Episode 9 - Ham Ahle Dil Wo Mehrma By Gulmira Rustum

All Episodes
ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

Episode 9

ہم اہلِ دل وہ مہرماہ – گُل مرہ رُستم

قسط نمبر 9

“یہ کون ہے؟”معتصم کی سکیچ دیکھ کر وہ رکی۔

“یہ میرا کزن ” مہرماہ نے ہلکی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کہا۔

“یہ وہی ہے جو یونیورسٹی میں تم سے ملنے آیا تھا ؟ ” مریم کو جیسے یاد آیا مہرماہ نے سر کے اشارے سے ہاں میں دیا۔

“کیا اسکو اب بھی تم پر کرش ہے؟” مریم نے ہنستے ہوئے پوچھا۔

“اب بھی مطلب” مہرماہ الجھ گئی شاید ۔

“مہرماہ صاف لگتا تھا اسکو تم پر کرش تھا وہ بھی ہیوی والا” مریم مسکرا کر کہہ رہی تھی جبکہ مہرماہ کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں مریم گڑبڑا گئی۔

“اف مہرماہ کیا ہوا ؟” مریم گھبرا گئی کہ شاید اسکی بات بری لگی ہو مہرماہ اب باقاعدہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔

“کچھ تو کہو” لیکن مہرماہ جب خوب رو چکی تھی اور دل کا غبار نکل چکا تھا تو بولی کبھی کبھی انسان رونے سے بہت ہلکا محسوس کرتا ہے ایک تھیراپی کی طرح ۔

“ بہت محبت کرتا ہے وہ مجھ سے ساری دنیا اسکی محبت کی گواہی دیتی ہے ایک میں ہی آنکھوں میں پٹّی باندھ کے بیٹھی رہی مجھے یاد آتا ہے میری شادی کے وقت کتنا رویا تھا شہریار کو کتنا برا بھلا کہا تھا میری ایک پکار پر پہنچ جاتا ہے میں ہی نہ سمجھ سکی اس نے میری خاطر ایک درندے سے دشمنی مول لی مریم میں ہی نہ سمجھ اسکو کتنی خود غرض ہوں میں ” مریم اُسے گلے لگا کر دلاسہ دینے لگی اور مہرماہ اس سبزہ زار میں بیٹھی ہر اس محبت کو یاد کرنے لگی جو معتصم نے گزرے سالوں میں اس سے کی تھی۔

————————————

اگلے دن مہرماہ اور مریم اُس کوٹیج کو دیکھنے گئے جو مریم کے گھر سے تھوڑے فاصلےپر درختوں کے بیچ میں بنا ہوا تھا پتھریلی روش پر چل کر و وہاں تک پہنچے آس پاس بانس کے درخت تھے اور وہی رنگین پھول جو اسٹیشن سے نکلنے پر اُسے ملے تھے کوٹیج کا مالک دن کے حساب سے کرائے پر دیتا تھا لیکن پچھلی بار جب مہرماہ آئی تھی اس نے ایک سال کی لیز پر اس سے کوٹیج لیا تھا اور ادائیگی بھی ایڈوانس میں کر دی وہ سارا دن انہوں نے کوٹیج میں گزارا پھر شام کے وقت واپس گھر آگئیں راستے میں ایک چھوٹا سا ڈیپارٹمنٹل سٹور تھا جس سے مہرماہ اور مریم نے کچھ خریداری کی اسی وقت مہرماہ کو لگا کوئی اُسے دیکھ رہا ہے مہرماہ چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگی لیکن کسی کو نہ پا کر پھر سے ریک میں لگے سامان کی طرف متوجہ ہوئی۔

————————

 وہ مریم اور ماریہ کے ساتھ مل کر انکے باغ سے پھل اور سبزیاں کاٹتی اور لے جا کر مارکیٹ میں انکے ساتھ بیچتی اس نے لائٹ گرے کلر کا سکرٹ اسکے ساتھ پورے بازوؤں والی سفید شرٹ اور سر پر لائٹ گرے سٹول لیا تھا وہ پھل کھاتی تو دل میں سوچتی پاکستان کے پھلوں جیسا ذائقہ دنیا کے کسی خطے میں نہیں ابھی بھی ٹماٹر فصل سے توڑ کر اپنی ٹوکری میں ڈالتی جارہی تھی جب مریم نے اس سے پوچھا ۔

