحیح کچھ نہ کچھ پتہ چل جائے گا دعا کرو”شعیب اسے تسلی دیتا پانی کا گلاس اسے تھما رہا تھا۔
“اگر مہرماہ کا فون انکے پاس ہوتا تو تو ہم انہیں ٹریک کر سکتے تھے ”شعیب سوچتے ہوئے سی سی ٹی وی چیک کرتے ہوئے بولا جس میں ایک دو گلیوں بعد وہ گاڑی غائب ہو جاتی ہے۔
اچانک معتصم کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا معتصم نے جلدی سے اپنی گھڑی دیکھی جس سے مہرماہ کی لوکشن ٹریس ہو سکتی تھی ۔
“شعیب مہرماہ کی گھڑی میری گھڑی سے سِنک ہے اسکی لوکیشن مجھے مل سکتی ہے بس پاس کوئی وائےفائے ہو ” معتصم نے جلدی سے اپنے فون پر وہ ایپ آن کی جس سے مہرماہ کا سمارٹ واچ ٹریک ہو سکتا ہےلیکن وہاں کوئی ٹریکنگ سگنل نہیں تھا پریشانی اُسکے دل و دماغ پر چھائی تھی اُسے لگ رہا تھا وہ انگاروں پر لوٹ رہا ہے کانٹوں پر چل رہا ہے اذیت بیاں سے باہر تھی اسکی مہرماہ کو وہ شخص لے گیا تھا ۔
———————— ————
مہرماہ کو جب گاڑی میں زبردستی بٹھایا گیا تو وہ بہت چیخی معتصم کو ابّا ،المیر کو بہت آوازیں دیں لیکن گاڑی جب گھر سے کافی دور آگئی تو سسکتے ہوئے اُسکی نظر اپنے سمارٹ واچ پر پڑی تو اسے امید سی ملی کہ شاید معتصم کو اسکی لوکیشن مل جائے وہ چپ کر گئی دل ہی دل میں اللّٰہ سے دعائیں مانگنے لگی ۔
“اے اللّٰہ تو رحیم ہے کریم ہے مجھے صحیح سلامت باعزت میرے گھر واپس پہنچا دے”دل ہی دل میں دعائیں مانگتی وہ کانپ رہی تھی ساتھ والی سیٹ پر ایک بھاری بھرکم آدمی جسے اسکے دوست دانش کے نام سے بُلا رہے تھےاور سامنے کی سیٹ پر دو لوگ بیٹھے تھے جن میں سے ایک وہ گارڈ تھا جسکو اس نے صبح گھر کے باہر دیکھا تھا یقیناً یہ نیا گارڈ تھا جو اسکے جاپان جانے کے بعد رکھا گیا ہو گاڑی کے شیشے کالے تھے اس لیے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اندر کون بیٹھا ہے ایک گھنٹے بعد گاڑی رکی وہ سب اترے آخر میں اُسے اترنے کو کہا ۔
“کوئی چالاکی مت کرنا ایم پی اے صاحبہ بہت برا ہوگا آئیے اس طرف” بہت ہی سرد اور سفاک لہجے میں کہتا وہ نیچے اترا وہ آگے چلا اور مہرماہ ابھی تک اپنی نکاح کے جوڑے میں ملبوس تھی شکر نکلتے ہوئے اس نے چادر لے لی تھی چادر سے خود کو لپیٹ کر وہ اندر کی طرف گئی جہاں وہ آدمی گیا تھا سمندر کنارے یہ کوئی دو منزلہ بنگلہ تھا جسکے اندر وہ جا رہی تھی ڈر گھبراہٹ اپنی عزت کا خوف اُسکا دل چیخیں مارنے کو کر رہا تھا لیکن وہ جانتی تھی کوئی فائدہ نہیں اندر اُسے ایک لاؤنج سے گزار کر ایک کمرے میں لے آئے اور کمرہ لاک کر دیا کمرے میں ایک بیڈ ایک تھری سیٹر صوفہ رکھا تھا اور ہلکے سے پردے لگے تھے اور ایک ٹیوب لائٹ جل رہا تھا باہر پورا اندھیرا ہو چکا تھا اس نے جلدی سے اپنی گھڑی دیکھی فائنڈ اے وائی فائی کا آپشن پریس کیا شاید اس