“تم نے سیاست کیوں چھوڑ دی ؟” مریم نے ٹماٹر کاٹ کر اپنی ٹوکری میں ڈالا۔

“میرے ملک میں سیاست مشکل ہے ہاتھ کالے ہو جاتے ہیں ” وہ ٹماٹروں کو ٹٹولتی کہ کہیں ان میں کوئی کیڑا تو نہیں پھر پکڑ کر ٹہنی سے کاٹ دیتی ۔

“تم بہت کچھ بدل سکتے تھی مہر تم میں گٹس ہیں تمہارے ہاتھ موقع تھا اپنے لوگو کے حالات بدلنے کا ” مریم نے کینچی ٹوکری میں رکھ دی کہ اسکی ٹوکری بھر چکی تھی ۔

“میں نے بھی کچھ ایسا ہی سوچا تھا ”۔

“تو تم ہار مان گئی؟” اب مریم ہتھ بندھے پوری طرح اُسکی طرف متوجہ تھی ۔

“ہاں”اس نے کندھے اچکائے ۔

“لیکن تم تو اتنی جلدی گیواپ نہیں کرتی یہاں بھی معاملہ تمہارے لوگوں کا ہے تمہیں ٹرائے کرنا چاہئے ”مریم کے کہنے سے مہرماہ سوچ میں تو پڑ گئی شاید مریم صحیح کہہ رہی ہے اُسے اس بارے میں غور کرنا چاہئے ٹھنڈی آہ بھر کر سر ہلایا ۔

“ہمم صحیح کہہ رہی ہو میں نے کوئی خاص کوشش نہیں کی” وہ سیاست دان نہیں تھی لیکن بن گئی تھی وہ مریم کو کیا بتاتی کہ یہیں سے اسد کمال جیسا بندہ اسکی پیچھے پڑا تھا اور دشمنیاں پکی ہو جاتی ہیں اور جہاں عوام کی خدمت ایک شرم کی بات سمجھی جاتی ہے۔

وہ خوش تھی اس نے گھر اماں کو فون کر کے پوچھا لیکن لاکھ چاہنے کے باوجود وہ معتصم کا نہیں پوچھ سکی وہ کب تک یہاں تھی اسے بھی کچھ معلوم نہیں تھا پانچ دن سے اوپر تو ہوگئے تھے اسے یہاں انہی سوچو میں تھی کہ اُسے خود پر کسی کی نظریں جمی ہوئیں محسوس ہوئیں تیزی سے اس نے سر اٹھا کر دیکھا لیکن کوئی بھی تو نہیں تھا ۔

“میں کچھ زیادہ ہی شکّی ہو گئی ہوں ” سر جھٹک کر وہ اندر کی جانب چل دی ۔

—————————————-

مریم نے کسی کام سے مارکیٹ جانا تھا تو مہرماہ کاٹیج کی طرف آگئی اور اسکے برآمدے میں ٹھنڈے موسم میں بیٹھ کر سکیچ بنانے لگی اور سکون سے کافی پینے لگی جب کافی دیر گزری تو اپنا سامان اٹھا کر نکلنے لگی کہ کالے بادلوں نے آسمان کو گھیرا ہوا تھا یہاں کا موسم بہت خوشگوار تھا یعنی گرمی میں بھی ٹھنڈ کا احساس ہوتا لیکن جب بارش ہوتی تو اور بھی زیادہ ٹھنڈ ہوتی کوٹیج سے سڑک تک پتھریلی روش کے آر پار فیری لائٹس سے درختوں کو خوب سجایا تھا جو ہلکی شام میں بہت خوبصورت لگتی تھیں وہ گھر کی طرف جا رہی تھی جب اُسے اپنے پیچھے جوتوں کی چاپ محسوس ہوئی اس نے پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا وہ پلٹ گئی اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی کہیں اسد کمال اسکے پیچھے یہاں تک تو نہیں پہنچا وہ اور بھی تیز قدم اٹھانے لگی قدموں کی آواز اب اور بھی تیز ہوئی اسے یقین ہو گیا کہ کوئی پیچھے ہے وہ سرعت سے درختوں کے جھنڈ کے بیچ چھپ گئی اور آس پاس دیکھا تو درخت کی ایک ٹہنی گری پڑی تھی وہ اٹھا کر ایک درخت کے پیچھے چھپ گئی اسکا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کے گویا سینہ توڑ کر باہر نکل آئے گا اسکی ٹانگیں بھی کانپ رہیں تھی دفعتاً اس نے دیکھا کوئی مرد چلتا ہوا آیا کالی ہڈی سر پر ڈالے ہوئے لمبا قد اور وہ اسکی طرف مڑنے ہی لگا تھا کہ اس نے خوب زور سے اسکے پیچھے وار کیا اور اسکی گھنٹے کے پیچھے لات مار کر اسے نیچے گرا دیا نووارد اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا گر پڑا اب مہرماہ اس پر تیسرا حملہ کرنے ہی لگی تھی ۔