بنگلے میں ایک وائی فائی تھا بہت دعائیں کی اس نے کہ اللّٰہ کرے کنیکٹ ہو جائے اور وہ کنیکٹ ہو گیا اور اب سیگنل معتصم کو مل جائے گا کہ اسکی لوکیشن کیا ہے ایک طمانیت کا احساس اسکے رگ و پے میں صراعت کر گیا اس نے گھڑی اپنے آستین میں چھپا دی وہ صوفے پر ڈھے گئی کہ اسکی ٹانگیں اُسکا بوجھ اٹھانے سے انکاری تھیں پتہ نہیں امّاں ابّا کا کیا حال ہوگا اور معتصم آج ہی تو ہمارا نکاح ہوا اور آج ہی زندگی میں یہ طوفان سارے خاندان میں خبر پھیل گئی ہوگی سوچوں کا ایک لامتناہی سمندر اسکے سامنے ٹھاٹیں مارنے لگا وہ پھر سے جھولی پھیلا کر اللّٰہ سے دعائیں مانگنے لگی آنسوں گالوں سے لڑھک کر رخساروں پر بہنے لگے تب ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی اس نے دروازے کی طرف دیکھا اسد کمال اندر آیا اور صوفے کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا بالکل مہرماہ کے سامنے مہرماہ کا دل کیا اسکی گردن دبوچ لے لیکن وہ اُسے کسی بھی طرح اکسا کرکوئی رسک نہیں لے سکتی تھی مہرماہ کو دلہن کے لباس میں دیکھ کر وہ مبہوت سا اُسے دیکھے گیا ۔
“کیوں لائے ہو مجھے یہاں ” مہرماہ نے غصے سے چبا چبا کر پوچھا ۔
“مہرماہ صاحبہ زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مجھے کوئی لڑکی پسند آئی ہو اور وہ مجھے نہ ملی ہو اور آپ تو وہ ہیں جس کو میں اپنے گھر کی ملکہ بنانا چاہتا ہوں پہلی عورت جسے دیکھ کر مجھے بھی ایک گھر بسانے کی خواہش ہوئی لیکن محترمہ آپ کے تو نخرے ہی نہیں ختم ہوتے اتنی دولت ہے میرے پاس کہ آپ دنیا کے جس خطے میں کہو گی میں آپکے لئے گھر بنا دونگا بس ایک بار میری ہو جاؤ دنیا تمہارے قدموں میں بچھا دونگا ”وہ جذب سے کہتا مہرماہ کے سامنے بیٹھا اسے اپنی نظروں میں لئے بہت محبت سے بول رہا تھا مہرماہ کو اسکی نظریں کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھیں ۔
“اپنی نظریں نیچی کرو اسد کمال ”مہرماہ غصے سے بولی اس کی اذیت ہر گزرتے لمحے بڑھتی جا رہی تھی۔
“میں کیا کروں کتنا ترسا ہوں آپ کو دیکھنے کے لیے مہرماہ اور آپ آج کتنی حسین لگ رہی ہیں یہ تو میرے دل سے پوچھیں یاد ہے ناں ہماری بات پکی ہو گئی تھی مجھے پتہ ہے آپکا دل ٹوٹا ہے میرے جانے سے اورآپ بیرون ملک چلی گئیں ” اسد نے بڑے جذب سے کہا مہرماہ کو اسکے وجود سے کوفت محسوس ہو رہی تھی اور وہ تھا کہ محبت کی داستان سنائے جا رہا تھا کالے ڈریس شرٹ اور کالی پینٹ میں وہ اپنی تمام تر وجاہت لیےاسکے سامنے بیٹھا تھا لیکن اسکے دل میں اس شخص کے لیے سوائے نفرت کے اور کوئی جذبہ نہ تھا۔
” لیکن مجھے تمہاری محبت سےکوئی دلچسپی نہیں ہے تمہارے لیے یہی بہتر ہے مجھے میرے گھر چھوڑ دو اور آئندہ میری زندگی سے دور رہو ” وہ نفرت بھرے غصے سے بولی جسے سن کر ایک لمحہ وہ خاموش رہا پھر قہقہہ لگا کر ہنسا ۔