“مہرماہ کیا کر رہی ہو رکو یہ میں ہوں” معتصم نے ہڈی اتارا اس کا چہرہ ہلکی روشنی میں واضح ہوا مہرماہ کا ڈنڈا پکڑے ہوئے ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا “ہا” کی آواز کے ساتھ ڈنڈا پھینکا اور دونوں ہاتھ منہ پر رکھے اور حیرت سے آنکھیں پوری کھل گئیں۔

“اف ہڈیاں توڑ دیں تم نے میری مہرماہ” وہ درد سے بِلبِلانے لگا مہرماہ کو جب ہوش آیا کہ اس نے کیا کیا ہے تو جلدی سے اسکے پاس بیٹھی۔

“آئی ایم سوری معتصم زیادہ چوٹ تو نہیں لگی تم ٹھیک تو ہو ناں” اس نے فکرمندی سے پوچھا جبکہ وہ کراہ رہا تھا۔

“چلو اندر چلتے ہیں ”وہ کاٹیج سے زیادہ دور نہیں تھی اس لئے اسے سہارا دیکر اُسےاٹھایا اور کاٹیج تک آتے آتے تیز بارش شروع ہوئی وہ اندر آئے تو مہرماہ نے اسکے لیے کافی بنائی اور جو اسنیکس اس نے اور مریم نے یہاں رکھے تھے اس کے سامنے رکھنے لگی۔

“تم یہاں کیسے؟” مہرماہ نے پوچھا۔

“یہی سوال اگر میں تم سے پوچھوں” اس نے کافی کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے کہا وہ کھڑکی کے پاس پڑے سنگل صوفہ پر بیٹھی جس کے ایک طرف آتش دان اور دوسری طرف کھڑکی تھی اور معتصم ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا تھا۔

“ابھی کیسا فیل کر رہے ہو؟”اس نے اسکے پیٹھ کی طرف اشارہ کیا جہاں اس نے ڈنڈا مارا تھا۔

”زخم بھی دیتی ہو پھر فکر بھی کرتی ہو یہ اچھا ہے ”اس نے گلہ آمیز لہجے میں کہا مہرماہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔

“ابھی اندھیرا ہے ورنہ یہاں سے بارش دیکھنے کا اپنا ہے مزہ ہے ”مہرماہ نے بات بدلی کہیں وہ اپنے دل کے زخم ہی نہ دکھانے بیٹھ جائے۔

“مجھے تو کہیں بھی تمہارے ساتھ بارش اچھی لگتی ہے ”وہ کندھے اچکا کر لاپرواہی سے بولا مہرماہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔

“تم اس طرح سب کچھ کیوں چھوڑ کر آگئیں ؟” اسے مدّعے سے ہٹتے ہوئے دیکھ کر دوبارہ سے پوچھا۔

“شاید میں کیا چاہتی ہوں یہ جاننے کے لیے میں ہر چیز سے بہت دور آگئی” مہرماہ نے کھڑکی سے باہر برستی بارش کو دیکھتے ہوئے جواب دیا وہ ڈائننگ چیئر پر کالی ہڈی پہنا کافی کا مگ ہاتھوں میں تھامے اسے دیکھ رہا تھا ۔

“اور میری محبت کا کیا مہرماہ؟” اُسکی آواز میں ایک گلہ تھا مہرماہ کچھ دیر تو کچھ بول ہی نہ سکی ہر انسان مختلف ہے ہر کسی کے سوچنے کا طریقہ مختلف ہے ہم کسی کو اپنی سوچ دیکھا نہیں سکتے انہیں وہ نہیں سُنا سکتے جو ہمارے فیصلوں کے بعد ہم سنیں گے ۔

“تمہاری زندگی میرے لیے ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے تمہاری محبت سے بھی زیادہ ”مہرماہ اُٹھ کر آئی اس سے کافی کا مگ پکڑا سنک کے سامنے کھڑی ہو کر دھونے لگی۔

“بارش ہلکی ہوگئی ہے میں مریم کے گھر جا رہی ہوں تم چاہو تو یہیں رک جاؤ” اپنے ہاتھ ٹاول سے سکھاتے ہوئے وہ بولی یہ دیکھے بغیر کہ معتصم کا چہرہ اس کی بات سے کتنا بجھ گیا تھا ۔

“میں جا رہی ہوں تم یہیں رہ لو صبح مریم کے گھر کے پیچھے ندی ہے وہاں آجانا” ۔مہرماہ دروازے کے پاس جاتے ہوئے بولی وہ چلی گئی لیکن اسے سوچوں کے لامتناہی سمندر میں دھکیل کر چلی گئی ۔

———————————-

اگلی صبح وہ ناشتہ کر کے تیار ہو کر ندی کی طرف چل دی بالکل ہلکے گلابی رنگ کی پرنٹڈ میکسی پہنے اور گلابی سٹول سر پر اوڑھے وہ بالکل گلاب کا پھول لگ رہی تھی جب وہ ندی تک آئی وہ اسکے انتظار میں بیٹھا تھا سفید آدھے بازو والی ٹی شرٹ جس سے اسکے کثرتی بازو نمایاں تھے اور جینز کے ساتھ جوگرز پہنے وہ کسی سوچ میں گم ایک بڑےپتھر پر بیٹھا تھا وہ آکر اسکے پاس ایک دوسرے بڑے سے پتھر پر بیٹھی ۔

“تمہیں کیسے پتہ چلا میں یہاں ہوں ؟”بیٹھتے ہی اس نے پانی میں دیکھتے ہوئے پہلا سوال کیا ۔

“تم نے ایک دفعہ بتایا تھا اپنے ڈریم پلیس کے بارے میں اور تمہاری گھڑی نے تصدیق کر دی ”معتصم نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا پھر اسکی گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔

“اوہ اچھا مطلب جاسوسی ”اس نے سر ہلاتے ہوئے شرارت سے کہا۔

“تو پھر چلنے کا ارادہ نہیں ہے تمہارا کب تک یہاں رہو گی اماں ابّا پریشان ہیں تمہارے لیے ”اس نے پریشانی سے اُسے دیکھا۔

“جب تم کہو ہم چلیں گے ”مہرماہنے پانی میں پتھر پھینکتے ہوئے کہا کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد معتصم نے مہرماہکی طرف دیکھا۔

“تم نے کل رات کہا کہ میری جان سے زیادہ کچھ قیمتی نہیں لیکن میرے لیے تو تمہاری محبت کے بغیر اپنا وجود ادھورا لگتا ہے ” اس کی آواز میں برسوں کی اداسیاں تھیں۔

“پہلی بار تمہیں مجھ سے کب محبت ہوئی؟“ وہ سادہ سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔

“مجھے یاد نہیں تمہارا وجود میرے لئے ہمیشہ محبت لیے ہوئے تھا اور میرا دل کہتا تھا کہ تم صرف اور صرف میری ہو اور اب بھی یہی یقین ہے ”یہ سنتے ہوئے مہرماہ کا دل مسرور ہوا شادمان ہوا کہ وہ اسے اتنا چاہتا ہے ۔

“تم شادی نہیں کرنا چاہتی تو نہ کرو لیکن اس طرح یہاں آکر ہم سب سے دور مت رہو تایا ابّا اور اماں کتنے پریشان ہیں تم جانتی ہو ”وہ بول رہا تھا اسکی آواز مدھم اور اداس تھی۔

“تمہیں کبھی میرے علاوہ کسی لڑکی کا خیال نہیں آیا ؟” مہرماہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بھنویں اچکائی۔

“ہمم! ایمیلی بلنٹ بھی بہت اچھی ہے لیکن اس سے شادی نہیں کرنی میں نے” معتصم نے کہا تو دونوں ہنس دیے۔

”Mutasim Sulieman Khan will you marry me“ مہرماہ نے بہت ہی دلنشین آواز میں اُسے دیکھتے ہوئے کہا معتصم ایک لمحے کو گنگ رہ گیا۔