“گھر تو اب آپکا یہی ہے کیوں کہ میں آپ سے تھوڑی دیر میں نکاح کرنے والا ہوں ”اس نےاپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا “آپکو لیگل طریقے سے لے جاؤنگا میری بیوی کی حیثیت سے تو نکاح کرنا ضروری ہے ”کندھے اُچکاتا وہ اسکے سامنے آکر جھک کر کھڑا ہوگیا جبکہ اسکے تو پیروں سے زمین صحیح معنے میں زمین کھسک گئی تھی ۔
————————————
معتصم آدھےگھنٹے سے پولیس اسٹیشن میں بیٹھا سی سی ٹی وی میں وہ گاڑی ڈھونڈتا کبھی اپنے فون میں مہرماہ کی لوکیشن ڈھونڈتا اچانک فون پر بیپ کی آواز آئی معتصم نے چیک کیا تو مہرماہ کی لوکیشن آرہی تھی کلک کر کے زوم کیا تولوکیشن ٹرٹل بیچ کی آرہی تھی۔
“شعیب یہ دیکھو لوکیشن آگئی ٹرٹل بیچ جلدی چلو ”معتصم بھاگتے ہوئے نکلنے لگا شعیب نے روک کر اسے بلٹ پروف جیکٹ پہنائی گن اسکے ہاتھ میں تھمائی پھر اپنے ساتھ نفری اٹھائی اور ٹرٹل بیچ کی طرف گاڑی بھگانے لگا ۔
وہ جلد از جلد مہرماہ تک پہنچنا چاہتا تھا پتہ نہیں وہ کس حال میں ہوگی آج ہی تو وہ اسکی ہوئی تھی اور آج ہی وہ اس سے دور کر لی گی۔
“میں چاہتی تھی تم مجھے ڈھونڈو”جاپان میں کہی گئی اسکی بات یاد آئی گاڑی کی رفتار اور بڑھائی۔
”اوہ مہرماہ میری مہرماہ”وہ اسٹیرنگ میں ہاتھ مارتا کبھی اپنے بال نوچتا جان سولی پر لٹکی معلوم ہوتی تھی گاڑی تیزی سے ٹرٹل بیچ کی طرف رواں تھی۔
————————————-
“میرا نکاح ہو چکا ہے ” وہ کھڑی ہو کر چلائی
“اوہ پلیز مہرماہ اس شادی کی حقیقت مجھے اچھے سے معلوم ہے مر چکا ہے وہ آدمی جس سے تمہارا نکاح ہوا تھا تو پھر اب تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ” ہاتھ سے مکھی اڑاتا وہ بولا اور ویسے بھی اسد جیسے لوگوں کے لیے پاکیزہ رشتوں کی کیا اہمیت تھی یہ تو اسکی بہن کی حالتِ زار دیکھ کر ہی پتہ چلتا ہے۔
“میرا نکاح آج ہوا ہے اور میرا شوہر آئیگا اور تمہارے ٹکڑے کر دیگا ” مہرماہ دھاڑ کر بولی۔
“جھوٹ بول رہی ہو تم ”اسد سرد و سپاٹ لہجے میں بولا ۔
“کیا میں آج ایک دلہن کے لباس میں نہیں کھڑی ” اسد نے پھر سے اسکےلباس پہ غور کیا۔
“کون ہے وہ میں اسکی جان لے لونگا ” وہ بھی جواباًبہت غصّے سے بولا۔
“وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا وہ میری محبت ہے اور میں اسکی وہ معتصم سلیمان خان ہے اسد کمال میں معتصم کی بیوی ہوں ” اسد کمال ششددر رہ گیا مہرماہ نے بڑے مان سے سر اٹھا کر کہا کچھ لمحے وہ اسے دیکھتا رہا پھر جب بولا تو آواز بہت سرد اور سپاٹ تھی۔
“تو پھر دیکھنا پہلے اسکے سامنے میں تمہیں مارونگا اور پھر اُسے ” اسد کمال اسے گھورتا باہر نکلا اور دروازہ اتنی زور سے مارا کہ لگا ٹوٹ کے گر جائےگا ۔
مہرماہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ایسا تو اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا وہ اپنی گھڑی دیکھنے لگی کہ کب معتصم آئے گا۔
————————————
شہر سے ٹرٹل بیچ تک پہنچنے میں عموماً ایک گھنٹہ لگتا ہے لیکن معتصم نے یہ سفر آدھے گھنٹے میں طے کیا مطلوبہ لوکشن تک پہنچ گئے تو دور ہی ایک دیوار کے پیچھے گاڑی روک دی جیسے کوئی پرانے گھر کا کھنڈر ہو پولیس اسکے پیچھے تھی بیچ پر ایسے بنگلے عموماً بہت دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن جس لوکیشن پر وہ پہنچا تھا وہاں صرف ایک ہی بنگلہ تھا آس پاس کی جگہ خالی تھی یہاں بھی باہر دو بندے بیٹھےتھےبندوقیں لے کر شعیب اور پولیس کی گاڑیاں بھی آکر دور ہی رک گئی ایسے کہ وہ گارڈز کو دیکھ سکتے تھے لیکن گارڈز انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے ۔
“دیکھو انکے پاس بندوقیں ہیں ” شعیب نے معتصم کو اشارے سےبتایا ایک سنائیپر کو آرڈر دیا اس نے تاک کے نشانہ ان گارڈز پر لگا کر انہیں ڈھیر کر دیا ۔
فائر کی آواز سن کر دانش اور اسد الرٹ ہو گئے۔
“دانش تم جا کر دیکھو میں ذرا اسے دیکھ لوں” اسد نے اسے باہر جانے کو کہا اور خود جس کمرے میں مہرماہ تھی اس طرف بڑھ گیا دانش اور اسکے ساتھی کل ملا کر آٹھ لوگ تھے جب وہ باہر نکلے تو پولیس پہلے سے انکے لیے گھات لگائے بیٹھی تھی انکے باہر آتے ہی ان پر دھاوا بول دیا انہیں زدوکوب کرکے انہیں زخمی کر کے زمین پر ڈھیر کر دیا معتصم راستہ صاف ہوتے ہی اندر کی جانب بھاگا اسکے پیچھے پولیس نے سارے کے سارے کمرے دیکھ لیے آخر میں جس کمرے کے سامنے رکا وہ جانتا تھا وہ یہیں ہے پنجوں کے بل بیٹھ کر کی ہول سے دیکھا اسد کمال کھڑا تھا اسکے ہاتھ میں گن اور مہرماہ زمین پر بیٹھی رو رہی تھی اور مہرماہ کے سر پہ اسنے پستول تانی ہوئی تھی۔
”سوری مہرماہ لیکن معتصم سے نفرت تمہاری محبت سے کئی زیادہ ہے ” اسد کمال زہریلے لہجے میں کہہ رہا تھا معتصم یہ منظر دیکھ کرغُصّے سے اُبلنے لگا اور سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دروازہ دھاڑ سے کھول کر ایک دو تین چار فائر کیے ایک گولی اسد کے پستول پکڑے ہاتھ پراور باقی تین گولیاں سیدھے اس کی ٹانگوں پر لگیں مہرماہ کی ہذیانی چیخیں بلند ہوئیں اسد کمال کا سارا دھیان مہرماہ کی طرف تھا سنبھلنے سے پہلے ہی گولیاں کھا کر ڈھیر ہوچکا تھا اور کرّاہ رہا تھا خون کا تالاب اسکے نیچے بہنے لگا معتصم بھاگ کر مہرماہ کے پاس آیا اُسے بازوؤں سے پکڑ کر کھڑا کیا ۔
“مہرماہ سب ٹھیک ہے ”وہ اُسے بازوؤں سے پکڑے کھڑا تھا مہرماہ کو لگ رہا تھا معتصم کی آواز دور کسی کنویں سے آرہی ہے وہ بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی اور پھر اسکے بازو پر سر ٹکا دیا۔