“کیا ہوا ارادہ بدل گیا تمہارا ”جب وہ کچھ نہ بولا تو مہرماہ نے پوچھا۔

”A million times yes“فرطِ جذبات سے اسکی آواز کانپ گئی دل کی حالت بیان سے باہر تھی ہاں وہ خوش تھا بہت خوش اسکی شہد رنگ آنکھوں میں خوشیوں کے رنگ بھر گئے مہرماہ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی وہ بھی خوش تھی اسکی سنہری آنکھیں بھی خوشی سے چمکنے لگیں مہرماہ نے ندی سے چُلّو بھر پانی اٹھا کر اسکی طرف پھینکا اس نے دونوں بازو سامنے کر کے خود کو بچانے کی کوشش کی لیکن مہرماہ نے پھر سے پانی پھینکا وہ دونوں ہنس رہے تھے مسکرا رہے تھے حسین موسم خوبصورت وادیاں محبت کا اظہار زندگی اس بھی خوبصورت ہو سکتی تھی بھلا ۔

—————————————

معتصم نے واپسی کی ٹکٹیں بک کروائیں اتنی جلدی ڈائریکٹ فلائٹ تو نہیں ملی تو کنیکٹنگ فلائٹ ملی یہ بھی غنیمت تھی وہ لوگ شیراکاوگو سے سیدھا ٹرین کے ذریعے ٹوکیو گئے سارا راستہ انہوں نے دنیا کے ہر موضوع پر باتیں کیں گاڑیوں سے لے کر جہازوں تک سیاست سے لے کر کھیل تک جاپانیوں اور پاکستانیوں کا موازنہ کیا ٹوکیو سٹیشن کب پہنچا پتہ ہی نہ چلا ٹرین سے اتر کر پہلے وہ ایک حلال ریسٹورنٹ میں گئے کھانا کھایا یہ ایک لبنانی ریسٹورنٹ تھا مہرماہ جب بھی آتی یہاں ضرور آتی مہرماہ زیادہ تر ٹرپس پر ایشین ملکوں ہی آتی تھی جبکہ معتصم کو یورپ بہت پسند تھا مہرماہ کی گوروں کے ساتھ ایک دو بار تلخ کلامی ہوگئی تھی اس لیے نہ وہ انکے ملکوں جانا پسند کرتی تھی نہ ہی انہیں کوئی خاص پسند کرتی تھی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا اس لیے وہ لوگ ٹوکیو کے سب سے بڑے شاپنگ مال ایون لیک ٹاؤن آئے تھوڑی بہت شاپنگ کی باتیں اور باتیں کیں۔

“ویسے مہرماہ تم نے اپنے آنے کا ہنٹ دیا تھا مجھے ” معتصم مال سے خریدے آئس ٹی میں سٹرا گھماتے بولا ۔

“اچھا وہ کیسے ؟”مہرماہ نے سٹرا لبوں سے ہٹا کر اسے دیکھا۔

“ تمہارے آنے کے بعد میں تمہارے کمرے میں گیا تمہاری سائڈ ٹیبل کی دراز میں شیراکاوگو کا پوسٹ کارڈ رکھا تھا تم جانتی تھی کہ میں آؤنگا وہاں ” معتصم نے میز پر کہنیاں رکھیں اسے دیکھا جو اپنی مسکراہٹ دبائے سٹرا لبوں سے لگائے بیٹھی تھی ہلکے نیلے رنگ کی میکسی میں ملبوس سر پر سٹول اوڑھے پیروں میں جاگرز پہنے وہ اسکی بات سن کر ہلکے سے مسکرائی۔

“ ہاں میرا دل چاہتا تھا تم میرے پیچھے آؤ ” اس نے گال تلے مُٹھّی رکھے اُسے دیکھا آف وائٹ پولو شرٹ اور کھلی کریم کلر پینٹ کے ساتھ اسکیچرز پہنے بکھرے بالوں میں وہ انتہائی دلکش لگتا تھا کہ جب وہ چلتا دو چار نظریں اس پر ضرور اٹھ جاتیں ۔

“میں کنفیوز تھی مجھے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں اِسی لیے اپنا مائنڈ کلیئر کرنے میں یہاں آگئی ”۔