“اوہ معتصم مجھے ایسا لگا میں نے پانے سے پہلے تمہیں کھو دیا ” اور پھر وہ رونے لگی “میں بہت ڈر گئی تھی ”روتے ہوئے کہنے لگی خود معتصم کے بھی جیسے جسم سے جان نکلی ہوئی تھی کتنا ڈر گیا تھا اسکے کے لیے وہ مہرماہ کو وہاں سے نکال لایا جبکہ پیچھے سب شعیب علی بخاری نے سنبھالا اسد شدید زخمی ہو چکا تھا لیکن قانون کی حراست میں تھا ۔
مہرماہ کا نام منظرِعام پر نہیں آیا تین گھنٹے کے اندر اس نے مہرماہ کو بازیاب کرایا اور سیدھا گھر لے گیا کہ گھر میں کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور اس نے مہرماہ کو بھی یہی تاقید کی کہ کسی کو کچھ نہیں بتانا خوش قسمتی نے آج انکا ساتھ دیا بہت بڑے طوفان سے اللّٰہ نے انہیں بچا لیا کبھی کبھی زندگی میں ایسے حالات اور واقعات رو نما ہوجاتے ہیں کہ ہوتا تو بڑا کڑا وقت ہے لیکن ہمارے پیاروں کی اہمیت اور محبت ہمارے دل میں کتنی ہے ہمیں بتا دیتی ہیں ۔
———————————————
(چار سال بعد)
وہ ایک تین سالہ بچی کو اپنی پیٹھ پر اٹھائے اور اسی عمر کے بچے کا ہاتھ پکڑےپتھریلی روش پر تیز تیزچل رہا تھا پیچھے مڑ کر دیکھا تو مہرماہ آہستہ قدم اٹھاتی ان سے کافی پیچھے رہ گئی تھی سفید رنگ کی میکسی اور سر پر کالا اسٹول لئے وہ انہیں دیکھتی مسکراتے ہوئے تھوڑے تیز قدموں سے چلنے لگی
”مومی پلیز جلدی آئیں ہماری ٹرین چُھٹ جائے گی ”تین سالہ ازلین نے ہانک لگائی۔
”you can do it mommy“ چھوٹےازمیر نے اونچی آواز میں کہا کہ جب انہیں کوئی مشکل پیش آتی انکی ماں ہر بات میں یہی کہتی تھی معتصم مسکرا کر اپنے جڑواں بچوں کو دیکھنے لگا اب یہ جاننا کہ معتصم کو بچے زیادہ پیارے تھے یا انکی ماں تھوڑا مشکل تھا۔
”تم کہو تو آکر تمہیں اٹھا لوں ”معتصم نے مسکرا کر اُسے کہا وہ نزدیک پہنچی۔
”اجازت دے دیگی تمہاری مہارانی ” ازلین کا گال پیار سے کھینچتی ازمیر کا ہاتھ پکڑ کر بولی پھر ازمیر کے کان میں بولی۔
“چلو ریس لگاتے ہیں بابا اور پری کو ہرا دیتے ہیں ” یہ کہتے ساتھ ہی ازمیر کا ہاتھ پکڑ کر وہ بھاگنے لگی ازمیر بھی اسکے ساتھ بھاگنے لگا معتصم نے ازلین کو دیکھ کر بھنویں اچکائیں۔
“کیا کہتی ہو ہرا دیں مومی اور بھائی کو”کہتے ہوئے اس نے ہائی فائیو کے لیے ہاتھ اوپر کیا ازلین نے ہاتھ مارا۔
“لیٹس ڈو اٹ بابا ”وہ اتاولی ہو کر نعرے لگانے لگی پھر معتصم بھی انکے پیچھے دوڑنے لگا معتصم بہت ہی محبت کرنے والا شوہر ثابت ہوا اور ہر موقع پر ساتھ دینے والا اور وفا نبھانے ولا مہرماہ جب اپنا چھوٹا سا آشیانہ دیکھتی تو اُسکا دل مسرت سےمنور ہو جاتا کتنی ادھوری زندگی تھی اسکی کتنا خالی دل تھا معتصم کی محبت سے پہلے اب وہ زندگی میں تھا تو اسکی وفائیں جفائیں محبتیں سب معتصم کے لیے تھیں۔
(ختم شُد)