وہ مسکرایا خوش تھا کہ شکر ہے اسکا مائنڈ تو کلیئر ہوا فلائٹ کی ٹائمنگ نزدیک آئی تو وہ مال سے نکل کر سیدھا ائیرپورٹ گئے جہاں سے انہیں بینکاک جانا تھا دو گھنٹے وہاں رک کے پھر کراچی کے لیے روانہ ہونا تھا ساری رات انکو حالتِ سفر میں گزارنا تھاصبح دس یا گیارہ بجے کے قریب انہوں نے پہنچنا تھا بنکاک ائیرپورٹ پہنچ کر وہ دونوں ویٹنگ ایریا میں آکر بیٹھےاور وہیں بیٹھےبیٹھے انکی آنکھ لگی کہ وہ تھک بہت گئے تھے دو گھنٹے گزرے انائونسمنٹ پر انکی آنکھ کھلی بھاگتے ہوئے اپنےگیٹ تک آئے اور بورڈنگ پاس دکھا کر جہاز میں بیٹھتے ہی وہ دونوں پھر سے سو گئے سوتے جاگتے باتیں کرتے وہ کراچی پہنچے امیگریشن پروسیس سے ہو کر باہر آئے تو دن کے ۱۱ بج رہے تھے المیر انہیں لینے آیا تھا المیر معتصم سے گلے ملا۔

“آ بچُّو تجھے ساری دنیا میں میری بہن ملی تھی سالے ”المیر اسکے کان میں گھسا کہہ رہا تھا۔

“سالا تو اب تو میرا ہوگا سالے” معتصم کون سا کم تھا۔

گھر پہنچےتو سب نے اُنکا اِستقبال کیا ٹیبل پر چائے لائی گئی اجالا یہاں وہاں چہک رہی تھی اور اُنزِلا وہ یہاں سے وہاں سارا انتظام سنبھال رہی تھی گھر میں کچھ غیر معمولی سی ہلچل تھی معتصم مسکرا رہا تھا۔

“امّاں تمغہ دے دو اب مجھے آپکی ظالم بیٹی کو منا لایا ہوں ” اماں نے گلے لگاتے ہوئے ایک ہتڑ اسکے کندھے پَر جڑا۔

جب سب چائے پی رہی تھے تو ابّا نے مہرماہکو مخاطب کیا ۔

“مہرماہ بیٹا آج چار بجے آپکا اور معتصم کا نکاح ہے تب تک آپ نے تیار ہونا ہے آپکو کوئی اعتراض تو نہیں” ابّا نے چائے کا کپ ٹیبل اور رکھا گویا ان دونوں کو بہت بڑا سرپرائز دیا تھا وہ حیرانی سے ابّا کو دیکھنے لگی کہ شاید ابّا مذاق کر رہے ہوں ۔

“اور معتصم بیٹا آپ کو ؟ ”ابھی تک مہرماہ کچھ بولی نہیں تھی کہ ابّا نے معتصم سے پوچھا۔

“جیسا آپ بہتر سمجھیں”معتصم نے معصومیت سے جواب دیا جیسے اتنے پاپڑ تو اس نے بیلے ہی نہیں اس نکاح کے لیے ۔

“اور مہرماہ بیٹا آپ” اب ابّا اسکی طرف ہو کر دیکھ رہے تھے۔

“جیسا آپ چاہیں ” اس سے زیادہ وہ کچھ بول نہیں سکی لاؤنج میں ایک دم شور سا اٹھا تیاری بھاگ دوڑھ اماں اور خالہ اسے گلے لگا رہے تھیں انزِلہ چہک کر معتصم کو چڑا کر کچھ کہہ رہی تھی جبکہ معتصم اُسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا کیا مرادیں اتنی جلدی بر آتی ہیں کیسے وہ لڑکی جسے بچپن سے چاہا وہ کیسے آج ہمیشہ کے لئے اسکی بننے جا رہی ہے اسکی محرم بن کر زندگی بھر اسکا ساتھ دینے کے لیے۔

—————————

معتصم اور مہرماہ تھکے ہوئے تھے لیکن نکاح کی تیاری سے انہیں تھکن کا احساس ہی نہ ہوا جب مہرماہ راضی ہوئی تو معتصم نے فون پر اپنی ماں کو بتا دیا تھا انہوں نے سلطان صاحب سے باقاعدہ رشتہ مانگا اعتراض انہیں بھی کوئی نہیں تھا لیکن مہرماہ کی مرضی جاننا ضروری تھا کہ پچھلی بار کی گئی غلطی کا ملال انہیں زندگی بھر رہا تھا اس لیے بس آناً فاناً نکاح طے ہوا مہرماہ کے لیے اماں اور خالہ پہلے ہی ایک جوڑا لے آئیں تھیں آئس بلیوکلر کا پیروں کو چھوتا فراک جس پر سلور کام سینے اور آستینوں میں تھا اور سارا گھیر موتیوں اور ستاروں سے بھرا تھا ساتھ آرگنزا کا کام والا دوپٹہ سوٹ کی مناسبت سے اس نے ڈائمنڈ جویلری پہنی تھی اور بال جوڑے میں باندھے تھے ہاتھ میں وہی گولڈ بریسلٹ والی گھڑی اور ایک ہاتھ میں سلور کنگن پہنے تھے ساتھ ڈائمنڈ کی انگوٹھی جو بالکل ڈیانا کی انگوٹھی جیسی دکھتی وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی اسکی بڑی سنہری آنکھیں اور بھی دلکش لگ رہی تھیں اس پر روپ بہت چڑھا تھا محبت کا روپ شاید ایسی ہی انسان کو نکہارتا ہے

قاضی صاحب آگئے مرد حضرات ڈرائنگ روم میں بیٹھے جب کہ خواتین لاؤنج میں معتصم نے آف وائٹ رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی بال سلیقے سے جمائے ہاتھ میں مہرماہ کی دی ہوئی گھڑی پہنے تھامس کوشمالہ کی خوشبو سے مہکتا و بلا کا وجیہہ لگ رہا تھانکاح ایک پاکیزہ اور خوبصورت رشتہ ہوتا ہے اسکی خوبصورتی چہرے کو نور بخشتی ہے اور وہی نور آج ان دونوں کے چہروں پر بھی تھی خطبہ نکاح پڑھا گیا اعجاب و قبول ہوا المیر اور جہانگیر بھائی نے مہرماہ سے نکاح نامہ پردستخط کروائے مبارک سلامت کے نعرے گونجے پھر اماں نے معتصم کو لاؤنج میں بلوایا اور مہرماہ کے پاس بٹھایا معتصم مہرماہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اسکی من پسند عورت اسکے نکاح میں تھی وہ آکر اسکے پاس بیٹھا مہرماہ اُسکی طرف دیکھ نہیں پا رہی تھی اپنی گود میں رکھی اپنی ہتھیلیوں کو دیکھ رہی تھی۔

“مہرماہ آپ بھی دیکھ سکتی ہیں معتصم کو شوہر ہیں آپکے” اُنزِلا نے اسکا گریز دیکھ کر چہک کر کہا مہرماہ نے مسکرا کر نظریں اٹھائیں اور بس پھر وہیں ٹھہر گئی وہ محبت کرنے والی آنکھوں کی مقناطیسیت سے نکل نہیں پائی اماں اور خالہ انگوٹھیاں لائیں انہوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائی جو سادہ پلاٹینم کی تھیں جن کے اوپر صرف ایک ہیرا جگمگا رہا تھا۔

“کیسا لگ رہا ہے مسز معتصم سلیمان خان کو ” معتصم نے جھک کے اسکے کان میں سرگوشی کی۔

”hounered“ مہرماہ نے دھیمی سی مسکان لے کر کہا

”ابھی سے ہی سرگوشیاں ہو رہی ہیں بھئی” سمیرا بھابھی نے انہیں دیکھ کے اونچی آواز میں کہا وہ دونوں ہی جھیمپ گئے کافی دیر وہ دونوں لاؤنج میں سب کے ساتھ بیٹھے رہے۔

مہندی اور بارات کا فنکشن چار دن بعد رکھا گیا تھا اب لاؤنج میں بیٹھے سب یہی ڈیسائڈ کر رہے تھے کہ وینیو اور مینیو کیا رکھنا ہے معتصم نے تھوڑا احتجاج کیا

“کیا ضرورت ہے بس آج ہی رخصتی کر دیں ”جس پر خالہ نے اُسے گھور کر دیکھا کہ اکلوتے بیٹے کی شادی ہے وہ تو دھوم دھام سے ہی مناؤنگی وہ چپ کر گیا۔

“لگتا ہے آج تمہاری نہیں چلنے والی ”مہرماہ نے مسکرا کر سرگوشی کی۔

“چل تو میری ہی رہی ہے مادام اگر آپ ذرا غور کریں ”اس نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکاکر کہا ۔

“تمہارے لیے کچھ لایا ہوں ”اپنی جیب سے ایک کالے رنگ کا مخملین ڈبہ نکالا جس کے اوپر گولڈن سے کارٹیئر لکھا تھا ڈبہ کھولا تو اس میں ایک کڑا تھا گولڈ کا مگر مچھ کے منہ جیسے کھلتا تھا اور اس میں تین رنگ کے نگ لگے تھے سفید ہرے اور فوشیا ایسے کہ ایک سرا تیر کی طرح تھا اور انگریزی الفابیٹ C کی طرح لگتا تھاتکون حصّے پر سفید موتی اسکے پیچھے چار چار کی قطار میں ہرے اور فشیا نگ لگےتھے معتصم نے یہ کل ہی ٹوکیو کے مال سے خریدا تھا مہرماہ کے ہاتھ میں پہنایا اسکے ہاتھ میں جگمگانے لگا۔

“چلو کہیں چلتے ہیں ڈرائیو پہ ”معتصم نے اسکے کان میں کہا۔

“اچھا میں چینج کر لوں ” مہرماہ کہتے کے ساتھ اٹھنے لگی تھی۔

“نہیں چینج مت کرنا مجھے تمہیں ایسے ہی دیکھنا ہے ”معتصم نے بڑے مان اور محبت سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اسکی جذبے لٹاتی آنکھیں اُف مہرماہ نے نظریں جھکا دیں

“اچھا مجھے ٹیکسٹ کر دینا میں آجاؤنگی۔ ” مسکرا کر کہتی وہ اپنے کمرے کی طرف چل دی وہ بہت تھکی ہوئی تھی سونا چاہیتی تھی اس لئے بیڈ پر آکر ڈھے گئی اسکی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں جب معتصم کے نمبر سے کال آئی فون کان سے لگایا وہاں بہت عجلت میں کہا گیا۔

“گیٹ کے باہر آو جلدی” اور کال کٹ گئی ۔

“ہائیں اسے کیا ہوا خیر” فون کو گھور کر دیکھا وہ وہی ہیلز پہن کر چادر اوڑھے باہر کی طرف چل دی کمرے سے باہر نکلی تو اُنزِلا ملی ۔

“ارے اس وقت کہاں کی تیاری ہے ” اُنزِلا اُسےچادر میں دیکھ کر پوچھنے لگی ”معتصمنے کہا ڈرائیو پر جانا ہے تو ابھی کال کر کے باہر بلایا “مہرماہ نے اُسے اطلاع دی اور باہر نکلنے لگی ۔

“اوہو ملاقات کے لئے بےچین دل ”انزِلا چہک کر بولی مہرماہ ہنس دی ۔

“ایسا کچھ نہیں ہے اُنزِلا تم بھی ناں” کہتی وہ چادر سنبھالتی باہر نکلی لاؤنج خالی پڑا تھا ذہن میں ایک خیال آیا کے معتصم تو ہمیشہ پورچ میں گاڑی کھڑی کیےرکھتا ہے اسکی گاڑی بھی اندر کھڑی ہے پھر باہر کیوں کھڑا ہے عجیب سا اندیشہ دل میں سر اٹھانے لگا خیالات جھٹک کر اس نے گیٹ سے باہر دیکھا گارڈ بھی نہیں تھا وہ باہر نکلی ادھر ادھر دیکھا گلی بالکل سنسان تھی کوئی نہیں تھا سکیورٹی والے بھی نہیں تھے ویسے جب سے وہ واقعہ ہوا تھا سکیورٹی کے لیے کچھ گارڈز بیٹھے ہوتے تھے وہ بھی نہیں تھے پھر معتصم کو فون ملانے لگی کہ گلی کےنکڑ پر کھڑی ایک تیز رفتار گاڑی اسکے سامنے آکر رکی اور دو آدمیوں نے اُسے ایک پل میں اٹھا کر گاڑی کے اندر پٹخا اُسے چیخنے کا موقع بھی نہ ملا اور معتصم کو ملایا فون سڑک پر گر گیا جس سے معتصم کے ہیلو ہیلو بولنے کی آوازیں آرہی تھیں گاڑی جتنی تیزی سے آئی تھی اتنی ہی تیزی سے موڑ مڑ کر غائب ہو گئی۔

Dastaan by Gulmira

Gulmira Rustum

Gulmira Rustum is an Urdu author dedicated to creating engaging novels, thought-provoking articles, and literary works that resonate with readers of all ages. With a passion for storytelling, the author explores themes of love, family, history, culture, and the complexities of human relationships. This website has been created as an online library where readers can access and read novels, books, articles, and other literary works in one place. Whether you are looking for episodic novels, complete books, or insightful writings, this platform is designed to make reading enjoyable and accessible.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *